منطق و فلسفہ

سرورِ خودی اور تصورِ خدا

کامران غنی صبا

علامہ جمیل مظہریؔ کا یہ مشہور شعر یقینا آپ نے سنا ہوگا؎

بقدرِ پیمانۂ تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا

اگر نہ ہو یہ فریب پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا

انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ دوسروں کی ’توجہ‘ چاہتا ہے۔ دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے وہ مختلف حربے استعمال کرتا ہے۔ ایک شیر خوار بچہ بھوک لگنے کی صورت میں رو کر اپنی ماں کی توجہ حاصل کرتا ہے۔ توجہ حاصل کرنے کی نفسیات صرف انسانوں میں ہی نہیں بلکہ جانوروں میں بھی پائی جاتی ہے۔ جانور بھی مختلف قسم کی آوازوں اور اشاروں کے ذریعہ توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انسان چونکہ تمام مخلوقات میں سب سے ذہین ہے اس لیے اس کے افعال و کردار بھی دوسری مخلوقات سے بہت مختلف ہیں۔ وہ توجہ حاصل کرنے کے لیے مختلف صورتیں پیدا کرتا ہے۔ ایک شخص فیس بک پر اپنی تصویر شیئر کرتا ہے۔ تصویر پر ملنے والے لائک اور کمنٹس سے وہ اندازہ لگاتا ہے کہ اس نے کتنے لوگوں کی توجہ حاصل کی۔ ایک فن کار اپنے فن کا مظاہرہ کر کے نمایاں ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک قلم کار اپنے قلم کو دوسرے قلمکاروں سے منفرد اور ممتاز دیکھنا چاہتا ہے۔ بہت سارے سیاست داں متنازعہ بیانات دے کر ’لائم لائٹ‘ میں آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ایک انتہائی معمولی قسم کا انسان بھی کسی نہ کسی طور پر ’سرورِ خودی‘ کے نشے میں سرشار ہوتا ہے۔ چنانچہ جب ایک شخص یہ کہتا ہے کہ’ میں دن بھر میں بیس کپ سے کم چائے نہیں پیتاہوں ‘تو بظاہر وہ اپنی خامی یا کمزوری بیان کر رہا ہوتا ہے لیکن دراصل وہ اپنی انفرادیت ظاہر کر نا چاہتا ہے۔

 اب سوال یہ ہے کہ دوسروں کی توجہ حاصل کر کے ہمیں کیا ملتا ہے؟مثلاً سیکڑوں یا ہزاروں لوگ ہمیں جاننے لگ جائیں تو کیا ہو جائے گا؟بہت ممکن ہے کہ کسی مخصوص پیشے یا فن میں شہرت کی وجہ سے ہمیں ترقی کرنے کے مواقع حاصل ہو جائیں لیکن شہرت اور ناموری کے لیے ہم جو حربے استعمال کرتے ہیں وہ زیادہ تر بس تفریح طبع یا اپنی تسکین کے لیے ہوتے ہیں۔ اب اگر ایک نوجوان فیس بک پر اپنی تصویر لگا کر یا ’ٹک ٹاک‘ جیسی موبائل ایپ پر ویڈیو اپلوڈ کر کے ہر دس منٹ پر لائک اور کمنٹ کی تعداد شمار کر رہاہے توآخر وہ کون سی محرکات ہیں جو اسے ایسا کرنے پر مجبور کر رہی ہیں ؟ اگر اس نوجوان سے پوچھا جائے کہ تمہاری تصویر یا ویڈیو پر اگر چند سو یا ہزارلائک اور کمنٹ آ جائیں گے تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ یقینا اس کے پاس اس سوال کا کوئی معقول جواب نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ وہ یہ کہے کہ مجھے اچھا لگے گا، خوشی محسوس ہوگی یا مجھے خود پر فخر ہوگا۔

 ماہرین نفسیات نے ’توجہ حاصل کرنے کی نفسیات‘ پر طویل بحثیں کی ہیں۔ میں ان بحثوں کو دہرانا نہیں چاہتا۔ بس یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ انسان جس فرد یا جماعت کی توجہ حاصل کرنا چاہتا ہے، اس کے افعال و کردار سے اُس فرد یا جماعت کی پسند و ناپسند کا اظہارہوتا ہے۔ مثلاً ایک شاعر یا ادیب اس طبقے کی توجہ حاصل کرنا چاہتا ہے جو طبقہ شعری و ادبی ذوق رکھتا ہو۔ ایک موسیقی کار اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ موسیقی کا ذوق رکھنے والے لوگ کس طرح اس کی طرف متوجہ ہوں۔ توجہ حاصل کرنے کی نفسیات تغیر پذیر اور زوال پذیر ہیں کیوں کہ انسان کی پسند و ناپسند کا معیار وقت اور حالات کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب داستانیں سنی جاتی تھیں۔ پھر ناول اور افسانوں کا دور آیا۔ اب تو افسانچے اور مائکروفکشن لکھے جا رہے ہیں۔ اسٹیج ڈراموں اور نکڑ ناٹک کی جگہ ٹی وی سیریلز اور فلموں نے لے لی ہے۔ جیسے جیسے لوگوں کا ذوق بدلا توجہ حاصل کرنے کا وسیلہ اور طریقہ بھی تبدیل ہوا۔

 اب آئیے توجہ حاصل کرنے کی نفسیات کو اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھنے کی کوشش کریں۔ ہم جانتے ہیں کہ توجہ حاصل کرنے کا بنیادی مقصد اپنے نفس یا انا کی تسکین ہے۔ اسلام میں تسکینِ قلب کے لیے جو نسخہ بتایا گیا ہے وہ بہت ہی واضح اور ہر شخص کے لیے قابلِ عمل ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے۔ ‘‘انسان کے دل میں جب خدا کی سچی اور پائدار محبت راسخ ہو جاتی ہے تو اس کی زندگی کا صرف ایک ہی مقصد رہ جاتا ہے کہ خدا اس کی طرف متوجہ ہو جائے۔ اس ضمن میں بنی اسرائیل کے ایک بزرگ کے واقعہ کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے جسے حضرت داتا گنج بخش ہجویریؒ نے بیان کیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک بزرگ نے تقریباً ستر سال پہاڑ کی غار میں عبادت کی۔ ستر سال بعد پیغمبر کے ذریعہ اللہ نے بزرگ کو یہ خبر بھیجوائی کہ تمہاری ستر سال کی عبادت رد کر دی گئی ہے۔ یہ سنتے ہی بزرگ پر وجد کی کیفیت طاری ہو گئی۔ پیغمبر نے سوال کیا کہ تیری ستر سال کی عبادت رد کر دی گئی ہے، بجائے اس کے کہ تو صدمے سے مر جاتا، تو خوشی سے ناچتا ہے؟ بزرگ نے جواب دیا کہ میرا کام عبادت کرنا تھا۔ قبول کرنا نہ کرنا میرا کام نہیں تھا۔ میں تو اس با ت پر خوش ہوں کہ ستر سال بعد اس کے شمار میں تو آگیا۔ میرا محبوب میری جانب متوجہ تو ہو گیا۔

  ظاہر ہے کہ جب بندہ خدا کی نظر التفات کا متلاشی ہوگا تو اس کا ہر فعل احکامِ خداوندی کے مطابق ہوگا۔ اس کی نفس کی تسکین صرف اسی صورت میں ہوگی کہ اس کا رب اس سے راضی ہو جائے۔

 ’’آپ کہہ دیجیے کہ بیشک میری نمازاور میری قربانی، اور میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔ ‘‘(سورۃ الانعام)

 اسلام نے اپنے پیروکاروں کی تربیت کے لیے بہت ہی واضح اصول مرتب کیے ہیں۔ وہ ہمارے نفس کو خدا کے تابع کرنا چاہتا ہے۔ احادیث میں بہت سارے ایسے واقعات ملتے ہیں کہ خدا سے سچی محبت رکھنے والا ایک عام سا شخص جنت کا حق دار ٹھہرتا ہے تو دوسری جانب عالم، مالدار اور مجاہد کو صرف اس وجہ سے جہنم میں داخل کرنے کا حکم دیا جاتا ہے کہ ان کے اعمال دکھاوے اور ریاکاری پر مبنی تھے۔ ان کا نفس خدا کے تابع نہیں تھا بلکہ انہیں اس بات کی فکر تھی کہ دنیا والے ان کے علم و فضل، دولت اور بہادری کا لوہا مانتے ہیں یا نہیں۔

  تسکین نفس کی تغیر پذیر نفسیات کے مقابلے میں اسلامی نفسیات ہمیں ’جز وقتی‘ مسرت سے نکال کر ’ابدی مسرت‘ کا تصور دیتی ہے۔ یہ وہ نفسیات ہے جو ہمیں ’’حصارِ ذات‘‘ سے باہر نکال کر’’ حصارِ کائنات‘‘ کی فکر دیتی ہے۔ اس فکر کی بدولت ہمارا زاویۂ نظر یکسر بدل جاتا ہے۔ ہمیں جتنی خوشی اپنے اچھے لباس پر نہیں ہوتی اس سے زیادہ خوشی اس بات پر ہوتی ہے کہ ہماری ماتحتی میں رہنے والے افراد خوش لباس ہوں۔ یہی وہ تصور ہے جو پیٹ پر پتھر باندھ کر بھی مسکرانے کا ہنر سکھاتا ہے۔ یہی وہ نظریہ ہے جو ایثار و قربانی کا وہ جذبہ عطا کرتا ہے کہ انصارِ مدینہ اپنی جائداد کا نصف حصہ مہاجرین کو بطور تحفہ پیش کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔ یہی وہ جادو ہے جس کے سامنے جادوئے سامری بھی گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔

آج کے اس مادی دور میں کہ جب ہر طرف نمود و نمائش، ریاکاری اور خود پسندی کا غلبہ ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل کو ’اسلامی نفسیات‘ سے واقف کرایا جائے اور اسے ’جز وقتی‘ سرورِ خودی کے بجائے ’ابدی نشہ خودی‘ سے لذت آشنا کیا جائے۔

مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے

خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر

مزید دکھائیں

کامران غنی صبا

اعزازی مدیر اردو نیٹ جاپان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close