سیاستہندوستان

ابھی حیات کا ما حول خوشگوار نہیں

سیف ازہر

یہ کون سا موسم ہے مجھے نہیں معلوم ہاں اتنا جانتا ہوں کہ ہوا میں ہلکی ہلکی خنکی آنے لگی ہے ۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ موسم برسات اور ٹھنڈک کے درمیان صنف قصیدہ کے گریز کے مانند ہوتا ہے ۔افسوس اس بات کا ہے کہ ساون نہ جانے کب گزر چکا ہے مگر میڈھکوںکی آواز ابھی ختم نہیںہوئی ہے ۔تمام کے تمام موسم اپنے وقت سے آتے ہیں مگر کچھ موسم ایسے بھی ہیں جو بنا بتائے آجاتے ہیں ۔اس خنک موسم کے ابتدا میں بھی سیاسی پارہ اپنی انتہا پر ہے ۔ہمارا ملک بہت لمبا چوڑا ہے ۔عموما کہا جاتا ہے کہ کشمیرسے کنیا کماری تک پھیلا ہوا ہے ۔ کشمیر میں برہان الدین وانی کی موت کے بعد ایک طوفان کھڑا ہوگیا ہے ۔ 100؍دنوں سے زائدکاعرصہ گزر چکا ہے مگر کشمیر میں امن کی تمام کوششیں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہیں ۔پیلٹ گن سے نجانے کتنے کشمیری مجروح ہوچکے ہیں اورابھی یہ سلسلہ رکنے کانام نہیں لے رہا ہے ۔اموات کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد ہوچکی ہے ۔کشمیر کی وادی سے ہٹ کر جب باپو کے گجرات میں پہنچتے ہیں تو دلتوں پرجاری ستم ملک کے ہر گوشے سے اپنی دلخراش آواز کے ساتھ پکارتا ہے ۔کہیں سے ڈاکٹروں کے ستم کی آواز اٹھتی ہے تو کہیں سے دانا مانجھی کی بیوی کی لاش ساری آوازوں کو خاموش کر دیتی ہے مگر اسی ماحول میں اڑی فوج کیمپ پر حملہ پھر جنت نظیر وادی کولالہ زار بنا دیتا ہے۔ 20؍جوانوں کی لاش تک جل جاتی ہے ۔ردعمل کے طور پر سرجیکل اسٹرائیک کی جاتی ہے ۔سرجیکل اسٹرائیک میں پوری فوج کی بہادری کو سلام کرتا ہوں مگر اس بہادری پر سیاست دانوں کی ’’دلالی ‘‘ انتہائی افسوسناک ہے ۔راہل گاندھی نے جب اپنی کسان یاتر اکی آخری سبھا سے خطاب میں مودی پر فوج کی دلالی کا الزام لگایا تو پورابھگوا کنبہ چیخ پڑا۔میں بھی تھوڑی دیر کیلئے راہل کی اس بیان بازی کوترچھی نظر سے دیکھنے پر مجبور ہوگیا ۔اچھا ہوا کہ جلدمیری آنکھوں سے وہ پٹی ہٹ گئی جو شور وغوغے نے پورے ملک پر ڈال رکھی ہے ۔محبت کی نگر ی آگرہ اور اسی طرح پورے اتر پردیش میں جگہ بہ جگہ جب سرجیکل اسٹرائیک کے بعدپوسٹر دیکھے تو مجھے راہل کی بیان بازی صد فیصد درست نظر آئی ۔بڑے بڑے پوسٹروں میں صرف بی جے پی لیڈروں کانام اور ان کافوٹو نظر آیا لیکن کسی بھی کہیں بھی شہید فوجیوں کاکوئی ایک فوٹوبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پوسٹر جس شدومد کے ساتھ پوپی میں لگائے گئے ملک کی کسی اور ریاست میں یہ شدومد نظر نہیں آتی ۔ذراساشبہ جو بچا تھا اس کی یقین دہانی مودی نے لکھنؤ میں راون جلا کر کردیا ۔اکھلیش یادو کی بات بہت ہی جچی تلی ہے کہ اگر الیکشن بہار میں ہوتا تو مودی راون کوبہار میں جلاتے ۔سرجیکل اسٹرائیک پر یہ پوسٹر بازیا ں ، مودی کا روان کولکھنؤمیں جلانااور پوسٹروں میں کسی ایک بھی شہید فوجی کانام شامل نہ ہونا ،ایسے وقت پر جب کی اسمبلی الیکشن قریب ہے یہ جوانوں کے خون کی دلالی نہیں تو اور کیا ہے ؟َ۔سرجیکل اسٹرائیک کے بعدایک سیاسی طوفان کھڑا ہوگیا ۔ہر طرف سے ثبوت طلب کئے جانے لگے کسی حد اندروں ملک ثبوت مانگنا درست نہیں ہوسکتا مگر بیرونی میڈیا آپ کے دعوے کوبناثبوت کس طور پر قبول کر لے گا۔ساتھ ساتھ کیا سرجیکل اسٹرائیک کا اس طرح پرچار اور پرسار ضروری تھا ۔کانگریس نے جب 2011میں سرجیکل اسٹرائیک کی تو کسی کوکان وکان پتہ نہیں چلا ۔آپ نے کی تو ساری دنیا میں شور وغوغہ مچ گیا آخر کیوں ۔کون سی وہ بات تھی جس نے آپ کو فوج کی طرح خاموش نہیں رہنے دیا ۔آپ تو یہ کہہ کر اپنی پیٹھ آپ ٹھونک لیتے ہو کہ ہماری فوج بیان بازی نہیں کارروائی کرتی ہے ۔صحیح ہے فوج کو یہی کرنا بھی چاہئے مگر کیا فوج کی خاموش کارروائی نے آپ کو ذرابھی متاثر نہیں کیا ۔آپ نے فوج کی خاموش کارروائی کو بازار حسن میں لاکھڑا کیا ۔فوج نے تو آدھی رات کا انتخاب کیا تاکہ دنیا کو پتہ نہ چلے اور آپ کی دلالی نے اسے میڈیا کا مرچ مسالہ بنادیا۔ منوہر پاریکر نے تو بے شرمی کی حد کر دی ۔سرجیکل اسٹرائیک کے فیصلہ کو آرایس ایس کی تربیت سے جوڑدیااور بڑی ڈھڈھائی اور بے شرمی سے کہہ دیا کہ ایسا فیصلہ کہیں نہ کہیں آرایس ایس کی تربیت یافتہ وزیر دفاع اور گاندھی کے احمدآباد سے متعلق مودی کے اختلاط کانتیجہ ہے ۔ذرا سی بھی شرم نہیں آئی کی انہیں آرایس ایس والوں نے ہی گاندھی جی کو مارا تھا ۔جوڑ رہے تھے تو کم ازکم گاندھی کا نام تو نہ لیتے ۔یوپی میں ساری کوششیںرنگ لائیں اور بی جے پی جو سروے میں سرجیکل اسٹرائیک سے پہلے تیسر ی پارٹی بن کر ابھر رہی تھی اب پہلی پارٹی بن کر ابھر رہی ہے ۔شاید اتنی دلالی سے ووٹوں کی مکمل فصل کاٹی نہیں جاسکتی تھی اسی لیے سول کوڈ اور طلاق ثلاثہ کا مسئلہ کھڑا کر دیا ۔ لاکمیشن نے جو پیپر جاری کیا ہے وہ بھی سراسر بددیانتی پر مبنی ہے ۔اس میں کسی نہ کسی طرح آپ کو بہر صورت سول کوڈ کی حمایت کرنی ہی ہوتی ہے ۔تین طلاق کے معاملہ کو خواتین کی حق تلفی کے نام پر سامنے لایا گیا ۔خواتین کو صنفی مساوات دینے کی آڑ میں طلاق ثلاثہ کوختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا گیا ۔یہ حلف نامہ مثبت انداز میں بھی داخل کیا جاسکتا تھا ۔حکومت صاف صاف کہہ سکتی تھی کہ حکومت کا وہی موقف ہے جو پرسنل لا کا ہے ،لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا ۔اس سے ایک سیاسی اور مذہبی طوفان کھڑا ہوگیا اور شاید اسی مقصد سے یہ حلف نامہ بھی داخل کیا گیا تھا ۔ظاہر ہے طلاق کا مسئلہ مسلمانوں کا عائلی معاملہ ہے اور حکومت کو یہ بھی خبر ہے کہ تمام مسالک کے مسلمان طلاق کے سلسلہ میں یکساں موقف نہیں رکھتے ۔حکومت کو پتہ تھا کہ حلف نامہ کے بعد مسلمانوںکاایک بڑا اگر اس کی مخالفت میں اترے گا ،ساتھ ساتھ اس کہیں زیادہ بڑا طبقہ ہمارے ساتھ آئے گا۔سیاست کی بساط پر بی جے پی کا یہ مہر بالکل کھرااترا۔مسلمان دوحصوں میں منقسم ہوگئے ۔مسلم پرسنل لا کی پریس کانفرنس میں ہی اس کی جھلک نظر آگئی تھی کیوں کہ اس کانفرنس میں شیعہ اور بریلوی مکتبہ فکر کے لوگوں کی نمائندگی نہیں تھی ۔شیعہ حضرات ظاہر ہے کہ محرم میں پھنسے ہوئے تھے اس لیے ان کا عذر کسی طور پر معقول تھا مگر دہلی میں رہ کر بھی توقیر رضاخان صاحب کی غیر حاضری اسی دن سے ہی کسی طور پر ہضم نہیں ہورہی تھی باقی رہی سہی کسر علماومشائخ بورڈ نے پورا کردی ۔ خیر سب صاف ہوگیا کہ ان سب واقعہ کا براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے مگردر پردہ بہت گہر اتعلق ہے ۔اڑی حملے نے کشمیر میں جاری شورش کومنظر نامے سے غائب کردیا اور کشمیر کی حمایت میں اٹھنے والی تمام آوازیں اڑی کے شہید جوانوں کی تعزیت اور دہشت گردی کے مذمت میں لگ گئیں۔سرجیکل اسٹرائیک نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پاکستان کوالگ تھلگ اور 56؍انچ کے سینے پر اٹھنے والی انگلی کو گرا دیا ساتھ ہی یوپی میں ووٹوں کی فصل تیار ہوگئی اور بی جے پی تیسری پارٹی کے بجائے پہلی پارٹی ہوگئی ۔ایک فائدہ اور ہوگیا کہ رتام مندر پر گھیرنے والی بھگوا تنظیمیں بھی راگ میں راگ ملانے لگیں ۔طلاق اور یکساں سول کوڈ کے مسئلہ سے بھی بھرپورفائدہ ہوا اور یوپی میں بس رہے 18؍فیصد مسلم ووٹردوحصوں میں بٹ کر رہ گئے ۔یوپی کی سیاست میں مسلمانوں کی یہ فیصد جب بھی اکھٹا رہی ہے اس نے فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے ۔2012کا اسمبلی انتخاب اس بات کامکمل ثبوت ہے ۔کہیں نہ کہیں اسی کے پیش نظر بی جے پی نے یہ چال چلی تھی اور اب اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب ہیں ۔مسلمانوںکاجوطبقہ حکومت کے حلف نامہ کی حمایت میں ہے وہ یوپی میں مسلمانوں میں اکثریت میں ہے ۔اسی لیے بہت کچھ سوچ کر یہ کہنا ہی پڑتا ہے کہ ابھی حیات کا ماحول خوشگوار نہیں ۔اس فیصلے میں کوئی دشوری نہیں ہونی چاہئے کہ حیات کاماحول خوشگوار ہوانہیں بلکہ کیا گیاہے ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close