سیاستہندوستان

اترپردیش کا الیکشن تاریخ بنائے گا!

پارلیمنٹ میں  صدر کے خطبہ پر شکریہ کی تحریک کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے آخر کار اپنی خاموشی توڑی اور عادت کے مطابق وہ سب کہہ دیا جو ان کے دل میں  غبار کی طرح بھرا ہوا تھا۔ انھوں  نے اپنی نوٹ بندی کی غلطی کو صحیح ٹھہرانے کے لیے وہ سب باتیں  کہیں  جو وہ ملک میں  انتخابی جلسوں  میں  کہہ رہے ہیں  اور پارلیمنٹ کے ممبروں  کے مطابق وہ یہ بھول گئے کہ وہ کہاں  کھڑے ہیں  اور تقریر کے درمیان میں  بھائیو اور بہنو بھی کہہ دیا۔ وہ اعلان کرچکے تھے کہ اگر 50 دن میں  حالات اپنی جگہ پر نہ آئیں  تو جس چوراہے پر چاہو کھڑا کرکے مجھے سزا دے دینا۔ اور اتفاق سے این ڈی ٹی وی انڈیا کے مشہور ایڈیٹر رویش کمار کل رات مرادآباد کی پیتل نگری میں  گھوم گھوم کر معلوم کررہے تھے کہ 90 دن کے بعد تمام کارخانے اپنی جگہ پر آئے یا نہیں   اور ہر کارخانہ میں  یہ جواب ملا کہ ابھی نہیں۔  کام ہورہا تھا مگر ہر کارخانہ میں  آدمی اس لیے کم تھے کہ وہ روز شام کو اپنی مزدوری لیتے ہیں  اور بینک ا تنے روپے نہیں دیتے کہ سب کو مزدوری دے سکیں۔

وزیر اعظم نے اپنی طویل تقریر میں  وہی انداز اپنایا جو ان کی فطرت ہے اور وہ نوٹ بندی کے فیصلے کو صحیح وقت پر صحیح قدم ثابت کرتے ہوئے کہتے رہے کہ ملک کی معیشت اسے برداشت کرنے کے قابل تھی اس لیے ہم نے یہ فیصلہ کیا۔ ان کی اس بات کو تو صرف ان 125 مردوں  اور عورتوں  کی موت نے ہی غلط ثابت کردیا جو مودی مودی کہتے ہوئے مرگئے۔ کیا اس فیصلے کو دنیا میں  کوئی صحیح کہہ سکتا ہے کہ پورا ملک سونے کی تیاری کررہا ہو اور ان کے سر پر ان کے مکان اور دکان کی چھت گرادی جائے؟ 8؍ نومبر کو رات کے 9؍ بجے ہر آدمی یہ دیکھ رہا تھا کہ اس کے یا اس کے بیوی بچوں  کے پاس سو روپے 50 روپے 20 روپے اور 10 روپے کے چند نوٹ بھی ہیں  یا نہیں  تاکہ صبح اٹھ کر ناشتہ مل جائے، بچے اسکول چلے جائیں  اور گھر کی گاڑی چلانے والا بینک میں  جا کر 4 ہزار کے بڑے نوٹ تبدیل کرالائے۔

ان حالات کے لیے یہ کہنا کہ جسم آپریشن کے لیے تیار ہے ثابت کرتا ہے کہ کہنے والا گھر اور معیشت کی ذمہ داری کے معاملہ میں  بالکل اناڑی ہے۔ وہ نہیں  جانتا کہ ملک میں  کروڑوں  آدمی وہ ہیں  جنھوں  نے9 ؍نومبر سے 30 نومبر تک ہر دن اس طرح گذارا ہے کہ دفتر سے تنخواہ نہیں  اگر کاروبار ہے تو گراہک نہیں  گھروں  کے اندر کھانے کی کوئی چیز نہیں  اور بینکوں  میں  پیسہ نہیں۔

ہم یہ تو نہیں  کہیں گے کہ پونے تین برس میں  بار بار ایسا موقع آیا کہ وزیر اعظم کی کرسی پر نریندر نام کے آدمی کا بیٹھا رہنا غلط لگا اور یہ خیال آیا کہ اگر مودی نہ ہوتے تو شاید اتنے برے دن دیکھنے کو نہ ملتے جتنے انگریزوں  کی حکومت میں  دیکھے تھے۔ لیکن ۸؍ نومبر سے آج تک ہر وقت یہ خیال آتا رہا کہ اس سے تو اچھے وہی دن تھے جب یوپی اے حکومت میں  اس کے وزیر کروڑوں  روپے کھارہے تھے پھر نکالے جارہے تھے اور جیل جارہے تھے، اس وقت کم از کم عام آدمی روٹی کے ٹکڑے کو تو نہیں  ترس رہا تھا اور اپنے ہی روپے کے لیے بینک کے سامنے بھکاری بنا تو نہیں  کھڑا ہوتا تھا۔

وزیر اعظم اب جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں  وہ لیپا پوتی کررہے ہیں  اور کوئی ان کو سزا اس لیے نہیں  دے سکتا کہ 280 ممبر ان کے غلام بنے بیٹھے ہیں۔  انھوں  نے کل کی تقریر میں  بار بار کانگریس کی حکومت میں  کئے گئے کاموں  اور ہونے والے گھوٹالوں  کا حوالہ دیا۔ انہیں  یہ تو سوچنا چاہیے تھا کہ اگر کانگریس حکومت میں  یہ سب نہ ہوا ہوتا تو نہ مودی وزیر اعظم ہوتے اور نہ راج ناتھ سنگھ وزیر داخلہ اور نہ ٹیڑھے منہ والے وینکیا نائیڈو و پارلیمانی امور اور اطلاعات کے وزیر ہوتے۔ اور نہ آج بھی لاکھوں  انسان اپنے ہی روپیوں  کے لیے بینک کی لائن میں  لگے ہوتے اور مراد آباد کے کارخانوں  میں  کام کرنے والے رکشہ نہ چلارہے ہوتے۔ وہی بات انتخابی جلسوں  میں  اور وہی پارلیمنٹ میں  صرف اس طاقت کے بل پر کہ میرے 280 آدمی ہر حال میں  میری حمایت کریں گے اور اگر انھوں  نے بغاوت کی تو وہ ممبر ہی نہیں  رہیں گے۔

پنجاب کا الیکشن ہوچکا۔  اب اترپردیش کا الیکشن سامنے ہے اس کی کامیابی اور ناکامی ملک کی قسمت کا فیصلہ کردے گی۔ مودی نے تو نہیں  لیکن ونے کٹیارنے کہہ دیا کہ اترپردیش کا الیکشن اس لیے بہت اہم ہے کہ اسے جیتنے کے بعد راجیہ سبھا میں  بھی ہماری اکثریت ہوجائے گی اور ہم جلدی جلدی تمام فیصلے جیسے تین طلاق، رام مندر وغیرہ کرسکیں گے اور ہم تو یہ بھی لکھ چکے ہیں  کہ مودی صدر بھی اپنی مرضی کا بنانا چاہتے ہیں۔

اب یہ بات ہر ہندوستانی کو سمجھنا چاہیے کہ صرف لوک سبھا کی اکثریت کے بل پر تو مودی نے ۸-۸ آنسو رُلایا ہے اور جو لاکھوں  کارخانے بند کرادئے گئے ان میں  اب بھی وہ غریب مزدور واپس نہیں  آئے ہیں  جو روزی کمارہے تھے۔پھر ا گر راجیہ سبھا میں  بھی اکثریت ہوگئی تو شاید ہی کوئی اپنی مرضی سے جی سکے؟ ہوسکتا ہے کہ مودی یہ فیصلہ کردیں  کہ اعلیٰ تعلیم صرف بڑے لوگوں کے بچے حاصل کرسکیں گے۔اور ہر کسی کو B.A.تک تعلیم کی اجازت ہوگی یا پھر شادی حکومت کی اجازت سے ہوگی اور بچوں  کی تعداد کا فیصلہ حکومت کرے گی یا کاروبار کی آزادی نہیں  ہوگی بلکہ کون کیا کاروبار کرے گا اور نفع کا اوسط کتنا رکھے گا، یہ فیصلہ حکومت کرے گی؟ اور یہ بات بھی حکومت طے کرے گی کہ وزیر اعظم ۵ سال رہے گا یا اس کی مدت 10 سال ہوگی؟

مودی جی نے پونے تین سال میں  جو جو کیا اس کے بعد نہ جانے کتنی طرف سے یہ آواز آچکی ہے کہ بی جے پی کو یعنی سنگھ کو اب وزیر اعظم بدل دینا چاہیے۔سنا ہے کہ سنجیدگی سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگر ا ترپردیش میں  مودی ہار جائیں  تو انھیں  ہٹا دیا جائے گا۔ ہوسکتا ہے بزرگ لیڈروں  میں  سے یا کوئی نیا خون لانے کے بارے میں  سوچا جائے۔ یہ فیصلہ کہ کون ہو یہ ہمارے آپ کے کرنے کا نہیں  ہے لیکن یہ صرف آپ کے کرنے کا کام ہے کہ مودی کو ہٹانے کے لیے انہیں  اترپردیش میں  ہرادیا جائے۔ مسئلہ حکومت بدلنے کا نہیں  ہے وہ تو دو برس اور رہے گی لیکن ایک ضدی وزیر اعظم کا اپنی کرسی برقرار رہنا بہت نقصان دہ ہے۔ہمیں  کوئی شوق نہیں  کہ حکومت کانگریس کی ہو لیکن وہ حکومت جس میں  صرف ایک آدمی کی بات سنی جائے ہرفیصلہ صرف ایک آدمی کرے اور جو غلط فیصلوں  کو بھی کہے کہ وہ ٹھیک ہیں  ملک اور قوم کے لیے بہت مضر ہے۔ وہ جب اور جہاں  تقریر کرتے ہیں صرف ایک سبق سناتے ہیں  کہ کانگریسیوں نے یہ کیا اور یہ کیا۔وہ ہمیشہ کسانوں  کی خودکشی پر کہا کرتے تھے کہ اسے حکومت کرنے کا حق نہیں  ہے جس کی حکومت میں کسان خودکشی کریں۔  اور مودی سرکار میں  دوگنے کسانوں  نے خودکشی کی ہے۔

ا ب ہر آدمی کو سوچنا چاہیے کہ اسے حکومت کرنے کا کیا حق ہے جس کی حکومت میں  125 آدمی صرف اس وجہ سے مر گئے ہوں  کہ وہ اپنا ہی روپیہ اپنے ہی بینک سے اس لیے نہ نکال سکے کہ وزیر اعظم نے پابندی لگا دی تھی اور وہ ہزاروں  کارخانے جن میں  لاکھوں  غریب کام کرکے روزگار سے لگے تھے وہ بند کرنے پڑے جس سے مالک اور نوکر سب بینک کی لائن میں  لگ گئے۔

ہمارے ایک کرم فرما نے جمشید پور سے فون پہ کہا ہے کہ سنبھل کے بارے میں  تو آپ نے لکھ دیا کہ وہ سیاسی نہیں،  ذاتی لڑائی ہے لیکن مشرقی اترپردیش میں  جو ہر مسلم سیٹ پر 5-5 مسلمان کھڑے ہیں  ان کے بارے میں  کیا سوچا ہے؟ یہ بات ہر مسلمان کو سوچنا چاہیے کہ اس الیکشن میں  وہ ہندو بھی مودی کی مخالفت میں  ووٹ دے رہے ہیں  جو بی جے پی کی مخالفت کے بارے میں  سوچ بھی نہیں  سکتے تھے وہ اس لیے مخالفت میں  ووٹ دے رہے ہیں  کہ مودی جی نے انہیں  برباد کردیا۔ یہ بات سب جانتے ہیں  کہ چلتے ہوئے کارخانہ میں  آگ لگ جائے یا عمارت گر جائے تو اسے سنبھلنے میں  برس لگتے ہیں۔  1980میں مرادآباد میں جو فساد ہوا اور سال بھر بار بار کرفیو لگا اس زمانہ میں  جو برباد ہوگئے وہ آج تک نہیں  سنبھل سکے ہیں  اس کی وجہ یہ ہوئی کہ جو مرادآباد سے سامان منگاتے تھے انھوں  نے دوسرے شہروں  سے یا دوسرے ملکوں سے منگانا شروع کردیا، اب ہندوستان میں  جو تین مہینے سے بند ہیں  وہ ابھی پوری طرح نہیں  سنبھل سکے تو کیسے اسے معاف کرسکتے ہیں  جس نے انہیں  برباد کیا۔

جن مسلمانوں  نے مسلمانوں  کے ووٹ بے کار کرنے کے لیے پیسے لے لیے ہیں  وہ اپنے اوپر اپنے بچوں  کے اوپر اور اپنے ملک کے اوپر رحم کے لیے واپس کردیں  اور جو ٹکٹ نہ ملنے کے غصہ میں  آزاد یا کسی مسلم دشمن پارٹی کے ٹکٹ سے کھڑے ہوگئے ہیں  وہ یا تو نام واپس لے لے یا وقت نکل گیا ہو تو اعلان کردے کہ وہ مقابلہ میں  نہیں  ہے۔ مسلمانوں  کی تاریخ میں  ایک میر جعفر اور ایک میر صادق ملتے ہیں  لیکن اب ہر شہر اور ہر محلہ میں  ایسے لوگ پیدا ہونے لگیں  تو ان کی بداعمالیوں  کی سزا پوری ملت کو ملے گی۔ الیکشن شروع ہونے سے پہلے ہم سوچا کرتے تھے کہ نوٹ بندی سے پورا ملک زخمی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مودی کے جلسہ میں  سو آدمی نہ ہوں گے لیکن جو ہورہا ہے وہ صرف اس لیے کہ یا تو حکومت کا ڈر ہے یا تو پیسے دے کر لوگوں  کو لایا جاتا ہے، یہ کون مان سکتا ہے کہ جسے اپنے ہی پیسوں  کے لیے بھیک مانگنا پڑی وہ نوٹ بندی کے ذمہ دار کو خوشی ووٹ دے دے گا؟ مسلمان اگر بک رہے ہیں  تو شاید اس لیے کہ بینکوں  میں  ان کے روپے کم تھے ا ور ہندو زیادہ ناراض اس لیے ہیں  کہ دو مالک اور حاکم تھے، وہ بھکاری بن گئے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close