اس ملک میں اب جو بولے گا، وہ مارا جائے گا

صفدر امام قادری

 نریندر مودی کی قیادت کے ابھی ساڑھے تین برس پورے نہیں ہوئے مگر ملک کے انتظامی حالات یہ اعلان کررہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح ہم خانہ جنگی اور سول وار کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہر گلی محلے میں آر ایس ایس اور بھاجپا کی نئی نئی قِسمیں جنم لے رہی ہیںجن کا ایک ایجنڈا ہے کہ ہندستان میں اُن کے کاموں سے جو اختلاف کرے گا، اسے مار دیا جائے گا۔ سیاست میں تبادلۂ خیال، ایک دوسرے سے اختلاف اور سیاسی سطح پر جنگ کی واردات تو عام ہے مگر اب نریندر مودی کی قیادت میں وہ دور آرہاہے جہاں ان کے سیاسی اصولوں سے کسی کو اختلاف کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے باوجود اگر کسی نے جرأت کی تو اسے انفرادی طور پر نشانہ بناکر ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے گا۔  ایک صحافی یا چند اہلِ قلم کی جان کو ختم کردینے سے اگر لفظ و بیان کا جوش اور ولولہ یا لکھنے والوں کے خواب مسمار ہوجاتے تو یہ دنیا ادیبوں، شاعروں، دانش وروں اور صحافیوں سے کب کی خالی ہوچکی ہوتی۔ ہر اقتدار نے خیال کی آزادی کو اپنے لیے ہمیشہ خطرہ مانا ہے۔

دنیا کے بہت سارے بادشاہوں، مطلق العنان حکمرانوں اور ڈکٹیٹروں کی تاریخ شاہد ہے کہ وہ ہمیشہ آزاد خیال اصحابِ قلم کو ناپسندیدہ گردانتے تھے اورجب جب انھیں مواقع حاصل ہوئے، انھیں نقصان پہنچانے یا ہمیشہ کے لیے ختم کردینے سے کبھی دریغ نہ کیا۔ مگر تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ اُن جابر حکمرانوں کو زمانے نے اپنے تلووں کے نیچے کردیا اور آزادخیال دانش وروں کے لیے پھول اور ستارے پیش کیے۔  نریندر مودی نے گجرات فسادات اور اس کے بعد کے انتظامی ڈھانچے کو پورے ہندستان کے لیے نافذ کرنے کا ایک سیاسی ماڈل استعمال کیاہے۔ بہت حد تک انھیں اس میں کامیابی بھی ملی ہے۔ گجرات میں جس طرح نریندر مودی اور امت شاہ مل کر جمہوری اقدار کی پامالی کا سلسلے وار منصوبہ قائم کرتے تھے، انھی لوگوں کو اب مرکز میں رہ کر اقتدار کی زیادہ سے زیادہ طاقت حاصل کرکے اسے نافذ کرنا ہے۔

مرکز کی حکومت کے بعد نریندر مودی نے جیسے ہی امت شاہ کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی صدارت سونپی ، اسی وقت اندازہ ہو گیا تھا کہ اس ملک کو گجرات بنانے کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔ اس کے بعد سلسلے سے ایک ایک صوبے میں حکومتیں بننے لگیں اور بھاجپا کے ایسے ایسے وزراے اعلا سامنے آئے جنھوںنے خود بھی کبھی یہ نہ سوچا ہوگا کہ وہ اپنے صوبے کی کمان سنبھالیںگے۔ ہریانہ میں کھٹّر، مہاراشٹر میں فرنویس اور جھارکھنڈ میں رگھوورداس کے بعد اترپردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ۔ کسی کو ایک دن کا بھی انتظامیہ چلانے کا تجربہ نہیں۔ زیادہ سے زیادہ سنگھ پرچارک کی ان کی حیثیت تھی مگر انھیں یہ موقع دیا گیا۔  شتروگھن سنہا نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار کو ایک زمانے میں اسکوٹر پارٹی کہا تھا۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ ہندستان کی حکومت کو نریندر مودی ، امت شاہ اور کچھ حد تک ارون جیٹلی چلا رہے ہیں۔

ڈھائی برس سے زیادہ مدت تک وزیر دفاع کی جگہ خالی رہی اور جب اس کے لیے ابھی نام طے ہوا تو لوگ چونک گئے کہ کیا بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنے کام کو سمجھنے والے تجربہ کار لوگ نہیں مل رہے ہیں۔ پورے ملک میں یہی سلسلہ ہے۔ بھاجپا جیسے جیسے نئے لوگوں کو ذمے داری دیتی جارہی ہے وہاں نوسیکھیے افراد کا بول بالا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ انجانے پن میں ہورہا ہے یا اتفاقاً ایک سلسلے سے ہوتا چلا گیا۔  حقیقت یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نریندر مودی اور امت شاہ کی قیادت میں پہلے دن سے تیسرے درجے کے سیاسی کارکنوں اور گمنام چہروں کے بل پر اپنی کارکردگی پیش کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ مقصد واضح ہے آرایس ایس میں ہر چند گنتی کے دوچار دس بزرگ لوگ ہیں مگر وہاں بھی زمینی سطح پر نئے چہروں کی بہتات ہے۔ یہ چہرے سیاسی اعتبار سے ان پڑھ اور گنوار ، مذہبی تعلیم سے بے بہرہ اور سماجی معاملات کے بالکل ہی غیر جانکار افراد کے ہیں۔ انھیں ہندستان کا قانون بھی نہیں معلوم ہے اور نہ ہی یہ لوگ ہندستان کی تاریخ اور تہذیبی و ثقافتی فروغ سے واقفیت رکھتے ہیں۔

 پرانے سوشلسٹوں ، کمیونسٹوں اور آرایس ایس کارکنان کے بارے میں ایک تصور رہا ہے کہ اپنے سیاسی نشانات میں الگ الگ ہونے کے باوجود یہ لوگ پڑھے لکھے آدمی ہوتے تھے۔ انھیں اپنی سیاست کے اصول و ضوابط بھی معلوم تھے اور غیروں کے ساتھ جینے مرنے کے آداب بھی وہ جانتے تھے۔  آج ہندوتو وادی گروپ کی جانچ پرکھ کی جائے تو ان میں سے اکثر و بیش تر غنڈے ، ٹھیکیدار اور سیاسی دلال قسم کے افراد نظر آتے ہیں ۔ ان میں یہ طاقت ہے کہ وہ کسی سے بھی بزورِ بازو اپنی بات منوالیں۔ بابری مسجد کے لیے جب ہنگامہ شروع ہوا تھا تو اس وقت نئی نئی تنظیمیں قائم ہورہی تھیں۔ اس کا مقصد واضح ہوتا ہے کہ بڑی سیاسی جماعت کو ان سے جو کام لینا ہے وہ لیتی رہے گی۔ بدنامی یا سیاسی اعتبار سے کوئی پریشان کن مرحلہ آئے گا تو وہ ان چھوٹی جماعتوں کے سر جائے گا۔ گئو رکچھک سے لے کر گائوں گائوں میں نئی نئی کیرتن ٹیمیں نظر آرہی ہیں۔ ان میں سے کسی کا کوئی مذہبی مقصد نہیں۔ یہ سب بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاسی مفادات کے لیے وقف ہیں۔ ان سے بھارتیہ جنتا پارٹی ماحول اور فضا کو مسموم بنانے کا کام لیتی ہے جو اگلے دیڑھ برسوں میں ووٹ کی شکل میں تبدیل ہونے کی گنجائشیں پیدا کرے گی۔  پورے ہندستان میں خاص طور سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی جہاں جہاں حکومتیں ہیں، وہاں انتظامیہ کی سطح پر عجیب ناگفتہ بہ کیفیت ہے۔

 اتر پردیش میں ہر اسپتال میں بچوں کے مرنے کا سلسلہ در سلسلہ قائم ہے۔ بار بار یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسپتال انتظامیہ نے اپنی نااہلی سے سیکڑوں بچوں کی جان لی۔ ریل کے وزیر تو بدل گئے مگر حادثوں کا سلسلہ اسی طرح سے قائم ہے۔ وزیر اعظم ’’من کی بات‘‘ اس طرح پیش کرتے ہیں جیسے معلوم ہو کہ ان کے پاس کوئی پڑھا لکھا اسکرپٹ لکھنے والا بھی نہیں ہے۔ حکومت کے پہلے سال میں یومِ اساتذہ کے موقعے سے وزیر اعظم نے خود استاد بن کر پورے ملک کے طلبا اور اساتذہ کی کلاس لی تھی۔ ابھی ابھی یہ خبر آئی ہے کہ سوموار کو وزیر اعظم تمام یونی ورسٹیوں کے اساتذہ سے کچھ گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ یوجی سی نے تمام یونی ورسٹیوں کو یہ ہدایت جاری کی ہے کہ وزیر اعظم کی تقریر سننے کے لیے تمام اساتذہ دم بخود ہوکر یکجا ہوں، اس کا یونی ورسٹیاں انتظام کریں۔

سوال یہ ہے کہ جس حکومت میں عام معمولات کے کام رکے پڑے ہوں، جہاں پڑھے لکھے لوگوں کو ذلیل اور خوار قرار دیا جارہا ہو اور انصاف کی بات سچائی اور ایمان کے ساتھ رکھنے والوں کو گولیوں سے بھنا جا رہا ہو، بڑے سے بڑے مسئلے پر وزیر اعظم خاموش یا بے پروا نظر آرہے ہوں ، وہاں یونی ورسٹی کے اساتذہ کو آخر وہ کون سا درس دیں گے؟ نریندر مودی کے ایم اے اور بی اے کی ڈگری کی جعل سازی پر اخباروں میں بہت کچھ لکھا گیا، وہاں آخر وہ کون سامعیارِ اخلاق اور مقصدِ تعلیم و تعلم کی وضاحت کرنا چاہیںگے؟ کیا وہ اعلا تعلیم کی دانش ورانہ حیثیت اور آزاد خیالی پر قدغن لگانے کی تیاری میں مصروف ہوںگے؟ کیا وہ یہ چاہیں گے کہ جیسے جیسے وہ مرکزی یونی ورسٹیوں میں آر ایس ایس کے کارکنوں کو وائس چانسلر بناکر اور ان کے ذریعہ بھاجپائی نوجوانوں کو یونی ورسٹیوں میں بھرنے کے لیے کوشاں ہیں، اس کی یونی ورسٹیاں بہ خوشی توثیق کریں؟  افسوس ہندستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف جو سیاسی پارٹیاں میدان میں ہیں، ان میں اتحاد اور مستقبل شناسی کی بہت کمی ہے۔ راہل گاندھی کی نقلی قیادت سے شاید ہی اس ملک کا بھلا ہو۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر طرح کے سیاسی قائدین کو سرجوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور باقی ماندہ دیڑھ برسوں میں اپنی دیڑھ اینٹ کی مسجدوں سے باہر نکل کر پورے ملک کے سیاسی کارکنوں اور دانش وروں سے صلاح و مشورہ کرکے کوئی نیا ایجنڈا سامنے لانا چاہیے۔

 اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو اترپردیش میں جس آسانی سے باپ بیٹے کی لڑائی میں بھاجپا نے اپنے لیے بڑی آسانی سے راستہ تلاش کرلیا، اسی طرح پورے ملک میں 2024ء تک بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت قائم ہوجائے گی اور تب سوِل وار نہیں بلکہ عالمی جنگ کی صورتِ حال سامنے آئے گی۔ بقولِ اقبال: ’’نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے اے ہندوستاں والو‘‘۔



⋆ صفدر امام قادری

صفدر امام قادری
شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، پٹنہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے