سیاست

آج وہ کل تمہاری باری ہے!

ڈاکٹر سلیم خان

قومی انتخاب کا بگل بج گیا۔ پہلے زمانے میں سیاستداں  ہمہ وقت عوام کی فلاح بہبود کے کام کرتے تھے اور  ایک آدھ ہفتہ الیکشن  لڑا جاتا تھا لیکن موجودہ  کے رہنماوں  کا صرف ایک کام  الیکشن لڑنے کے لیے روپیہ کمانا اور روپیہ کمانے کے لیے انتخاب لڑنا۔ اس لیے  سال بھر الیکشن  کی گہما گہمی رہتی ہے۔ ۲۰۱۹ ؁ کے قومی انتخاب کا  بگل میدان جنگ میں بج چکا  ہے۔ وطن عزیز میں  لال قلعہ  کا راستہ شمال مشرق سے نہیں بلکہ شمال مغرب سے ہوکر جاتا ہے۔ اس کا علم مودی جی کو ہے اس لیے انہوں نے پارٹی کی کمان سنبھالتے ہی شاہ جی کو اتر پردیش کا نگراں بنایا  اور بڑودہ کے ساتھ وارانسی سے کاغذاتِ نامزدگی داخل کیے۔ گجرات کے بعد راجستھان و مدھیہ پردیش اور اب اترپردیش و بہار کے بعد بھی اگرخود ساختہ  چندر گپت موریہ اور نام نہاد چانکیہ ہوش میں نہیں آئے تو ان کا حشر بھی مہابھارت کے کرن اور ارجن جیسا ہوجائے گا جو اپنی تمام تر چالاکی و دلیری کے باوجود مکتی کا مہا مارگ  پانے میں  ناکام و نامراد رہے۔ جہاں تک گورکھ ناتھ کے یوگی جی کا سوال ہے اس کی شکتی کا ڈھول  تو یدھ سے پہلے ہی بج  چکا ہے۔

امیت شاہ کی صحبت اور مودی جی کی خدمت نے  یوگی جی کوبڑا چالاک بنادیا ہے۔ انہوں نے سوچا گورکھ ناتھ کے راجپوت بھکت تو میرے بندھوا مزدور ہیں۔ وہ مجھے نہیں تو کسے ووٹ دیں گے ؟ اس لیے کیوں نہ پنڈت   اپندر شکلاکو ٹکٹ دیا جائے تاکہ براہمن سماج بھی مٹھی  میں آجائے لیکن اس کھیل میں ان کی حالت دھوبی گدھے کی سی ہوگئی کہ براہمن تو ساتھ نہیں آئے مگر راجپوت بھاگ گئے۔ اس انتخاب نے یہ ثابت کردیا کہ ہندوتوا کا نظریہ ذات پات کی دیوار گرانے میں ناکام ہوگیا ہے۔ بی ایس پی کا دلت ووٹ تو یادو اور مسلمانوں کے ساتھ جاسکتا ہے مگر بی جے پی کا راجپوت براہمن کو ووٹ نہیں دے سکتا۔    ۲۷ فروری۲۰۱۷ ؁ کو یوگی جی نے اپندر شکلا کی حمایت میں  ایک یادگار تقریر کی تھی جس کو  وہ بھلا نہیں سکیں گے۔    اس خطاب کے لیے انہوں  پی پی گنج کا انتخاب کیا۔ یہیں پر ان کے خلاف فساد بھڑکانے کا مقدمہ درج ہوا تھا۔ مقدمہ میں شکلا جی بھی   ماخوذ ہیں  جنہیں کو یوگی جی نے اپنا ولیعہد بنایا۔

یوگی جی نے اپنے خطاب میں گورکھپور اور پھول پور کے انتخاب کو ۲۰۱۹؁ الیکشن کا ریہرسل قرار دیا اور اپنی پارٹی کے کارکنان کو ترغیب سے  کہا کہ  وہ آئندہ سال  وزیراعظم نریندر مودی  کی قیادت میں اترپردیش کی  تمام ۸۰   نشستوں پر کامیابی کی تیاری کرلیں۔ وزیراعلیٰ اس خیال میں تھے کہ دونوں محفوظ نشستوں پر کامیابی درج کرانے کے  بعداعلان کردیں گے کہ  یہ آئندہ سال ملنے والی  صد فیصد کامیابی کی نوید ہے لیکن افسوس کہ وہ صد فیصد ناکامی کی دلیل بن گئی۔ انہوں نے کہا گورکھپور ایک بہت بڑا حلقۂ انتخاب ہے۔  ہر گھر میں پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے آپ لوگ اپندر شکلا کے لیے بھی اسی طرح کام کریں جیسے میرے لیے کیا کرتے تھے اور انہیں بڑے فرق کے ساتھ کامیاب کریں۔ میں جب گورکھپور آیا تھا تو میری کوئی شناخت نہیں تھی۔ میں نے اپنی محنت اور   لگن سے اپنا تشخص اور عوام کا اعتماد حاصل  کیا۔  وقت کے ساتھ میری کامیابی کا تناسب بڑھتا رہا۔ شاید یہ سلسلہ جاری رہتا لیکن  درمیان میں مودی جی نے ان کو وزیراعلیٰ بنادیا پھر کیا تھا اچانک آسمان کی جانب رواں دواں  کا میابی کاگراف دھڑام سے زمین پر آگیا۔

یوگی جی نے اپنی کہانی اس طرح سے سنائی گویا ان سے قبل گورکھپور میں زعفرانی سیاست کا وجود ہی نہیں تھا  حالانکہ یہ خام خیالی اور دھوکہ دھڑی  ہے ۔ یہ بات درست ہے کہ جب یوگی جی گورکھپور آئے تو انہیں کوئی نہیں جانتا تھا لیکن مہنت اویدیہ ناتھ انہیں اترکھنڈ سے اٹھا کر  اپنے ساتھ لائے تھے جنہیں سب لوگ جانتے تھے۔ آج سے ۲۹ سال قبل گورکھپور میں گورکھناتھ مٹھ کی سیاست کا آغاز ہوا۔ اس وقت بی جے پی  کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ ایک مندر سے نکل کر آنے والا مہنت انتخاب جیت جائے گا۔ ۱۹۸۹؁ میں ہندو مہاسبھا کے ٹکٹ پر مہنت اویدیہ ناتھ نے اپنی کامیابی درج کرائی اور رام مندر کی تحریک میں مشغول ہوگئے۔ ۱۹۹۱؁ میں بی جے پی نے انہیں ٹکٹ دیا ۔ وہ  اس کے بعد ۱۹۹۶؁ میں بھی وہ کامیاب ہوئے۔ اس کے بعد پانچ مرتبہ اپنے چیلے  ادیتی ناتھ کو کامیاب کیا۔ یہ دراصل یوگی ادیتیہ ناتھ کی محنت کا نہیں بلکہ اویدیہ ناتھ کی مقبولیت کا اثر تھا جو یوگی جی  کو مسلسل کامیابی ملتی رہی لیکن  یہ احسان فراموشی  نہیں تو کیا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی اپنے گرو خراج عقیدت نہیں پیش کیا بلکہ صرف اپنی پیٹھ تھپتھپاتے رہے یا مودی جی کے گن گاتے رہےت۔  اس انتخاب کے بعد قوی امکان ہے مودی جی اجلد ہی   کسی بہانے سے یوگی جی کی  چھٹی کردیں  کیونکہ ان کے سبب ۲۷ سال کے بعد بی جے پی گورکھپور میں ہاری ہے اور ۲۹ سال کے بعد گورکھ ناتھ  مندر کا سیاسی دبدبہ خاک میں مل گیا ہے۔

بابری مسجد کی شہادت کے بعد  ۱۹۹۳ ؁ میں ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی نے متحد ہوکر بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کیا تھا۔ ۲۵ سال بعد پھر وہی ہوا ہے۔ یادو، مسلم اور دلت اتحاد قائم ہوگیا مگر راجپوت اور براہمن متحد نہ ہوسکے۔ ۲۰۱۴ ؁ میں ۷۲ ہزار ووٹ سے ملنے والی  کامیابی  ۲۲ ہزار ووٹ سے شکست میں بدل گئی۔ یوگی جی کو یہ بتانا پڑے گا کہ آخر یہ ایک لاکھ ووٹ  کا فرق کیسے واقع ہوگیا؟ جس سوشیل انجینرنگ کے لیے امیت شاہ مشہور ہیں اسی میں اکھلیش نے ان کے کان کاٹ لیے۔ پچھلی بار یہاں سے بی ایس پی نے ایک نشاد سماج کے امیدوار کوٹکٹ دیا تھا۔ اس بار یہی کام سماجوادی نے کیا اس سے بی ایس پی بھی ساتھ آگئی۔ مسلمان بغض بی جے پی میں سائیکل یاہاتھی کا ساتھ دیتے ہیں اور تقسیم بھی ہوجاتے ہیں اس بار یہ مسئلہ نہیں تھا۔ مسلمانوں پیس پارٹی کی جانب  توجہ نہیں دی۔ ۲۹ سالوں کے بعد گورکھپور سے ایک براہمن کو لڑانا بی جے پی کو مہنگا پڑا۔ اس سے راجپوت ناراض ہوگئے اور گورکھ ناتھ کے بھکتوں کو دکھ پہنچا۔ اس کا پہلا اثر رائے دہندگی کے تناسب پر ہوا جو ۶ء۵۶ فیصد سے گھٹ کر ۴۳ فیصد پر آگیا۔ پانچ لاکھ سے زیادہ بی جے پی کے ووٹ گھٹ کر ۴لاکھ ۳۴ ہزار ہوگئے۔

پھولپور ہمیشہ سے سماجوادی پارٹی کا گڑھ رہا ہے لیکن پچھلی بار مودی لہر کے چلتے وہاں پہلی بار کیشو پرشاد موریہ ایک لاکھ سے زیادہ کے فرق سے کامیاب ہوئے۔ بی جے پی اس جیت سے اس قدر متاثر ہوئی کہ  انہیں وزیراعلیٰ بنانے پر غور کرنے لگی لیکن پھر نائب وزارت اعلیٰ  کے عہدے پر مطمئن ہونا پڑا۔ اس بار دنوں طرف سے پٹیل سماج کے امیدوار آمنے سامنے تھے لیکن بی جے پی امیدوار ۵۹ ہزار سے زیادہ ووٹ سے ہارا۔ سوال یہ ہے کہ  بازی کیسے الٹی اور اگر وہ لہر تھی تو یہ کیا ہے؟     پچھلی مرتبہ کیشو پرشاد موریہ کو ۵ لاکھ سے زیادہ ووٹ ملے تھے لیکن اس بار چونکہ ووٹنگ ۱۲ فیصد کم ہوئی اس لیے ۵ لاکھ والی بات تو ناممکن تھی  لیکن یہ تعداد گھٹ کر ۲ لاکھ ۸۳ ہزار پر پہنچ جائیگی اس کی توقع کسی کو نہیں تھی۔ اس کا موازنہ اگر ۲۰۱۷ ؁ سے کیا جائے تب بھی ایس پی اور بی ایس کے مجموعی ووٹ بی جے پی سے ۳۶ ہزار زیادہ تھے جبکہ یہ تعداد بڑھ کر ۵۹ ہزار ہوگئی۔ اس بار پھول پور میں محض اتحاد کے سبب کامیابی نہیں ہوئی بلکہ بی جے پی کے ۱۳ فیصد سے زیادہ ووٹوں کی کمی نے اسے شکست فاش سے دوچار کیا ہے۔ گورکھپور میں بھی ۵ فیصد ووٹ کم ہوئے جبکہ ایس پی اور بی ایس پی کے ووٹ تناسب میں  اوسطاً ۱۰ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

پھول پور میں بھی امیت شا ہ کی سوشیل انجنیرنگ کام نہیں آئی وہاں پر گوکہ یادو صرف ۶ فیصد ہیں اور پٹیل ۱۷ فیصد اس لیے دونوں نے پٹیل سماج کو ٹکٹ  دےدیا لیکن فرق یہ تھا کہ بی جے پی کا امیدوار مودی جی کے حلقۂ انتخاب وارانسی سے آیا تھا۔ کوشلیندر سنگھ پٹیل ایک زمانے میں وارانسی کئ میئر بھی رہ چکے ہیں۔ باہری امیدوار  مقامی پٹیلوں کو متاثر نہیں کرسکا۔ یہاں پر ۷ فیصڈ براہمن ہیں ممکن ہے انہوں  نے کانگریس کے براہمن امیدوار کو ووٹ دے دیا ہو۔ باقی بچے ۴ فیصد ٹھاکر، ۶ فیصد کایستھ اور ۱۵ فیصد دیگر  سماج کے لوگ یعنی موریہ کے ذات بھائی۔ ان  کی مدد سے انتخاب جیتنا مشکل تھا  جبکہ ۲۲ فیصد دلت سماجوادی پارٹی کے ساتھ تھے۔ اس حلقۂ انتخاب میں مسلمان بھی ۱۷ فیصد ہیں۔ بی جے پی کو امید تھی مسلمان سابق  ایس پی رہنماعتیق احمد کو ووٹ دیں گے لیکن زعفرانیوں نے ہمیشہ ہی مسلمانوں کو سمجھنے میں غلطی کی ہے کیونکہ ان کی آنکھوں پر    فرقہ پرستی کی عینک لگی رہتی ہے۔اس انتخابی مہم کا معیار یوگی جی نے ملائم اور مایاوقتی کو سانپ اور چھچھوندر کہہ کر خاصہ گرا دیا لیکن وہ  دونوں مل کر مداری یوگی کو چٹ کرگئے۔ بی جے پی کابینی وزیر نند گوپال نندی نے ملائم کو راون اور مایا وقتی سپر نکھا کہا جس نے دلت اور او بی سی رائے دہندگان کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

وزیراعلیٰ یوگی ادیتہ ناتھ نے  انتخابی نتائج کا جائزہ لے کر اس سے سبق سیکھنے کی بات کہی   لیکن سارا زور حزب اختلاف کے اتحاد کو توڑنے پر ہے حالانکہ بات کچھ اور ہے۔ عوام نے دیکھا کہ یوگی جی بڑی سادگی کا ناٹک کرتے ہیں لیکن   سرحد پر جان بحق ہونے والے فوجی کے گھر جانے قبل  ان کے  لیےساری لوازمات فراہم  کردی جاتی ہیں اور لوٹتے ہی اٹھوا لی جاتی ہیں۔ وہ جب  حزب اختلاف  میں تھے تو دواخانے میں بچوں کی اموات پر آواز اٹھاتے تھے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد اس کو معمولی واقعہ قرار دیا جاتا ہے اور ایماندار ڈاکٹر کفیل کو بلی کا بکرا بنا کر سیاسی دعوت اڑائی جاتی ہے۔ بنارس ہندو یونیورسٹی میں  طالبات کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی پر کوئی سخت اقدام نہیں کیا جاتا بلکہ نااہل وائس چانسلر کو کلین چٹ دے دی جاتی ہے۔ کسانوں کے قرضوں کی معافی کا اعلان تو بڑے طمطراق سے کیا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ ایسی شرائط لگا دی جاتی ہیں کہ کسانوں کو کرایہ بھاڑا تک نہیں مل پاتا۔ انکاونٹرس کا ایک لامتناہی سلسلہ لگا ہوا ہے جس پر انسانی حقوق کے کمیشن نے جواب طلب کرلیا ہے۔کاس گنج کے علاوہ کئی مقامات پر دلتوں کے خلاف بھی فسادات بھڑکائے جاچکے ہیں۔ ان وجوہات پر غور کیے بغیر سائیکل کی ہوا نکالنے اور ہاتھی پر نکیل ڈالنے کی کوشش بے سود ہوگی۔

 ایک اندازے کے مطابق    ۲۰۱۹ ؁ میں اگر صرف بی ایس پی اور ایس پی کا بھی اتحاد قائم ہوجائے  توبی جے پی ۷۱ سے ۳۷ پر اتر آئے گی اور کانگریس بھی اس الحاق میں شامل ہوجائے تو بی جے پی ۲۴ سے زیادہ سیٹیں نہیں جیت  سکے گی۔ اب مودی کے پاس مایاوقتی کو بلیک میل کرکے ایس پی سے الگ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے لیکن چونکہ بی جے پی کا جہاز ڈوب رہا ہے اس لیےمایا کا قریب آنا تو دور نتیش کمار   بھی رسی تڑا کر بھاگ  سکتے ہیں۔ ایسے میں اگرمودی جی  برے دن آجائیں تو وجئے روپانی بھی ان کے لیے گجرات کے وزارتِ اعلیٰ کی کرسی خالی  نہیں کریں گے۔ کوئی بعید نہیں کہ اس وقت شاہ جی اپنے گرومودی جی کو چھوڑ کر اپنے چیلے روپانی کی شرن میں آجائیں اس لیے کہ  جیل جانا تو کوئی نہیں چاہتا۔ بہار میں بی جے پی کوجب احساس ہوگیا کہ وہ لالو، نتیش اور کانگریس کے سامنے ٹک نہیں سکتی تو نتیش کمار کو ڈرا دھمکا کر اپنے ساتھ کرلیا اور سوچنے لگے  جیسے نتیش نے لالو کو کامیاب کیا ویسے ہی اس کی نیّا بھی پار لگائیں گے لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔ نتیش نے لالو کا نہیں  بلکہ لالو نے نتیش کو وزیراعلیٰ بنوایا تھ۔ا س کا سب سے بڑا ثبوت  یہ ہے کہ   لالو کے ارکان کی تعداد زیادہ تھی لیکن انہوں  نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نتیش کو وزیراعلیٰ بنایا۔ اس کے جواب میں نمک حرامی کرتے ہوئے نتیش نے لالو کوجیل  بھجوایا۔ عوام نے نتیش کمار کو اس کی احسان فراموشی کا سبق سکھایا۔

بہار کے الیکشن کو محض یہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ وہاں پر کوئی تبدیلی نہیں آئی ساری جماعتیں اپنی پرانی حالت پر ہیں۔  ۲۰۱۴ ؁ میں مودی لہر کے باوجود ارریہ میں تسلیم الدین نے۸ء۴۱ فیصد ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ جنتا دل (یو) اور بی جے پی دونوں کے  مجموعی ووٹ کی تعداد۵ء۴۹ فیصد تھی۔ اس بار اگر بی جے پی اور جنتا دل کا اتحاد اپنے پرانے ووٹ پاتا تب بھی ہار جاتا کیونکہ آر جے ڈی کے سرفرازعالم کو ۵۰ فیصدووٹ ملے یعنی اس نے اپنے ووٹ میں ۲ء۸ فیصد کا اضافہ کیا ہے جبکہ بی جے پی اتحاد کے ووٹ گھٹ کر   ۹ء۴۳ پر پہنچ گیا۔ اس کا مطلب صاف ہے  نتیش کمار کا ووٹر اس کے بی جے پی کے ساتھ اتحاد سے ناراض ہے اور آر جے ڈی کی جانب سرک رہا ہے۔ اس کی قیمت اگلے سال چکانی ہوگی۔ آئندہ سال ٹکٹ تقسیم کے وقت بڑا تنازع ہوسکتا  ہے اس لیے پچھلی بار نتیش کے صرف دو ارکان کامیاب ہوئے تھے جبکہ بی جے پی ۲۲ تھے لیکن اسمبلی الیکشن میں نتیش کمار بہت آگے نکل گئے تھے۔ دیکھنا یہ ہے کہ  ٹکٹ کی تقسیم کن بنیادوں  پر ہوتی ہے اس لیے دونوں جانب ابن الوقتی کا دور دورہ ہے؟

مودی جی کی چائے تو ٹھنڈی ہوگئی اس لیے چائے پر چرچا بند ہوگئی  لیکن پچھلے دنوں انہوں نے ’’پریکشا پر چرچا ‘‘ کی۔ اس میں طلباء کو تعلیم کے بجائے سیاست کا سبق دینے لگے۔  انہوں نے کہا  کہ امتحان کے تعلق ان کی سوچ بی جے پی کی پوروج ( آبا واجداد) جن سنگھ کی سی ہونی چاہیے۔ یہ ان کے بچپن کی بات ہے جب  وہ سیاست  سے دور تھے۔ اس وقت جن سنگھ نے گجرات میں  اپنے ۱۰۳   امیدوار کھڑے کیے جن میں سے ۹۹ کی ضمانت ضبط ہوگئی  اور چار کی واپس ملی۔ اس پر جن سنگھ نے زبردست جشن منایا اور مٹھائی تقسیم کی۔ یہ کس قدر غلط مثال ہے۔ عوام سے انتخاب جیتنے کی خاطر چندہ جمع کرنا اور چار پر ڈپازٹ بچانے کے بعد اس کا جشن منانا یہ ڈھٹائی کی انتہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اگر مودی جی خدا نخواستہ ۲۰۱۹ ؁ میں کامیاب ہوگئے تو ۲۰۲۴؁  تک بی جے پی کو وہیں پہنچا کر سبکدوش ہوں گے جہاں جن سنگھ  ان کے بچپن میں ہوا کرتی تھی۔

پریکشا پر چرچا نامی ڈرامے کی ابتداء ایک طالبعلم کے سوال سے ہوئی تھی۔ ایک طالب علم نے مودی جی سے پوچھا آپ نے آئندہ سال لوک سبھا الیکشن کی تیاری کیسے کی ہے؟ ہم بھی ایک سوال پوچھتے ہیں کہ حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج سے سب سے زیادہ خوشی کس کو ہوئی ہے؟ آپ کہیں گے  اکھلیش یادو کو۔ غلط جواب۔ مایاوتی بھی صحیح نہیں ہے۔ دماغ پر زور ڈالیے مسلمانوں کو یہ جواب بھی پوری طرح درست نہیں ہے۔ اچھا راجناتھ سنگھ کو جی نہیں ان سے بھی زیادہ خوش ہونے والا ایک شخص ہے  جس کا نام لال کرشن اڈوانی ہے۔ وہی لال کرشن اڈوانی جس کو آپ نے  تریپورا کے اندربھری مجلس میں نظر انداز کرکے ذلیل و رسوا ک کردیا۔ یہ وہی اڈوانی ہے جس نے جن سنگھ میں اپنا خون پسینہ لگایا۔ بی جے پی کو بنانے اور چلانے اپنی جان کھپائی اور آپ پر بے شمار احسانات کیے۔ مودی جی دوسروں کو دکھ دے کر آپ خوش نہیں رہ سکتے۔ اڈوانی جی نے بھی یہی کیا تھا اور آپ بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہی کررہے ہیں۔ مرزا شوق  لکھنوی   کا یہ شعر موت سے قبل گھٹ گھٹ کر مرنے پر بھی صادق آتا ہے ؎

موت سے کس کو رستگاری ہے 

  آج وہ کل ہماری باری ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close