منطق و فلسفہ

معنی کہاں واقع ہے؟

ادریس آزاد

(ڈی کنسٹرکشنزم یعنی ردِّ تشکیلیت کے مفہوم تک پہنچنے کی کوشش)

کسی لفظ یا فقرے میں ’’معنی‘‘ فی الحقیقت کہاں واقع ہے؟ یہ مختلف مقامات پر ہوسکتاہے۔

۱۔ لکھاری کے ذہن میں
۲۔ لکھی ہوئی تحریر میں
۳۔ یا پڑھنے والے کے ذہن میں

’’نیو کرٹسِزم‘‘ بھی ادبی تنقید میں ایک تحریک کا نام ہے۔ یہ تحریک پرانی طرز کی تنقید کے برخلاف یہ کہتی ہے کہ تحریر کو مصنف سے الگ کرکے دیکھا جانا چاہیے۔ جبکہ پرانی طرز کی تنقید اپنی تمام تر توجہ مصنف پر مرکوز رکھتی تھی۔ چنانچہ نیوکرٹی سِزم کی تحریک سے وابستہ نقاد فقط تحریر پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ انہیں اِس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ مصنف کیا کہنا چاہتاتھا۔ نہ وہ اِس بات کو  درخور اعتنأ سمجھتے ہیں کہ پڑھنے والا کیا سمجھ سکتاہے۔ ان کی توجہ ہرحال میں فقط تحریر پر رہتی ہے۔ وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ تحریر کیا کہہ رہی ہے۔ بظاہر یہ بات کسی حدتک غلط محسوس ہوتی ہے کہ آخر وہ مصنف کو کیوں نظر انداز کررہے ہیں۔ مصنف کے بغیر کسی تحریر کے اصل معانی تک کیسے پہنچا جاسکتاہے؟ لیکن اصل میں وہ غلط نہیں کہہ رہے ہوتے۔ ان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ لکھاری کے ذہن میں کیا تھا کسی تحریر سے اس کا انداز لگانا ممکن ہی نہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ بعض مصنفین اپنی تحریروں کے ساتھ وضاحتی نوٹس لکھ دیتے ہیں۔ نیوکرٹسِزم کے مطابق وہ وضاحتی نوٹ خود محتاجِ تشریح ہونے کی وجہ سے لکھاری کی اصل ’’مُراد‘‘ پیش کرنے کا اہل نہیں ہے۔ چنانچہ فقط تحریر پر ہی توجہ مرکوز کرنا سب سے زیادہ مناسب معلوم ہوتاہے۔ لیکن کسی تحریر پر مکمل طور پر توجہ کیسے مرکوز کی جاسکتی ہے، تاکہ بات کا اصل معنی حاصل کیا جاسکے۔ اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ تحریر کو ’’اور زیادہ توجہ کے ساتھ پڑھا جائے‘‘۔ اگر معنی فقط تحریر میں ہی موجود ہے تو ہمارے لیے ضروری ہوجاتاہے کہ ہم تحریر کو اچھی طرح سےسمجھیں، تاکہ معنی تک پہنچ پائیں۔ اگر ہم توجہ سے نہیں پڑھیں گے تو ہم تحریر کا اصل معنی پانے میں کوتاہیاں کرسکتےہیں۔ چنانچہ پڑھنے کے تین طریقے ہوسکتے ہیں،

۱۔ عام قرات یعنی یونہی پڑھنے کے لیے پڑھنا
۲۔ توجہ سے پڑھنا
۳۔ سمجھنے کی شدید طلب کا ذہنی دباؤ لے کر پڑھنا

نیوکرٹی سِزم تیسری قسم کے پڑھنے کی قائل ہے۔ وہ تحریر کے ایک ایک لفظ کو پوری توجہ سے پڑھتے ہیں۔ ہر لفظ کے ہر ہر معنی کو پوری توجہ سے جانچتے ہیں۔ اُن کا کہناہے کہ ’’کیا پتہ کسی ایک لفظ کے معنی کو ٹھیک سے متعین نہ کرنا ساری تحریر کے معانی پر اثر ڈال دے‘‘۔ نیوکرٹی سِزم کے نزدیک تحریر ایک جال کی طرح سے ہوتی ہے۔ جس کا ہر ہر دھاگہ دوسرے دھاگوں کے ساتھ مل کر اپنا وجود قائم رکھتاہے۔ان کے بقول، الفاظ کے اس پورے جال میں کہیں معنی موجود ہے جو فقط اِسی ایک طریقے سے اخذ کیا جاسکتاہے۔

اس موضوع پر ’’کلیَنتھ بروکس‘‘ (Cleanth Brooks) کا ایک نہایت دلچسپ مضمون موجود ہے جس کا عنوان ہے، ’’بیان کی بدعت‘‘ (The Heresy of Paraphrase)۔ اس مضمون میں برُوکس نے یہ ثابت کیا ہے کہ ’’ہم کسی بھی بیان کو بیان نہیں کرسکتے، کیونکہ جب ہم اُسے بیان کرنے لگتے ہیں تو اس کے اصل معانی گم ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ معنی نہ تو تحریر کے مواد میں موجود ہوتے ہیں اور نہ ہی اس کی بناوٹ یعنی ساخت میں، بلکہ کسی تحریر کا معنی اِن دونوں یعنی تحریر کا مواد اور اس کی ساخت کے باہمی امتزاج سے متعین ہوتاہے۔

بُروکس جیسی باریک بینی سے کسی بیان کے معنی کو جاننے کی کوشش اس بات کی یقینی طور پر متقاضی ہے کہ ہم کسی بہت بڑی تحریر کو پڑھیں۔ مختصر تحریر کا کام نہیں ہے کہ وہ اپنے اصل معانی اپنے قاری تک پہنچا سکے۔ یوں گویا ہمیں کسی ایک لفظ کو سمجھنے کے لیے ایک ناول جتنا پڑھناچاہیے۔ چنانچہ آپ کسی کتاب پر تنقید لکھتے ہوئے اس کے کسی ایک حصے کو معیار نہیں مان سکتے۔

لیکن نیوکرٹی سزم یہ تسلیم کرتاہے کہ ہم کسی کتاب کو مختلف اجزأ میں تقسیم کرکے اس کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ لیکن اس کا طریقہ بھی یہ ہوگا کہ پہلے ہم پوری کتاب کو تمام تر توجہ کے ساتھ پڑھینگے اور پھر اس کے کسی ایک جزو کو لے کر اُس کا تجزیہ کرینگے۔ یا ہم مکمل مطالعہ کے بعد کتاب کے کسی مخصوص پہلو پر اپنی توجہ مرکوز کرسکتے ہیں۔

نیو کرٹی سِزم صرف باریک بینی سے پڑھنے کی ہی ہدایت نہیں کرتا بلکہ نیو کرٹی سزم کے بقول ایک کتاب میں ایک خاص قسم کی گہرائی ہوتی ہے۔ ایک کتاب میں ایک خاص قسم کی پیچیدگی اور تناؤ پایا جاتاہے۔ یہ عوامل کسی کتاب کے مجموعی مزاج کو تخلیق کرتے ہیں۔ کسی کتاب میں ’’تناؤ‘‘ کس طرح سے پایا جاتاہے۔ کسی بھی تحریر میں موجود تناؤ وہ لاینحل تضادات (متضاد اجزأ) ہوتے ہیں جو تحریر کے اجزأ کے درمیان معمّوں کی صورت پائے جاتے ہیں۔ ایسے تضادات کسی تحریر کے معانی کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ دو متضاد اشیأ کی موجودگی میں کسی معنی کا تعین آسان ہے نسبتاً بلامقابلہ موجود الفاظ یا جملوں کے۔ بلامقابلہ سے میری مراد کسی تحریر میں موجود ایسے الفاظ یا جملے ہیں جو اپنا معنی بیان کرنے کے لیے اپنے متضاد لفظ یا جملے کی موجودگی سے محروم ہوں۔  تضادات یعنی تحریر میں موجود متضاد اجزأ قاری کے لیے آسانی پیدا کرتے اور اس کے لیے کتاب کے متن کو قابلِ فہم بناتے ہیں۔ لیکن اِن تضادات کی مدد سے معنی کی تخلیق بھی لکھاری کی ذمہ داری ہے۔ اگر کسی تحریر میں ایسے تضادات موجود ہیں لیکن لکھاری میں اُن تضادات سے پیدا ہونے والا معنی متعین کرنے کی صلاحیت موجود نہیں تو تحریر بیکار ہے۔ ایسی تحریر کا قاری کتاب یا تحریر کا مکمل اور مجموعی معنی جاننے سے قاصر رہتاہے۔

اِس خاص امر کی مثال ہمیں فیمنزم میں نظر آتی ہے۔ فیمنزم ادبی تنقید میں ایک خاص تحریک کا نام ہے جو اپنی ماہیت میں نیو کرٹی سزِم سے ملتی جلتی ہے کیونکہ اس تحریک کے نزدیک کسی بھی کتاب یا تحریر میں بنیادی طور پر مرد اور عورت کے درمیان موجود تضاد کا جائزہ لینا ہوتاہے۔ یعنی ہمارے ادب میں یا دنیا کے ادب میں لکھاریوں نے عورت کو بمقابلہ مرد کس مقام پر رکھا؟ کیا عورت کو ادیب نے دبا دیا اور مرد کے کردار کو غالب بنادیا؟ کیا لکھاری نے دونوں کرداروں کو برابر برابر رکھا؟ کیا لکھاری نے عورت کے کردار کو غالب کردیا؟ مثلاً اگر ہم رحیم گل کی کتاب ’’جنت کی تلاش‘‘ کا گہرا تنقیدی جائزہ لیں تو ہمیں پہلی قرات میں نظر آئے گا کہ عورت غالب ہے کیونکہ امتل ناول کا نہ صرف مرکزی کردار ہے بلکہ امتل کی ذہانت ناول میں موجود تمام مردوں سے زیادہ ہے، امتل کی بہادری ناول میں موجود تمام مردوں سے زیادہ ہے، امتل کی قادرالکلامی ناول میں موجود تمام مردوں پر بھاری ہے۔ پوری ناول میں فقط امتل ہی امتل دکھائی دیتی ہے۔ امتل ہرطرف چھائی ہوئی۔ پوری طرح سے ناول پر حاوی امتل فی الحقیقت رحیم گُل کے پٹھان قلم سے بچ نہیں پائی۔ امتل کو ہرمقام پر فقط مردوں کی وجہ سے ہی برتری بلکہ تحفظ کا ملتے رہنا ثابت کرتاہے کہ اصل میں امتل سب کی پسندیدہ ہے لیکن ناول میں وہ پھر بھی ایک دبی ہوئی مشرقی عورت ہے۔ اسی طرح رحیم گل کے فاشسٹ قلم سے  نسل پرستی کی بُو ناول کی آخری سطر تک آتی رہتی ہے، اگرچہ یہ الگ بات ہے کہ رحیم گل خود کو کمیونسٹ کے طور پر پیش کرتے تھے۔

غرض فیمنزم کی ادبی تحریک میں بھی نیو کرٹی سِزم کی طرح  یہی دیکھنا ہوتاہے کہ مصنف نے متضاد قوتوں کا استعمال معنی کے تعین کے لیے کس کامیابی اور چابکدستی کے ساتھ کیا۔ مصنف نے اگر عورت کے لیے ایسی اصطلاحات، الفاظ، حروف، کامے،علامات، نقطے وغیرہ استعمال کیے جو اس کی سماجی حیثیت کو مردوں کے مقابلے میں ذرا بھی کم تر دکھارہے ہوں ؟ قطع نظر اس کے کہ مصنف دانستہ ایسا کررہا تھا یا نادانستہ کیونکہ نیو کرٹی سزم میں مصنف کو نظر انداز کرکے تحریر کو دیکھا جاتاہے، سو اگر مصنف نے دانستہ یا نادانستہ عورت کے لیے الفاظ کا مخصوص چناؤ کیا تو اس نے بھلے کلچرل پریشر کے زیر اثر کیا وہ اصل لکھاری نہیں ہے اور اس کی تحریر معنی سے خالی رہیگی۔ فقط اس وجہ سے کہ متخالف اجزأ یعنی تضادات کا استعمال درست طریقے سے نہیں کیا گیا۔

تھوڑی سی مزید وضاحت کرتا چلوں کہ فیمنزم کی تحریک ادب میں ایسے الفاظ کو زیادہ دھیان سے ڈھونڈتی ہے۔ مثال کے طور پر ہم ایک ناول پڑھ رہے ہیں اور اس میں ایک فقرہ آیا،

’’سٹیج پر کشمیرکی بہادر بیٹی کسی شیر کی طرح گرج رہی تھی‘‘

اس فقرے میں ’شیر‘‘ نَرہے۔ ایک فیمنسٹ نقاد اس لفظ پر گرفت کرسکتاہے۔ وہ سوال اُٹھاسکتاہے کہ شیر بہادری کی علامت ہے تو کیا ’شیرنی‘‘ بہادری کی علامت نہیں ہے؟ لکھاری کے لیے انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ وہ جملہ اس طرح لکھتا،

’’’’سٹیج پر کشمیرکی بہادر بیٹی کسی شیرنی کی طرح گرج رہی تھی‘‘

یہ ایک بہت سادہ سی مثال ہے۔ فیمنسٹ نقاد کا کام ہے ہر ایک لفظ پر گرفت کرنا جس میں سے مردانگی کی بُو آتی ہو۔ خیر! فیمنزم پر ہم کسی اور مضمون میں تفصیلی بات کرینگے۔ ابھی واپس اپنے پہلے موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔

ہم نے بات شروع کی کہ،

’’ کسی تحریر میں معنی کہاں واقع ہے‘‘

کیا یہ مصنف کے پاس ہے؟ کیا یہ تحریر میں موجود ہے؟ کیا یہ قاری کے پاس ہے؟ کسی لفظ، جملے یا تحریر کا معنی کہاں واقع ہوتاہے؟

تنقیدی ادب میں ایک بڑی تحریک ’’ڈی کنسٹرکشن‘‘ کے نام سے موجود ہے۔ اِسے اردو میں ’’ردِ تشکیل‘‘ کہتے ہیں۔ کیا ڈی کنسٹرکشن کسی معنی کے محلِ وقوع کو دریافت کرنے کی دعوے دار ہے؟ نہیں۔ اس کے بالکل برعکس۔ ڈی کنسٹرکشن معنی کو تباہ کرنے کی دعوے دار ہے۔

ادبی تنقید میں جسے ہم ’’ڈی کنسٹرکشن‘‘ کے نام سے جانتےہیں، اس بات کی مدعی ہے کہ کسی بھی تحریر میں معنی کہیں بھی موجود نہیں ہوتا۔ ڈی کنسٹرکشن جیسا کہ لفظ سے ظاہرہے کہ کسی لفظ کے موجود معانی کو ’’ڈی کنسٹرکٹ‘‘ کرنے کا عمل ہے۔ یعنی بظاہر اگر ایک تحریر کے معانی تشکیل شدہ ہیں تو ڈی کنسٹرکشن کا کام ہے کہ وہ اس کے معنی کو مکمل طور پر تباہ کردے۔ وہ لکھاری، تحریراور قاری، تینوں کے پاس موجود معانی کا خاتمہ کردیتی ہے۔ ڈی کنسٹرکشن کا دعویٰ ہے کہ اگر آپ کسی تحریر کو بہت زیادہ توجہ سے دیکھیں تواُس کے معنی خلاؤں میں کھوجاتے ہیں۔ بالفاظ دگر ڈی کنسٹرکشن تحریر کی قاتل ہے۔ کوئی تحریر ڈی کنسٹرکشن کی موجودگی میں اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں رہ سکتی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ڈی کنسٹرکشن کسی تحریر کے معنی کو مکمل طور پر تباہ کیوں کردیتی ہے؟

اس سوال کا بنیادی طور پر یہ جواب ہے کہ ڈی کنسٹرکشن تاریخ ِ تنقید میں ’’سٹرکچرلزم‘‘ کے بعد نمودار ہوئی ہے۔ سٹرکچرلزم جسے اردو نقاد ’’ساختیت‘‘ کے نام سے جانتے ہیں بنیادی طور پر ساخت کرنے کا عمل ہے، یعنی کسی بھی لفظ، جملے یا تحریر کے معانی ساخت کرنا۔ آسان الفاظ میں کسی لفظ کے معنی پیدا کرنا۔ اس لفظ میں معنی ڈالنا۔ سٹرکچرلزم خود ایک بہت بڑی تحریک تھی جو کسی تحریر کی ساخت پر توجہ مرکوز کرتی تھی۔ سٹرکچرلزم یہ دیکھتا تھا کہ کسی تحریر کی ساخت کس انداز میں معنی مہیا کررہی ہے۔ لیکن ڈی کنسٹرکشن اس کے برعکس سوچتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ سٹرکچرلزم کو بظاہر جو معنی دکھائی دیتے ہیں وہ فی الحقیقت اُسی تحریر کے  عمیق تر مطالعہ سے فنا ہوجاتے ہیں۔ ڈی کنسٹرکشنزم کا کہنا ہے کہ ہم فی الاصل زبان کے استعمال سے کسی بھی قیمت پر اپنے معنی اپنے قاری تک پہنچا ہی نہیں سکتے۔ ہم جتنی بھی کوشش کرلیں، ہم ہر بار ناکام ہونگے۔ فلہذا کوئی بھی بات جو ہم نے پڑھی دراصل لکھنے والے کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ مثال کے طور پر فرض کریں کہ ہم ایک لفظ لکھتے ہیں،

’’گائے‘‘

تو کیا ہوگا کہ آپ فوری طور پر اپنے دماغ میں ایک گائے کا تصور لے آئینگے۔ لیکن لکھنے والے کے ذہن میں جس گائے کا تصور تھا وہ تصور پڑھنے والے کے ذہن میں موجود ہونا ناممکن ہے۔ باوجود اس کے کہ ہم جانتے ہیں کہ گائے کیا ہوتی ہے لیکن لکھنے والے نے جس طرح کی گائے کو ذہن میں رکھ کر لکھا، ہم کبھی نہیں جان سکتے تاوقتیکہ ہم ایسی گائے کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھ  لیں اور جب دیکھ لینگے تو تحریر کا مقصد فوت ہوجائے گا۔ لکھنے والا اپنی مخصوص ’’گائے‘‘ کو مخصوص صفتوں کے ساتھ لکھ سکتاہے۔ مثال کے طور پر وہ کہتاہے،

’’پیلی گائے‘‘

اس طرح کہنے سے ہمارے ذہن میں ایک تصور قدرے واضح ہوگا لیکن تب بھی وہ گائے جو لکھنے والے کے ذہن میں تھی ہم کبھی نہ دیکھ پائینگے۔ ژاک دریدا جو ’’ڈی کنسٹرکشنزم‘‘ کا بانی ہے، کہتاہے،

’’ہم مسلسل اپنے زبان کو تبدیل کرتے رہتے ہیں تاکہ معنی کے زیادہ سے زیادہ نزدیک پہنچ سکیں۔ لیکن ہم جتنا بھی نزدیک چلے جائیں، ہم کبھی اصل معانی تک نہیں پہنچ پاتے۔

غرض ڈی کنسٹرکشن ایک طریقہ کار ہے جو مسلسل معنی میں موجود خلا کی نشاندہی کرتا رہتاہے۔ ڈی کنسٹرکشنزم کی ایک ہلکی سی مثال روز مرہ زندگی سے یوں لی جاسکتی ہے، مثال کے طور پر دو دوست ہیں۔ ایک بالکل نارمل انسان ہے اور دوسرا نفسیاتی طور پر قدرے زیادہ حسّاس ہے۔ اور دونوں آپس میں باتیں کررہے ہیں۔ تو ہم عموماً دیکھتے ہیں کہ ایک دوست جو نارمل ہے، جو بھی بات کرتا ہے دوسرا دوست جو کہ نفسیاتی طور پر زیادہ حسّاس ہے اُس کی ہربات کو غلط معنی پہنا دیتاہے۔ مثال کے طور پر نارمل دوست کہتاہے،

’’ارے! آج تو بڑے خوبصورت لگ رہے ہو‘‘

حسّاس دوست جواب میں کہتاہے،

’’اوہ! تمہارا مطلب ہے کہ میں پہلے بُرا لگتاتھا۔ تم کہنا کیا چاہتے ہو؟ کیا میں پہلے کبھی خوبصورت نہیں لگا تمہیں ؟‘‘

یعنی اُن معانی کو لینے کی بجائے جونارمل شخص نے منتقل کرنا چاہے، سننے والے نے الٹا انہیں ناکام بنا دیا۔ ڈی کنسٹرکٹ کردیا۔ تباہ کردیا۔ ڈی کنسٹرکشن میں بذاتِ خود جو سب سے بڑا نقص ہے وہ خود ڈی کنسٹرکشن کا ہی پیدا کردہ ہے۔ یعنی اگر کسی کتاب یا تحریر پر کوئی تنقید لکھی جائے اور تنقید نگار ڈی کنسٹرکشن کے عمل سے گزرکر تنقید کرے تو پھر بھی وہ جو کچھ لکھے گا، اس کا لکھا ہوا بھی ایک تحریر ہوگا اور اس کے ہر ہر جزو کو اسی طرح ڈی کنسٹرکٹ کیا جاسکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تحریک بذاتِ خود کسی بھی تنقید کومطلق سنجیدگی کے ساتھ انجام نہیں دے سکتی۔ یعنی یوں کہا جاسکتاہے کہ ڈی کسنٹرکشن کی خود بخود ڈی کنسٹرکشن ہوجاتی ہے۔ فلہذا ہم کیسے طے کرینگے کہ ڈی کنسٹرکشن کا عمل بنیادی طور پر کس طرح کام کرتاہے؟ چنانچہ تنقید کے معاملے میں ہمیں پھر واپس ’’نیوکرٹی سِزم‘‘ کی جانب لوٹنا پڑتاہے۔ اگر ہم کسی لفظ کے معنی تباہ کرتے رہےرہینگے تو ہم کسی طور کسی تحریر کو بامعنی قرار نہ دے پائینگے۔ ایک ہی صورت ہے کہ ڈی کنسٹرکشن کا عمل بھی اس اردے کی بجائے  کہ تحریر کے معانی کو تباہ کرنا ہے اس ارادے سے انجام دیا جائے کہ تحریر میں سے معنی تلاش کرنے ہیں۔

چنانچہ یہ عمل نیوکرٹی سزم کے طریقوں پر ہی انجام دیا جاسکتاہے۔ اور نیوکرٹی سزم کا طریقہ ہم جان چکے ہیں کہ ہمیں تحریر میں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا ہم معنی دریافت کرنے کے عمل میں، تحریر میں موجود متضاد اجزأ کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے لانے کا کام انجام دینے کے قابل ہیں ؟ اگر ہم اِس قابل ہیں تو تحریر میں ’’تناؤ‘‘ موجود ہے اور یہی تناؤ ہمیں ’’تقریبا اصلی‘‘ (approximately absulte) معنی کی جانب لے جاتاہے۔ اسی طرح ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آیا متضاد اجزأ کے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والا معنی تحریر کے مجموعی تاثر کی نمائندگی کرتاہے؟ اگر کرتاہے تو پھر تحریر معیاری ہے۔ لیکن یہاں یہ مسئلہ پیدا ہوجاتاہے کہ جن اجزأ کو ہم متضاد سمجھ رہے ہیں آیا وہ فی الحقیقت ایک دوسرے کے متضاد ہیں ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ بنیادی طور پر ایک دوسرے کے مشابہہ یا مماثل ہوں ؟ ایسے سوالات اُٹھانے سے بعض اجزأ مشابہہ نکل آتے ہیں اور پھروہ معنی جو متعین ہونے کے قریب تھا ڈی کنسٹرکٹ ہوجاتاہے۔ یہ بات  قدرے گھنجلک ہے اِس لیے اسے  سٹیون لِن (Steven Lynn) نے اپنی کتاب ’’ٹیکسٹ اینڈ کنٹیکسٹ‘‘ میں ایک مثال سے سمجھایا ہے۔

ایک لِفٹ کے دروازے پر ایک بورڈ آویزاں ہیں جس پر لکھاہے،

Seeing eyes dogs only

ظاہر ہے اس کا مطلب یہ ہوتاہے کہ وہ کُتے جو کسی نابینا شخص کی رہنمائی کرتے ہیں ان کے علاوہ کسی اور قسم کا کُتا لفٹ میں لانا منع ہے۔ لیکن اس جملے کے معنی، تحریر کو دیکھ کر متعین کرنا ناممکن ہے۔ ہم اس تحریر میں دیکھ سکتے ہیں کہ تحریر میں واضح طور پر متضاد اجزأ موجود ہیں۔ یعنی ایک وہ چیزیں جو لفٹ میں آسکتی ہیں اور دوسری وہ چیزیں جو لفٹ میں نہیں آسکتیں۔ اسی طرح ایک اور تضاد موجود ہے کہ ’’وہ جو دیکھ سکتے ہیں اور وہ جو نہیں دیکھ سکتے‘‘۔ لیکن جب ہم اسی جملے کو مزید غور سے دیکھتے ہیں تو کئی اور معنی برآمد ہونے لگتے ہیں۔ جیسا کہ آیا صرف وہی کتے جو نابنیاؤں کو راستہ دکھارہے ہیں، انہی کو آنے کی اجازت ہے؟ اور دیگر تمام کتے اور تمام انسان اور تمام جانوروں کا داخلہ ممنوع ہے؟ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اسی طرح کے بے شمار معنی بنتے ہیں۔ اور تو اور یہ اشتہار کن کے لیے آویزاں کیا گیا؟ نابینا لوگوں کے لیے؟ لیکن نابینا لوگ تو اشہتار پڑھ ہی نہیں سکتے۔ غرض جملے کو ڈی کنسٹرکٹ کرتے چلے جائیں تو ہوتا چلا جائے گا۔ یعنی معاملہ ہے تو فقط اس پر گہرا، مزید گہرا اور مزید گہرا غورکرنے کا۔ مختصر یہ کہ اگر اس جملے کو ڈی کنسٹرکٹ کیے چلے جائیں تو آخر یہ جملہ مکمل طور پر بے معنی قرار دیاجائے گا۔

قصہ مختصر ڈی کسنٹرکشن کے مطابق کسی بھی لفظ، جملے، تحریر، علامت، غرض کسی بھی کمیونیکشن کا بنیادی طور پر کوئی معنی نہیں ہے۔ سب بیان معنی سے خالی ہیں۔

لیکن بقول تھامس فوسٹر  (Thomas Foster) ڈی کنسٹرکشن کے فوائد بھی ہیں۔ جیسا کہ اس نے اپنی کتاب،

’’ہاؤ ٹو ریڈ لٹریچر لائیک اَ پروفیسر‘‘
How to Read Literature Like a Professor

میں لکھا کہ،

’’ ڈی کنسٹرکشن کے عمل سے ہمیں یہ ضرور پتہ چل جاتاہے کہ کوئی کتاب اپنے وقت کے اقدار اور تعصب کے کس قدر زیرتسلط رہ کر لکھی گئی‘‘

یعنی کوئی کتاب جب بھی لکھی جاتی ہے تو اس کا لکھنے والا ہمیشہ کسی نہ کسی سماجی حیثیت کا حامل ہوتاہے۔ اس کی تاریخ، جغرافیہ، حالات، معاشرت، یہ سب اس کی تحریر پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ سو جب ڈی کنسٹرکشن کا عمل شروع ہوتاہے تو معنی چاہے کہیں دُور کھو جائیں لیکن کتاب کی اصلیت کا پتہ ضرور چل جاتاہے۔

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Close