منطق و فلسفہ

فطرت ہدایت یافتہ ہے یا بے ہدایت؟

ادریس آزاد

ابتدائی درجے کی حیات یعنی درخت اور کیڑے مکوڑے اپنے بچوں کو کسی قسم کی تربیت نہیں دیتے۔ جبکہ جانور اپنے بچوں کو تربیت دیتے ہیں۔ ۔ زندگی کا بنیادی مقصد چونکہ باقی رہناہے۔ سو ہرکوئی اپنے اپنے طریقے سے باقی رہنے کی کوشش کرتاہے۔ پودوں نے اربوں کی تعداد میں بیج پھیلانا سیکھا تو کیڑے مکوڑوں نے کروڑوں کی تعداد میں اپنی اولادیں بکھیر دیں۔ لیکن بڑے جانوروں نے پودوں اور کیڑے مکوڑوں کی طرح کثرتِ اولاد کی بجائے تربیت کے عمل کے ذریعے بقا کا راستہ چنا۔ زیادہ تر جانور اپنے بچوں کو جہدللبقأ خود سکھاتے ہیں۔ مرغی اپنے چُوزوں کو دانا چُگنے کی تربیت دیتی ہے، بلی شکار کھیلنےکی۔اگرچہ تمام نہیں لیکن چوپائیوں اور درندوں میں اکثر انواع اپنے بچوں کو اُن چیزوں کی تربیت دیتے ہیں جو اُن کے بچوں کے سروائیول کے لیے ضروری ہیں۔

لیکن انسان اپنے بچوں کو اِس طرح تربیت نہیں دیتے۔ یعنی جانوروں کے والدین کی جبلت میں تربیت کا جو عنصر رکھا گیاہے وہ انسانوں کے والدین کی جبلت میں نہیں رکھا گیا۔ انسانی بچہ بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر جبلی خصلتوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اوربقا کی خاطر کسی ایک جبلت کے لیے بھی اپنے والدین سے فطری طور پر تربیت حاصل نہیں کرتا۔ ’’بہت کم جبلی خصلتوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے‘‘ سے مراد یہ ہے کہ جس طرح ہم جانوروں کے بچوں کی مختلف جبلتوں کا مظاہرہ دیکھتے ہیں، انسانی بچوں میں ایسا مظاہرہ نہیں دیکھتے۔ بطخ کا بچہ پیدا ہونے کے فوراً بعد تالاب میں چھلانگ لگا سکتاہے۔ مرغی کا بچہ چیل کو دیکھ کر ماں کے پروں تلے چھپ سکتاہے۔ لیکن انسان کا بچہ ایسا کچھ نہیں کرسکتا۔ انسانی بچہ توفطرت میں موجود خدشات سے آگاہ ہی نہیں ہوتا۔ وہ سانپ کو پکڑ کر منہ میں ڈال سکتاہے ۔ آگ کو پکڑنے کی کوشش کرسکتاہے۔ اس کی اگرچہ بنیادی وجہ تو انسانی جسم کی بناوٹ اور انسان کی لمبی عمر ہے لیکن فطرت میں اتنی بڑی تفریق انسانوں کو قدرتی ہدایت سے محروم کردیتی ہے۔

انسانی والدین اپنے بچوں کو جو بھی تربیت دیتے ہیں وہ والدین کی جبلت میں موجود نہیں ہوتی بلکہ انہوں نے سیکھی ہوتی ہے۔ یعنی انسانی بچے کی تربیت کا عمل قدرتی نہیں بلکہ اکتسابی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جانوروں کے والدین اپنے بچوں کی تربیت کے لیے نت نئے قوانین نہیں بناتے جبکہ انسان اپنے بچوں کو مختلف معاشروں میں مختلف طریقوں سے تربیت دیتا اور جہدللبقأ کے مختلف طریقے سکھاتاہے۔ انسانی بچہ قدرے بڑا ہوتاہے تو تربیت کا یہ عمل تعلیم اور مشق کے ذریعے مکمل کیا جاتاہے۔ ڈِیپ ڈاؤن تو خیریہ بھی ارتقائی عمل کا ہی حصہ ہے لیکن بظاہر جانوروں اور انسانوں میں یہ فرق واضح ہے۔

مذاہب انسانی تربیت کا ایک خودکار نظام ہیں۔ زمانہ قبل ازتاریخ کے لوگوں میں بھی مذاہب پائے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ نیڈرتھل کے جو فاسلز ملے ہیں ان میں جَما ہوا دھواں اور بعض ایسی اشیأ بھی ملی ہیں جن سے اندازہ ہوتاہے کہ اُن میں ابتدائی سطح کے مذہب کی طرف رجحان پایا جاتا تھا۔ معلوم ہوتاہے مذہب نے آج سے کوئی دولاکھ سال پہلے انسان نما نسلوں میں ابتدائی مداخلت کی۔ چونکہ انسانی جسم کی ساخت کی وجہ سے انسانوں کے پاس اپنے بچاؤ کے ہتھیار بہت کم تھے بلکہ سِرے سے تھے ہی نہیں چنانچہ انہیں سروائیول کے لیے دوسرے طریقے اختیار کرنا پڑے۔ انسان کے مقابلے میں دیگر جانوروں کے پاس سینگ تھے۔ نوکیلے دانت اور پنجے تھے۔ طاقت تھی، موٹی جلد تھی یا فَر تھی، چستی تھی، خود کو چھپا لینے کی صلاحیت تھی۔ رات کی تاریکی میں دیکھنے کی صلاحیت تھی۔غرض جانوروں کو انسانوں کے مقابلے میں اپنے تحفظ کے لیے بہت سے اضافی فوائد میسر تھے۔ لیکن انسان کے پاس نہ تو دانت تھے، نہ پنجے اور نہ ہی کوئی موٹی جلد ۔ چنانچہ انسانوں میں خودکار طریقے سے یعنی بذریعہ ارتقأ مذہب داخل ہوا۔ بھیڑیوں کے غول میں اُن کا سردار اپنے پورے گروہ کی اس طرح تربیت کرتاہے کہ گروہ ٹوٹنے نہیں پاتا۔ ان کی معاشرت اور معاشرتی استحکام جبلی طور پر ہی قائم رہتا ہے۔ انسانوں کے پاس ہتھیار نہ ہونے کی وجہ سے ان کے لیے معاشرت قائم رکھنا ناممکن کے قریب تھا۔ وہ اگر اکھٹے رہتے تھے تو فقط خطرات سے ڈر کر ورنہ اس کے علاوہ انہیں معاشرہ بن کر رہنے کی چنداں ضرورت نہ تھی۔ ایک ساتھ رہنے میں مشکل یہ تھی کہ آپس میں مسائل پیدا ہوتے۔ وہ ایک دوسرے سے گوشت اور ہڈیاں چھین چھین کر کھاتے اور پھر لڑپڑتے اوریوں بنتا ہوا قبیلہ ٹوٹنے کے خدشات پیدا ہوجاتے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تربیت کے خودکار نظام کو مداخلت کرنا پڑتی۔ اور اس لیے ابتدائی دور کا مذہب قبل ازتاریخ کے قبائل کی معاشرتی تربیت کا خودکار نظام تھا۔

سو مذہب انسانی تربیت کا ایک خودکار نظام تھا۔ جانوروں کو مذہب کی ضرورت نہیں تھی لیکن انسانوں کو ایسی تربیت کی ضرورت تھی جس کی بنا پر وہ سروائیو کرپاتے۔ چنانچہ مذہب نے انسان کے لیے ابتدائی قسم کی اخلاقیات مرتب کی۔ میں اکثر کہا کرتاہوں کہ،

’’اخلاقیات ایک ہتھیار ہے جو ہم اپنے آپ کو دوسروں کے شر سے محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں‘‘

اس جملے سے میری مراد یہ ہے کہ ہم جب کسی کو ’’جی‘‘ کہتے ہیں یعنی جب کسی کے ساتھ اخلاق سے پیش آتے ہیں تو فی الاصل یعنی جبلی طور پر اس خدشے سے کہتے ہیں کہ وہ ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔ ہم اپنے پڑوسی کا خیال بنیادی طور پر اُس کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے رکھتے ہیں۔ ہم جب اپنے ہاتھ اور زبان سے دوسروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے تو دوسرے بھی اپنے ہاتھ زبان سے ہمیں نقصان نہیں پہنچاتے۔ اخلاقیات گویا ایک خاموش باہمی معاہدہ ہے۔ عارضی طور پر جنگ بندی کا اعلان، ایک خودکار نظام کے تحت۔ بالفاظ دِگر اخلاقیات ایک خودکار ہتھیار ہے جو ہمیں ناخنوں، پنجوں، سینگوں اور تیز دانتوں کی جگہ فطرت کی جانب سے ودیعت ہوا ہے۔ کیونکہ انسانی بچے کے لیے اس کے والدین کی فطرت میں تربیت کی جبلت کا عنصر نہیں رکھا گیا۔ ایسا کوئی عنصر بہت قدیم ماضی میں ضرور ہوتا ہوگا لیکن انسانی جسم کی ساخت جُوں جُوں ایسی ہوتی گئی جیسی کہ ہے، تُوں تُوں انسان کے لیے خطرات سے بچنے کے متبادل طریقے ایجاد ہوتے گئے۔

میں کبھی کبھی اخلاقیات کی پیدائش کے ایّام تصور میں لاتاہوں تو سوچتاہوں جب کسی غلطی کی وجہ سے دو اشخاص یا دو قبیلوں میں قتل وغارت گری کا سلسلہ شروع ہوتا ہوگا اور بار بار ایسا ہوتا ہوگا تو آخر ہزاروں سال بعد لوگ وہ غلطی کرنے سے اجتناب کرنا سیکھ جاتے ہوگے۔ غالباً دوسرے قبیلے کی عورتیں ، دوسرے قبیلے کی عورتیں ہیں۔۔۔۔۔ اور ہم نے کسی بھی قیمت پر ان کے نزدیک نہیں جانا۔ یہ ہوگی ابتدائی ارتقائی اخلاقیات کی صورتِ تشکیل، جو وقت کے ساتھ پنپتی پنپتی یہاں تک آپہنچی۔

ابتدائی مذہب کیا تھا؟ غاروں میں رہنے والے انسان اپنے بچوں کو بتاتے تھے کہ ان کے والدین جب مر جاتےہیں تو وہ مرنے کے بعد بھی ان کے آس پاس رہتے ہیں اور انہیں دیکھتے رہتے ہیں۔ بچے تمام عمر ڈرتے رہتے کہ باپ دیکھ رہا ہے اور جب میں مرونگا تو باپ مجھے میری غطیوں کی سزا دیگا۔ یوں مرنے کے بعد جواب دہی کا ایک تصور متعارف ہوا۔ پھر ابتدائی مذاہب کے کاہن جو کائنات کے مختلف مظاہر یعنی بادلوں کی شکلوں، بجلیوں، بارشوں، ہواؤں، ٹوٹتے ستاروں، سُوکھتے درختوں اور سُلگتے جنگلوں سے مختلف شگون لیتے اور اُسے اپنے طور معانی پہناتے تو نئے نئے احکام اور نئی نئی شریعتیں نافذ کرتے۔ اُن کاہنوں میں بھی یقیناً اُتنی ہی عقل ہوتی تھی جتنی ان کے ماننے والوں میں ہوتی تھی چنانچہ وہ اگر کسی مظہر ِ فطرت سے کوئی شگون لے کر اسے کوئی معانی پہناتے تو منافق یا غیر مخلص نہ ہوتے کہ وہ اتنے ذہین اور چالاک تھے ہی نہیں۔ وہ نئے نئے شگون سناتے اور احکامات بتاتے تو ماننے والے بھی اسے سچ سمجھتے اور یوں قبل از تاریخ کے مذاہب بنتے چلے گئے۔ اگرچہ مذہب انسانوں کی تربیت کا ابتدائی نظام تھا لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ لازمی طور پر کوئی اچھی تربیت تھی۔ یہ چونکہ ایک ارتقائی عمل تھا اور خودکار تھا اس لیے اس تربیت میں وقت اور حالات کے مطابق مختلف قسم کے شگون اپنا کام دکھاتے اور بے شمار ایسی باتیں جو اخلاقی اعتبار سے آج اچھی نہیں ہیں لیکن تب بنیادی تربیت کا حصہ سمجھ لی جاتیں۔

غرض انسانوں کو معاشروں میں رہنے کے لیے اپنے بچوں کو جو تربیت دینا پڑتی ہے وہ چڑیا، مرغی بلی کُتے کی طرح قدرتی نہیں، اکتساب کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک نوع کے افراد ہونے کے باوجود انسانی بچے مختلف طرح کی تربیتیں حاصل کرتے ہیں اور یوں مختلف ثقافتیں پیدا ہوتی ہیں۔ ان مختلف تربیتوں کے نظاموں کو انسانوں نے ایک طرح سے خود ایجاد کیا ہے۔ لیکن یہ ایجاد بھی ارتقائی مراحل کا ایک حصہ ہے۔ مذہب کے غلبہ کے زمانے تک تو یہ عمل کلیۃً خودکار ہی تھا یعنی فطرت کا عمل تھا لیکن جب سے عقل نے مذہب کا یہ کام اپنے ہاتھ میں لیا ہے اب ہم تربیت کے اس عمل کو کلی طور پر خودکار نہیں کہہ سکتے اگرچہ ارتقائی عمل کا حصہ اب بھی کہہ سکتے ہیں۔ بس دیکھنا فقط یہ ہے کہ آیا انسانی ارتقأ کے اس درجہ میں کہ جس میں ہم اب موجود ہیں ’’عقل‘‘ اپنی یہ ذمہ داری کس حد تک نبھاتی اور کس قدر کامیاب ہوتی ہے۔

میں نے تو انسان کو بتدریج محروم ہوتاہوا ہی پایا ہے۔ مختلف صلاحیتوں، جبلتوں، نعمتوں اور خودکار نظاموں سے۔ دیکھتے ہیں فطرت کی جانب سے انسان کو محروم سے محروم کرتے چلے جانے کا یہ عمل کب تک جاری رہتاہے اور جہدِ للبقأ کے لیے عطاکی گئی ہر ہر صلاحیت اور جبلت سے کلیۃً محروم ہوجانے کے بعد انسان بطور انسان کس حد تک باقی رہ پاتاہے۔ ممکنہ طور پر دو جواب ہیں۔ ایک یہ کہ وہ حیوانی سطح کے تحفظ والے آلات، سینگ اور دانت وغیرہ سے یعنی حیوانِ ناطق کے باب میں اخلاقیات سے چھٹکارا پالے گا کیونکہ سروائیول اس کا مسئلہ نہیں رہے گا۔ یہ آلات فقط سروائیول کے لیے عطا ہوئے تھے۔ جب وہ سروائیول سے بلند ہوکر اصلی ’’جینا‘‘ شروع کرے گا تو تب اسے اخلاقیات کے ہتھیار کی ضرورت بھی نہ رہے گی اورلامارک کے بقول جس عضو کی ضرورت نہ رہے وہ ایک مدت کے بعد خودبخود مفقود ہوجاتاہے کیونکہ نئے جِین پولز صرف ان کو قبول کرتے ہیں جن کے وہ اعضا پہلے سے نہ ہوں یا کمزور ہوں۔ دوسری بات یہ ہوسکتی ہے کہ انسان انسانی شکل سے تبدیل ہوکر کوئی اور مخلوق بن جائے جس کے پاس یہ والا جسم نہ ہو۔ یہ جسم جو اپنی اصل میں حیوانی ہے اور جس کے سروائیول کی بنیادی ضرورت ہتھیار ہیں چاہے وہ سینگ ہوں یا اخلاقیات۔اگر انسان اخلاقی دباؤ کے بغیراصلی والا ’’جینا‘‘ سیکھ گیا یا اگر انسان کسی اور طرح کے اجسام میں منتقل ہوگیا، دونوں صورتوں میں شاید ارتقأ کو بالکل ’’اندھا‘‘ اور بے ہدایت کہنا درست نہ ہوگا۔

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close