سیاست

اب تو جمہوریت ہی خطرے میں ہے!

وصیل خان

حکومتوں کے قیام کا مقصدیہی ہوتا ہے کہ ملک میں افراتفری اور طوائف الملوکیت کا خاتمہ ہواور عوام آئین وقانون کے زیرسایہ نظم وضبط کی زندگی گزارسکیں کوئی کسی پر طلم نہ کرے، کسی کی حق تلفی نہ ہو اور کوئی دکھی نہ ہو اور پورا خطہ امن و سکون کا گہوارہ بن جائے۔ قانون و آئین سازی کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی ظلم و ظغیان کا مرتکب ہوتو اسے قانون کے ذریعے قابو میں کیا جاسکے، ضرورت پڑے تو اسے قرارواقعی سزادی جائے جس سے ان افراد کو ترغیب مل سکے جو ابھی جرائم کے مرتکب نہیں ہوئے ہیں ۔ انتظامیہ اور عدلیہ کا قیام بھی اسی مقصد کے تحت کیا گیا ہےتاکہ عوام کی منفی تحریکات پر کڑی نظر رکھی جاسکے اوروہ انصاف کو آسان بنائے تاکہ بدامنی اور بدعنوانیوں کو پنپنے کا موقع نہ مل سکے۔

حکومت کے زیرانتظام چلنے والے ادارے اگر ٹھیک طرح سے کام نہ کریں تو عوامی سطح پر منتخب وہ افراد جو مختلف کلیدی عہدوں پر فائز ہیں پوری ذمہ داری سے اس بدنظمی کا خاتمہ کریں ۔ ماضی کی متعدد مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ ایسے مواقع پر حکمراں طبقہ نے اپنی حکمت عملی سے قانون کی بالادستی قائم کرنے کیلئے زبردست طاقت کا مظاہرہ کیا اور کامیاب ہوئے۔ امن و انصاف کا قیام ہی ایک بہتر اور پرامن سماج کی ضمانت ہے۔ اسلامی حکمراں عمر فاروق ؓکے زمانہ اقتدار میں ایک عیسائی تاجر گھوڑوں کی تجارت کی غرض سے بلاد اسلامیہ شا م میں داخل ہوا محکمہ ٔ محصول کے اہلکاروں نے اس سے محصول طلب کیا جو اس نے ادا کردیا، اتفاق سے گھوڑے فروخت نہ ہوسکے واپسی پر دوبارہ محصول طلب کیا گیا تو اسے پس پیش ہوا اسے لگا کہ یہ اس کے ساتھ نا انصافی کا معاملہ ہے اس نے گھوڑوں کو وہیں چھوڑا اور مدینہ روانہ ہوگیا تاکہ وہ امیرالمومنین سے انصاف طلب کرسکے۔ حضرت عمرؓنے اس کی شکایت سنی اور کہا ’ کفیت ‘( یعنی انتظام ہوگیا ) تاجر کو محسوس ہوا اسے ہلکے میں ٹال دیا گیا ہے، اس کی شکایت سرد خانے میں چلی گئی، وہ مایوسی کی کیفیت میں لوٹ آیا اور محصول ادا کرنے کیلئے جیب میں ہاتھ ڈالاتو متعینہ افسر نے کہا کہ تم جاسکتے ہو تمہارا محصول معاف کردیا گیا ہے تاجر حیران ہوگیا اس نے سوچا کہ یہ حکومت کس قدر مستعد ہے یعنی سیکڑوں میل دور سے خلیفہ کا حکم خوداس کے پہنچنے سے قبل متعلقہ دفتر میں پہنچ گیا اور اسے کتنی جلدی انصاف فراہم کردیا گیا۔ اس واقعے سے وہ اتنا زیادہ متاثرہوا کہ اس نے فورا ً اسلام قبول کرلیا۔

نوشیرواں کے دور حکومت میں شاہی محل کی تعمیر کے دوران ایک ضعیفہ کا مکان حائل ہوگیا اور تعمیر روک دی گئی،معماروں کے مطابق محل کی دیوار سیدھی اٹھانے کیلئے ضروری تھا کہ بڑھیا کا مکان توڑدیا جائے جس کیلئے ضعیفہ کسی بھی طرح تیارنہ تھی، نوشیرواں ایک مطلق العنان بادشاہ تھا مگر اس نے کوئی جبر نہیں کیا اور معماروں کو حکم دیا کہ محل کی دیوار ٹیڑھی اٹھادی جائے اور ضعیفہ سے اس ضمن میں کوئی تعرض نہ کیا جائے۔ بادشاہ کے اس منصفانہ عمل پر ضعیفہ اس قدر متاثر ہوئی کہ وہ اپنا مکان ہٹانے پر بخوشی راضی ہوگئی۔ کبھی سونے کی چڑیا کہے جانے والے ہمارے اس ملک کی تصویر آج کتنی بدل گئی ہے جہاں امن و انصاف کے قتل کی داستانیں عروج پر ہیں بدعنوانی او ر رشوت خوری کا بازار گرم ہے۔ غبن اور گھپلےاب معمول بنتے جارہے ہیں۔

گذشتہ ماہ پنجاب نیشنل بینک میں ساڑھے گیارہ ہزار کروڑ کے فراڈکی خبریں ابھی گرم ہی تھیں کہ کانپورکی روٹوپین کمپنی نے آٹھ سو کروڑکا گھپلہ کردیا اور اب راجستھان میں ایل آئی سی کی جانب سے ۵؍ہزارکروڑ کے اشتہار ی گھپلے کی خبریں گشت کررہی ہیں۔ جرائم کی بے تحاشا بڑھتی ہوئی رفتار، انتظامیہ و پولس کی کھلے عام چشم پوشی اور اقتدار پر قابض سیاستدانوں کی انتظامی امور سے عدم دلچسپی، مندر مسجد، گائے کشی اور دیگر غیر ضروری اور غیر آئینی معاملات میں بڑھی ہوئی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ یہ ملک کسی دستور و قانون کے بغیر چل رہا ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس، حیوانیت و درندگی کے ننگے ناچ کےاس ماحول میں دوربسے جنگل بھی اب پر امن لگنے لگے ہیں۔

گذشتہ ۹؍ماہ قبل مہاراشٹر کی بلڈانہ تحصیل کےایک گاؤں میں ایک دلت خاتون کی آبروریزی کے بعد اس کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرنے والے اونچی ذات کے افراد آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں ۔ برہنہ گھمائی جانے والی وہ خاتون اذیت و کرب میں مبتلا تل تل کرمررہی ہے لیکن آج تک وہ انصاف سے محروم ہے۔ ان ظالموں نے ۴۷؍ سالہ رادھا بائی گلاب راؤ امبالکر کو نہ صرف اپنی ہوس کا نشانہ بنایا بلکہ اس کے کپڑے پھاڑکر اسے برہنہ کرکے پورے گاؤں میں اس کی پریڈ بھی کروائی ۔ کہتے ہیں کہ رادھا بائی کی اپنے شوہر کے ساتھ کسی بات پر کہا سنی ہوگئی، غصے میں شوہر گھر کے باہر نکل گیا، رادھااسے واپس لانے کیلئے پیچھے پیچھے گئی، بقول اسکے وہ کافی دور نکل گیا تھا میں تھک کر ایک کھیت کے پاس رک گئی جہاں کچھ لوگ کھڑے تھے میں نے ان سے پوچھا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، کچھ دیر بعد انہوں نے کہا جاؤاپنے بیٹے اور بہنوئی کو لے کر آؤ تب ہم بتادیں گے کہ وہ کہاں ہے جب میں بیٹے اور بہنوئی کے ساتھ دوبارہ پہنچی تو وہاں تقریباً۲۵ سے ۳۰ لوگ کھڑے تھے اچانک وہ ہم پر ٹوٹ پڑے اور بے تحاشا پیٹنے لگے۔ رادھا بائی کے بیٹے کی زبانی وہ ہمیں گالیاں دینے لگے اور لاتوں گھونسوں کی بارش کردی ساتھ ہی ڈنڈوں اور لوہے کی سلاخوں سے بھی مارنے لگے۔ میری ماں کے ساتھ ان وحشیوں نے جو سلوک کیا وہ میرے لئے ناقابل بیان ہے۔ ہجوم میں شامل اونچی ذات کے لوگوں نے اس کے کپڑے پھاڑدیئے اور اسے بالکل برہنہ کردیا اور تھپڑوں کی برسات کردی۔

اس دوران کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو مددکرنے کے بجائے ویڈیو ریکارڈنگ میں مصروف تھے۔ ہم کسی طرح پولس اسٹیشن پہنچے تو پولس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا بڑی مشکل سے این سی آر لکھی گئی جس میں پولس عدالتی حکم کے بغیر نہ تفتیش کرسکتی ہے نہ ہی کسی کو گرفتار کرسکتی ہے۔ اس کیس میں ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہم بار بار پولس اسٹیشن جاتے ہیں لیکن ہماری کوئی نہیں سن رہا ہے۔ رادھابائی انتہائی مایوسی میں کہتی ہیں کہ ظالموں کے خلاف کچھ نہیں کیا جائے گا وہ آزاد رہیں گے اور مجھے اسی درد کے ساتھ ایسے ہی تل تل کے مرنا ہوگا۔ یہ ہے ہمارے ملک کی تازہ تصویر جسے ہمیں تبدیل کرنا ہوگا اور ایسی شرپسنداورفسطائی طاقتوں کو اکھاڑپھینکنا ہوگا۔ یاد رکھیں یہ وقت بڑا نازک ہے، اگرذرا بھی تساہلی ہوئی تو وہ وقت دور نہیں جب رادھابائی کی جگہ ہم ہوں گے اور ہمیں بھی تل تل کے مرنا ہوگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

وصیل خان

ممبئی اردو نیوز

متعلقہ

Close