سیاست

اجڑتا اتراکھنڈ

راحت علی صدیقی قاسمی

اترپردیش ہندوستان کی عظیم ریاست ہے، رقبہ اور آبادی دونوں اس دعوی کو پختگی بخشتے ہیں، اسے حقیقت کا جامہ پہناتے ہیں ، جغرافیائی اعتبار سے بھی اس مقام کواہمیت حاصل ہے، پیداوار کے اعتبار سے بھی اس کی افضلیت مسلم ہے، رہن سہن بھی اچھا ہے، اس کی وسعت بھی ملک کے سینہ پر نمایاں ہے، کرۂ ارضی پر بہت سے ملک اس کی وسعت کا مقابلہ نہیں کرسکتے بلکہ دنیا کے اکثر ممالک اس ریاست کے مقابلہ میں چھوٹے ہیں ، اسی بنا پر بہت سے علاقے تشنہ رہ جاتے ہیں، انتظامیہ کی نگاہ ان تک نہیں پہونچتی، آسائشیں اور عنایات ان کا نصیبہ نہیں ہوتیں ، مختلف وجوہات واسباب ان مسائل کے تلاش کئے جاسکتے ہیں ، لیکن اس حقیقت کا انکار ممکن نہیں، ان مسائل کی ایک بنیادی وجہ اس ریاست کی طوالت بھی ہے، اتنی عظیم ریاست کا نظم و نسق برقرار رکھنا، اس کی تمام ضروریات کو پورا کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے، اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے، 9 نومبر 2000 کو یہ ریاست تقسیم کردی گئی۔

13 اضلاع جو کہ شمال مغرب میں واقع تھے، انہیں اتراکھنڈ کے نام سے الگ کردیا گیا،  اگر چہ ابتدا میں اس ریاست کا نام اترانے قرار پایا تھا، البتہ بعد میں اتراکھنڈ بہتر سمجھا گیا،  اتراکھنڈ انتہائی خوبصورت، دلکش، حسین، قدرت خداوندی کا مظہر، جاذبیت کے اعلی معیار پر فائز ہے۔ گرتے جھرنے، بہتی ندیاں ، ہرے بھرے باغات، اونچے پہاڑ اس کے رنگ و روپ اور اس کی پہچان ہیں ، قدرت نے اسے ندیوں کی گہرائی عطا کی ہے، پہاڑوں کی صلابت بخشی ہے،  باغات کی خوبصورتی اور پھول پتیوں کی لطافت بخشی ہے، اس کا حسن سیاحوں کو اپنی جانب مائل کرتا ہے، ملک و بیرون ملک سے مختلف افراد سفر کرتے ہیں ،  دہرادون، نینی تال اور چنڈی گڑھ کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوتے ہیں ، خالق کائنات کے معجزات سے انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں، مجسم حیرت بن جاتے ہیں، گنگا کی تلاطم خیز لہروں کو دیکھتے ہیں ، اس کی عظمت کے گن گاتے ہیں، اپنی آرزوؤں کو شرمندہ تعبیر کرکے لوٹتے ہوئے، ان کے چہرے پر خوشی کے آثار ہوتے ہیں، قلب فرحت و انبساط کے جذبات سے مملو ہوتا ہے، زبان پر اس خطہ کے قصیدے ہوتے ہیں، وہاں رہنے والوں کی خوش قسمتی کا احساس ہوتا ہے اور اس خطہ پر آباد ہونے کی خواہش ہوتی ہے، قلب میں خیال پیدا ہوتا ہے، کاش میرا مسکن یہی خوبرو مقامات ہوتے، جن لوگوں نے ان علاقوں کا سفر کیا ہے، وہ ان کلمات کو سچائی کی سند عطا کریں گے اور جن لوگوں نے اب تک حسنِ کائنات کے مظہر اس خطہ کا دیدار نہیں کیا، ان کے قلب میں تمنا ضرور پیدا ہوگی، وہ اپنی آرزو پوری کریں اور حقائق کے معترف ہوجائیں۔

 اس صورت حال پر غور و فکر کے بعد ہر شخص اس ریاست کے خوش حال، تعلیم یافتہ اور وسائلِ زندگی سے بھرپور ہونے کی تصدیق کرے گا، صرف 13 اضلاع 20682 مربع میل کا رقبہ، اس میں بھی بہت سے مقامات حسن و خوبصورتی کی مثال میں پیش کئے جانے کے قابل، دیدار کرنے والوں کی کثرت سے مالا مال لیکن جب حقائق کو دیکھا جائے، صورت حال پر غور کیا جائے، تو خیالات میں ابھری ہوئی تصویر ہوا ہو جاتی ہے۔ ایک کروڑ 86 ہزار 292 مختصر سی آبادی والی ریاست کے 20 فی صد افراد تعلیم جیسی عظیم دولت سے محروم ہیں ، اترپردیش کی تعلیمی شرح اس کے قریب ہی ہے، پھر ریاست کی تقسیم کا کیا فائدہ؟ تعلیمی شرح میں اضافہ نہ ہو سکا، اس کے علاوہ اس خوبصورت خطہ میں ایک ایسی بھیانک صورت حال پوشیدہ ہے، جو آپ کو متحیر کردے گی، آپ کے ذہن و دماغ پر افسردگی کے جالے بن دے گی، یوں لگے گا جیسے حسین و جمیل دوشیزہ کوڑھ میں مبتلا ہے، اس کا چہرہ باقی ہے، جسم کوڑھ سے گلتا جارہا ہے، بدصورت و ہولناک بن چکا ہے، یہی صورت حال اتراکھنڈ کی بھی ہے، اس کے جسم پر 16793 گاؤں ہیں، جن میں بہت سے ایسے ہیں ، جہاں زندگی گذارنا ممکن نہیں ہے، بنیادی ضروریات سے محرومی ہے، صاف پانی کی قلت ہے، کھیتی کے وسائل کی قلت ہے، اشیائے خوردنی کی قلت ہے، طبیب نہیں ہیں، مرکزی مقامات سے جوڑنے والی سڑکیں نہیں ہیں ، اس صورت حال نے لوگوں کو گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے، زمین جائیداد کو چھوڑنے پر مجبور کردیا ہے۔

روزنامہ دینک جاگرن کی تحقیقات کے مطابق تین ہزار گاؤں ایسے ہیں جو پلاین کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں ، 32 لاکھ افراد نے اپنی مٹی کو خیر آباد کہہ دیا ہے، وہ مٹی جسے ماں سمجھتے تھے، 2 لاکھ 80 ہزار گھروں پر تالے لٹکے ہوئے ہیں ، پانچ ہزار گاؤں سڑکوں سے محروم ہیں ، جو اس ریاست کی تنزلی کی تصویر دکھاتے ہیں ، اس کی خوبصورتی پر داغ ہیں ، سینکڑوں سوالات کو جنم دیتے ہیں ، اتنی چھوٹی ریاست میں آخر تمام علاقوں پر توجہ کیوں نہیں دی گئی؟ تین ہزار گاؤں پلاین کر گئے انتظامیہ کہاں سوتی رہی؟ وزیراعلیٰ نے اس پر خصوصی توجہ کیوں نہیں دی؟ وزیر اعظم کو کیا ان حالات کی خبر نہیں ہے؟

 اس ریاست میں بی جے پی کی حکومت ہے، پھر حالات کی یہ ابتری کیوں ؟ غور کیجئے، سوچئے، یہی جماعت تھی جو اعلان کررہی تھی، دعوے کررہی تھی، شور مچارہی تھی، کیرانہ میں بدمعاشی بڑھ گئی ہے، دہشت عام ہوگئی ہے، مسلمانوں نے غیر مسلموں کا جینا دو بھر کردیا ہے، لوگ گھروں کو چھوڑ رہے ہیں ، پلاین کر رہے ہیں ، تکلیف میں مبتلا ہیں ، میڈیا اس مدعے کو ہوا دے رہا تھا، ایسے گھروں کی ویڈیوز دکھائی جارہی تھیں ، جن پر تالے لٹکے ہوئے تھے، سیاسی رہنما ووٹ کی بھیک مانگ رہے تھے، اور یہ دعوے کررہے تھے، کہ اگر بی جے پی فتح یاب ہوگئی تو کسی شخص کو پلاین کی ضرورت نہیں ہوگی، ہر شخص اپنے گھر رہے گا، سکون و اطمینان کی زندگی گذارے گا، اسی نام پر کئی سیاسی رہنماؤں نے اپنا الو سیدھا کیا، حالانکہ کیرانہ کی آبادی تقریباً نوے ہزار ہے، اس میں غیر مسلم آبادی 18.34 فی صد ہے، اس طرح سے اگر کیرانہ حلقے سے تمام غیر مسلم پلاین کرجاتے، تو یہ تعداد بمشکل 18 ہزار پہنچتی، حالانکہ وہاں کے ممبر پارلیمنٹ غیر مسلم ہیں ، حکم سنگھ انہیں کون نہیں جانتا؟

 اس  سے انداز لگایا جاسکتا ہے، یہ پلاین (ہجرت)کس نوعیت کی رہی ہوگی؟ اور جو شور تھا وہ ملک کے ہر شہری کے کانوں تک پہنچا اور لوگ اس سے متاثر ہوئے، جس سے بی جے پی نے سیاسی فائدہ حاصل کیااور انتخاب میں اپنا رنگ جمایا، اب دیکھئے اتراکھنڈ میں اتنے وسیع پیمانے پر ہجرت ہوئی ہے، کتنے نیوز چینل وہاں پہنچے؟ کتنے اینکرس نے اسے بریکنگ نیوز بنایا؟ کتنے سیاسی رہنما ہیں جن کی آنکھوں سے آنسوں چھلکے؟ اور انہوں نے ان بے کسوں کی حفاظت کا ذمہ اٹھایا؟ ان کے حالات درست کرنے کی کوشش کی؟ کیا کیرانہ کے مٹھی بھر افراد ہی انہیں عزیز تھے ؟ یا مقصد کچھ اور تھا؟ اگر واقعی اپنے اس دعویٰ میں سچے ہیں کہ بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد کوئی شخص ہجرت کرنے کے لئے مجبور نہیں ہوگا، تو تین لاکھ لوگوں کی ہجرت کیوں ؟ کیا اتراکھنڈ میں بی جے پی کی سرکار نہیں ہے ؟ کیا وہ لوگ ہندو نہیں ہیں ؟

 ان سوالات پر غور کیجئے اور سوچئے اتراکھنڈ اجڑ رہا ہے، اس کے گاؤں ویرانہ میں تبدیل ہو رہے ہیں، کسی کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا ہے، وجوہات جاننے کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، اس سے زیادہ آخر کیا ہوا ہے، کتنے گاؤں کو آباد کرنے کی کوشش کی گئی؟ کتنی سہولیات فراہم کی گئیں، کچھ علم نہیں ہے، مستقبل میں کیا ہوگا کوئی نہیں جانتا، لیکن یہ واضح ہے کہ اتراکھنڈ اجڑ رہا ہے، اور بی جے پی سوئی ہے، ہندوؤں سے اس کی محبت کے دعویٰ محض دعوے ہیں ، لہٰذا ملک کے ہر ہندو اور ہر شہری کو سوچنے کی ضرورت ہے، بی جے پی ان سے محبت کرتی ہے، یا اپنے مقاصد سے؟ اور اسی پس منظر میں زندگی کو مرتب کرنے کی ضرورت ہے، ووٹ کہیں بھی کیجئے پر انسانیت کی اقدار کو کبھی پامال مت کیجئے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close