سیاستہندوستان

اترپردیش اسمبلی انتخابات: حقائق و اندیشے

یوں تو انتخابات (الیکشنز) ہوتے ہی رہتے ہیں، کبھی یہاں تو کبھی وہاں۔ کبھی اس ملک میں تو کبھی اُ س ملک میں۔ کیوں کہ دنیا کے اکثر حصوں پر جمہوریت کا راج ہے۔
جمہوریت کیاہے؟ :۔ جمہوریت کی لغوی معنی”لوگوں کی حکمرانی“Rule of the Peopleکے ہیں۔ یہ اصطلاح دویونانی الفاظ Demoیعنی ”لوگ“اورKratosیعنی ”حکومت“ سے مل کربنا ہے۔بعض لوگ اس کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ لوگوں کی ”اکثریت کی بات ماننا“ لیکن درحقیقت یہ ”اکثریت کی اطاعت “ کا نام ہے۔یہی وجہ ہے کہ یونانی مفکرہیروڈوٹس(Herodotus)کہتا ہے: ”جمہوریت ایک ایسی حکومت ہوتی ہے جس میں ریاست کے حاکمانہ اختیارات قانونی طور پر پورے معاشرہ کو حاصل ہوتے ہیں۔“چنانچہ سابق امریکی صدر”ابراہم لنکن“کا یہ قول جو کہ جمہوریت کا نعرہ ہے۔ اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے:
Goverment of People of the people for the people ”عوام کی حاکمیت،عوام کے ذریعہ،عوام پر“
جمہوریت کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ جمہوریت کا سب سے پہلا سراغ ہمارے ملک ہندوستان میں ملتاہے، جہاں 600سال قبل از مسیح اور ”بدھا“ کی پیدائش سے قبل ہند میں جمہوری ریاستیں موجود تھیں اور ان کو JANAPADAS (جاناپداس) کہاجاتاتھا۔ ان میں سب سے پہلی ریاست ”وشانی“ ریاست تھی جوکہ آج بہار کے نام سے مشہور ہے۔ اسی طرح سکندر اعظم کے دور میں 400قبل از مسیح یونانی دانشوروں کے مطابق SABARACAE اور SABASTAI کی ریاستیں جوموجودہ پاکستان اور ہندوستان ہیں۔ یہاں بھی جمہوری حکومت تھی۔ اسی طرح 5صدی قبل از مسیح میں GREECE میں بھی کونسل اور اسمبلی کا تصور ملتاہے۔ اس کے علاوہ ملک عرب میں بھی قبل از نبوت جمہوریت کا تصور قائم تھا جس کی ایک مثال قریش کا دارالندوہ (قصی بن کلاب) ہے۔ بعد از نبوت جب نبی اکرم کا وصال ہوتاہے ، آپ اپنے حبیب اور محبوب سے جاملتے ہیں تو صحابہ کرامؓ نے جو طرز حکومت قائم کی تھی اس کی بنیاد بھی جمہوریت پر ہی تھی۔ تاریخ شاہد ہے کہ حضرت ابوبکرصدیقؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور ان کے بعد بھی خیرالقرون میں اصحاب رائے سے ہی رائے طلب کی جاتی اور پھر کسی ایک شخص پر سب اتفاق کرتے اور ان کے ہاتھ پر بیعت لی جاتی تھی۔ خیر میں اسلامی تاریخ کا تذکرہ نہیں کرنا چاہتا۔ مجھے تو بات کرنی ہے الیکشن (انتخاب) کے تعلق سے کہ انتخابات تو ہوتے ہی رہتے ہیں ۔ لیکن بعض انتخابات اور یوں کہاجائے کہ بعض ملکوں کے انتخابات کافی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جس پر پوری دنیا کی نظر ہوتی ہے اور اس کے اچھے برے نتائج کا اثر پوری دنیا پر پڑتاہے۔ مثلاً امریکہ کا صدارتی انتخاب یہ بھی بڑی اہمیت کا حامل ہوتاہے۔ اسی طرح ہمارے وطن عزیز ہندوستان کا حال ہے کہ یہاں کے انتخابات کافی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ کیوں کہ اول تو اس کی جمہوری تاریخ کافی قدیم ہے۔ دوم یہ کہ دوسرے جمہوری ملکوں سے یہاں کی جمہوریت اپنی مثال آپ ہے۔ یہ واحد ملک ہے جس کی جمہوریت پر فخر کیا جاتاہے اور کیا جانا چاہئے اور کیوں نہ کیا جائے کہ یہاں مختلف اقوام وملل آباد ہیں اور ہر ملت وقوم کو یہاں اپنے مذاہب، اپنے خیالات اور مسلک ومشرب پر عمل کی آزادی ہے اور پوری آبادی یہاں کی جمہوریت میں نمایاں کردار اداکرتے ہیں اور جمہوریت کے اٹوٹ حصہ ہیں۔ پھر یہاں کے انتخابات کا وہ حصہ جو ریاستی سطح پر انجام پاتاہے وہ کافی اہمیت کا حامل ہوتاہے۔ بطور خاص یہاں آباد مسلمانوں کے لئے ریاستی انتخابات کی بڑی اہمیت، پھر ریاستی انتخابات میں اترپردیش کے اسمبلی انتخابات تو امت مسلمہ ہندیہ کے لئے امیدویاس کا مرکز اور اس کے نتائج سے ان پر اچھے اور برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
یوپی کے انتخابات کی اہمیت کیوں:۔ سوال یہ پیداہوتاہے کہ مسلمانوں کے لئے یوپی اسمبلی انتخابات اہمیت کیوں رکھتے ہیں اور آئندہ دنوں میں ہونے والے انتخابات کئی اعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں۔ آخری کیوں؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہندوستان کی ریاستوں میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کا اگر آپ جائزہ لیں تو سب سے بڑی آبادی جموں وکشمیر میں ہے جہاں 68.31فیصد مسلمان آباد ہیں۔ لیکن وہ اتنی بڑی آبادی رکھنے کے باوجود ملک کے دوسرے حصوں کے مسلمانوں اور قومی دھارے اور مسائل میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ کیوں کہ وہ خود اپنی دنیا میں انتہائی حساس اور نازک مسائل سے دوچار رہتے ہیں، ان کو مصائب وآلام کے طویل سلسلے اور حالات کی زنجیریں اس طرح جکڑے رہتی ہیں کہ وہ بسااوقات خود سے بھی بیگانہ ہوجاتے ہیں تو دوسروں کے مسائل کی طرف توجہ کیوں کرکریں۔ اس ریاست کے بعد مسلمانوں کی آبادی کے اعتبار سے سب بڑی ریاست اترپردیش اور تیسرے نمبر پر بہار ہے۔ اترپردیش میں2011ءکی سروے رپورٹ کے مطابق 22.34فیصد مسلمانوں کی آبادی کا حصہ موجود ہے جو تعداد کے اعتبار سے 3کروڑ84لاکھ 83ہزار 967مسلمان آباد ہیں۔ یہ ملک میں مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی ہے، اور یہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں آباد مسلمانوں کے سروے رپورٹ کے مطابق اس ریاست میں دنیا کی کل مسلم آبادی کا 2.53فیصد حصہ ہیں۔ اسی سے یوپی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔ اسی لئے اس وقت پوری دنیا کی عموماً اور پورے ملک کی خصوصاً نظریں اترپردیش کے اسمبلی انتخابات پر ٹکی ہوئی ہیں۔ لیکن ابھی بھی اس سوال کا جواب نہیں مل پایا کہ آخر کیوں؟
یہ بات مسلم ہے کہ مسلمانان ہند کے تشخص کی بقا، دینی شعور وآگہی، شعائر اسلام کی حفاظت کا مرکز عمومی طورپر ماضی میں بھی اور حال میں بھی یوپی ہی رہاہے اور ہے اور فسطائی طاقتوں کی کمر وہیں سے توڑی جاتی رہی ہے اور اس وقت جو پورے ملک میں حالات ہیں خصوصاً مسلم پرسنل لاءپر قدغن لگانے کی بات ہورہی ہے، اگرچہ کہ عدالت عظمیٰ نے ملکی قوانین میں درج دفعات کی تائید کرتے ہوئے مسلم پرسنل میں دخل اندازی سے انکار کردیا ہے۔ لیکن ایک اندیشہ ہے کہ یہ وقتی ہو، کیوں کہ فسطائی طاقت خصوصاً مرکز میں برسراقتدار جماعت بی جے پی کے خفیہ ایجنڈے میں مسلم پرسنل لاءکی منسوخی اور یکساں سیول کوڈ کے نفاز کی بات پہلے سے موجود ہے جو دراصل آر ایس ایس کا خفیہ ایجنڈہ ہے اور اس ایجنڈہ کے نفاذ کے لئے یوپی کا اسمبلی انتخاب انتہائی اہم ہے کہ اگر یوپی میں بی جے پی کو کامیابی مل جاتی ہے اور اس کے اراکین اسمبلی کی تعداد بڑھ جاتی ہے تو راجیہ سبھا میں جو رکاوٹیں ہیں وہ خود بخود ختم ہوجائیں گی اور اپنے منشا اور ارادہ کے مطابق تیار کردہ تمام بلوں کو منظوری دے دی جائے گی۔ اس لئے مسلمانوں کے لئے یوپی اسمبلی انتخابات بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔
یوپی کے مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے؟ ایسی صورتحال میں جب حالات انتہائی نازک اور حساس ہیں مسلمانوں کی عمومی اور دانشوروں اور اہم علم حضرات کی خصوصی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہاں مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی فضاءقائم کی جائے۔ مسلکی اور گروہی اختلافات جو دنیا وی لحاظ سے بھی اور دینی اعتبار سے بھی کبھی بھی لائق صد افتخار نہیں سمجھا گیا بلکہ ہمیشہ مذموم رہا اور مذموم ہے کو بالائے طاق رکھ کر دوسری فسطائی طاقتوں اور ان کے خفیہ سرگرمیوں سے سبق لے کر ذہن سازی کے لئے مہم چلائی جائے، علماءسے امت کو جوڑا جائے، اجتماعی اور اتحادی قوت کی اہمیت سے لوگوں کو روشناس کرایا جائے۔ علماءو دانشوران قوم وملت جس پارٹی پر اعتماد کریں اس کی نشاندہی کرکے اس پارٹی سے اپنے مطالبات منوانے کی شرط پر ان کے حق میں ووٹ دیا جائے۔ لیکن یہاں بھی ایک بات ذہن نشیں رہے کہ اہم علم، اہل قلم، اہل دانش یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کون سی پارٹی سے ہمارے اسلامی شعائر اور دینی تشخصات کو نقصان نہیں ہے وہ یک آواز ہوکر اس کی نشاندہی کریں۔ اپنے ذاتی مفادات اگر کسی پارٹی سے وابستہ ہوں تو اس کو اجتماعی مفادات کے لئے قربان کردیں۔ کیوں کہ ابھی حالیہ دنوں ٹی وی کے اینکر نے بی جے پی ایک اعلیٰ قائد سے انٹرویو لیا تھا ، جس میں انہوں نے اس سے مسلمانوں کے اندر اتحاد واتفاق کے تعلق سے سوالات کئے جس کے جواب رہنما نے صاف الفاظ میں کہاتھا” ہم نے ماضی کا تجربہ دیکھا ہے، انگریز کی حکومت کرنے کا طریقہ مطالعہ کیا ہے، جس میں یہ بات اور سبق ہمیں ملا ہے کہ ”بانٹواور حکومت کرو“ لہٰذا ہم یوپی انتخابات کے دوران مسلمانوں کے مسلکی، گروہی، جماعتی عصبیت کا فائدہ اٹھائیں گے۔ مسلمانوں کو مسلکی اعتبار سے آپس میں بانٹ دیںگے۔“اس اصول پر خفیہ طورپر عمل درآمد شروع ہوچکاہے۔ اس لئے مسلمان بہت ہوشیار رہیں۔ کسی کے بہکاوے میں آنے سے قبل ہزار بار غور کرلیں۔ یہ ایک انتہائی حساس موقع ہوتاہے جس میں افواہیں بھی بڑی تیزی کے ساتھ گردش کرتی ہیں، کسی افواہ کو سن کر اس سے مایوس ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ کیوں کہ مایوسی کفر کے مرادف ہے۔ بلکہ اس کی تحقیق کریں۔ عموماً ایکزٹ پول کے ذریعہ لوگوں کو گمراہ کیا جاتاہے یا ٹی وی پر مختلف مقامات پر لوگوں سے ان کے خیالات جانے جاتے ہیں اور اس کے ذریعہ لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کیوں کہ جہاں کہیں بھی لوگوں سے معلومات حاصل کی جاتی ہیں اکثر انہیں معلومات کو ٹی وی پر نشر کیا جاتا ہے جس سے اس ٹی وی مادی منافع ملتاہے اور ان معلومات کو حذف کردیا جاتاہے جو دوسری پارٹی یا قوم کے حق میں ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس پر اہل علم اور اہل دانش خصوصی توجہ دیں کہ کہیں قوم کوئی ایک فرد بھی گمراہ نہ ہوجائے اور اس سے پوری قوم کو نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔ دعا ہے کہ اللہ پوری امت مسلمہ کے جان ومال، عزت وآبرو کی حفاظت کرے۔ آمین

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد شاہنواز عالم ندوی

فارغ التحصیل دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ، بی اے (اردو) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد، ایم اے (اردو) مولانا مظہرالحق عربک، پرشیئن یونیورسٹی پٹنہ، سابق لکچرر اردو، عربی اور اسلامیات الامین پی یو کالج بنگلور ،سب ایڈیٹر روزنامہ سالار اردو بنگلور

متعلقہ

Close