سیاستہندوستان

ابھی مودی کے بعد ’کون‘ پر کوئی زبان نہ کھولے

حفیظ نعمانی

بی جے پی کے اُمیدوار کی حیثیت سے جب 2014 ء میں نریندر مودی نام کے لیڈر نے الیکشن لڑا تھا تو ایک تہائی ووٹ ان کو مل گئے تھے۔ وہ اس لئے نہیں تھے کہ وہ بی جے پی کے اُمیدوار ہیں بلکہ ان ووٹوں میں بڑا حصہ ان کا تھا جو کانگریس کی حکومت سے بددل ہوچکے تھے اور اسے ہرانا چاہتے تھے۔ ایک بہت بڑا طبقہ ان کا تھا جنہوں نے مودی جی کے ان وعدوں پر یقین کرلیا جن کے اگر آدھے بھی وہ کرکے دکھادیتے تو آنے والے الیکشن میں انہیں سال بھر پہلے سے فضا بنانا نہ پڑتی وہ صرف ایک مہینہ کی محنت سے جیت لیتے۔ مودی جی کو 280 سیٹیں ملنے کی ایک وجہ دوسری سیاسی پارٹیوں کا انتشار بھی تھا مثلاً اُترپردیش کی 80 سیٹوں پر کانگریس نے بھی کھڑے کردیئے ملائم سنگھ نے بھی اور مایاوتی نے بھی نتیجہ یہ ہوا کہ سیکولر ووٹ تین جگہ بٹے اور آر ایس ایس کے ہندو ووٹ ایک جگہ رہ گئے۔

اسے بی جے پی کی بدقسمتی کہا جائے گا اور حزب مخالف کی خوش قسمتی کہ موہن بھاگوت صاحب نے وزیراعظم کے لئے اڈوانی جی کو نظرانداز کرکے نریندر مودی کو منتخب کیا۔ مودی جی نے 2014 ء میں جس جس چیز کا وعدہ کیا تھا ان میں سے کسی ایک کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ پندرہ پندرہ لاکھ والی بات کو تو یہ سوچ کر نظر انداز کیا جاسکتا ہے کہ یہ صرف جاہلوں اور فطرت کے حرام خوروں کے لئے تھا لیکن انہوں نے تعلیم یافتہ اور غیرتعلیم یافتہ نوجوانوں سے جو وعدہ کیا تھا وہ ایسے کیسے معاف کرسکتے ہیں؟ اس لئے کہ وہ گرم خون ہے اور انہیں کام چاہئے۔

نریندر مودی کا ماضی جیسا گذرا ہے اس سے قدرت کا ناراض ہونا ہر اس آدمی کی سمجھ میں آسکتا ہے جس کا قدرت پر ایمان ہے۔ اور یہ قدرت کی ناراضی ہے کہ مودی جی نے وہ نہیں کیا جس کا وعدہ کیا تھا اور وہ کیا جس کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔ فارسی کی مشہور کہاوت ہے۔ ’’چوں قضا آید حکیم ابلا شود‘‘ جب موت آتی ہے تو ڈاکٹروں کے دماغ ماؤف ہوجاتے ہیں۔ مودی جی کے دماغ پر اپنا وہ الزام چھایا ہوا تھا کہ کانگریس کے وزیروں نے اسّی لاکھ کروڑ روپیہ کالا دھن دنیا کے ملکوں میں جمع کررکھے ہیں۔ ان کا وہ وعدہ کہ سب کو پندرہ پندرہ لاکھ دوں گا اور سو دن میں لے آؤں گا وہ تو خواب ہوگیا۔ اب انہیں اس کی فکر ہوئی کہ اب جو الیکشن آئیں گے ان میں مخالف پارٹیاں انہیں ہرا دیں گی، کیونکہ ان کے پاس ووٹ بھی ہیں اور پیسے بھی۔ اگر ان کو دیوالیہ کردیا جائے تو ہر الیکشن جیتا جاسکتا ہے یہ سوچ کر انہوں نے اچانک اعلان کردیا کہ ایک ہزار اور پانچ سو کے نوٹ بند اور یہ واقعہ ہے کہ اس حملہ نے پارٹیوں کو فقیر بنا دیا اس کے بعد مودی جی کو ایک ملک ایک ٹیکس کی سوجھی اور انہوں نے اپنی حکومت کا خزانہ بھرنے اور صوبائی حکومتوں کی آمدنی بند کرنے کے لئے جی ایس ٹی لگادی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر صوبہ کی حکومت ان سے دل میں ناراض ہے۔

اور جو بات کسی دشمن کے تصور میں بھی نہیں آسکتی تھی کہ پندرہ سال سے پہلے کوئی مودی جی کو ہٹانے کے بارے میں سوچ بھی سکتا ہے وہ دوستوں کو بھی صرف چار سال میں محسوس ہونے لگی کہ 2019 ء کا الیکشن شاید مودی کا آخری الیکشن ہو۔ کانگریس کے صدر نے لوک سبھا میں عدم اعتماد کی تحریک کی تائید میں جیسی طوفانی تقریر کی اس نے ثابت کردیا کہ جس کانگریس کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کیلئے 2014 ء میں مودی نے کانگریس مکت بھارت کا نعرہ دیا تھا وہ کانگریس بدترین دشمن بن کر ان کے سامنے آئی ہے۔ اور راہل کا یہ کہنا کہ 2019 ء میں اگر کانگریس اپنے بل پر حکومت بنانے کی پوزیشن میں آئے گی تو حکومت بنانے کے بارے میں سوچے گی ورنہ کرناٹک کی کہانی دہرا دے گی۔

یہ سب جانتے ہیں کہ سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو مایاوتی سے تعلقات خوبصورت بنا چکے ہیں اور مایاوتی کو اپنی حقیقت معلوم ہے۔ ان دونوں کے علاوہ بہار میں شرد یادو، لالو یادو، یشونت سنہا، شتروگھن سنہا، بنگال میں ممتا بنرجی، سیتا رام یچوری، کیرالہ کے وزیراعلیٰ، تمل ناڈو کے کمل ہاسن اور کروناندھی، مہاراشٹر کے شرد پوار، آندھرا کے چندربابو نائیڈو، آسام کے بدرالدین اجمل، کشمیر کے عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی، کرناٹک کے دیوی گوڑا وغیرہ تو کاندھے سے کاندھا ملاکر مودی کی مخالفت میں کھڑے ہوں گے اور وہ جو شیوسینا، بیجو جنتادل اور تلنگانہ کی حکمراں پارٹی جو مودی کے ساتھ رہتی تھی انہوں نے بائیکاٹ کرکے اعلان کردیا کہ وہ مودی کے ساتھ نہیں ہیں۔ رہے اڈوانی جی، جوشی جی، ارون شوری اور وہ سب، مودی جی نے جن کا گلا دباکر رکھا ہے وہ کیا رنگ دکھاتے ہیں یہ بعد میں سامنے آجائے گا۔

مودی کے بعد کون؟ کا جواب ممتا بنرجی نے دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم بی جے پی کو شکست فاش دینے کے بعد اس کا فیصلہ کرلیں گے۔ انہوں نے کہا بی جے پی کا طرز حکومت ڈکٹیٹر شپ پر مبنی ہے اس لئے ملک کو بچانے اور آئین کی حفاظت کے لئے تمام علاقائی اور سیکولر جماعتیں قربانی دینے کو تیار ہیں۔ اور ہم اب عوام کو پریشان نہیں دیکھنا چاہتے۔ ملک کے اندر کروڑوں انسان وہ ہیں جو خاموش ہیں۔ یہ وہ ہیں جن کے اپنے بینکوں کی لائن میں کھڑے کھڑے مرگئے۔ اور وہ ہیں جو اچھے خاصے کارخانوں میں لگے تھے آج رکشہ چلا رہے ہیں اور وہ ہیں جن کا کاروبار جی ایس ٹی کی وجہ سے یا ختم ہوگیا یا سسک رہا ہے۔ جس الیکشن کے بارے میں سوچا تھا کہ وہ یک طرفہ ہوگا اس الیکشن کے اب وزیراعظم بننے والوں کی لائن لمبی ہوتی جارہی ہے اور قیاس کرنے والے کہہ رہے ہیں کہ مودی جی کو تو جانا ہی ہے۔ اسی لئے انہوں نے دلتوں کو اپنانے کیلئے مس مایاوتی پر جال ڈالنا چاہا ہے۔ لیکن اب دلت وہ نہیں ہے جو کسی کھیل کو سمجھ نہ سکے اگر مایاوتی نے رنگ بدلا تو وہ رام ولاس پاسوان سے بھی کم تر ہوجائیں گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close