سیاستہندوستان

اتر پردیش اسمبلی انتخابات:آؤ خراج عقیدت پیش کریں!

نور محمد خان

جب کوئی شخصیت منتقل ہوتی ہے تو ہم تعزیتی نشست کا اہتمام کرتے ہیں اور اس شخص کے گزرے ہوئے کل کو بیان کرتے ہوئے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں حالانکہ لفظ ’’خراج عقیدت ،، کی ابتداء کس نے کس موقع پر کی اور کہاں سے ہوئی یہ موضوع قابل بحث نہیں ہے بلکہ موضوع تو یہ ہے کہ آزادی کے 68 برسوں میں ارباب اقتدار اور مسلم قیادت میں شمار سیکولر پارٹیاں ، مسلم لیڈران سیاسی علمائے کرام اور مسلم تنظیموں کے سامنے عام مسلمانوں کی بدترین حالات کو تاریخ کے اوراق میں قلمبند بند کیا جا چکا ہے یہ اور بات ہے کہ اس کا اعتراف مسلم قیادت کرے یا نہ کرے لیکن جسٹس راجندر سچر کے اس جملے پر ہم سب کو یقین کرنا ہوگا جو آپ نے سچر کمیٹی کی رپوٹ میں لکھا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی حالت دلتوں اور پچھڑی ذاتوں سے بھی بدتر ہوگئی ہے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے پس منظر میں مسلم قیادت کے کردار پر خراج عقیدت پیش کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے آپ لوگوں سے مودبانہ گزارش ہے کہ اس میں شرکت فرما کر ملی بیداری کا ثبوت دیں اور مسلم قیادت کی روح کی تسکین کے لئے دعا کریں ۔

مکرمی و محترمی!

اسلام و علیکم رحمۃاللہ و برکاتہ

آج کے اس عظیم الشان نشست میں آپ کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ آپ اپنا قیمتی وقت دے کر اس نشست کا حصہ بن رہے ہیں ۔ قارئین کرام اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج اور سابقہ حکومت کے ماضی اور حال سے ہم اچھی طرح واقف ہیں کیونکہ ہندی مسلمانوں کی قیادت کرنے والے مسلم لیڈران سیاسی علمائے کرام اور مسلم تنظیمیں عام اور مظلوم مسلمانوں کی اجتماعی فلاح و بہبود کیلئے اس قدر متحرک ہوئیں کہ آج مسلمان ترقیاتی منازل کے اس مقام پر پہنچ چکا ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دور رسالت اور خلافت کے بعد ہندوستان میں مسلم حکمرانوں نے بھی حکومت کی ہے اگر ہم تاریخ کے اوراق پر غور کریں تو معلوم یہ ہوگا کہ ملک میں مسلم حکمرانوں نے کم و بیش نو سو برس تک حکومت کی جس کی ابتداء 984 میں امیر نصرالدین سبکتگین  سے شروع ہوئی اور 1857 میں بہادر شاہ ظفر پر جاکر ختم ہوتی ہے مسلم حکمرانوں میں اورنگ زیب عالم گیر جیسے حکمراں گزرے جنھوں نے ٹوپی سی کر اور قران پاک لکھ کر اس کے ہدیے سے اپنے ذاتی اخراجات پورا کئے نہ کہ سرکاری خزانے سے عیش و آرام کرتے تھے علاوہ اس کے شیر شاہ سوری جیسے بادشاہ کے بنائے ہوئے قانون آج بھی بھارت کے آئین میں شامل ہیں تمام قوانین کا عمل یہ تھا کہ ملک کی سالمیت ، یکجہتی اور عوام کے حقوق کا خیال رکھا جائے عدل و انصاف کا پیمانہ برابر رہے لیکن 1934 میں جب بابری مسجد کے تقدس کو پامال کیا گیا اس واقعہ سے ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ ہندوستان جہاں انگریزوں کی درندگی اور غلامی کی زنجیروں میں قید ہے. وہیں ملک کے کچھ طبقات وطن عزیز کی قوموں میں منافرت کا زہر گھول کر ملک کو تباہ و برباد کرنا چاہتے ہیں ۔ چنانچہ تمام جد و جہد کے بعد 1947 کو ملک آزاد ہوا چاروں سمت خوشیوں کا ماحول تھا اس بات کا علم کسی کے پاس نہیں تھا کہ ملک میں دو سانحہ پیش آنے والے ہیں اول بابائے قوم مہاتما گاندھی کا قتل دوئم بابری مسجد کے تقدس کو پامال کرنے کے بعد قفل لگانا جیسے واقعات نے ملک کی تہذیب و تمدن اور یکجہتی کو تار تار کردیا بلکہ 1992 میں بابری مسجد  کو شہید کردیا گیا اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ 1934 سے لیکر تادم تحریر سیکڑوں منظم طریقے سے ہونے والے سنگین فسادات سے ہندوستان کی زمین کو لہو سے سیراب کر دیا گیا اور جب اس سے بھی مطمئن نہیں ہوئے تب مسلمانوں کی بربادی میں چار چاند لگانے کے لئے 1993 سے لیکر 2017 تک ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے بم دھماکوں کا سہرا تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کے سر باندھ کر یہ بتا دیا گیا کہ مسلمان دہشت گرد ہے یہ َسب کچھ مسلم قیادت اور سیکولر حکومتوں کے سامنے انجام دیا گیا ۔

بہر کیف بات اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں سیکولر پارٹیوں کے تابناک شکست اور بی جے پی کی عظیم الشان کامیابی کی ہے کیونکہ بی جے پی کی کامیابی نے سیکولر پارٹیوں کو سوالوں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے اس لئے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے ماضی کے نتائج پر غور کرتے ہیں تاکہ حال کے نتائج سمجھنے میں آسانی ہو سکے ۔ اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2017 کے نتائج آنے کے بعد بھارت کے کونے کونے میں یہ بات گشت کر رہی ہے کہ بی جے پی کو اتنی بڑی کامیابی کیسے حاصل ہوئی ؟ یہاں تک کہ ووٹنگ مشین میں گڑبڑی کا اندیشہ ظاہر کیا گیا لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ سیکولر پارٹیاں و مسلم لیڈران نے اپنے اعمال کا موازنہ نہیں کیا اور یہ الزامات لگا رہے ہیں کہ "عذاب مودی ،،کیسے نازل ہوا ؟

غور کرنے کا مقام ہے کہ ریاست اتر پردیش میں 1951 میں پہلی بار اسمبلی انتخابات عمل میں آیا تھا جس میں کانگریس کو 388 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی وہیں سوشلسٹ پارٹی کو 20 نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا تھا ( واضح ہو کہ اول اور دوئم مقام پر رہنے والی سیاسی جماعتوں کا ذکر ہے ) کانگریس کو اقتدار ملتے ہی ریاست کی عوام کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا کہ 1957 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے حصہ میں 286 نشستیں آئیں جبکہ 74 آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی تھی یعنی کہ کانگریس کو 102 سیٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا اسی طرح 1962 میں کانگریس 249 ،جن سنگھ 49 پر کامیابی حاصل کی 1967 میں کانگریس 199 بھارتیہ جن سنگھ 98 نشستیں حاصل کیں 1969 میں کانگریس 211 جبکہ بھارتیہ کسان دل نے 98 اور 1974 میں کانگریس 215 ‘بھارتیہ کسان دل 106 نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے  کانگریس حکومت کی قابلیت کو عیاں کردیا کیونکہ اگر قابلیت ہوتی تو کانگریس کی نشستوں میں کمی نہیں آتی ! بلکہ 1977 کے اسمبلی انتخابات میں جنتا پارٹی نے کل 47 نشستوں پر کانگریس کو سمیٹ کر 352 سیٹوں پر بڑی کامیابی حاصل کی تھی کہتے ہیں کہ” بلی کے بھاگیہ سے چھینکا ٹوٹا ،،1980 میں کانگریس نے 309 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرکے اپنے وقار کی واپسی کی اسی طرح 1985 کے انتخابات میں بھی 269 پر کامیابی کا پرچم لہرایا تھا اسی درمیان 1980 میں دوسری سب سے بڑی پارٹی کی شکل میں چودھری چرن سنگھ (جنتا پارٹی سیکولر) 59 اور 1985 میں ایل کے ڈی (لوک دل) 84 نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے اپوزیشن کی بڑی پارٹی بن گئی.

لیکن کانگریس نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے وہی کام کیا جب آزادی کی لڑائی کی کمان کانگریس کے ہاتھ میں تھی اور 1949 میں بابری مسجد کو بت خانہ بنا کر مسجد میں قفل لگوادیا 1989 کے انتخابات میں اتر پردیش کی سیاسی تاریخ رقم ہوئی اور جنتا دل 208 نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے کانگریس کو 94 نشستوں پر پہنچا دیا حالانکہ اتر پردیش جہاں فسادات اور فرقہ پرستی کی سیاست نے ریاست میں بے روزگاری ، غریبی و بھکمری کی وباء پھیلا کر عوام کو ہجرت کرنے پر مجبور کردیا تھا وہیں 1980 سے ہندوتوا کے جاری ایجنڈے رام مندر تحریک نے ریاست کی عوام کو خوف زدہ زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا تھا اور وہ دن بھی قریب آ گیا جب 1991 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے 221 نشستوں پر اول مقام حاصل کرکے سیکولر پارٹیوں کو چاروں خانے چت کردیا لیکن اس بات کا علم کسی کے پاس نہیں تھا کہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب و تمدن کے دامن میں ایک اور داغ لگنے جارہا ہے اور وہ یہ تھا کہ 6 دسمبر 1992 کو کارسیوکوں نے بابری مسجد کو شہید کردیا اس وقت مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی اگر مرکز چاہتا تو بابری مسجد کو شہید ہونے سے بچایا جاسکتا تھا لیکن ہندی سیاست نے یہاں بھی ایک تاریخ رقم کی تھی وہ یہ تھا کہ جب 1949 میں بابری مسجد کے تقدس کو پامال کیا گیا تھا تب جمعیت علمائے ہند کے وفد نے ملک کے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو سے ملاقات کر کے تحریری شکایت کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کے مسجد کے تقدس کو بحال کیا جائے نہرو نے مسلمانوں کے تئیں سنجیدگی کا ایسا مظاہرہ کیا کہ اتر پردیش کے وزیر اعلی پنتھ جی کو ایک خط کے ذریعے معاملہ کو آگاہ کرایا تھا.

لیکن افسوس کا مقام یہ تھا کہ پنتھ جی نے نہرو کے احکام کو نظرانداز کر دیا چنانچہ 1991 کے اسمبلی انتخابات میں جنتا دل کو 92 سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑا اسی طرح ہندوتو کے نام پر اور سیکولر پارٹیوں کی خراب کارگردگی کی وجہ سے 1993 میں بی جے پی کو 117 بہوجن سماج پارٹی کو 67 اور 1996 میں بی جے پی کو 174 اور بہوجن سماج پارٹی کو 67 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرکے یہی نہیں بتایا بلکہ مایا وتی تو بی جے پی کی حمایت کرکے اقتدار کی چاشنی سے شرابور ہوگئیں تھیں اسی وجہ سے اتر پردیش کی سیاست میں ایک اور انقلاب آگیا جب 2002 میں سماج وادی پارٹی 143 نشستوں پر پہلا اور بہوجن سماج پارٹی 98 نشستوں پر دوسرا مقام حاصل کیا اسی طرح 2007 میں بی ایس پی کو 206 ،سماج وادی کو 97نشستیں ،2012 میں سماج وادی 224 ،بی ایس پی کو 80 نشستیں اور 2017 کے اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو 312 نشستوں اور سماج وادی پارٹی کو صرف 47 سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئیں اب سوال یہ ہے کہ 1951 سے لیکر 2017 تک کے کل سترہ اسمبلی انتخابات میں بالخصوص دلت اور مسلمان رائے دہندگان کے تئیں مسلم قیادت اور سیکولر حکومتوں کا کردار کیسا تھا ؟

در اصل بات یہ ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عظیم ریاست اتر پردیش میں جہاں مسلم حکمرانوں کی تاریخ رقم ہے اور سب سے زیادہ مسلمانوں کی آبادی اسی ریاست میں ہے بلکہ وقف بورڈ کی ملکیت جس میں سنی وقف بورڈ ملکیت کی تعداد 123115 اور شعیہ وقف بورڈ ملکیت کی تعداد 10500 ہے اسی طرح کل 133615 کی تعداد بنتی ہے اگر اتراکھنڈ جو پہلے اتر پردیش کا حصہ تھا اس کی ملکیت 2054 کو شامل کیا جائے تو  وقف بورڈ کی ملکیت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے.

علاوہ اس کے اتر پردیش میں اولیاء کرام بزرگان دین کی درگاہیں اور خانقاہوں کی کثیر تعداد ہے جس کو ختم کرنا چاہتے ہیں یا ملکیت پر مزید قبضہ کرنا چاہتے ہیں جس میں باطل طاقتوں کے علاوہ مسلم قیادت کا ایک طبقہ بھی شامل ہے ۔ اگر ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم یہ ہوگا کہ جس طرح سے ارض مقدس کا تعلق مسلمانوں سے تھا جس پر آج یہودیت قابض ہے ٹھیک اسی طرح ریاست اتر پردیش ہے جہاں بابری مسجد سے لیکر وقف بورڈ کی ملکیت پر قبضہ کرکے مسلمانوں کو مہاجر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ! جو مسلمانوں کے لئے خطرناک ثابت ہوگا .

قابل ذکر بات یہ ہے کہ 2007 میں محترمہ مایا وتی کو اقتدار حاصل ہوا اقتدار ملتے ہی مایا وتی نے ہریجن ایکٹ نافذ کردیا تاکہ دلتوں پر ظلم کرنے والے عناصروں پر قد غن لگایا جاسکے لیکن سماج کے اسی طبقہ نے خواہ ہندو ہو یا مسلمان اس ایکٹ کے تحت ظلم و جبر کی نئی تاریخ رقم ہونے لگی حالانکہ مایا وتی نے ٹھاکر برہمن بنیا و دیگر اونچی ذاتوں کے ہندوؤں کو اقتدار میں حصہ دیا تھا باوجود اس کے ہریجن ایکٹ کا غلط استعمال کیا جانے لگا علاوہ اس کے کچہری بم دھماکوں کے الزامات میں مولانا مجاہد قاسمی دیگر لوگوں کو گرفتار کیا گیا یہاں تک کہ پولیس کی اذیتوں سے مجاہد قاسمی انتقال کرگئے مایا وتی نے اس موت کی جانچ کا حکم دیا اور جب رپورٹ آئی تب حکومت نے اپنے فرض کی ادائیگی کے تئیں غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے رپورٹ کو تہہ خانے کے حوالے کردیا گزرتے وقت کے ساتھ اسمبلی انتخابات 2012 کا بگل بج گیا مایا وتی کے "کرموں کا پھل ،،اس وقت ظاہر ہوا جب نتائج کے اعلان میں سماج وادی پارٹی کو اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی اسی طرح بہوجن سماج پارٹی عرف مایا وتی اقتدار سے بے دخل ہوگئیں .

دوئم ذکر یہ ہے کہ سماج وادی کو اقتدار ملتے ہی” یادو واد ،،شروع ہوا جس طرح سے مایا وتی حکومت میں ہریجن واد تھا یادو جی کی حکومت میں فسادات کی لمبی قطار لگ گئی پولیس افسر ضیاالحق اور اخلاق احمد کا قتل دلتوں کی پٹائی مظفر نگر فسادات کا قیامت خیز منظر سے یادو جی پر کوئی اثر نہیں ہوا بلکہ مظفر نگر فسادات کے متاثرین کھلے آسمان کے نیچے سردی سے کانپ رہے تھے اس وقت یادو پریوار یعنی” ملائم سنگھ جی Cold Prof Tent میں ،،سیفئی فیسٹیول کی رقاصاؤں کے رقص سے اپنی ضعف بصارت کے باوجود محظوظ ہو رہے تھے ۔ 2012 اسمبلی انتخابات کے بعد شری مان اکھلیش یادو کے سامنے آدتیہ ناتھ یوگی ساکشی مہاراج جیسے منافرت پھیلا نے والے لیڈر اپنے بیان کے ذریعے فرقہ پرستی کی فصل کو سیراب کرتے رہے اور یادو حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی کیونکہ اکھلیش یہ چاہتے تھے کہ ریاست میں جتنا فرقہ پرستی کا انعقاد ہوگا مسلمان 2017 کے انتخابات میں اور قریب ہونگے اگر یہ بات سولہ آنے سچ ہے کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں اگر مسلمانوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا ہے تو ان کے مطابق صحیح فیصلہ تھا وہ اس لئے کہ جب سیکولر حکومت اور مسلم قیادت عام مسلمانوں کا تحفظ نہیں کرسکتی تو انہیں قاتل مسیحا نظر آنے لگا جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے اب ایسی صورت میں ان للہ و انا الیہ راجعون پڑھتے ہوئے خراج عقیدت پیش کرنے کا شرف ہم سب کو حاصل ہوا .

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close