سیاست

اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت

حفیظ نعمانی

امت شاہ بی جے پی کے صدر ہیں ۔ وہ اس لئے صدر نہیں ہیں کہ انہیں کروڑوں ممبروں نے صدر چنا ہے بلکہ اس لئے ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی انہیں اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں ۔ ان کی سرکاری حیثیت کوئی نہیں ہے لیکن وہ جب سرکاری معاملات میں بولتے ہیں تو کوئی روکتا بھی نہیں ہے۔ وہ آج کل مدھیہ پردیش میں ہیں انہوں نے بھوپال میں کہا کہ جی ایس ٹی کا اثر پانچ سال میں دیکھے گی دنیا۔ اور کہا کہ جی ایس ٹی نافذ کرنا بنیادی سدھار ہے۔ اور نوٹ بندی بھی بنیادی سدھار کے زمرے میں آتا ہے۔

نوٹ بندی کے بعد جب پورا ملک چیخ اُٹھا تو مودی جی نے روتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے صرف پچاس دن دے دو۔ اگر حالات نہ سنبھل جائیں تو جس چوراہے پر چاہو کھڑا کرکے سزا دے دینا۔ اور پچاس دن تو کیا اب تک اس کے برے اثرات باقی ہیں اور جو سو سے زیادہ مرگئے کیا اس کی تلافی ہوسکتی ہے؟ حالات کو سمجھنے والے سمجھ رہے تھے کہ اب شاید مودی جی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے ملک والے رو دیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ملک والوں کو سزا دینے کے لئے ہی آئے ہیں ۔ انہوں نے جی ایس ٹی کا ایسا جال ڈالا کہ پورا ملک اس میں ایسا پھنسا ہے کہ اب نکلنے کا کوئی امکان ہی نہیں ۔

ہر ملک کا ایک مزاج ہوتا ہے اور ہر ملک کی ضرورتیں الگ الگ ہوتی ہیں ۔ ہندوستان میں ایسی دُکانیں کم ہیں جن میں صرف ایک ایک چیز بکتی ہو۔ اور ایسی زیادہ ہیں جن میں کئی کئی چیزیں ملتی ہیں ۔ جی ایس ٹی کا نفاذ اس طرح کیا گیا ہے کہ ایک ہی دُکان میں جو سامان ہے اس میں پانچ فیصدی، بارہ فیصدی، اٹھارہ فیصدی اور اٹھائیس فیصدی ٹیکس ہے۔ ملک میں کتنے دُکاندار اتنے ماہر ہیں کہ وہ ہر ایک کا ٹیکس یاد رکھیں اور جو خریدار دس منٹ میں فارغ ہوتا تھا اسے آدھا گھنٹہ بٹھائیں ۔

ہمارا بنیادی کاروبار پریس ہے اس میں کیمیکل کی ضرورت بھی ہے تین چیزیں منگوائو تو سب کا الگ الگ ٹیکس ہے۔ اور ہندوستان کے لوگ ٹیکس نہیں دینا چاہتے۔ ملک میں ہر آدمی کوئی نہ کوئی چیز ہر دن خریدتا ہے۔ جو چیز ایک مہینہ پہلے یا ایک ہفتہ پہلے 20  روپئے کی تھی وہ اب 30  روپئے ہوگئی۔ اب اگر یہ کہا جائے کہ قیمت تو 20  روپئے ہی ہے 10  فیصدی ٹیکس ہے تو وہ لڑنے پر آمادہ ہوجائے گا ٹیکس نہیں دے گا۔ مودی جی کو شوق تھا تو پہلے عوام کو ٹیکس دینے کے فائدے گناتے اور کہتے کہ کوئی چیز ٹیکس کے بغیر نہ خریدو۔ اب حکومت کہتی ہے کہ کھلے آٹے پر ٹیکس نہیں ہے پیکیٹ پر ٹیکس ہے۔ اگر خریدار پیکیٹ کو پھاڑدے اور کہے کہ اب یہ کھلا ہے تو…؟

امت شاہ نے کہا کہ بی جے پی انتخابات جیتنے کے لئے سیاست میں نہیں آئی ہے بلکہ وہ ملک کی خدمت کے لئے آئی ہے۔ یہ شاید تین سال میں سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ بی جے پی صرف الیکشن جیتنے کے لئے اور حکومت کرنے کے لئے آئی ہے اور جو کسی نے سوچا بھی نہیں  تھا وہ اس  نے کردیا ہے کہ کوئی مخالف پارٹی مقابلہ کے قابل نہ رہے صرف اس لئے نوٹ بندی کی اور اس لئے جی ایس ٹی نافذ کیا ہے کہ نہ تاجروں کے پاس فاضل پیسے ہوں گے اور نہ وہ سیاسی پارٹی کو دیں گے۔ اور اس لئے وہ ہر صوبہ میں اپنی حکومت چاہتی ہے تاکہ ہر خزانہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا سب بی جے پی کے قبضہ میں رہے۔

اپنے تین برسوں میں جتنے الیکشن بی جے پی نے لڑے ہیں اس میں جس طرح روپیہ برباد ہوا ہے اس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی۔ اُترپردیش میں کائونسل کے ممبروں کی خریداری اور گجرات میں کانگریس کے ممبروں کی خریداری کے گندے کھیل کے بعد بگلا بھگت بنتے ہوئے شرم آنا چاہئے۔ گجرات میں  ہر اسمبلی کے ممبر کی قیمت 15  کروڑ صرف احمد پٹیل کی زبان سے نہیں ہر لیڈر کی زبان پر پندرہ کروڑ کا ہندسہ تھا کسی نے نہ دس کہا نہ بیس۔ اور ہر الیکشن کے موقع پر آزاد امیدواروں کو لڑانا اور چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کو خریدنا دلت کے مقابلہ میں دلت کو مسلمان کے مقابلہ میں مسلمان کو یادو کے مقابلہ میں یادو کو اور جاٹ سے مقابلہ میں جاٹ کو کھڑا کرنا اور پورا خرچ دینا یہ امت شاہ کی شہرت اور قابلیت کہی جاتی ہے۔ سیاست میں گندگی اور رشوتوں کی گرم بازاری ان کی مہارت مانی جاتی ہے۔ اس پر حیرت ہے کہ وہی یہ کہہ رہے ہیں کہ انتخاب جیتنے کے لئے بی جے پی سیاست میں نہیں آئی ہے۔

آزاد ہندوستان میں مس مایاوتی پر پہلا یہ الزام تھا کہ وہ پیسے لے کر ٹکٹ دیتی ہیں ۔ دوسرا الزام بی جے پی کے اوپر بہار میں بی جے پی کے لیڈروں نے ہی لگایا کہ امت شاہ نے پیسے لے کر داغی اور بدکردار امیدواروں کو کھڑا کیا ہے۔ اور یہ الزام صرف بی جے پی کے اوپر ہے کہ وہ الیکشن جیتنے کے لئے ہر حربہ استعمال کرتی ہے۔ اور اس نے جتنا الیکشن کو گندہ کیا ہے اتنا نہ کسی نے کیا نہ کوئی کرسکے گا۔

امت شاہ نریندر مودی اور جیٹلی نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی جتنی چاہے تعریف کریں وہ صرف اور صرف مخالف پارٹیوں کو کمزور کرنے اور کمزور بنانے کی سازش ہے۔ اب ملک سے تو کسی پارٹی کو مدد ملنے سے رہی اور کہیں باہر سے آنے سے رہی۔ جس کا نتیجہ اس کے علاوہ اور کیا ہوگا کہ اب آر ایس ایس اپنی کٹھ پتلیاں بدلتا رہے گا اور اگر کوئی انقلاب آیا تو اندر سے ہی بغاوت ہوگی جس کے لئے جتنا بھی انتظار کرنا پڑے کیا جائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close