سیاستہندوستان

احتجاج پولیس کے خلاف ہونا چاہیے!

دہلی میں  29؍ اکتوبر 2005کی رات کو مختلف مقام پر تین د ھماکے ہوئے جس میں  62آدمی ہلاک اور ڈیڑھ سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ دیوالی کے لیے خریدار ی کرنے والے بازاروں  میں  مال اور سامان کی کتنی تباہی ہوئی ہوگی اس کا اندازہ ہر سمجھدار آدمی کرسکتا ہے؟ اس کے بعد پولیس نے وہی کیا جو ملک کا حرام خور محکمہ کرتا ہے کہ ہر کوئی مسلمانوں  کے پیچھے بھاگ پڑا اور لشکر طیبہ سے اسے جوڑ کر دیکھنے لگا۔ یہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ پولیس مینول آج بھی وہی ہے جو 1860ء میں  انگریزوں  نے بنایا تھا جس کا حاصل یہ تھا کہ پولیس کے افسر اور جوان چاہے جتنا بھی غلط کام کریں  ان سے نہ باز پرس کی جائے گی اور انہیں  نہ کسی بھی طرح کی سزادی جائے گی اور یہ اس لیے تھا کہ جب یہ قانون بنا تھا تو افسر تو انگریز ہوتے ہی تھے سپاہی بھی شروع میں  سب اس کے بعد زیادہ تر انگریز ہوتے تھے اور انہیں  اس کی چھوٹ تھی کہ جس ہندوستانی کے ساتھ جو چاہو کرو تم سے کوئی جواب طلب نہیں  کرے گا۔

اب یہ دستور بنانے والوں  کی غلطی ہے یا ہندوستان میں  پہلی حکومت بنانے والوں  کی کہ انھوں  نے پولیس مینول اور جیل مینول وہی رکھے جو انگریزوں  نے بنائے تھے۔ اور برابر یہ دیکھا جارہا ہے کہ اس کی وجہ سے انصاف ایک مذاق ہوگیا ہے۔ وجہ وہی ہے کہ پولیس کسی بھی حادثہ کے بعد مجرموں  کوپکڑنے میں  ذرا سی بھی محنت نہیں  کرتی۔ اسے یہ تو یقین ہوتا ہے کہ اگر دھماکہ ہوا ہے تو مسلمانوں  نے کہیں  بم رکھا تھا جو پھٹ گیا۔ اور اس کے بعد وہ اس علاقہ کے مسلمانوں  کے گھروں  کی تلاشی لینے لگتے ہیں  اور جس نے ان کی بدتمیزی پر اعتراض کیا اسے گرفتار کرلیتے ہیں۔  یا پولیس کے مخبر کسی مسلمان لڑکے کے بارے میں  کچھ بتاتے ہیں  تو اسے گرفتار کرلیتے ہیں ، لیکن ایک گھنٹہ بھی اس پر غور کرنے میں  نہیں  لگاتے کہ وہ کون ہیں  جن کو کوئی شکایت ہے یا وہ کس کے ایجنٹ ہیں  جو اس بازار کو بدنام کرنا چاہتے ہیں ؟

ایک بات بار بار ہمارے مشاہدہ میں  آئی ہے کہ جہاں  کہیں  دھماکہ ، مارکاٹ یا آؤش زنی ہوتی ہے وہاں  کرنے والے اپنا کام کرکے یا تو شہر چھوڑ دیتے ہیں  یا قریب ہی کسی دیہات میں اگر رشتہ داری ہو تو وہاں  چلے جاتے ہیں۔  لیکن اس جگہ سے ہٹ جاتے ہیں  اور جنھوں  نے کچھ نہیں  کیا ہوتا وہ گھررہتے ہیں  کہ ہم سے کیا مطلب؟ اور پولیس ان لوگوں  کو ہی نرم چارہ بنا کر لے جاتی ہے۔ اور دس برس پندرہ برس ثبوت ڈھونڈتی رہتی ہے۔ ان پولیس والوں  میں  سے یا تو سب کا تبادلہ ہوجاتا ہے یا دو چار مر جاتے ہیں کیوں کہ کسی بھی تھانہ یا کوتوالی میں  12برس کوئی نہیں  رہتا۔

اس مقدمہ میں  پولیس نے دوسو گواہ پیش کیے۔ یہ سب گواہ وہ تھے جنھیں  کچھ نہیں  معلوم تھا بس یہ مخبر تھے یا اس علاقہ میں  غیر قانونی کام کرتے تھے اور پولیس کبھی انھیں  گواہ بنادیتی تھی کبھی مخبر بنادیتی تھی اور کبھی ضامن اور انہیں  ایک بیان رٹا دیتی تھی جو وہ عدالت میں  سنا دیتے تھے۔ بزرگوں  نے کہا ہے کہ سچ بولنا بہت آسان ہے اور جھوٹ بولنا بہت مشکل ہے۔ وجہ وہی ہے کہ 12 سال کے بعدیہ یاد رکھنا کہ ہم نے کیا بیان دیا تھا کسے یاد رہ سکتا ہے؟ اور اگر سچ ہو تو 50 سال کے بعد بھی یاد رہتا ہے۔

اگر پولیس کو معلوم ہوتا کہ یہ تینوں  بے گناہ ثابت ہوگئے تو ہمیں  دس سال کی سزا ہوگی یا نوکری چلی جائے گی یا تو ان کو 11 سال کا ہرجانہ ا پنے فنڈ یا اپنی تنخواہ سے دینا پڑے گا تو وہ رات دن محنت کرکے اصل مجرموں  کو پکڑتے یا کہہ دیتے کہ وہ ملک چھوڑ کر بھاگ گئے لیکن ہر پولیس والے کے جو مسلم دشمنی کے انجکشن لگادئے جاتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ جس مسلمان کو گرفتار کرتے ہیں اس کا تعلق لشکر طیبہ سے جوڑتے ہیں ، قتل کرنے، ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے، مجرمانہ سازش تیار کرنے اور ہتھیار جمع کرنے کے الزامات عائد کرتے ہیں  جس کا مقصد صرف یہ ہے کہ مسلمان ہندوستان کو اپنا ملک نہیں سمجھتے اس کے خلاف جنگ چھیڑنے کے لیے ہتھیار جمع کرتے ہیں  عدالت کے جج صاحبان معاف فرمائیں  کہ ایسی چارج شیٹ کو جب وہ کچھ بھی معلوم کئے بغیر مقدمہ کا حصہ بنالیتے ہیں  اور یہ نہیں  معلوم کرتے کہ یہ پانچ لڑکے ہندوستان جیسے ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے کے لیے جو ہتھیار جمع کررہے تھے ان میں  کتنے چین کے ہیں  کتنے پاکستان کے ہیں  کتنے امریکہ اور روس کے؟

مرنے والوں  کے وارث بڑے ارمان سے فیصلہ سننے کے لیے آئے تھے کہ سب کو پھانسی ہوگی تو ہمیں  انصاف ملے گا اور جب تین مسلمان لڑکے رہا ہوگئے تو وہ کہنے لگے کہ ہم ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ جائیں گے۔ ان کی یہ سمجھ میں  نہیں  آیا کہ جس جج نے 11 سال چھان کر فیصلہ سنایا ہے وہ نہ انکا رشتہ دار تھا اور نہ مسلمان۔ وہ تو ذرا سی بھی گنجائش ہوتی اور عمر قید کی سزا دی جاسکتی ہوتی تو پھانسی دیتے تاکہ وارثوں  کا کلیجہ ٹھنڈا ہوجائے۔ اب اگر ان تینوں  کے خلاف وہ ہائی کورٹ جاتے ہیں  تویہ توسوچیں کہ ہائیکورٹ کے جج سے کیا مل جائے گا؟

اب کرنے کا کام یہ ہے کہ مرنے والے 62کے عزیز رشتہ دار اور انہیں  انصاف دلانے والے اور انہیں  یا ہر کسی کو انصاف دلانا چاہتے ہیں  تو وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے پاس سیکڑوں  کی تعداد میں  جائیں  اور مطالبہ کریں  کہ جتنے پولیس والوں  نے یہ مقدمہ تیار کیا ہے انہیں برخاست کیا جائے اور جیل مینول بدلا جائے یا اس میں  یہ تبدیلی کی جائے کہ اگر پولیس کے بتائے ہوئے بے گناہ نکلے تو سزا ا نہیں دی جائے گی اور جو جیل میں  رہے ہیں  ان کا معاوضہ ان کی تنخواہ اور فنڈ سے دیا جائے گا۔

بات صرف دہلی کی نہیں ہرجگہ کی یہی ہے کہ ہر دھماکہ کے ذمہ دارمسلمان ہیں ، ان کا لشکر سے تعلق ہے اور ان میں  ایک ماسٹر مائنڈ ہے۔ ان جاہلوں  سے معلوم کرنا چاہیے کہ تم نے دو سو جھوٹے گواہ کیوں  کھڑے کئے؟ تم نے کیسے سمجھا کہ ماسٹر مائنڈ کون ہے۔ اورماسٹر مائنڈ کا کیا کام ہوتا ہے اور ان کا لشکر سے تعلق تم نے کیسے معلوم کیا؟ یہ وہ لعنت ہے جو گجرات سے آئی ہے اور جس کے ذمہ دار امت شاہ ڈی جی ونجارہ اور گجرات کی مودی حکومت ہے۔ انھوں  نے درجنوں  لڑکوں  اور لڑکیوں  کو مروادیا کہ وہ مودی کو مارنے آرہے تھے۔ اور سب کا رشتہ لشکر سے جوڑدیا اور اگر نہیں جڑا تو لاکھوں  روپے خرچ کرکے ایک ڈرامہ تیار کرایا جس میں  ایک کانا آبروباختہ اور دلّال ہیرو بنا اور امریکہ کی جیل میں  اس کے منہ میں  عشرت جہاں  کا نام ڈلوایا اور اس سے اگلوا لیا کہ عشرت جہاں  اور لشکر کا رشتہ تھا صرف اس لیے کہ ضمانت کے بعد جو امت شاہ پر گجرات نہ جانے کی پابندی تھی وہ ختم ہوجائے۔ اور انہیں  بی جے پی کا صدر بنادیا جائے۔ وہ ختم ہونے کے بعد اب کچھ بھی ہوا کرے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close