سیاست

اب ترا کیا مشورہ اے قوتِ پرداز ہے

صدر جمہوریہ نے مودی کابینہ کے اس آرڈی نینس پر دستخط کردیے جس میں کہا گیا ہے کہ 12 برس سے کم عمر کی بچیوں کے ساتھ آبروریزی کی سزا پھانسی دی جائے۔

حفیظ نعمانی

صدر جمہوریہ نے مودی کابینہ کے اس آرڈی نینس پر دستخط کردیے جس میں کہا گیا ہے کہ 12 برس سے کم عمر کی بچیوں کے ساتھ آبروریزی کی سزا پھانسی دی جائے۔ ہم تو ان لوگوں میں پیش پیش ہیں جو بار بار کہتے رہے ہیں کہ ایسے شرمناک واقعات پر قابو نہ پانے کی اصل وجہ یہی ہے کہ ہمارے قانون میں سزا ایسی نہیں ہے کہ جو اسے دیکھ لے وہ پھر ایسی حرکت کے بارے میں سوچے۔ یہ تو کوئی توہین کی بات نہیں ہے کہ ہم دوسرے مذہب یا سماج سے وہ بات لے لیں جو اچھی ہو۔ اور یہ تو سب نے سنا ہوگا کہ بہت سے معاملات میں مثال دی جاتی ہے کہ یورپ میں ایسا ہوتا ہے اور روس میں ایسا ہوتا ہے۔

ہندو سماج میں طلاق کا کوئی تصور نہیں تھا یہ ہندو سماج نے دوسرے مذہب سے لیا ہے۔ اسلام میں آبروریزی کی سزا اگر غیرشادی شدہ ہوں تو سو سو کوڑے ہیں اور اگر شادی شدہ ہوں تو رجم ہے جو سزائے موت ہے اور وہ رات کے اندھیرے میں چھپ کر نہیں دی جاتی بلکہ کھلے میدان میں پتھر مار مارکر اس وقت تک دی جاتی ہے جب تک مر نہ جائے۔ ہندوستان میں پھانسی کی سزا کو آخری سزا مانا جاتا ہے جس کا طریقہ یہ ہے کہ صبح 5 بجے کے قریب وہ جیل کے اندر دی جاتی ہے اور اگر افضل گرو جیسا ہو تو اسے جیل کے اندر ہی دفن کردیا جاتا ہے اور یعقوب میمن جیسا ہو تو جنازہ وارثوں کے سپرد کردیا جاتا ہے۔ اگر اس منظر کو بھی ٹی وی اور اخباروں کے ذریعہ عام طریقہ سے دکھا دیا جائے تو دیکھنے والے کو جھرجھری آجائے گی۔ بہرحال کچھ نہ ہونے سے فی الحال اتنا ہی کافی ہے۔ لیکن یہ جو کہا گیا ہے کہ فاسٹ ٹریک کورٹ بنانے کا انتظام کیا جائے گا۔ پورے معاملے کی سماعت 2 مہینے میں کرنی ہوگی اور 6 مہینے کے اندر اپیل کا نپٹارہ کرنا ہوگا یعنی ایک سال سے بھی کم وقت میں اگر ثابت ہوجاتا ہے تو پھانسی دے دی جائے گی اس کے بارے میں صحیح رائے تو وکیل دیں گے لیکن ہم جیسے لوگوں کو اُمید نہیں ہے کہ حکومت اس میں کامیاب ہوگی۔

فاسٹ ٹریک عدالت کے بننے کا ذکر بار بار سنا ہے لیکن آج تک اس پر عمل ہوتے نہیں دیکھا وزیراعظم اپنی ہی وزارت کی خاتون وزیروں اور پارلیمنٹ کی۔ خاتون ممبروں کے اصرار پر آرڈی نینس لانے پر آمادہ ہوئے لیکن ان کی ہی کابینہ کے وزیر جب یہ کہیں کہ اتنے بڑے ملک میںاگر دو چار ایسے واقعات ہوجائیں تو بات کا بتنگڑ نہیں بنانا چاہئے۔ یہ کسی ایک کی آواز نہیں ہے بلکہ ایک طبقہ ہے جس کے نزدیک آبرو کی اتنی حیثیت نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے کسی کی جان لی جائے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حکومت کا حصہ ہیں اور حکومت جسم فروشی کے لائسنس دیتی ہے اس کی فیس لیتی ہے اور ان لوگوں کو تحفظ دیتی ہے۔ اس کا وقت مقرر کرتی ہے۔

انگریزوں کی حکومت تھی تو چھوٹے سے چھوٹا بھی کوئی شہر ایسا نہیں تھا جہاں جسم فروشی کا بازار نہ ہو۔ ملک آزاد ہوا تو بس اتنی تبدیلی ہوئی کہ بڑے شہروں میں قانونی بازار باقی رکھے اور چھوٹے شہروں میں غیرقانونی طریقہ سے پولیس کی مدد سے وہ سب ہورہا ہے جو بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔

اس کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ فاسٹ ٹریک عدالتوں کے لئے مجسٹریٹ اور سرکاری وکیل الگ سے لائے جائیں گے یا موجودہ مجسٹریٹوں یا ججوں میں سے لے لئے جائیں گے۔ یہ بات تو نہ جانے کتنی بار ذکر میں آچکی ہے کہ ماتحت عدالتوں سے لے کر سپریم کورٹ تک ہزاروں کرسیاں خالی ہیں اور جو مجسٹریٹ یا جج کام کررہے ہیں ان کا طریقہ کار ایسا ہے کہ ہمارے خلاف حکومت نے ایک مقدمہ قائم کیا۔ بات صرف اتنی تھی کہ ایک فساد کے بعد حکومت نے جو معاوضہ کی رقم بھیجی اس کی تقسیم میں بندر بانٹ کیا گیا۔ جس نے لیکھ پال کو جتنی رشوت دے دی اس نے اس کا نقصان لاکھوں کا لکھ دیا چاہے نقصان ہزاروں کا ہوا ہو اور جس نے اسے رشوت نہیں دی اس کے لاکھوں کے نقصان کو سیکڑوں کا لکھ دیا۔ ہم نے بہت محنت کرکے پورا نقشہ بنایا جس میں بتایا کہ کون سی دُکان ہندو کی ہے اور کون سی مسلمان کی اور کس دُکان کی جلنے سے پہلے کیا حیثیت تھی اور دُکان کتنی بڑی تھی؟

اس تفصیل کے ساتھ ہم نے ایک مضمون لکھا جو ملک کے کئی اخباروں نے اہمیت کے ساتھ چھاپا اور ڈی ایم سے لے کر لیکھ پال تک سب کی بدنامی ہوئی۔ وہ میرا اور کچھ تو بگاڑ نہ سکے ایک مقدمہ قائم کردیا کہ مضمون میں جگہ جگہ ہندو ہندو مسلمان مسلمان لکھا ہے۔ اور جب ہم نے جج صاحب سے معلوم کیا کہ میں مسلمان ہوں تو کیا میں اپنے کو اقلیت کہوں اور ضرورت پڑے تو آپ کو اکثریت کہوں؟ اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مقدمہ 20  برس چلا اور کسی فیصلہ کے بغیر ختم ہوگیا۔ جس ملک کی عدالتوں کا اور ججوں کا یہ حال ہو وہاں 10  مہینے میں کمسن بچی کی آبروریزی اور موت کی سزا پھانسی دی جائے یہ دیکھنے کے لئے ہم بھی دعا کریں گے کہ پروردگار اتنی زندگی اور دے دے۔ آمین۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close