سیاستہندوستان

اتحاد کی گولی کڑوی مگر مفید ہے

وہ منظر ہماری طرح نہ جانے کتنے لوگوں کی آنکھوں میںگھوم رہا ہوگا جب کانگریس کمیٹی کے دفتر کے باہر سماج وادی پارٹی سے کانگریس کے اتحاد کا اعلان ہورہا تھا اور صوبائی صدر راج ببر ایسے بیٹھے تھے جیسے ۸؍نومبر 2016کی رات کو نوٹوں سے بھرے بریف کیس ردّی کاغذبنادئے گئے تھے اور 10؍ کی صبح کو ان کے گھر پر بارات آنے والی ہو  اور وہ نہ استقبال کرنے کے قابل ہوں اور نہ بارات کو روکنے کی پوزیشن میں ہوں۔ اور دکھ اس کا بھی تھا کہ یہ اعلان کرتے وقت کہ کانگریس 105سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑا کریگی مگر 403سیٹوں پر لڑے گی اور سماج وادی پارٹی 298سیٹوںپر اپنے امیدوار کھڑا کریگی مگر وہ بھی 403سیٹوں پر لڑے گی، نہ کوئی جوش تھا نہ نعرے۔

جس وقت یہ اعلان کیا جارہا تھا اس وقت دور دور تک نہ الیکشن انچارج غلام نبی آزاد تھے نہ اتحاد کے سب سے بڑے حامی راہل گاندھی تھے اور سونیا جی کا تو ذکر ہی کیا؟ حیرت ہے کہ ہم جیسے جو تین میںنہ تیرہ میں یہ دیکھ رہے تھے کہ پرشانت کشور ملائم سنگھ سے تین تین گھنٹے گفتگو کرکے باہر آرہے ہیں۔ اور اکھلیش یادو سے مل رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کے اشارہ پر گئے ہوںگے اور راج ببر اور غلام نبی آزاد کہہ رہے تھے کہ اتحاد کا سوال ہی نہیں ، کانگریس 403سیٹوںپر لڑے گی اور حکومت بنائے گی۔

کیا غلام نبی آزاد اور راج ببر کو نہیںمعلوم کہ نہرو گاندھی پریوار کا طریقہ آج بھی وہی ہے جو اندرا گاندھی کا تھا کہ اترپردیش پارلیمنٹری بورڈ کی میٹنگ تین تین دن چلتی تھی اور ایک ایک سیٹ پر گھنٹوں بحث ہوتی تھی۔ اس کے بعد وہ فہرست آخری فیصلہ کے لیے اندراجی کے پاس بھیجی جاتی تھی اور وہ اس پر طائرانہ نظر بھی نہیں ڈالتی تھیں بلکہ دوسری صبح کو پریس والوں کو بلواتی تھیں اور فائل سے نکال کر اترپردیش کے امیدواروں کی وہ فہرست پکڑادیتی تھیں جو انھوں نے خفیہ سرکاری ایجنسی کے ذریعہ بنوائی تھی اور پورا اترپردیش منہ دیکھتا رہ جاتا تھا۔

تین دن سے غلام نبی آزاد کا کہیںذکر نہیںہے مگر یہ کہا جارہا ہے کہ راہل کی بہن ا ور اکھلیش کی بیوی مل کر الیکشن لڑائیںگی۔اور پرشانت کشور سونیا خاندان کو منانے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ اب پرینکا بی بی کو پوری طاقت سے سامنے آکر الیکشن لڑانا چاہیے۔ 2012میں مرکز میں سونیا اور راہل کی حکومت تھی۔راہل گاندھی نے جس طرح اپنے کو جھونکا تھا وہ آخری درجہ کی بات تھی لیکن انھوں نے انجام دیکھ لیا۔ 2014میں ان کی جو حالت ہوئی وہ بھی سامنے ہے۔ کانگریس کے ذمہ داروں کو یہ بات سامنے رکھنا چاہیے کہ اس صوبہ میں 2009میں ان کو کتنی ز بردست کامیابی ملی تھی اس کے بعد جس چیز نے انہیں ۵ سال کے بعد یوپی میں صرف ۲ سیٹوں پر سمیٹ دیا اس کا کیا مداوا کیا؟ جو کانگریس 2014میں تھی وہی 2017میں ہے تو یہ سمجھنا کہ اب ہم 403سیٹوں پر لڑنے کے قابل ہوگئے اپنے کو دھوکہ دینا ہے۔

کانگریس بے شک 100 سال پرانی پارٹی ہے لیکن پنڈت نہرو سے لے کر سونیا تک سب نے اسے نقصان پہنچایا ہے۔ جب پارٹی میں جمہوریت نہیں ہوگی تو ملک میں بھی جمہوریت کا وہی حشر ہوگا۔ 60برس پہلے شری چندربھان گپتا جمہوریت کے بل پر یوپی سی سی کے صدر بنے تھے۔ اس کے بعدسے صدر وہ ہوتا ہے جو دہلی سے بن کر آتا ہے اور ذرا سی بات پرہٹا دیا جاتا ہے۔ موجودہ صوبائی صدر راج ببر صاحب راجیہ سبھا کے ممبر ہیں تو سونیا کی مہربانی ہے اور یوپی کانگریس کے صدر بنے تو ان کی مہربانی ہے۔ وہ جب سرکا تاج لیںگے تو تھوڑی سی ذلت بھی برداشت کرنا پڑے گی۔ راج ببر کو یہ کیوں نظر نہیں آیا کہ بہار میں کانگریس سانس لینے کے قابل ہوئی تو لالو اور نتیش کی وجہ سے اوربنگال میں مٹی میں مل گئی تو ممتا سے لڑائی مول لے کر۔ وہ اگر اترپردیش میں اکھلیش یا مایاوتی سے الگ ہو کر لڑتی تو اسے 10 کا ہندسہ چھونے میں لالے لگ جاتے۔ حیرت ہے کہ انھوں نے صرف شیلا دکشت کے بل پر برہمنوں کو اپنانے کا فیصلہ کرلیا تھا اور یہ نہیںدیکھا کہ موقع پرست برہمن اب تھوک میں مودی مودی کررہا ہے اور ریتا بہوگنا برہمن بھی آخر کار مودی کے پاس چلی گئیں۔

جہاں تک محاذ کا معاملہ ہے اس کا نمونہ بہار میں کانگریس نے دیکھ لیا تھا کہ کانگریس کو جتنے ووٹ ملے ان میں اکثریت ان کی ہے جو لالو اور نتیش کی آواز پر ملے اور کانگریس نے وہاں صرف اپنا الیکشن نہیں لڑایا بلکہ تینوں پارٹیوں کے لیے ووٹ مانگے۔ اترپردیش میں بھی یہی ہونا چاہیے کہ اکھلیش اور ڈمپل 403سیٹوں پر برابر توجہ سے لڑیں اور راہل گاندھی اور پرینکا بھی 403سیٹوں پر اس لیے لڑیں کہ 2019میں کانگریس کے لوگ جب ووٹ مانگنے جائیں تو کوئی یہ نہ کہے کہ 2017میں کہاں تھے؟

لکھنؤ کے کانگریسیوں کے لیے ایک بڑا کام ریتا بہوگنا کو ان کی بے وفائی کی سزا بھی دینا ہے۔ وہ اتنی کم عقل ہیں کہ کینٹ سے ٹکٹ ملنے پر خوش ہیںحالاں کہ جن لوگوں سے کل کانگریس کی تعریف اور بی جے پی کی برائی کی تھی آج ان سے ہی بی جے پی کی تعریف کس منہ سے کریںگی؟ کانگریس کے لیے کینٹ میں ملائم سنگھ کی چھوٹی بہو کو ہر حال میں جتانا ایک بڑا کام ہے۔

راج ببّر ہوں یا غلام نبی آزاد یا م افضل حیرت ہے کہ وہ پارٹی کی حالت کا اندازہ نہیں کرپارہے ہیں۔ جب پرشانت کشور اور ان کی ٹیم نے بھی اندازہ کرلیا کہ اگر نوٹ بندی کا غصہ بھی لوگ اتاریںگے اور بی جے پی کو ووٹ نہیں دیںگے تب بھی کانگریس کا نمبر سپا اور بسپا کے بعد آئے گا۔ اب انہیں ایک بہترین ساتھی بن کر دکھانا ہے ا ور مخلوط حکومت بنوانا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ کانگریس کو بعض سیٹوں کے نہ ملنے کی تکلیف ہے لیکن اکھلیش یادو کی دوستی سے انہیں نفع زیادہ ہوگا اور نقصان کم اور یہ سودا برا نہیں ہے۔ لیکن اگر انھوں نے وہ کردار ادا کیا جو بہار میں بی جے پی کے ساتھ رام ولاس پاسوان نے کیا تھا تو یہ خود کشی جیسا عمل ہوگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close