منطق و فلسفہ

پیرایۂ اظہار ہے دنیا مرے آگے

کانٹیَن علمیات  کے بنیادی نکتے کی تفہیم پر ایک مکالمہ

ادریس آزاد

’’چلتی چلی جاتی ہے۔ رُکتی نہیں۔ ایک تسلسل، ایک بہاؤ، ایک روانی، ایک تواتر ہے کہ ’’مستقل‘‘ دکھائی دیتاہے۔ پھر بھی جتنا کچھ نظرآتاہے، یہ سب کا سب بہت تھوڑا ہے، اُس کے مقابلے میں جو نظر نہیں آتا۔ جسے محسوس کرنے کے لیےحواس سے بڑھ کر کسی اور آلے کی ضرورت ہے‘‘

’’کون چلتی چلی جاتی ہے؟ کیا نظر نہیں آتا؟ اور اگر نظر نہیں آتا تو پھر پتہ کیسے چلا کہ وہ موجود ہے؟ تم کیا بَڑ بَڑ کررہے ہو؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی‘‘

’’بعض باتیں صرف بڑوں کے لیے ہوتی ہیں۔ تم پر لازم نہیں کہ تم ہربات سمجھ اور ضروری بھی نہیں کہ سمجھ سکو۔ ہر طبیعت الگ طرح کی ہے۔ ’کچھ طبائع ایسی باتوں کو سمجھنے کے لیے موزوں ہی نہیں ہوتیں‘۔ تم اپنا کام کرو! میں ہوا سے باتیں کررہاہوں.‘‘

’’تم پاگل ہوگئے ہو! اور کوئی بات نہیں۔ اور کیا میں تمہیں بچہ دکھائی دیتاہوں؟‘‘

’’ہاں! ضروری تو نہیں کہ تم پچاس سال کی عمر میں ہو تو اِس کا مطلب ہے کہ تم بڑے بھی ہوگئے ہو؟

ایسا نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ بچپن میں ہی رُک جاتے ہیں۔ کچھ جوانی میں۔ کچھ ادھیڑ عمری میں۔ عمر کے ساتھ ساتھ ذہن کا ’بڑا‘ ہوتے چلے جانا ہرکسی کے حصے میں نہیں آتا۔

ایک فوجی ہمیشہ تیس کی دہائی میں رُک جاتاہے۔ ایک فوجی افسر ہمیشہ پچاس کی دہائی میں رُک جاتاہے۔ جو کوئی جس عمر کے ناسٹیلجیا کا مریض ہے وہ اُسی عمر میں رکا رہتاہے۔

بقیہ زندگی میں اپنے دل و دماغ کو بڑا ہونے ہی نہیں دیتا۔ تم میری نظر میں ابھی بچے ہو‘‘

’’تو کیا تم بڑے ہوگئے ہو؟ تمہیں کیسے پتہ کہ تم بڑے ہوگئے ہو؟‘‘

’’کیونکہ میرا ذہن اب تک بڑا ہورہاہے۔ میں اب بھی نئی چیزیں قبول کرسکتاہوں۔ کیونکہ میرا غیب پر ایمان ہے۔ کیونکہ میں جانتاہوں کہ ’کچھ بھی ممکن ہے‘۔ ہرامکان حقیقی ہے اور ہرامکان کا وجود ایسا ہی سچا ہے جیسا کہ اِس امکان کا، جس میں میں تم سے باتیں کررہاہوں۔

میرا ذہن امکانات کےلیے کھلا ہے۔ کچھ بھی ہوسکتاہے۔ کچھ بھی ثابت ہوسکتاہے ۔ کچھ بھی جھوٹا نکل سکتاہے۔ میں مستقل بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے ذہن کو بھی بڑھتا اور پھلتا پھولتاہوا محسوس کرتاہوں، اس لیے مجھے لگتاہے کہ میں عہدِ رفتہ کے کسی عشرے کے ناسٹیلجیا کا شکار نہیں ہوسکا۔

لیکن تم ہوچکے ہو۔ تم پچاس سال کی عمر میں رک گئے ہو۔ وہیں کے وہیں کھڑے ہو، جہاں تمہیں لاسٹ گلوری ملی تھی۔ جہاں لوگ تمہیں سلام کیا کرتے تھے تم اُس عہد کی یادوں سے باہر ہی نہیں نکل سکے۔ اس لیے تمہارا طرزِ عمل اس ریٹائرڈ فوجی افسر کی طرح ہے جو گھر میں اپنے بچوں کے ساتھ بھی افسر بنا رہتاہے‘‘

’’اوکے! لیکن تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔ میں نے پوچھا، ’کیا چلتی جاتی ہے؟ میں نے پوچھا، ’کیا نظر نہیں آتا؟‘‘‘

’’اُس کے لیے کوئی بھی نام مناسب نہیں۔ توانائی کہوں تو تمہارا ذہنی ایک بے بصر و نابصیر شئے کی طرف چلا جائے گا۔ فطرت کہوں تب بھی۔ زندگی کہوں تو تمہیں بِگ بینگ اور ستاروں سیّاروں کی فارمیشن کے وقت زندگی دکھائی نہ دے گی۔

خدا کہوں تو تمہارے اندر کا مُنکر ِ امکانات جاگ جائے گا۔ وہ جو غیب کا منکر ہے۔ وہ جو ایمان کی پہلی شرط کا ہی منکر ہے۔ اُسے میں خاک سمجھا پاؤنگا؟ اسی طرح اُسے میں نام دیتا چلا جاؤنگا اور تم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

’’رُکو! رُکو! رُکو! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بریک بریک بریک۔ تم نے اُس کے لیے مؤنث کا صیغہ کیوں استعمال کیا؟‘‘

’’اوہ! ہاہ! نہیں اُس وقت میرے ذہن میں زندگی سے ملتی جلتی کوئی چیز تھی۔ اگر میں کہتا، ’چلتا چلا جاتاہے، رُکتا نہیں وغیرہ وغیرہ تو تم سمجھتے کسی دریا کی بات کررہاہے۔ پھر وہی بے جان اور بےروح شئے؟ اصل میں تم ٹھیک کہتے ہو۔

میں نے مؤنث کاصیغہ استعمال کیا تو اس کا مطلب ہے میں خود بھی اُسے زندگی سے ملتا جُلتا تصور کرتاہوں۔ ہاں ایسا ہی ہے۔ وہ زندگی کی طرح ہے، جیتا جاگتا وجود۔ لیکن وہ بگ بینگ کے وقت بھی ہے اور ستاروں سیّاروں کی فارمیشن کے وقت بھی‘‘

’’اچھا! میرے دوسرے سوال کا جواب دو! تم نے کہا کہ جو نظرنہیں آتا وہ بہت زیادہ ہے، وہ کیا ہے؟‘‘

’’یار! ہمارے کان، ہماری آنکھیں، ہماری جِلد یہ سب بھی تو اُسی کے بنائے ہوئے ہیں نا؟

اگر میں ایک کمپیوٹر بناؤں جو مجھے دیکھ اور پہچان سکنے کا اہل ہو تو میں کیسا کمپیوٹر بناؤنگا؟

کیمرہ لگاؤنگا نا اُس میں؟ یا مائیک؟

یا محسوس کرنے کےلیے کوئی آلات وغیرہ؟

لیکن جب وہ مجھے دیکھے گا تو کیا سمجھے گا؟

کیا وہ سمجھ جائے گا مجھے؟

پھر میں کمپیوٹر کی مثال بھی کیوں دوں؟
میں تو اِس مثال کے وقت بھی دو جمع دو چار والی منطق پر کھڑا ہوں۔

کیا یہ دو جمع دو چار کرنا میں خود نہ ڈالونگا اپنے کمپیوٹر میں؟

ایسے ہی میں بھی جس مادے سے بناہوں وہ کائنات سے بناہے۔ ایک طرح سے کائنات نے مجھے بنایا ہے۔ کائنات نے ہی مجھے سماعت، بصارت، لمس، ذائقہ، اور سونگھنے کی حسّیں دی ہیں۔ کائنات نے اپنی مرضی سے دی ہیں نا؟

میں نے تو چناؤ نہیں کیا اِن حواس کا؟ کائنات نے خود چناؤ کیا ہے۔ تو پھر میں کیسے بتاسکتاہوں کہ کائنات نے کیا کچھ مجھ پر کھول دیا اور کیا کچھ مجھ سے چھپا لیا؟‘‘

’’لیکن کائنات تو نظر آتی ہے۔ تم کہہ رہے ہو کہ وہ زیادہ ہے جو نظر نہیں آتا۔ جو نظر نہیں آتا وہ کیا ہے؟ اور تمہیں کیسے پتہ کہ وہ ہے؟ جب ہم اپنے حواس سے اُسے محسوس نہیں کرسکتے تو دعویٰ کیسے کرسکتے ہیں کہ وہ ہے؟‘‘

’’ہاں نا! مجھے نہیں پتہ کہ وہ ہے۔ میں نے تواپنے حواس کا جائزہ لے کر کہہ دیا کہ مجھے کائنات نے کیا کچھ دکھایا ہوگا؟ اور پھر میں نے دیکھا اور پھر میں نے خود کہا یہ ہے کائنات ۔ سبحان اللہ۔ یہ کیا بات ہوئی؟ کیا میں نے جو کہہ دیا وہی ہے کائنات؟ ویسی ہی ہے ؟ اصل میں بھی؟ مجھے کیا پتہ وہ اصل میں کیسی ہے۔

اگر میرے حواس پانچ نہ ہوتے ، سات ہوتے، یا تین ہوتے تو کیا میں کائنات کے بارے میں یہی رائے رکھتا کہ یہی سورج چاند ستارے ہیں سچائی؟ ساری کی ساری؟ مجھے تو بس لگتاہے کہ وہ جو نظر نہیں آیا۔ وہ جو میرے حواس نے محسوس نہیں کیا۔ وہ کیسا ہوگا؟ ضرور میرے اور زیادہ حواس ہونے چاہییں۔

ضرور میرے پاس کوئی آلہ ہوجو مجھے اور سے اور دکھائے۔ پھر بھی کیا میں جان جاؤنگا؟ کہ اب جو کائنات بن کر نکل آئی، یہی ہے اصل کائنات؟ سو جناب ِ من! جو نظر نہیں آتا سے مراد جو میرے حواس سے ماورأ ہے وہ زیادہ ہے۔

میں نہیں جانتا وہ کیسا ہے۔ لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ جو کچھ مجھے محسوس ہوا یا نظر آیا وہ بہت کم ہے۔ بہت ہی کم.‘‘

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Close