سیاستہندوستان

اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا!

عزت مآب وزیر اعظم مودی جی لوک سبھا میں بولے، انہوں نے اپنی تقریر کی شروعات لوک تتنتر (جمہوریت ) اور جن شکتی (عوامی طاقت) سے کی اور کہا کہ یہ لوک تنتر اور جن شکتی ہی کی طاقت ہے کہ ایک غریب ماں کا بیٹا بھی دیش کا پردھان منتری بن سکتا ہے۔ حالانکہ پچھلے ونٹر سیشن کے دوران ہی لوگوں کی خواہش تھی کہ مودی جی پارلمنٹ میں نوٹ بندی کی بحث میں حصہ لیں اور اس ضمن میں کچھ بولیں، حزب اختلاف اس کی مسلسل مانگ بھی کر رہا تھا لیکن صاحب لوک تانترک دیش میں جن شکتی کے آدھار پر پردھان منتری بنے مودی جی ایک ڈکٹیٹر کی طرح ان لوگوں کو نظر انداز کرتے رہے۔ عوامی جلسوں اور چناوی سبھاؤں میں تو نوٹ بندی پربولتے رہے لیکن پارلمنٹ میں ایک لفظ نہیں بولا۔  اور اب اس کا الزام بھی اپوزیشن پر ہی ڈال دیا کہ اس نے انہیں بولنے نہیں دیا۔ انہوں نے اپنی اس تقریر میں بار بار جن شکتی کاحوالہ دیاتو ذہن میں سوال آیا کہ کیا وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ لوک تنتر کی جن شکتی نے انہیں ڈکٹیٹر بنادیا ہے !؟

انہوں نے اپنی تقریر میں ان کی حکومت پر اب تک کی گئی تمام تنقید کا اپنے خاص انداز میںطنز و مزاح سے بھرپور اور آنکڑوں کے ساتھ منھ توڑ بلکہ دندان شکن جواب دیا ہے۔ انہوں نے تحریک آزادی پر کانگریس کی دعویداری کی یہ کہتے ہوئے کھلی اڑائی کہ اس وقت (جنگ آزادی کے وقت ) ہم تھے یا نہیں تھے، ہمارے کتے بھی تھے یا نہیں تھے، اوروں کے کتے ہو سکتے ہیں لیکن دیش کے کوٹی کوٹی لوگ تھے جنہوں نے کانگریس کے جنم سے بھی پہلے 1857 کے غدر میں حصہ لیا تھا اور سب نے مل کر لیا تھا اس میں سامپردائے (مذہب)کی کوئی بھید ریکھا نہیں تھی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس جنگ آزادی میں حصہ لینے والوں کا یوگ دان نہیں بتاتی، وہ چافیکر بھائیوں کی شہادت کا ذکر نہیں کرتی، وہ ساورکر جی کا ذکر نہیں کرتی جو کالا پانی کی سزا بھگت رہے تھے تب دیش آزاد ہوا تھا، وہ یہ نہیں بتاتی کہ کوئی بھگت سنگھ اور چندر شیکھر آزاد بھی تھے جنہوں نے بلی چڑھائی تھی تب دیش آزاد ہوا تھا انہوں نے کانگریس پر وار کرتے ہوئے کہا کہ اسے لگتا ہے کہ دیش کو صرف ایک ہی پریوار نے آزادی دلائی ہے،انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم دیش کو اس کی سنپورنتا ( تکمیل ) کے ساتھ سویکار کریں۔لیکن انہوں نے بھی اپنی بات میں کہیں کسی مسلمان کا ذکر نہیں کیا جس نے ملک کی آزادی کے لئے اپنی جان کی بلی چڑھائی نہ ہی غدر اور نہ ہی اس کے بعد کی تحریک آزادی میں۔  اور ایسا کر کے دراصل انہوں نے بھی وہی کیا جس کا الزام انہوں نے کانگریس پر لگایا۔

مودی جی نے مزید کہا کہ تاریخ اگر کتابوں کی اٹاری میں پڑی رہے تو سماج جیون کو پریرنانہیں دیتا، تو کیا یہی تاریخ کو جاننا اور اس سے پریرنا لینا ہے کہ تاریخ میں اپنے لوگوں کی حصہ داری کو تو اجاگر کیا جائے اور دوسروں کی حصہ داری کا ذکر تک نہ کیا جائے ؟ مودی جی نے جب یہ کہا کہ دیش کو اس کی سنپورنتا میں قبول کریں تو یہ ان کی ذمہ داری تھی کہ جنگ آزادی میں قربانی کے ضمن میں اپنے لوگوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کا بھی ذکر کرتے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ خیر ان سے تو اس کی امید بھی نہیں تھی لیکن اس کا بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ اپنی منافقت آپ ہی ظاہر کردیں گے۔

مودی جی نے وقت سے پہلے بجٹ پیش کر نے کی وجہ بھی بتائی کہ بھارت زرعی ملک ہے ہماری معیشت زراعت پر مبنی ہے اور زیادہ تر زراعت کی حالت دیوالی تک پتہ چل جاتی ہے، ہم مئی میں بجٹ کی عمل سے باہر نکلتے ہیں اور جون کے بعد ملک میں بارش شروع ہوجاتی ہے تین مہینے تک بجٹ کا اپیوگ ہونا ناممکن ہوجاتا ہے، ہمارے پاس کام کر نے کا وقت بہت کم بچ جاتا ہے۔ لیکن شاید مودی جی کو اندازہ نہیں ہے کہ ایسا اسوقت ہوتا تھا جب ملک میں بارش جلدی اوراچھی ہوا کرتی تھی، اب تو بارش بھی لیٹ شروع ہوتی ہے اورہر دوسرا سال قحط لے کر آتا ہے جس کی وجہ سے زراعت کی شروعات ہی دیوالی سے کچھ پہلے ہوتی ہے اور اس کی تکمیل دیوالی کے کہیں بعد ہوتی ہے کبھی کبھی تو فصلیں دسمبر تک بھی قابل فروخت نہیں ہوتیں۔اورمودی جی کی اسی بے اندازگی نے نوٹ بندی کو کسانوں کے لئے سب سے زیادہ پریشانی اور نقصان کا باعث بنا دیا۔

مودی جی نے نوٹ بندی کایہ فیصلہ ایسے وقت میں کیاجبکہ کسانوں کا ہنگام شروع ہو رہا تھا یعنی زرعی پیداوار نکلنے کا وقت نوٹ بندی سے کچھ ہی دن پہلے شروع ہواتھا۔ جن لوگوں نے نوٹ بندی سے پہلے اپنا زرعی مال بیچ دیا تھا انہیں ہزار پانچ سو کے نوٹوں میں ہی اسکی قیمت ملی تھی جو نوٹ بندی کے فیصلہ کے بعد وقتی طور پر ہی سہی بے قیمت ہو گئی تھی کہ ایک تو وہ کسی نجی لین دین کے کام کی نہیں رہی تھی اور دوسرے اسے نئے نوٹوںسے بدلنے کی پریشانی مفت۔ اسی طرح جن لوگوں نے اپنا مال نہیں بیچا تھاسمجھئے ان کا مال بے قیمت ہو گیا تھاکہ کوئی اسکا خریدار نہیں رہا تھا،کئی جگہ تو مارکیٹ ہی کئی دن تک بند رہے اور کئی جگہ اگر خریدار ی ہوئی بھی تو ہزار پانچ سو کے پرانے نوٹ ملے گی کی شرط کے ساتھ۔ اس کے بعدمارکیٹ شروع ہوا بھی تو قیمت کی ادائیگی چیک کے ذریعہ ہو ئی،یعنی بات وہی رہی کہ نوٹ بدلواؤ یا چیک بنک میں جمع کروا کر اسکے کلیئر ہونے کا انتظار کرواور اگر کلیئر ہو گیا تو پھر سرکاری لمٹ کے مطابق پیسے نکلواؤ۔یعنی ایک طرف تو سرکار کسا نوں کی حمایت اور مدد کا دم بھررہی ہے، کسانوں کی بھلائی اور ترقی کے وعدے اور دعوے کررہی ہے اور دوسری طرف اپنی پالسی اور فیصلوں سے انہیں ہی مشکل میں ڈال رہی ہے۔ انہوں نے نوٹ بندی کے وقت کو لے کر بھی خلاصہ کیا کہ جس طرح جب تک جسم تندرست نہ ہو اس وقت تک ڈاکٹر آپریشن کرنا پسند نہیں کرتا اسی طرح ہم نے بھی نوٹ اس وقت کی جب ملک کی معیشت صحت مند تھی۔ انہوں نے نوٹ بندی کو کامیاب اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس وقت معیشت کمزور ہوتی تو ہم کامیابی سے یہ قدم نہیں اٹھا پاتے۔

اگر یہ مان لیا جائے کہ مودی سچ بول رہے ہیں اور نوٹ بندی واقعی کامیاب ہوئی اور اس کے مقاصد حاصل ہوئے تو بھی انہوں نے اسے کامیا ب کر نے والے لوگوں کے یوگدان کا کوئی ذکر نہیں کیا، نہ لمبی لمبی قطاروں میں دن دن بھر کھڑے رہنے والوں کا کوئی ذکر کیا نہ ہی دن بھر لائن میں کھڑے رہ کر ’پیسے ختم‘ کا طمانچہ کھاکر شام میں خالی ہاتھ گھر لوٹنے والوں کا کوئی ذکر کیا نہ اپنی پانچ سو کی نوٹوں کے بدلے دو ہزار کی نوٹ لینے اور اس کے چھٹے کروانے کے لئے دردر بھٹکنے والوں کا ذکر کیااور نہ ہی ان لوگوں کو شہید قرار دیا جنہوں نے اس نوٹ بندی کو ’کامیاب ‘ کر نے کے لئے بنک کی لائن میں کھڑے کھڑے ہی اپنے پران تیاگ دئے،انہوں نے یہ تو بتا یا ہی نہیں کہ نوٹ بندی کے جو احداف مقرر کئے گئے تھے وہ کتنے حاصل ہوئے کتنا بلیک منی یا ٹیکس چوری پکڑی گئی، کتنے جعلی نوٹ مارکیٹ سے باہر ہوئے اور دہشت گردوں کو کتنا نقصان ہوا لیکن یہ بھی نہیں بتایا کہ ان کے اس اقدام کو’ کامیاب ‘کر نے کے لئے چھوٹے بڑے کار وباریوں اور کسانوں کو کتنا نقصان ہوا، کتنوں کو ملازمتیں اور روزگار گنوانے پڑے،  روزگار اور جاب کے کتنے مواقع معدوم ہوئے اور مجموعی طور پر اس سے ملک کی معیشت کو کتنا نقصان اٹھا نا پڑا۔  مودی جی نے اپنی پوری تقریر میں جو کچھ کہا وہ ریکارڈ اور آنکڑوں کی بنیاد پر ہی کہا لیکن نوٹ بندی کے فوائد اور نقصانات کے بارے میں آنکڑے پیش نہیں کئے، کیوں ؟ شاید اخبارات میں آئی رپورٹس صحیح ہیں کہ اس میں آنکڑے مودی جی کے خلاف ہوگئے۔

اسی طرح انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کوئی اچانک لیا گیا فیصلہ نہیں تھا بلکہ پوری طرح منصوبہ بند فیصلہ تھا کیونکہ دیوالی کے بعد دیش کا کاروبار تقریباً پورا ہوجاتا ہے جس کے بعد کاروباری مندی کا ایک فطری وقفہ (Natural Lull Period (ہوتا ہے جس میں لوگ اپنے کاروبار بند کر کے پندرہ پندرہ دن گھومنے پھر نے نکل جاتے ہیں ( اور اسی کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا )تو صاحب جب یہ فیصلہ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا تونئے نوٹوں کی شکل کیش کی اتنی کمی کیسے آئی کہ ہر طرف ہاہا کار مچ گئی اورریزرو بنک کو لوگوں کے اپنے ہی پیسے نکالنے کی حد مقرر کر نی پڑی ؟ اور جو لمٹ مقرر کی گئی تھی وہ بھی لوگوں کوپوری طرح نہیں مل پائی؟اس ضمن میں مودی جی نے یہ بھی کہا کہ جو حساب کتاب میں نے کیا تھا اب دیکھ رہا ہوں کہ اسی حساب سے گاڑی چل رہی ہے۔مگر صاحب آپ نے صرف پچاس دن مانگے تھے اور اب نبے دن گزرجانے کے بعد بھی لوگ اپنے ہی کھاتوں سے اپنے ہی پیسے اپنے حساب سے نہیں نکال پا رہے ہیںاور آر بی آئی کے مطابق ایسا 13،مارچ سے پہلے ممکن بھی نہیں لیکن 13،مارچ کے بعد ممکن ہو جائے گا اس کی ضمانت بھی نہیں کیونکہ نوٹ بندی کے بعد آر بی آئی نے جس طرح اصول بدلے اور ردــ کئے ہیں اس کی وجہ سے اس پر عوام کو اعتماد نہیں رہا،کب کوئی اصول بنائے اور پھر اسے بدل دے کہا نہیں جاسکتا۔ تو کیا یہی آپ کا حساب تھا، اور یہی آپ کی کامیابی ہے کہ آپنے دیش کے سارے لوگوں کو آ پ کے حساب کے مطابق گاڑی چلانے کے لئے مجبور کردیا ؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عابد الرحمن

ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

متعلقہ

Close