سیاست

اسے فیاضی کہیں یا فضول خرچی

حفیظ نعمانی

کانگریس کے صدر راہل گاندھی اور جنرل سکریٹری پر ینکا سیاسی سوجھ بوجھ میں کس مقام پر ہیں یہ تو کانگریس جانے لیکن وہ الیکشن بازی میں کہیں سے کہیں تک بھی قابل ذکر نہیں ہیں۔ آج کے ہر اخبار میں یوپی کانگریس کے صدر راج ببر کا وہ  بیان چھپاہے جو انہوں نے اتوار کو میڈیا کو دیا اور جس میں کہا ہے کہ کانگریس نے سماج وادی اور بہوجن سماج کا وہ احسا ن اتار دیا جو انہوں نے رائے بریلی اور امیٹھی میں اپنے امید وار کھڑے نہ کرنے کی صورت میں دیا تھا۔ کانگریس نے دو کے بدلے میں وہ پانچ سیٹیں چھوڑ دیںہیں جن پر سماج وادی پارٹی جیتی تھی اور اگر مایاوتی نے لڑنے کا فیصلہ کیا تو کانگریس ان کا مقابلہ بھی نہیں کرے گی اور نہ اکھلیش یادوکا۔

سابق اداکار شاید اترپردیش میں ہونے والے الیکشن پر بننے والی فلم کی کہانی لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے یہ مان کر کہانی شروع کی ہے کہ اتر پردیش کی 80سیٹیں كانگریس جیت رهی هے۔ لیكن چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کا رونا بھی اس سے نہیں دیکھا جاتا اس لئے اس نے گھر پھونک کر تماشہ دیکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے لوک دل کے لئے بھی دو سیٹیں چھوڑ دی ہیں۔ راج ببر صاحب نے جن ادھیکار پارٹی سے معاہدہ کیا ہے جس  کے تحت وہ پانچ سیٹیں اپنے انتخابی نشان پر اور دو سیٹیں کانگریس کے نشان پر لڑے گا۔

اللہ نظر بد سے بچائے راج ببر کو یہ وہی صوبائی صدر ہیں جو 2017میں صوبائی الیکشن کے وقت منہ چھپاکر اور غلام نبی آزاد کی انگلی پکڑ کر ایسے غائب ہوئے تھے کہ اس وقت نمودار ہوئے جب کانگریس کو سات سیٹوں پر کامیاب ہونے کا اعلان ہوگیا۔ اور بہت دنوں تک سامان باندھ کر اس انتظار میں رہے کہ جس وقت بھی دوسرے صدر کا اعلان سنیں ایک گھنٹہ میں ٹرین پکڑ کر اپنے گھر چلے جائیں۔ لیکن راہل گاندھی بھی جانتے تھے کہ دوسرا بھی آئیگا تو وہ کانگریس کے حلق میں پانی ہی ڈالے گا خون نہیں۔ اور راج ببر کو اطمینان ہوگیا کہ وہی صدر رہیں گے تو انہوں نے ایسا بیان دے ڈالا۔

راہل گاندھی نے پرینکا گاندھی کو یہ سوچ کر میدان میں اتارا تھا کہ علاقائی پارٹیوں کے ورکر حمایتی نعرے لگاتے ہوئے کانگریس میں آجائیں گے ۔ یہ ان کی ناتجربہ کاری تھی جس کا انجام دیکھ کر وہ بھی ٹھنڈے پڑ گئے اور پرینکا کے پروگرام کا بار بار اعلان ہوتا رہا اور بار بار وہ ملتوی کر کے یہ اندازہ کرتے رہے کہ دیکھیں کتنا شور ہوتا ہے؟ اور جب کچھ نہیں ہوا تو اپنی بہن کو گنگا ماں کی گود میں بٹھا کر نہروں کے حوالے کر دیا۔

راہل اگر الیکشن باز ہوتے تو اترپردیش بہار اور بنگال جیسے صوبوں میں ایک دن بھی خراب نہ کرتے بلکہ جن پانچ صوبوں میں ان کی حکوت ہے ان میں یہ کوشش کرتے کہ جیسے 2014میں ایسے صوبوں میں مودی نے كانگریس كو صاف كر دیا تھا ایسے هی وه وهاں سےبی جے پی كو صاف كر دیں۔ هم حیران هیں كه وه كون مشیر هیں جو ان كے پروگرام بناكر دے رهے هیں اور شبه هوتا هے ه وه بی جے پی كے نمک خوار هیں۔ كیوں كه كانگریس كو سب سے زیاده كوشش اس كی كرنا تھی كه بی جے پی کی سیٹیں کم سے کم ہو جائیں وہ اس کے بجائے یہ کوشش کر رہی ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کے پاس تھوڑی تھوڑی سیٹیں رہ جائیں اور سب ملکر راہل کو وزیر اعظم بنا دیں۔ اور اب نہیں تو 2024میں بنا دیں كوئی اور دعویدار سامنے نه آئے۔

راج ببر نے جو كها هے ان كی هی یہ حیثیت تو هے نهیں كه وه اپنی مرضی سے كهہ دیں یه راهل گاندهی كے الفاظ هیں اور زبان راج ببر كی هے اس بیان كے بارے میں هم جیسے وه جن كا تعلق كسی حد تك میڈیا سے هے وه تو اسے فلمی كهانی سے زیاده اهمیت نهیں دیں گے لیكن تھوڑا سا سیاسی شعور رکھنے والے بھی اسے پڑھ کر راہل کی عقل پر ماتم کر  رہے ہونگے ۔ حیرت ہے کہ جہاں سے کانگریس کو گئے ہوئے 30برس هو گئے هوں اور برسوں سے صدركو اترپردیش كا مطلب صرف رائے بریلی اور امیٹھی یاد ہو اورجو صرف دو سال پہلے 430 سیٹوں كی اسمبلی میں 7 سیٹیںجیتی هو اس كا نگریس كے صدر خواب دیکھیںکہ وہ 80سیٹوں پر جیت رهے هیں اور ان سے تعلق ركھنے والے سب رو رہے ہیں اس لئے سات سیٹیں ان کو بھی دے رہے ہیں۔ اور دیکھنے والے بھی اس فیصلہ کو دیکھ کر ایسے ہی سیٹی بجارہے ہیں جیسے انصاف کے ترازو میں راج ببر کے بقول دیکھنے والے ہر سین پر سیٹی بجایا کرتے تھے۔

اپنے قلم سے اپنی تعریف کو کوئی اچھانہیں کہے گا لیکن وہ سب لکھنے کے بعد یہ بتانا ضروری ہے کہ ہم نے خود کوئی الیکشن نہیں لڑا لیکن 1953میں سنبھل میونسپل بورڈ کے الیکشن سے 1978تك نه جانےکتنے الیکشن لڑائے اور صرف دو الیکشن میں ہار کا منہ دیکھا ورنہ ہر الیکشن میں کامیاب ہوئے۔ اپنی اسی مہارت کی بنا پر عرض کر رہے ہیں کہ مودی ایک انتہائ ماہر الکشن باز کی طرح لڑ رہے ہیں اور راہل اتہائی ناتجربہ کارکی طرح لڑ رہے اور اگر اترپردیش میں بی جے پی کو دس سے ایک سیٹ بھی زیادہ ملتی ہے تو وہ کانگریس کا تحفہ ہوگی۔ جس وقت امت شاہ یوگی اور راج ناتھ کہتے ہیں کہ اترپردیش میں 74 سیٹیں لائیں گے تو جو تكلیف هم جیسوں كو هوتی هے وه راهل اور سونیا گاندھی کو بھی نہیں ہوتی ہوگی۔ اور جی چاہتا ہے کہ کانگریس کے دفتر میں آگ لگا دیں جس کانگریس نے صرف ایک سال پہلے دیکھا تھا کہ تین پارٹیوں کے اتحاد نے رمضان میں پولنگ ہونے کے باوجود اور دو مسلمان امید واروں کے ہوتے ہوئے چاروں سیٹیں جیتی تھیں اسی اتحاد کو اگر نقصان پہنچاتو ذمہ دار صرف راہل گاندھی ہونگے۔ اور ہم کم از کم مسلمانوں سے ضرور کہیں گے کہ اس الیکشن میں کہیں بھی جو کانگریسی متحدہ محاذ سے الگ ہو کر الیکشن لڑے اسےووٹ دینے سے اچھا یہ ہے کہ اپنے گھر بیٹھے رہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close