سائنس و ٹکنالوجیمنطق و فلسفہ

سائنس، فلسفہ اور مذہب (قسط پنجم)

ڈاکٹر انصاری علیہ الرحمہ  کی نظرمیں

ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

قرآن  کریم درحقیقت رہنمائی، حکمت اور انقلاب کی کتاب ہے تاہم یہ تفکر، تدبر، تعقل کی دعوت دیتا ہے اوراس میں ایسی آیات ہیں جن میں سائنسی تعبیرات موجودہیں اوروہ انسان کوبراہ راست مشاہدہ، غوروخوض، تعقل وتدبر اورتلاش کی دعوت دیتی ہیں اور ادراک اورتجربات سے حاصل ہونے والے علم کی تصدیق کرتی ہیں۔ اسلام میں علم کے حصول کے لیے جتنی تاکید پائی جاتی ہے وہ اظہرمن الشمس ہے۔

گزشتہ سے پیوستہ

اسلام اورسائنسی علوم:

یہاں اس امر کا اظہار ضروری ہے کہ اسلام دیگر مذاہب کی طرح نہ سائنس سے نفوررکھتا ہے اورنہ ہی بیزاری بلکہ یہ صرف اسلام ہے جودعوت غور و فکر دیتا ہے۔ اگرچہ قرآن سائنس کی کتاب نہیں لیکن یہ انسان سے اندھے ایمان (Blind Faith)کا  متقاضی نہیں بلکہ جن عقائد کوماننے کی دعوت دیتاہے اس کے لیے وہ مظاہر فطرت (Natural Phenomenon) کی نشانیوں کوبطور دلیل پیش کرتاہے۔ قرآن  کریم درحقیقت رہنمائی، حکمت اور انقلاب کی کتاب ہے تاہم یہ تفکر، تدبر، تعقل کی دعوت دیتا ہے اوراس میں ٧٥٦آیات ایسی ہیں جن میں سائنسی تعبیرات موجودہیں اوروہ انسان کوبراہ راست مشاہدہ، غوروخوض، تعقل وتدبر اورتلاش کی دعوت دیتی ہیں اور ادراک اورتجربات سے حاصل ہونے والے علم کی تصدیق کرتی ہیں۔

 اسلام میں علم کے حصول کے لیے جتنی تاکید پائی جاتی ہے وہ اظہرمن الشمس ہے۔ ڈاکٹر انصاریؒ نہ صرف مسلمانوں کو سائنسی علوم کی ترغیب دیتے ہوئے نظرآتے ہیں بلکہ خود بھی سائنسی علوم میں مہارت رکھتے تھے اور اکثر اپنی تقریر و تحریر میں سائنسی مثالیں دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹرانصاری علیہ الرحمہ  کے الفاظ ملاحظہ ہوں :

"قرآن حکیم نے یہ تعلیم پیش کی کہ "ایمان”اور”عقل” اساسی اور اصولی طور پر ہرگزہرگز متصادم نہیں ہیں بلکہ دونوں میں خوشگوار توافق قائم کرنا ہی انسانیت کی کامیابی کا ضامن ہوسکتاہے۔ اس طرح "ایمان” اور”علم” جن کی اساس وجدانی شعور اورعقلی شعورہے، دونوں واجب الاحترام ہیں۔ اس لیے کہ دونوں ایک دوسرے کے رفیق بن کر انسانی عظمت اورسربلندی کی بنیاد ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا: يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ لا وَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ (المجادلۃ:11) یعنی رفع درجات تم میں سے ان کے لئے ہے جو ایمان اور علم دونوں کے حامل اوردونوں کی ترقی کے لئے کوشاں ہیں۔ یہی نہیں بلکہ قرآن حکیم نے ابتداء آفرینش ہی میں انسان کی فضیلت کو علم سے وابستہ کردیا۔ ابو البشر سیدنا آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے علم کی عطا اور پھر اس بنیاد پر فرشتوں کو حکم کہ وہ آدم علیہ السلام کی فضیلت کا اعتراف کریں۔ اس پر دلیل قاطع ہے۔ "( صقالۃ القلوب، احترام علم وحکمت، ص60)

ایک اور جگہ ڈاکٹر انصاری علیہ الرحمہ  Marmaduke Pickthallکا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں :

"بلاشک وشبہ قرآن ہمیں علوم حاصل کرنے کی ترغیب دیتاہے بالخصوص طبعی سائنس کے میدان میں۔ "

Through Science and Philosophy to Religion, Pg, 17

"قرآن کریم میں ہمیں تمام علوم حاصل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، صرف ایک مخصوص علم نہیں۔ اسلام میں ہر علم مقدس ہے اور اسے ہر مسلمان کو حاصل کرنا چاہئے۔ اسلام تمام علوم کی حمایت کرتا ہے اور طبیعاتی علوم کی تحصیل  اللہ  سبحانہ وتعالیٰ کی عبادت کی اعلیٰ ترین قسموں میں سے ایک ہے”۔

آپ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں یہ اسلام نہیں جس نے حقیقت کی جستجو کرنے اوراسے بیان کرنے والوں کو زہرکاپیالہ دیا، قتل کیا، زندہ جلایایا انہیں صلیب پر لٹکایا۔ بلکہ اس کا کریڈٹ (سہرا) دیگرغیرمسلم قوموں بالخصوص  عیسائی حکومتوں کو حاصل ہے۔ جوسب سے زیادہ اسلام کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں اور تاریخی حقائق کو مسخ کررہے ہیں۔ اسلام کی تاریخ اس حوالے سے بہت درخشاں اورتابندہ ہیں۔ ڈاکٹرانصاری علیہ الرحمہ اپنے  ایک مضمون میں فرماتے ہیں :

 "احترام علم وحکمت کے موضوع کے سلسلے میں ابتدائی سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیاعلم وحکمت کا عدم احترام ممکن ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں، ممکن ہے۔ اوریہ کیفیت تاریخ انسانی میں قدیم زمانے سے موجود رہی ہے۔ اس المیے کی داستان یہ ہے کہ ایک جانب انسانوں کے تمام گروہ ہمیشہ سے کسی نہ کسی”نظام معتقدات” کے پابند رہے ہیں اوردوسری جانب انسانی فطرت کا یہ تقاضا ہمیشہ موجود رہا ہے کہ علمی تحقیق وتفحص کے راستے سے حقائق کا صحیح ترادراک کیاجائے۔ اس طرح ایمان (Faith) اورعقل(Reason) کے تصادم کامسئلہ پیدا ہوا۔ اس مسئلہ کی نوعیت یہ ہے کہ "اہل ایمان” نے مجرداً علم کی نفی نہیں کی، مگر ان کے نزدیک علم کی جائز حدود صرف ان کے "نظام معتقدات” کے علم کے حصول تک تھی۔ یہ معتقدات  کے لئے”حقائق معلومہ” تھے۔ "اہل ایمان” کا تصادم دراصل”حقائق غیرمعلومہ” کے سلسلے میں ظہور پذیر ہوا۔ اسی تصادم کے نتیجے میں سقراط کو زہرکاپیالہ پیناپڑا۔ اسی تصادم کے نتیجے میں مسیحی کلیسا نے علم اوراہل علم پر بے پناہ مظالم ڈھائے لیکن جب اسلام کا انقلابی پیغام آیا تو اس نے صورتِ حال کو یکسربدل دیا۔ "صقالۃ القلوب، احترام علم وحکمت، ص60

اس عبارت کی صراحت خود سائنسدان بھی کرتے ہیں۔ جیسا کہ سام حارس(Sam Harris 1967) (The Language of Ignorance) میں لکھتاہے:

"Every European intellectual lived in the grip of a
Church that thought nothing of burning scholars alive for merely speculating about the nature of stars…This is the same Church that did not absolve Galileo of heresy for 350 years (in 1992)” (Archimedes to Hawking, Clifford A_ Pickover, Oxford University Press, 2008, pg 32)

"ہریورپی ذہین (فرد)چرچ کے پنجہ میں گرفتار رہ چکا ہے  جس کا کام محض سائنسدانوں کو زندہ جلانا ہے۔ وہ (چرچ) ستاروں کی فطرت پر صرف اٹکل پچو سے کام لیتے ہیں، یہ وہی چرچ ہے جس نےساڑھے تین سوبرس قبل گلیلیو(Galileo) کی نظریہ(Theory)  کوہضم نہیں کیا تھا۔ "

مسلمانوں کو عظیم سائنسدان بننے کے لیے اسلام چھوڑنے کی کوئی حاجت نہ تھی کیونکہ تاریخ میں کتنے نامی گرامی عظیم سائنسدان گزرے ہیں جو کہ مسلمان تھے۔ بلاکسی لیت ولعل وتردد یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ مسلم سائنسدان سائنسی علوم پر مکمل دسترس اور عبور رکھتے تھے۔ ان علوم میں ان کے تبحر علمی، مہارت، اور یکتا ویگانہ روزگارہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ان کی تصنیف شدہ کتب آج بھی مغرب میں ترجمہ کرکے پڑھائی جارہی ہیں اور آج کی تمام ترسائنسی  ترقی اوران علوم کی ترویج کا انحصار مکمل طور پر ان ہی (مسلمان سائنسدانوں )کی بنیادی معلومات پر ہے۔ اسلام سے پہلے توسورج، چاند، ستارے، دریا اور پہاڑ وغیرہ صرف تصور عبادت کے تحت دیکھے جاتے تھے۔ لوگ مظاہر فطرت کی ان معمولی معمولی سی چیزوں مثلاً چاند گرہن، سورج گرہن اورآندھیوں سے لرزاں براندام ہوجاتے تھے  لیکن یہ سب سے پہلے مسلم سائنسدان تھے جنہوں نے ان مظاہر فطرت کے بارے میں غوروفکر کیا۔ نیز یہ مسلم سائنسدان ہی تھے جنہوں اجرام فلکی کی ساخت، بناوٹ، ماہیت، کیفیت، مدار، حجم اوران کی تخلیق پر غوروفکر کیااوران سے متعلق صحیح اور مستند معلومات جمع کیں۔ اس کی صراحت خود مغربی سائنسدان بھی کرتے ہیں۔ ماریزیواکارنیو(Maurizio Iaccarino 1938)  کے الفاظ ملاحظہ کریں :

The Muslims were the leading scholars between the seventh and fifteenth centuries, and were the heirs of the scientific traditions of Greece, India and Persia,…….The transfer of the knowledge of Islamic science to the west ….paved the way for the Renaissance, and for the scientific revolution in Europe.” (Archimedes to Hawking, Clifford A_ Pickover, Oxford University Press, 2008, pg 32)

"ساتویں سے پندرھویں صدی کے درمیان مسلمان سرکردہ علماء(سائنسدان) تھے اور وہ یونان، ایران اورانڈیا کے سائنسی روایات کے وارث تھے۔ ۔ ۔ اسلامی سائنس کی مغرب کی  طرف منتقلی نے سائنسی علوم کا دوبارہ احیاء کیا اور یورپ میں سائنسی انقلاب کی بنیاد رکھی۔ "

آپ علیہ الرحمہ اس امرکی بھی نشاندہی فرماتے ہیں  کہ کسی دوسرے مذہب یا دین کا کوئی فرد جتنا زیادہ مذہب سے قریب اورراسخ العقیدہوگا وہ اتنا ہی سائنسی علوم سے دور ہوگا لیکن اسلام وہ واحد دین ہے جس میں ایک اچھا راسخ العقیدہ مسلمان ایک اچھا اورعظیم سائنسدان بھی بن سکتا ہے۔ اورواقعی یہ عین حقیقت واقعہ ہے کہ آج بھی اگرکوئی غیر مسلم سائنسدان تعصب کی عینک کے بغیر قرآن کا مطالعہ کرے گاتو وہ خودہی مسلمان ہوجائے گا۔ اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ مثلاًمشہور فرانسیسی سرجن ڈاکٹر موریس بکائیل(Dr. Maurice Bucaille 1920-98) ماہرامراض معدہ وآنت (Gastroenterology) نے جب قرآن کریم کے اصل متن کو عربی زبان میں پڑھا اور اس میں بہت سے ایسے سائنسی حقائق جسے سائنس اپنا کارنامہ شمارکرتی ہے ١٤٠٠ سال پہلے کی نازل کردہ کتاب میں دیکھے تو وہ اپنی کتاب The Bible The Quran and Science میں یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ قرآن میں جو مظاہر فطرت کے بارے میں آیات نازل ہوئی ہیں ان کی بہترین تفسیر آج کی جدید سائنس ہی کرسکتی ہے اور یہ کہ بائبل میں توتحریف کے باعث بہت سارے تضادات اورجدید سائنس سے تصادم پایاجاتا ہے لیکن قرآن میں ایسانہیں ہے۔ کیونکہ اس کے نازل کرنے والے (اللہ تعالیٰ) نے ہر قسم کی تحریف سے حفاظت کی ذمہ داری اپنے دست قدرت میں رکھی ہے:

 ” اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَه، لَحٰفِظُوْنَ”(الحجر:٩)

ہم نے اس ذکر(قرآن)کو نازل کیاہے اورہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ لہذا وہ نہ صرف اس کی حقانیت کے خود قائل ہوگئے بلکہ لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینے والے بن گئے۔

اسی طرح برطانوی پروفیسر ڈاکٹرآرتھرجے الیسن (Arthur Alison) نے جب یہ دریافت کیا کہ نیند میں انسان کی روح نکال لی جاتی ہے اورنیند بھی موت کی طرح ہے لیکن نیند کے بعد روح لوٹادی جاتی ہے مگرموت کے بعد ایسانہیں ہوگا۔ توجب ان پر قرآن مجید کی  یہ آیت پیش کی گئی :

 اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِھَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِہَا فَیُمْسِکُ الَّتِیْ قَضٰی عَلَیْھَا الْمَوْتَ وَیُرْسِلُ الْاُخْرٰی اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی۔ ”(سورۃ زمر:٤٢)

 اللہ تعالیٰ قبض کرتا ہے جانوں (روحوں ) کوموت کے وقت اور جن کی موت کا وقت ابھی نہیں آیاحالت نیند میں پھر روک لیتا ہے ان روحوں کو جن کی موت کا فیصلہ کرتا ہے اورواپس بھیج دیتا ہے دوسری روحوں کو(جن کی موت مقدرنہیں فرمائی)مقررہ میعاد تک۔ ”جب انہیں بتایاگیا کہ یہاں روح نکالنے سے نیند اورموت دونوں مراد ہیں تو انہوں نے بھی اسلام قبول کرلیا۔ اسلام لانے کے بعد ان کا نام عبداللہ رکھا گیا۔

تھائی لینڈ کے پروفیسر تجاتن اوران کے شاگردوں کے اسلام لانے کاسبب بھی قرآن کریم کی ایک آیت ہے:جب انہو ں نے تحقیق سے ثابت کیا کہ محسوس کرناجلد کاکام ہے اگر جلد مکمل طور پر جل جائے اوراس کی بافتیں مرجائیں توانسان درد محسوس نہیں کرے گا۔ لیکن جب ان کے سامنے قرآن کریم کی آیت پیش کی گئی:

  کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰہُمْ جُلُوْدًا غَیْرَھَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ۔”(النساء: ٥٦)

جب کبھی پک جائیں گی ان کی کھالیں توہم انہیں بدل کردوسری کھالیں دے دیں گے کہ وہ (مسلسل) چکھتے رہیں عذاب”تو انہوں نے اسلام قبول کیا۔ اسی طرح نامور فرانسیسی ماہر بحریات مسٹرجیکوئس وس کاؤ سے (Jacques Yves Cousteau,1910-97)جنہوں نے زیر سمندر بہت وقت گزارا ان کے مشاہدہ میں آیا کہ سمندر میں بعض مقامات پر میٹھے پانی کے چشمے ہیں اوران چشموں کا پانی کھارے پانی میں حل نہیں ہوتاجب کہ ان کے درمیان کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوتی اس کے باجود الگ رہتا ہے۔ تو ان پر جب یہ قرآنی آیت پیش کی گئی:

 وَھُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَیْنَھُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا”(الفرقان:٥٣ )

اور وہی ہے جس نے ملادیاہے دوسمندروں کو کہ (ایک) بہت شیریں ہے جب کہ(دوسرا)سخت کھاری اورتلخ اوربنادی( اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے) ان کے درمیان آڑ اورمضبوط رکاوٹ۔ ” توانہوں نے بھی اسلام قبول کرلیا۔ یہ ہیں وہ حقیقی اورتاریخی مثالیں جو ہماری آنکھوں دیکھی ہیں کہ جب ان غیر مسلم سائنسدانوں نے صدق دل سے قرآن اور اسلام کا مطالعہ کیاتووہ خودبھی مسلمان ہوگئے اوردوسروں کو دعوت دینے والے بن گئے بقول اقبال

ہے عیاں یورشِ تاتار کے افسانے سے

پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے

یا بالفاظ دیگر:

خود  نہ  تھے جو راہ  پر اوروں  کے ہادی  بن  گئے

کیا نظر تھی جس نے  مردوں کو  مسیحا  کردیا

(جاری ہے)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close