منطق و فلسفہ

نئے علم الکلام کی ضرورت!

محمد عرفان ندیم

اکیسویں صدی میں ایک اہم بحث جدید سائنس نے آ کر پیدا کر دی ہے۔ جدید سائنس مغربی تہذیب کی علم دوستی کا نتیجہ ہے اور اس کی بنیادیں قرون وسطیٰ میں اسلامی تہذیب سے جا ملتی ہیں۔ قرون وسطیٰ میں یورپ میں ان علوم کے تراجم کے لیے باقاعدہ ادارے قائم کیئے گئے تھے اور مسیحی بادشاہ ان اداروں کے لیے باقاعدہ فنڈنگ اور سرپرستی کیا کرتے تھے، آج کی جدید سائنس مغربی تہذیب کی انہی کوششوں کا نتیجہ ہے۔جدید سائنس نے آکر ہمارے ورلڈ ویو، خدا کا تصور، تصور کائنات اور زمین و آسمان کے بارے میں ہمارے مذہبی تصورات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز تک روایتی فکرقابل قبول تھی لیکن اب یہ فکر اور تصورات تنقید کی زد میں ہیں اور ان کی جگہ نئے تصورات نے لے لی ہے۔ اس تضاداور اس کا مناسب جواب نے دینے کی وجہ سے اسلامی علمی روایت اپنی اہمیت اور اپنا اعتبار کھو رہی ہے۔ غیر مسلم تو دور مسلمانوں کا جدید تعلیم یافتہ طبقہ بھی جب دیکھتا ہے کہ اسلامی علمی روایت، جدید سائنسی نظریات کے بالکل مخالف سمت میں کھڑی ہے تو وہ اس سے بدظن ہو جاتے ہیں اور اپنے ہی ہم مذہب افراد کے خلاف صف آراء ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ جو صلاحیتیں مخالفین و معاندین اسلام اور اسلام پر ہونے والے اعتراضات کے جواب پر صرف ہونی چاہییں تھی وہ آپس میں ایک دوسرے کے خلاف طعن و تشنیع پر ضائع ہورہی ہیں۔

ان اعتراضات، سوالات اور چیلنجز کی ایک طویل فہرست ہے جو جدید سائنس نے مذہبی فکر کے سامنے کھڑی کر دیئے ہیں، ہم بطور استشہاد یہاں ایک مثال پیش کر تے ہیں۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر زمین و آسمان کی تخلیق اور اس کی کیفیت کے بار ے میں خطاب کیا ہے، کہیں چھ دن اور راتوں میں زمین و آسمان کی تخلیق کی بات ہوئی ہے، کہیں قرآن میں کہا میں نے سات زمینیں اور آسمان پیدا کئے،کہیں آسمان کو بغیر ستونوں کے چھت بنا کر کھڑا کرنے کو بطور استدلال پیش کیا۔ اسی طرح حدیث میں بھی آسمان کی حیثیت کو تسلیم کیا گیا اور وہ مشہور حدیث کہ جس میں آپ معراج پر گئے اور ساتوں آسمانوں پر قیام ہوا اور وہاں مختلف انبیاء سے ملاقاتیں ہوئیں وغیرہ۔انہی قرآنی بیانات اور اسلامی لٹریچر کی بنیاد پر اب تک ہماری مذہبی فکراس مدعا پرقائم ہے کہ ہمیں جو اوپر نظر آتا ہے وہ آسمان ہے، پھر ایک نہیں سات آسمان ہیں جو بغیر ستونوں کے کھڑے ہیں، اسی طرح سات زمینیں ہیں اور اس آسمان اور زمین کو اللہ نے چھ دنوں میں پیدا کیا وغیرہ۔ یہ سب مقدمات ہماری مذہبی فکرکا نہ صرف حصہ رہے ہیں بلکہ اب بھی کروڑوں مسلمان ایسے ہیں جو انہی مقدمات پر اپنی مذہبی فکر کو استوار کیے ہوئے ہیں۔

جبکہ اب صورتحال یہ ہے کہ جدید سائنس نے اس ساری فکر اور ان مقدمات کو سرے سے ماننے سے ہی انکا رکر دیا ہے۔ آسمان کو چھ دنوں میں بنانے کی بات تو بعد کی ہے پہلے یہ ثابت کرنا ہی مشکل ہو گیا ہے کہ آیا کائنات میں آسمان نام کی کسی شئے کا وجود ہے بھی یا نہیں ؟جدید سائنس نے باقاعدہ تحقیق سے ثابت کر دیا ہے کہ فضا میں آسمان نام کی کسی شئے کا وجود نہیں۔ یہ جو ہمیں نظر آتا ہے یہ محض بادل ہیں جو مختلف سائنسی عوامل کی بنیاد پر ہمیں نیلے رنگ کے نظر آتے ہیں۔ سات آسمان تو کجا یہاں ایک آسمان بھی نہیں اور اس سے اگلی مباحث کہ بغیر ستونوں کے کھڑے ہیں مذکورہ مقدمے کے ثابت ہونے کے بعد بالکل غیر متعلق ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ نظریہ ارتقاء، خدا کا وجو د اور اس کی صفات کی بحث، نبوت و رسالت اور معجزات، جنت و جہنم کے مابعد الطبیعاتی تصورات،کائنات کی ابتداء اور بگ بینگ،قیامت، فرشتوں کا وجود، سفر معراج، وحی کا ثبوت اور اس کی حقیقت، سورج چاند اور ستاروں سے متعلق فلکیاتی مباحث وغیرہ۔

یہاں تک جو سوالات اور چیلنجز تھے وہ اس فکراور ان تصورات کی حقیقت کی بارے میں تھے اب جب جدید سائنس نے اس فکر اور ان تصورات کی اصل حقیقت کو واضح کر دیا تو اگلا سوال یہ پیدا ہوا کہ اگر اصل حقیقت یہ تھی تو اللہ اور رسول اللہ نے اصل حقائق کو چھوڑ کر فرضی بنیادوں پر خطاب کیوں کیا؟ مثلا اگر آسمان نام کی کسی شئے کا وجود نہیں تھا تو اللہ نے سات آسمانوں کی بات کیوں کی۔ اگر اس کا جواب یہ دیا جائے کہ اللہ نے نزول قرآن کے وقت متعلقہ سوسائٹی اور سماجی تصورات کی رعایت کرتے ہوئے انسانوں سے خطاب کیا تو سوال پیدا ہوتا ہے اللہ نے ان کے غلط تصورات کو بنیاد کیوں بنایا، پہلے ان کے غلط تصورات کی تصحیح کر کے اگلا خطاب کیا جاتا، غلط تصورات کی تصحیح کئے بغیرخطاب کا مطلب تھا کہ ان کی تائیدو توثیق کی جا رہی ہے وغیرہ۔

بعض اہل علم کی طرف سے اس کا جواب دیا گیا کہ قرآن نفس واقعہ کو بیان کرنے کے لیے نہیں آیا کہ اشیاء کے اصل حقائق کو بیان کرے بلکہ اس وقت انسانی علم جس سطح پر کھڑا تھا اسے بنیاد بنا کر خطاب کیا گیا۔ سوسائٹی کے ورلڈ ویو اور تصور کائنات کو نہیں چھیڑا گیا کہ اگر ایسا کیا جاتا تو بات اصل مقاصد سے ہٹ کر غیر ضروری مباحث میں الجھ جاتی اور نزول وحی کا جو مقصد تھا وہ ہرگز حاصل نہ ہوپاتا۔ ہاں اس کے ساتھ وحی نے تفکر، تدبر، تعقل کی شرط لگا دی کہ ہر دور کا انسان اپنے طور پر کائنات کے بارے میں غور و فکر کر کے اپنا ورلڈ ویو اور تصور کائنات قائم کر لے۔

ورلڈ ویو بنانے اور کائنات کے بارے میں غور وفکر کرنے کے حکم سے فائدہ یہ ہوا کہ ہر دور کا انسان دستیاب علوم اور ذرائع کی بنیاد پر اپنا ورلڈ ویو قائم کرنے میں آزاد ٹھہرا۔ مثلا آج سائنس انسانی علوم اور دستیاب ذرائع کی بنیاد پر جن سچائیوں اور دریافتوں کی با ت کر رہی ہے یہ کوئی ابدی نہیں بلکہ اگلی صدی میں یہ سب سچائیاں کسی نئی حقیقت کا روپ دھار لیں گی باالکل ایسے جیسے دو صدی قبل کے مفروضے آج حقیقتوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اس لیے اگر اللہ تعالی اس وقت اصل تعلیمات کی بجائے انسانی ورلڈ ویو اور تصور کائنات کی تصحیح میں لگ جاتے تو بات اصل مقصد سے ہٹ کر غیر ضروری مباحث میں الجھ جاتی۔ اس لیے اللہ نے اس وقت کے انسانی فہم اور علوم کو بنیاد بنا کر انسان سے خطاب کیا۔

یہ وہ سوالات اور چیلنجز ہیں جس کا ہماری مذہبی فکر، روایت اور ہمارے ورلڈ ویو کو سامنا ہے لیکن انہیں سمجھنے اور رسپانڈ کرنے والا کون ہے، یہ کام کس نے کرنا ہے، اس فکر اور روایت کاوارث اورا مین کون ہے اور ہماری جدید نسل اور جدید تعلیم یافتہ طبقے کی راہنمائی کون کر ے گا یہ جواب ڈھونڈنا اس امت کے نوجوانوں پر فرض ہے۔

مزید دکھائیں

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. عصر حاضر کے مسلم مفکرین کے ذمے یہ اہم کام ہے، کہ اسلام اور الحاد کے باہمی علمی مکالمے. و فکری تنازعے کے ضمن میں، وسیع تر تناظر میں، اس بحث سے جڑے مختلف پہلوؤں کو، کثیر الجہت تصورات اور کتابوں کے ذریعے پھیلائیں، تا کہ ایسا علمیاتی نظام تخلیق کیا جا سکے، جہاں سے مسلمانوں کو، ملحدوں اور سیکولرز کے اسلام مخالف اعتراضات اور چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے، مواد اور کمک فراہم ہوتی رہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close