سیاست

اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا

حفیظ نعمانی

اپریل کی 21 تاریخ کے اخبار انقلاب اور سہارا کے پہلے صفحہ پر ملتا جلتا ایک اشتہار ہے۔ یہ اشتہار نہ عمرہ پر لے جانے اور اس کے اخراجات بتانے کا ہے اور نہ حج کے سفر کا اسی طرح نہ دواخانوں کی دوائوں کا اشتہار ہے نہ سانڈے کے تیل کا۔ بلکہ یہ صاحبانِ قلم اور صاحبانِ فکر مسلمانوں کے مضامین سے بھرا ہوا ہے جس کی بنیاد شیوپال یادو کی پارٹی پرگتی شیل کا انتخابی منشور ہے۔ جس کی خصوصیت یہ ہے کہ اگر پارٹی کے قومی صدر شیوپال سے کہا جائے کہ اپنے انتخابی منشور کی تعریف میں لکھنے والے مضامین میں سے کسی ایک مضمون کی ایک ہی سطر پڑھ کر سنادیں تو وہ معافی مانگ لیں گے۔

ان مضامین میں سب سے طویل مولانا عبدالمعید ازہری صاحب کا ہے۔ ہم شرمندہ ہیں کہ ہمیں ذاتی طور پر ان سے نیاز حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے یوپی میں خاموش انقلاب کی آہٹ پرگتی شیل پارٹی کو قرار دیا ہے۔ ازہری صاحب نے لکھا ہے کہ پرگتی شیل سماج وادی پارٹی لوہیا کے کارکنوں میں غصہ بھی ہے اُمید بھی اور جوش بھی۔ اور ان تینوں کی وجہ بھی بتائی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ پرگتی شیل نے اپنے منشور میں اپنی اس نیت کا کھلا اظہار کیا ہے کہ وہ مسلمانوں سمیت سماج کے ہر طبقہ کو پروگراموں اور پالیسیوں میں برابر کی حصہ داری دے گی۔ آل انڈیا مشائخ بورڈ کے صدر مولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے بھی کہا ہے کہ شیوپال یادو کی پارٹی نے پہلی بار مسلمانوں کو گیارہ نکاتی بھاگیداری دینے کا وعدہ کیا ہے ایسا اُترپردیش میں پہلی بار ہوا ہے۔ انقلاب میں مولانا ازہری کے مضمون کے علاوہ محمد حسین شیرانی اور جناب یونس موہانی کے بھی مضامین ہیں جن میں پرگتی شیل پارٹی کے منشور میں کی گئی یقین دہانیوں کا قصیدہ کھل کر پڑھا گیا ہے۔

کسی پارٹی کو انتخابی منشور تحریر اور جاری کرتے وقت یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کس ادارہ کیلئے کررہی ہے؟ فی الحال لوک سبھا کے الیکشن ہورہے ہیں جس کی کل سیٹیں 543  ہیں اور جس پر حکومت کرنے کے لئے 290  ممبر چاہئیں۔ کیا شیوپال یادو پانچ سو سیٹوں پر الیکشن لڑرہے ہیں؟ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اتنی سیٹوں پر تو کانگریس بھی نہیں لڑرہی اور بی جے پی 40  چھوٹی پارٹیوں کو ساتھ ملاکر لڑرہی ہے۔ تو دو چار سیٹوں پر الیکشن لڑانے والے کو اپنا منشور چھاپنے کا حق ہے اور ایسے گڑیا گڈے کھیل کی کہانی پر اہل علم اور اہل قلم کو اپنی صلاحیتیں برباد کرنا چاہئیں؟

یہ بات تو ہر آدمی جانتا ہے کہ شیوپال کی پارٹی کو امت شاہ اور یوگی آدتیہ ناتھ نے اکھلیش یادو کے ووٹ کاٹنے کے لئے بنایا ہے اور یہ بتانے والے بھی موجود ہیں کہ اگر کوئی مسلمان یا یادو اُن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے اور اس کی کوئی حیثیت ہو تو ایک کروڑ روپئے اسے دے دیئے جائیں گے۔ ایک مسلمان جو سیاست کے میدان میں مشہور ہیں انہوں نے گٹھ بندھن سے اور کانگریس سے مایوس ہوکر کسی چھوٹی پارٹی سے لڑنے کا فیصلہ کیا۔ تمام سنجیدہ حضرات ان کو سمجھاتے رہے بی جے پی کے مقامی لوگوں نے کہا کہ آپ لڑیئے پانچ کروڑ روپئے ہم دلادیں گے۔ لیکن مسلمانوں کے دبائو سے وہ بیٹھ گئے۔ ان دونوں اخباروں نے جتنا روپیہ بھی لیا ہو اور جن حضرات نے مضامین لکھے ہیں انہوں نے شیوپال کی محبت میں لکھ دیا ہو کھیل میں دونوں نے اس کے بھی لاکھوں روپئے لے لئے ہوں گے۔ ہم جتنا امت شاہ کو جانتے ہیں اس سے بہت زیادہ شیوپال کو جانتے ہیں اور ہم ان کے احسانمند ہیں انہوں نے بہت عزت اور پیار دیا ہے۔ کھیل آج جیسے شیوپال کہہ رہے ہیں کہ باپ نہ بھائی بیٹا نہ بھتیجا بس اترپردیش اور اترپردیش کی جنتا ہے اب اگر کوئی معلوم کرے کہ آپ اترپردیش کے کیا ہیں اور 22  کروڑ جنتا کے کیا ہیں؟ ایک معمولی ایم ایل اے اور ایک بھتیجے سے ناراض ہوکر بنائی ہوئی چھوٹی سی پارٹی کے صدر۔ یہ بات کوئی سابق وزیراعظم یا سابق وزیراعلیٰ کہے تو سمجھ میں آئے۔ لیکن ہم واقعی مخالفت میں لکھتے ہوئے رنجیدہ ہیں لیکن یہ الیکشن ایسا نہیں ہے کہ اس میں باپ بھائی یا رشتہ دیکھا جائے ہم درخواست کریں گے آل انڈیا مشائخ بورڈ کے سید محمد اشرف کچھوچھوی اور ازہری صاحب سے جو لکھ دیا اسے بھول جایئے اگر ہزار دو ہزار ووٹ بھی غلط پڑگئے تو زندگی بھر 20  کروڑ مسلمانوں کو پوری زندگی رونا پڑے گا۔

بات صرف شیوپال کی نہیں ہر اس مسلمان اور یادو اور ہر دلت کی ہے جو نشانہ پر ہیں اگر مودی اور امت شاہ کو کوئی یقین دلادے کہ وہ گٹھ بندھن کی دس بیس سیٹیں بگاڑ دے گا تو وہ 100  کروڑ بھی دے دیں گے۔ راجہ بھیا نے بھی اسی لئے پارٹی بنائی تھی لیکن یوگی خود ٹھاکر ہیں اس لئے ٹھاکر ان کے ساتھ ہیں اور دوسرا کوئی آنے سے رہا۔ شیوپال کو بھی اب اندازہ ہوگیا ہوگا کہ وہ جو سوچے بیٹھے تھے اس میں فیل ہوگئے اس لئے ان سے بھی ہم اپنی دوستی کا واسطہ دے کر کہیں گے کہ بے وقوفی بہت ہوگئی اب چپ چاپ گھر آجائو۔ اس لئے جو یہ سوچے بیٹھا ہے کہ مودی جی پھر آئیں گے اسے نتیجہ آنے کے بعد مایوس ہونا پڑے گا۔ اور اگر یہ مضامین لکھنے والے واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک آدمی والی پارٹی جو لکھوا رہی ہے وہی کرے گی تو ان کے لئے دعا کرنا چاہئے۔ جن لوگوں نے یہ منشور لکھا ہے ان پر بھی رحم آتا ہے کہ اتنے سیدھے بھی دنیا میں ابھی موجود ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close