سیاستہندوستان

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا؟

حفیظ نعمانی

اُترپردیش حکومت کی طرف سے ان مدارس کو جو اُن کے ٹکڑوں پر پل رہے ہیں یوم آزادی کے متعلق جو حکم دیا ہے وہ ایسا ہی ہے جیسے اپنے غلاموں اور نوکروں کو دیا جاتا ہے۔ عربی فارسی بورڈ اس وقت بھی تھا جب ملک پر انگریزوں کی حکومت تھی اور ان مدارس سے ہی فارغ ہوکر نکلنے والے سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں اُردو فارسی کے استاذ مقرر ہوتے تھے۔ برسہابرس یہ مدارس چلتے رہے اور عالم، فاضل، ادیب ماہر، ادیب کامل، دبیر وغیرہ جیسے امتحان دلاتے رہے۔

یہ یاد نہیں کہ کب سے ان کی تنخواہیں حکومت نے اپنے ذمہ لے لیں اور ان کو وہی تنخواہیں ملنے لگیں جو سرکاری اسکولوں کے ٹیچروں اور پرنسپلوں کو ملتی ہیں اور وہیں سے عالموں کے بجائے شاطروں ، بدکرداروں اور بے ایمانوں نے ان مدارس پر قبضہ کرلیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ خبروں کے مطابق ان مدرسوں کی تعداد آٹھ ہزار سے زیادہ ہے جنہیں سرکاری منظوری ملی ہوئی ہے اور پانچ سو سے زیادہ وہ ہیں جن کا پورا خرچ حکومت دیتی ہے۔

حکومت کے اس حکم کے بعد ہر بے ایمان مدرسہ والا بھی کہہ رہا ہے کہ آزادی کی جنگ میں سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر مدارس نے حصہ لیا ہے لیکن یہ نہیں بتاتا کہ وہ مدارس کون تھے؟ جنگ آزادی میں حصہ لینے والے نہیں بلکہ اس کی قیادت کرنے والے دارالعلوم دیوبند اور اس کے اصولوں پر چلنے والے مدرسے تھے۔ دارالعلوم کا دستور ’’اصول ہشت گانہ‘‘ ہے یعنی آٹھ بنیادی اصول۔ یہ اصول حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی اور حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے بنائے ہوئے ہیں ان میں پہلا یہ ہے کہ حکومت سے کسی بھی طرح کی کوئی امداد نہیں لی جائے گی۔ تاریخ شاہد ہے کہ اپنے زمانہ میں انگریزوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ کسی بھی عنوان سے دارالعلوم ان کی مدد قبول کرلے لیکن انہیں کامیابی نہیں ہوئی۔

ملک کی آزادی جس میں سب سے بڑا حصہ دارالعلوم کے بزرگوں کا ہے اور ملک میں اپنی حکومت بن جانے کے بعد جو دارالعلوم کے ہی احسان سے بنی اس نے بھی جب جب کہا کہ کچھ دیا جائے تو اسے بھی منھ کی کھانی پڑی۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء کو جب انگریزوں نے گومتی کنارے زمین دی تھی تو مدرسہ میں انگریزی پڑھانے کے لئے پانچ سو روپئے سالانہ دینے کا بھی حکم دیا تھا جو ندوہ کی گلے کی ہڈی بنا رہا اور اپنی شخصیت کا پورا زور ڈال کر مولانا علی میاں نے اس آرڈر کو ختم کرایا۔

وہی مدارس ہیں جن کو یہ کہنے کا حق ہے کہ ملک کو آزاد ہم نے کرایا اور وہ جیسے دوسرے اہم دن مناتے ہیں ایسے ہی آزادی کی خوشی کا دن بھی مناتے ہیں ۔ وہ اس کے پابند نہیں ہیں کہ سرکار کہے کہ بھانڈوں کی طرح ناچو تو وہ ناچنے لگیں اور سرکار کہے کہ وندے ماترم گائو تو گانے لگیں ۔ رہے وہ سرکاری مدارس جن میں لڑکے لڑکیاں ساتھ بھی پڑھتے ہیں اور جن کے ناظم یا منیجر لالہ گوتم لال ہیں اور ان میں پڑھنے والے لڑکے لڑکیاں زیادہ تر ہندو ہیں انہیں وہ سب اس لئے کرنا پڑے گا کہ وہ صرف لاکھوں روپئے لینے کے لئے ہی مدرسہ چلا رہے ہیں ۔ عیدگاہ کی زمین پر قائم ہونے والا مدرسہ ہو یا فرنگی محل میں حیات اللہ انصاری کی یاد میں قائم ہونے والا حیات العلوم ہو یہ مدرسے نہیں ہیں دلال ہیں جن کا ایمان صرف پیسہ ہے وہ حرام ہو یا مہاحرام انہیں اس سے کوئی مطلب نہیں ۔

ان مدرسوں کی حیثیت بھی وہی ہے جو اُن ہزاروں اُردو اخباروں کی ہے جو صرف اس لئے نکلتے رہے ہیں کہ سرکاری اشتہار مل جائے۔ ان میں سے زیادہ تر کے دفتر اس تھیلے میں ہوئے ہیں جو ہر وقت ہاتھ میں رہتا ہے اور ان کا نام ان کے اور سرکاری اشتہار دینے والے بابوجی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ اور جو اب حکومت کے ایک ہی حکم سے بھکاری بن گئے ہیں ۔ اور انہوں نے ہی ان اخباروں کو جو واقعی نکلتے تھے پڑھے جاتے تھے اور مانگے جاتے تھے ان کو بھی اپنے گندے خون سے سرخ کردیا۔ ان اُردو اخباروں میں بھی نہ جانے کتنے ان کے تھے جنہیں اخبار کے نام کے معنیٰ بھی نہیں معلوم اور نہ وہ یہ بتاسکتے تھے کہ اس میں کیا لکھا ہے اس لئے کہ ان کا نام بھی بھروسے لال تھا۔ وہ کسی اُردو اخبار کے دفتر میں چپراسی تھے وہاں سے دائوں پیچ سیکھ کر پروپرائٹر اور ایڈیٹر بن گئے۔

عربی فارسی بورڈ سے وابستہ مدارس میں شاید دس فیصدی وہ ہوں جہاں واقعی تعلیم ہوتی ہے اور انہوں نے اپنے مدرسہ کے لڑکوں کو بورڈ کے امتحان دینے کی اجازت دے دی ہے۔ اور 90  فیصدی وہ ہیں  جو صرف اس لئے قائم کئے گئے ہیں کہ لاکھ دو لاکھ روپئے کی رشوت دے کر اور کلرک سے لے کر منتری تک ان کے مطالبات پورے کرکے از اوّل تا آخر سرکاری مدرسہ بنالیں پھر تو لاکھ دو لاکھ روپئے مہینے کی آمدنی ہوجائے گی۔

تکلیف اس کی ہے کہ ان کو مدرسہ لکھا اور کہا جاتا ہے۔ کاش یوگی حکومت ان کے نام بدل دے۔ کام بدلنے سے تو اس لئے کچھ نہیں ہوگا کہ یہ حرام کھانے کے لئے ہی مدرسہ کھولے ہوئے ہیں ۔ اور یہ حکومت سے کتنی تنخواہیں لے رہے ہیں اور پڑھانے والوں کو کیا دے رہے ہیں ؟ اس کے بعد ان سے ان حرام کی دولت کے لئے سب کچھ کرایا جاسکتا ہے۔ اور یہ دم مارے بغیر کرتے رہیں گے۔ یہ بات مسلمان جانتے ہیں کہ ان سے ان مدارس کو جو واقعی دین کے قلعے ہیں کتنا نقصان ہورہا ہے۔ ان کی حیثیت حکومت کی نظر میں کیا ہے؟ اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ سکریٹری نے حکم دیا کہ مدرسہ بورڈ کے تمام پرنسپلوں کو بلایا جائے۔ سکریٹری سے کہا گیا کہ کس ہال میں میٹنگ ہوگی؟ اور وہ سب دور دور سے آئیں گے ان کے کھانے پینے کا جو انتظام ہوگا اس کا کتنا بجٹ ہونا چاہئے؟ سکریٹری نے جواب دیا کہ جل نگم سے پانی کا ٹینکر منگا لیا جائے گا وہ پانی پی لیں گے۔

یہ ہے ان کی حیثیت جو حکومت سے 50  یا 60  ہزار روپئے مہینہ تنخواہ لے رہے ہیں ۔ اور اگر خود ہی مدرسہ کے مالک ہیں تو لاکھوں روپئے حرام کھا رہے ہیں ۔ حکومت جن تیوروں سے بات کررہی ہے اس سے اندازہ ہورہا ہے کہ ہندوئوں کے مدرسے تو شاید رہ جائیں ان کے مدرسے جو اپنے کو مسلمان اور عالم کہتے ہیں رفتہ رفتہ ایسے ہی ختم ہوجائیں گے جیسے رفتہ رفتہ مسلمانوں کے ووٹ کے لئے بڑی بڑی رشوت دے کر سرکار سے منظور کرائے تھے۔ خدا سے دعا ہے کہ جلد سے جلد مدرسہ کا لفظ پاک ہوکر اصول ہشت گانہ کے دائرے میں آجائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close