سیاستہندوستان

اتنے کمزور پاکستان سے اتنا خوف

حفیظ نعمانی

آزاد ہندوستان میں آنکھیں کھولتے ہی دفاعی معاملات میں بے ایمانی کی خبریں سننے میں آئیں 1962 ء کی ایک ایک بات یاد ہے کہ ہماری بہادر فوج نے جب مورچہ بدلنا چاہا تو انہیں بتایا گیا کہ آگے بڑھو وہاں سڑک ہے اس کے آگے پل ہے وہاں سے گھوم کر دشمن پر حملہ کردو اور جواب آیا کہ جو آپ بتا رہے ہیں وہ کاغذ پر ہوگا اور جہاں ہم کھڑے ہیں وہاں صرف جنگل ہے۔ اس شرمناک شکست کو 58  برس ہوگئے لیکن ان مجرموں کو نہ پھانسی ہوئی نہ عمرقید۔ اس کے بعد جب جب کوئی بڑا دفاعی سودا ہوا یہ آواز بلند ہوئی کہ اس میں سودا کرنے والوں نے کچھ کھایا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور دوسرے ملک جنگی سامان بنا رہے ہیں ان کی حیثیت وہی ہے جو گوشت کی منڈی کی ہوتی ہے کہ ہر دُکان پر کھانے کا سامان ہے اور ان میں بس اتنا ہی فرق ہے جتنا بھیڑ بکرے اور دُنبے کے گوشت میں ہوتا ہے کہ ہر گوشت کھانے کے لئے ہے لیکن یہ فیصلہ خریدار کرے گا کہ کس جانور کا گوشت خریدے اور کس کا نہ کھائے۔

ہوسکتا ہے ہمیں غلط یاد ہو کہ اب تک کسی وزیراعظم نے خود اور تنہا جاکر منڈی سے جنگی سامان نہیں خریدا ہے۔ فرانس کے ساتھ جب وزیراعظم رافیل کا سودا کررہے تھے تو اس وقت کے وزیر دفاع گوا میں مچھلی خرید رہے تھے اور کانگریس لیڈر دگ وجے سنگھ نے اسی وقت کہا تھا کہ کتنا دلچسپ منظر ہے کہ وزیر دفاع مچھلی خرید رہے ہیں اور وزیراعظم جنگی جہاز۔ اس کے بعد وزیراعظم نے یہ بتانے سے انکار کردیا کہ کتنے جہاز کس قیمت میں خریدے اور جواب دیا کہ خریداری کے معاہدہ کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ اس کی قیمت نہ بتائی جائے۔ اس سے وزیراعظم کے چاہنے والوں نے یہ سمجھا تھا کہ یہ کوئی ایسا سودا ہے جس میں بہت رعایت کی گئی ہے اور فرانس اور کسی کو اس قیمت پر نہیں دے گا۔

یہ بات تو راہل گاندھی نے لوک سبھا میں کہی کہ مودی جی مجھ سے آنکھ ملاکر بات نہیں کرسکتے اس لئے کہ وہ بات مجھے معلوم ہوگئی ہے جسے وہ چھپا رہے ہیں۔ اس کے بعد لوگوں نے چھان بین کی اور آخرکار ان لوگوں نے ہی کہہ دیا جو اُن کا قصیدہ پڑھتے تھے کہ رافیل سودے کے بارے میں ہر دن نئے انکشاف نے آخرکار یہ ثابت کردیا کہ مودی بھی دودھ کے دُھلے نہیں ہیں اور یہ بھی بہت بڑی بات ہے کہ برسوں وہ ایمانداری کا ڈھول گلے میں ڈالے رہے اور سب سے کہلا لیا کہ خود تو نہیں کھاتے مگر دوسروں کو کیسے قابو میں کریں؟

چار سال تک ماحول ایسا تھا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مودی کو کوئی ہٹا بھی سکتا ہے لیکن چند مہینوں میں تیل اور روپئے نے جو رنگ دکھایا ہے اس کی گرمی نے اور مودی کی بے بسی نے انہیں بھی یہ اشارہ دے دیا کہ بستر تو باندھ ہی لو اور یہ اس اشارہ کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے امبانی برادران اور گوتم اڈانی جیسے ان تمام لوگوں کے احسان کا بدلہ دینے کا فیصلہ کیا اور ایمانداری اور بے ایمانی کے فرق کو طاق پر رکھ دیا۔

2014ء میں کامیاب ہونے کے بعد مودی جی نے پارلیمنٹ کی سیڑھی پر ماتھا ٹیکا تو سارے ملک نے سمجھا کہ اب آیا جمہوریت کا رکھوالا۔ اس کے بعد جو تقریر کی اس نے ہر اس تقریر پر پانی پھیر دیا جو اس سے پہلے کی گئی تھیں اور قوم سے وعدہ کیا کہ وہ بھرشٹاچار مکت بھارت دیں گے اور سب کو یقین ہوگیا۔ اس یقین کا مودی جی نے وہی فائدہ اٹھایا جو ایک مداری جھمورے کو نچاکر اٹھاتا ہے اور ہر جیب سے کچھ نہ کچھ نکلوا لیتا ہے۔ آج ہمارے جیسے وہ تمام لوگ اعتراف کررہے ہیں جنہیں پروردگار نے دماغ اور قلم یا زبان دی ہے کہ ہم دھوکہ کھا گئے۔ ہم نے 2015 ء کے شروع ہوتے ہی اس کا جائزہ کیوں نہیں لیا کہ جو چھ مہینے پہلے کہا تھا اس میں سے کتنا کردیا۔ اور یہ بھی ہماری ہی غلطی ہے کہ جب پندرہ پندرہ لاکھ روپئے کا دانہ ڈالا تھا تو ہم سب چپ کیوں رہے جبکہ سب جانتے تھے کہ جاہل عوام سے بے وقوف بناکر ووٹ لئے جارہے ہیں۔ اور جو کہا جارہا ہے وہ گھٹیا قسم کا جھوٹ ہے؟؟؟

نریندر بھائی مودی نہ چالاک ہیں نہ شاطر نہ دانشور ان کو وزیراعظم بناکر موہن بھاگوت جی نے ثابت کردیا کہ وہ مردم شناس نہیں ہیں ہوسکتا ہے وہاں بھی مودی نے وہی سب کیا ہو جو قوم کے ساتھ کیا ہے۔ دہلی میں تین دن بھاگوت جی نے جو اپنے بنیادی نظریات کی چتا جلائی ہے اور آزادی کے لئے کانگریس اور ہندوتوا کے لئے مسلمانوں کا بار بار ذکر کیا ہے وہ اسی بازی کے ہارنے کا اعتراف جو وہ مودی کی کپتانی میں کھیل رہے تھے۔ بھاگوت جی کو اب سمجھ میں آیا کہ مودی کتنے بڑے موقع پرست ہیں کہ اٹل جی نام کے جس نیتا کی کھڑائوں سر پر رکھنا چاہئے تھی ان کی گلی سے نکلنا بھی چھوڑ دیا تھا اور جب دیکھا کہ ملک اور قوم کے لئے وہ آج بھی ہیرو ہیں تو ہر چیز کی دم میں اٹل کا لیبل لگا دیا۔ بھاگوت جی نے اس آئینہ میں اپنی تصویر دیکھ کر وہ کہہ دیا جسے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

اب اسے رافیل کا نتیجہ کہیں یا 115  کروڑ انسانوں کی بے اطمینانی کہ مودی جی کو وہ نظر آنے لگا جو 2015 ء میں بہار میں نظر آیا تھا جب امت شاہ نے کہا تھا کہ اگر ہم ہارے تو پاکستان میں پٹاخے چھوٹیں گے اور ہر بازار میں گائے کا گوشت بکے گا یا جب گجرات میںمودی جی کو محسوس ہوا کہ پاکستان کی ساری طاقت ان کو ہرانے پر لگی ہے اور پاکستان احمد پٹیل کو گجرات کا وزیراعلیٰ بنانا چاہتا ہے۔ شرم آتی ہے یہ لکھتے ہوئے کہ اتنے بڑے ملک کے وزیراعظم کو ایک صوبہ کے الیکشن میں ہر جگہ پاکستان نظر آرہا تھا۔ اور اب یہ حالت ہے کہ بی جے پی کے سب سے منھ زور ترجمان بھی ایک بات پر ہی سارا زور دے رہے ہیں کہ راہل نے پاکستان سے سازباز کرلیا ہے یہ الگ بات ہے کہ شرم سے ان کی آنکھیں جھکی رہتی ہیں جو پہچان ہے کہ جھوٹ بول رہا ہے۔ پاکستان کی آبادی 18  کروڑ ہے وہ ہندوستان کے گود کے بچہ کی برابر ہے غربت کا یہ حال ہے کہ وزیراعظم نے وزیراعظم ہائوس اور تمام گورنر ہائوس کرایہ پر دینے کا فیصلہ کرلیا ہے اور ہمارے 130  کروڑ آبادی کے وزیراعظم اس کے سابق وزیروں سے ڈر رہے ہیں کہ وہ ان کو ہٹاکر راہل کو وزیراعظم بنا دیں گے۔ ملک کا لیڈر جب اتنا کمزور ہوجائے تو اس کے لئے اچھا یہ ہے کہ وہ چائے کا ہوٹل کھول لے اور پکوڑ ے بنائے اور سیاست سے توبہ کرلے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close