سیاستہندوستان

اب یاد آئے مسلمان راہل گاندھی کو!

حفیظ نعمانی

کانگریس کو اب مسلمانوں کی ضرورت شدت سے محسوس ہورہی ہے۔ راہل گاندھی نے ملک بھر سے بچے کھچے مسلمان کانگریسیوں کو دہلی بلایا اور پرانی باتیں دہراکر 2019 ء کے پروگرام پر مشورہ کیا۔ راہل گاندھی، گاندھی، نہرو، آزاد کی مالا جپتے رہے جبکہ انہوں نے ان کی پرچھائیں بھی نہیں دیکھی۔ کانگریس کے دو رُخ ہیں ، سیاست اور حکومت۔ سیاست میں تو گاندھی جی اور مولانا آزاد بہت کچھ تھے اور بہت کچھ رہے۔ لیکن حکومت میں پنڈت نہرو کے علاوہ ان دونوں کا کوئی کردار نہیں  ہے۔ راہل گاندھی کو اگر دیکھنا اور معلوم کرنا ہے تو وہ نہرو ، اندرا گاندھی اور راجیو کی بات کریں اور اس کے لئے ان سے معلوم نہ کریں جن کو انہوں نے بلایا تھا بلکہ وہ معلوم کریں حسن کمال، کلدیپ نیر، شاہد صدیقی، عالم نقوی، معصوم مراد آبادی اور ممکن ہو تو حفیظ نعمانی سے اور ان سے جو برابر لکھتے اور اپنا خون جلاتے رہے ہیں ۔

جس نرم ہندوتو (ueZ fgUnqRo) کی سیاست کو پوری طرح خارج کرنے کی وہ بار بار تکرار کرتے رہے اس ہندوتو سے تو پنڈت نہرو بھی نہیں لڑپائے۔ جس وقت بابری مسجد میں مورتیاں رکھی گئیں اس خبر پر نہرو جی نے فوراً کہا کہ ان مورتیوں کو وہاں سے ہٹاکر اسی جگہ رکھوا دیا جائے جہاں وہ تھیں ۔ کہا جاتا ہے کہ پنت جی نے ڈی ایم سے کہا ڈی ایم نے کیا کہا یہ تو پنت جی جانیں لیکن وزیراعظم سے پنت جی نے کہا کہ خون خرابہ ہوجائے گا۔ کیا اتنی بڑی بات پر یہ جواب، ایک نرم ہندوتو کے مخالف وزیراعظم کو پسپا کرنے کے لئے کافی تھا؟ نرم ہندوتو نہیں تو کیا تھا جو پنت جی نے دکھایا۔ وزیر اعلیٰ نے ڈی ایم سے یہ کیوں نہیں کہا کہ تم کس کام کے لئے ہو اور پولیس کیا کرنے کے لئے ہے؟ یہ بھی یاد رہے کہ اس وقت 30  فیصدی سے زیادہ مسلمان پولیس میں تھے اگر کچھ ہوتا تو اس پر قابو پانا کیا مشکل تھا؟

تقسیم کے بعد دہلی میں جو کچھ ہوا وہ نرم ہندوتو نہیں تو کیا تھا؟ سردار پٹیل وزیر داخلہ تھے پولیس ان کی ذاتی ملازم تھی دہلی میں جب محلے خالی کرانے کے لئے ہجوم حملہ آور ہوتا تھا تو پولیس کو گولی چلانے کا حکم کیوں نہیں دیا جاتا تھا؟ اس زمانہ میں مولانا حفظ الرحمن جمعیۃ علماء اور مجلس احراء نے جو کچھ کیا وہ تو الگ رہا دہلی پتانجلی سبدھرا دتہ جو بعد میں سبھدرا جوشی کے نام سے جانی گئیں ، مردولا سارا بائی اور پنڈت سندر لال نے جو کیا اور کہا راہل گاندھی تلاش کرکے اسے پڑھیں تو معلوم ہوجائے گا کہ بلوائیوں اور فسادیوں پر گولی صرف اس لئے نہیں چلی کہ ہندوئوں کے ملک میں ہندو پر گولی کیسے چلائی جاسکتی تھی؟ چاہے وہ کچھ بھی کررہا ہو؟ اس وقت جس طرح تاریخی مسجدیں ، مقبرے اور قبرستان صاف کئے گئے یا دہلی کے اردگرد مسلمانوں کے گائوں خالی کرائے گئے اس زمانہ کی ہر بات کتابوں میں لکھی ہوئی ہے۔ لیکن راہل گاندھی جب مولانا آزاد کی تصویر پر انگلی رکھ کر معلوم کریں کہ یہ کون صاحب ہیں ؟ تو ان کے منھ سے گاندھی نہرو کے ساتھ آزاد اچھا نہیں لگتا۔

اور یہ نرم ہندوتو تھا یا گرم جب جبل پور میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور پنڈت نہرو کے عزیز دوست کیلاش ناتھ کاٹجو وزیر اعلیٰ تھے۔ مسلمانوں کے بڑے لیڈر پنڈت جی کے پاس گئے انہوں نے کاٹجو سے معلوم کیا کہ اصلیت کیا ہے؟ اور پنڈت جی کے بقول کاٹجو کہہ رہے ہیں کہ ابتدا مسلمانوں نے کی تھی۔ اگر کسی سرپھرے مسلمان نے کوئی حرکت کی تھی تو کیا اس شہر کے عام مسلمانوں کے قتل کا جواز یہ ہوگیا؟ کانگریس میں سردار پٹیل اور ان کا گروپ گرم ہندوتو کا مظاہرہ کرتا رہا اور پنڈت جی ملک کے یا اپنے ساتھیوں کے معاملات میں تو ان سے لوہا لیتے رہے لیکن مسلمانوں کے معاملے میں وہ ان سے کچھ کہتے ہوئے ڈرتے تھے اور یہی نرم ہندوتو ہے۔ رہے مسلمان تو وہ پاکستان کی غلطی کئے بیٹھے تھے وہ کہاں جاتے؟

پنڈت جی کے بعد شاستری جی نے آر ایس ایس سے ہاتھ ملا لیا اور وہ تو بہت کچھ کرتے مگر قضاء و قدر نے انہیں موقع نہیں دیا لیکن ہمیں تو 9  مہینے کی جیل کا ذائقہ وہ چکھا ہی گئے جس وقت یہ خبر آئی ہے کہ تاشقند میں شاستری جی کا انتقال ہوگیا اس وقت ہم جیل میں ہی تھے اور سب ہم سے معلوم کررہے تھے اب وزیر اعظم کون ہوگا؟ ان کے بعد اندرا گاندھی ہی تھیں جنہوں نے وزیراعظم بن کر خود ہی گرم ہندوتو کو اپنایا جس جمہوریت پر ایک چوٹ پنڈت جی اپنی زندگی میں مار گئے تھے اسے ہر طرف سے کمزور کرکے ختم کردیا اور خود مہارانی بن کر حکومت کی۔ انہوں نے بھی نرم نہیں گرم ہندوتو کا مظاہرہ کیا ایمرجنسی لگائی تو جماعت اسلامی پر بھی پابندی لگاکر سب کو جیل میں ڈال دیا اور اس کے امیر مولانا ابواللیث اور مولانا عبدالغفار کے بارے میں یہ بھی نہیں کیا کہ جیل میں ان کے مقام کا لحاظ کرکے جگہ دی جاتی۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کا تو سیاست سے ووٹ دینے کا بھی تعلق نہیں تھا وہ خالص مذہبی جماعت ہے وہ تو الیکشن میں حصہ بھی نہیں لیتی۔ اور بزرگ علماء پر جیسا دبائو ڈالا کہ وہ نس بندی کی حمایت میں بیان دیں اور ان کے پیچھے سرکاری نوکروں اور وزیروں کو لگا دیا۔ جبکہ یہ خالص مذہبی معاملہ تھا۔ اندراجی کی اس حرکت سے عام مسلمانوں میں ان سے نفرت کے جذبات پیدا ہوئے۔ اور راہل کے چچا سنجے نے بے لگام سانڈ کا جو کردار ادا کیا تھا وہ تو اتنا گھنائونا تھا کہ اس نے اپنی ماں کو بھی نہیں چھوڑا۔ راہل گاندھی اور سونیا کو کیا نہیں معلوم کہ جب اندرا گاندھی کی پھوپھی شیلا کول نے اندراجی سے کہا کہ لکھنؤ کی وسطی اور مغربی سیٹ پر اُن دو کو ٹکٹ دے دینا تو انہوں نے جواب دیا کہ سنجے کو دے دیجئے۔ جس پر شہرت کی حد تک شیلاجی نے پرچہ سامنے رکھ دیا اور کہا کہ اچھا اب میں سنجے سے کہوں ؟

اس مشاورتی جلسہ میں ہماری بہن جیسی محسنہ قدوائی کا ذکر اہمیت سے کیا گیا ہے۔ حیرت ہے کہ وہ منھ کیوں نہیں کھولتیں کہ ویربہادر کو وزیر اعلیٰ بنانا دکشت کو وزیر داخلہ بنانا اور میرٹھ کے مسلمانوں پر قیامت توڑنا، راجیو گاندھی کا کام تھا۔ اس میٹنگ میں میرٹھ کی ممبر پارلیمنٹ کی حیثیت سے انہوں نے شریک ہونا چاہا تو اُن کے سکریٹری کو ذلیل کیا گیا حیرت ہے کہ کانگریسی ہندو مسلمانوں پر ووٹ دینے نہ دینے کی بحث کریں اور بھول جائیں کہ جس کانگریس پر 1961 ء میں ہی تھوک دینا چاہئے تھا اس کے خلاف پہلی آواز 1967 ء میں بلند کی۔ اس کے بعد اگر اندرا گاندھی معافی مانگ لیتیں تو مسلمان پھسل جاتے لیکن حکومت کے غرور نے انہیں سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا وہ اس فریب میں مبتلا رہیں کہ ہندوتو کو اپناکر ہندوئوں کو قریب کرلوں گی۔ محسنہ قدوائی اور میم۔ افضل ہی کافی تھے یہ بتانے کے لئے کہ مسلمان کیوں کانگریس سے دور ہوئے اور کیوں وہ منزل آگئی کہ انہیں نفرت ہوگئی؟

میرٹھ کے معاملہ میں راجیو گاندھی اتنے ہی مجرم ہیں جتنا کانگریسی گجرات کے معاملہ میں مودی جی کو کہتے ہیں ۔ میرٹھ میں ہوا نہیں راجیو نے کرایا جس کی گواہ محسنہ قدوائی موجود تھیں ۔ اور ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان فساد کے نام پر قتل کئے گئے اور ایک بھی قاتل کو سزا کا نہ ہونے دینا اور ممبئی میں 1993 ء میں دو ہزار سے زیادہ مسلمانوں کو مارنے والے حکومت کررہے ہیں اور 263  ہندوئوں کو بم دھماکوں میں مارنے کے الزام میں پھانسی بھی ہوگئی عمر قید بھی چل رہی ہے اور دس سال پانچ سال کی سزائیں تو عام ہوئیں ۔

اس کے بعد بھی ماں بیٹوں کے معافی مانگنے اور بار بار مانگنے کے بجائے مسلمانوں کو کانگریس کی ارتھی اٹھانے کے لئے آواز دیتے شرم نہیں آئی۔ بیشک 2014 ء میں مسلمانوں نے کانگریس کو ووٹ نہیں دیا لیکن جن ہندوئوں کے لئے مسلمانوں کو پھانسی دی انہوں نے کیا انعام دیا؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close