سیاست

افکار و الفاظ کا قلم و قرطاس سے سمع و بصر تک کا سفر

ڈاکٹر سلیم خان

مولانا اعجازارشد قاسمی  ہندوستانی ٹیلی ویژن کا ایک جانا پہچانا نام تھا۔ ماہِ اپریل ۲۰۱۷ ؁ میں انہوں   نےدارالعلوم دیوبند کی  درخواست پر ٹی وی چینلس پر ہونے والے مباحثے  میں بطور مذہبی رہنما اور عالم دین کے شرکت نہیں  کرنے کا فیصلہ کیا  تھا۔ اس وقت   مولانا اعجازارشد قاسمی نے ملت ٹائمزکے ساتھ ایک  خصوصی گفتگو میں  کہا تھا کہ دارالعلوم دیوبند کی اپیل کااحترام کرتے ہوئے ہم لوگوں نے عائلی مسائل پر ہونے والے مباحثوں  میں شرکت کر نا بند کردیاہےاور آئندہ حصہ نہیں لیں گے۔مولانا  نے اس کی  یہ وجہ بیان کی تھی کہ   ٹی وی چینلس پر اسلام کی غلط شبیہ پیش کی جاتی ہے اور جوشرکاء کو  بولنے پورا موقع  نہیں دیا جاتا اور نہ ہی مکمل  گفتگو ناظرین کو پیش کی جاتی ہے بلکہ اسےحسب  منشاء ایڈیٹ کردیاجاتاہے۔اس کے بعدانہوں نے جن  چینلس پر جانے  سے انکار کیا ان میں  زی نیوز سرفہرست تھا  لیکن ایک ۱۵ مہینوں کے بعد وہ اپنا عہد بھول گئے  اور زی کی سازش کا شکار ہوگئے۔

  اس بار مولانا کے علم میں یہ اضافہ ہوا کہ  ٹی وی چینلس نہ صرف اسلام کو بدنام کیا جاتا ہے اور شرکاء کا گلا گھونٹا جاتا ہے بلکہ منصوبہ بند ہاتھا پائی بھی کی جاتی  ہے۔ دست درازی کرنے والا بلکہ والی پہلے سے پولس میں شکایت درج کراکے آتے ہوئے  پولس کو اپنے ساتھ لاتی ہے اور مولانا کو عار دلا کر اپنے دام میں گرفتار کرلیتی ہے۔ مولانا ایک ایسی حالت میں پہنچا دیئے جاتے ہیں ایک طرف کھائی اور دوسری جانب آگ ہوتی ہے۔ وہ اگر مارکھاکر لوٹ آتے تو  لوگ  انہیں یاد دلاتے اپنی دفاع کا انہیں آئینی حق حاصل تھا جس کا انہوں نے استعمال نہیں کیا اور اسلام کو رسوا کردیا ۔  وہ  مولانا کو چوڑیاں پیش کرکے فرماتے اب آپ ہاتھوں میں مہندی لگایاکریں۔ اس صورتحال سے خود بچانے کے انہوں نے جواب میں ہاتھ چلا دیا تو لوگ صبرو ضبط کا دامن چھوڑ نے پر لعنت ملامت کرنے لگے۔ اپنی اس قابلِ رحم حالت کے لیے مولانا اعجاز قاسمی  خود ذمہ دار ہیں،  اگر وہ عہد پر قائم رہتے تو یہ نوبت ہی نہیں آتی۔

فی زمانہ ٹی وی چینلس چلانا اس قدر مہنگا کردیا  گیا ہے کہ کسی فرد یا تنظیم کے لیے اس میدان میں قدم رکھنا دشوار ہوگیا ہے۔ راموجی راو جیسا بڑا سرمایہ دار اپنا ای ٹی وی  چینل فروخت کرنے پر مجبور ہوجاتاہے اور    این ڈی ٹی وی جیسا مؤقر ادارہ امبانی سے  ۴۰۰ کروڈ روپیہ قرض لینے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ سرکاری رحم و کرم چلنے والے انڈیا ٹی وی اور زی ٹی وی وغیرہ دور درشن سے زیادہ حکومت کے تلوے چاٹتے ہیں۔ ٹائمز ناؤ  اور آج تک  نےبھی  مالی مفاد کی خاطر حکومت کی چاپلوسی کا اپنا شعار بنارکھا ہے۔جہاں تک حزب اقتدار کے سہارے قائم ہونے والا ریپبلک ٹی وی اپنا  فرضِ منصبی ادا کررہا ہے۔ اے بی پی کو حزب اختلاف کا تعاون حاصل ہے  اس لیےوہ کسی حدتک حکومت پر تنقید کرتا ہے لیکن اگر اس کے سر سے سایہ اٹھ جائے تو اس کو بھی سجدہ ریز ہوتے دیر نہیں لگے گی۔ ذرائع ابلاغ کی حالت غیر پر شاد عارفی کا شعر ایک لفظ کی  تحریف کے ساتھ صادق آتا ہے؎

ہمارے ہاں کی صحافت کا حال مت پوچھو

گھری ہوئی طوائف تماش بینوں میں

عصر حاضر میں ٹیلی ویژن چینلس  عمومی ذرائع ابلاغ کی سب سے  ترقی یافتہ شکل ہے۔ پہلے زمانے میں خبررسانی کے لیے  ملاقات  لازمی تھی۔ افراد سے مل کر یااجتماعات کو خطاب کرکے دوسروں تک اپنے افکار و خیالات کو پہنچایا جاتا تھا لیکن پھر کتب واخبار نے بہ نفس نفیس ملاقات کی مجبوری ختم کردی۔ انسان ملے  بغیر اپنا اور دوسروں کا حال احوال ہزاروں اور لاکھوں تک پہنچانے لگا لیکن اس میں خواندگی کی شرط  تھی۔ ناخواندہ لوگ اس سہولت سے استفادہ نہیں کرسکتے تھے اس مشکل کو ریڈیو نے دور کیا۔ ریڈیو پر ہر کس و ناکس  خبر سن لیا کرتا تھا۔ اس کے بعد ٹیلی ویژن آیا اور سننے کے ساتھ دیکھنے کی سہولت بھی مہیا ہوگئی۔ انسان بہ چشم خود  خبر کو  دیکھنے اور سننے لگا۔  اس مرحلے میں  مالکین کا  اختیار اور مفاد کارفرما ہوگیا۔ وہ اپنی مرضی سے جو چاہتے دکھاتے اور جسے چاہتے چھپا دیتے تھے۔ کسی خبر کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے اور کسی کو نظر انداز کردیتے  تھے۔

 اس مشکل کا توڑ یہ نکلا کہ انٹر نیٹ کی مدد سے سماجی رابطے کے ذرائع عالم وجود میں آگیا۔ اس میں خبر دینے والے اور لینے والے کے درمیان کی کڑی غائب ہوگئی لیکن اسی کے ساتھ قابل محاسبہ  ذمہ داری  بھی ختم ہو   گئی اور جھوٹی خبروں کا سیلاب آگیا۔ اس  طرح سوشیل میڈیا جو کسی نہ کسی حدتک ٹی وی چینلس کے پروپگنڈے  کا مقابلہ کر سکتا تھا جعلی خبروں کے عذاب کا شکار ہوگیا۔  سوشیل میڈیا پر فیک نیوز کا شتربے مہار ہر طرف منہ مارتا پھرتا ہےجس سے اس کی اعتباریت  مشکوک ہوگئی۔ ایک سچ میں اس قدر جھوڑ ملا دیا جاتا ہے حق و باطل کا فرق باقی نہیں رہتا۔سماجی رابطے پر جھوٹی  خبروں کی فیکٹری لگی ہوئی ہے جہاں فیک نیوز بنائی اور پھیلائی  جاتی ہے۔ تصاویر کو ایک دوسرے پر چسپاں کرکے کچھ کا کچھ بنادیا جاتاہے۔ تصویرکے پیچھے کی  آواز کو بدل دیا جاتا ہے۔ افریقی کی تصاویر پر ہندوستان کے شہر کا نام لکھ کر اسے پھیلا دیا جاتا ہے۔

سوشیل میڈیا میں ایک شخص خبر کو گھڑتا ہے لیکن بے شمار لوگ اس کو دانستہ اور نادانستہ طور پر مشتہر کرتے ہیں۔  یعنی ایک شکاری کئی لوگوں کو اپنا شکار بناتا ہے جو اس کی طرف سے نت نئے لوگوں کو دامِ فریب میں گرفتار کرتے ہیں  اور  دیکھتے دیکھتے نفرت انگیز جھوٹ جنگل کے آگ کی مانند پھیل جاتا ہے۔ اس نئی مصیبت پر قابو پانے کے لیے لازم ہے کہ سچ اور جھوٹ کے فرق کو سمجھا جائے۔ خبروں کو آگے بڑھانے سے قبل تحقیق کی جائے۔ دودھ کا دودھ  اور پانی کا پانی کردیا جائےتاکہ شکاری کے چہرے پر پڑی نقاب الٹ جائے اور شکار اس کا تعاون کرنا چھوڑ دیں۔ شکاریوں کے اوپر سے عوام  کا اعتماد اٹھ جائے۔ اس کام کی بحسن خوبی کرنے کے لیے صبرو تحمل اور محنت و مشقت درکار ہے۔ مستقل مزاجی  اور حکمت و بصیرت کے ساتھ اگر یہ کام کیا جائے تو  بہ آسانی فسطائیوں کی کذب بیانی کا پردہ فاش کیا جاسکتا ہے۔

 خبروں کی ترسیل کوبارش اور ہوا کی مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ برسات ہورہی ہو تو اس سے بچاو کے لیے انسان چھاتا کھول لیتا ہے اور اسے سیدھا پکڑ کے چلتا ہے۔ اب اگر  تیز ہوا چلنے لگے تو بارش کا  منہ زورجھکڑ چھاتے کے اندر داخل ہونے لگتا ہے ایسے میں اپنے بچاو کی خاطر چھاتے کا رخ ہوا کے مخالف سمت کرنا پڑتا ہے۔    ہوا کبھی کبھار ا چانک اپنا رخ بدل دیتی ہے اور ایسے میں چھاتا الٹ کر بیکار ہوجاتا ہے۔ اس  مشکل صورتحال چھاتے کو سیدھا کرنے کی خاطر پھر سے ہوا کے مخالف سمت میں کرنا پڑتا ہے اور نتیجہ یہ  ہوتا  ہے کہ جس سرکش ہوا نے چھاتے کو الٹا تھا وہی اس کو سیدھا کردیتی ہے۔ یعنی ہوا کی جس قوت نے انسان کو نقصان پہنچایا تھا اسی سے فائدہ بھی اٹھایا جاسکتا ہے بشرطیکہ چھاتے کا رخ درست  رکھاجائے۔

امت مسلمہ میں سوچنے سمجھنے والوں کی ایک بڑی تعداد آج بھی اردو لکھتی، پڑھتی اور بولتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو میں کئی ایسے تجزئیے اور تبصرے شائع ہوتے ہیں جن کی بابت خواہش کا اظہار کیا جاتا ہے کہ کاش اس کا ترجمہ ہندی میں ہوتا اس لیے کہ ہندی کو ہندوستان کے اندر ایک کثیر آبادی پڑھتی،  لکھتی اور سمجھتی ہے مگر اردو پڑھنا نہیں جانتی۔ اس میں شک نہیں کہ  اردو اور ہندی بجا طور پر جڑواں بہنیں ہیں۔ اپنے تمام فرق کے باوجود اردو والوں کو ہندی اور ہندی والوں کو اردو کا مفہوم سمجھ میں آجاتا ہے لیکن رسم الخط  سے لاعلمی ترسیل کی راہ میں رکاوٹ  بن جاتی ہے۔ ایک زمانے میں راہی معصوم رضا نے اسی سبب سے اردو کو ہندی رسم الخط میں لکھنے کا نامعقول مشورہ دیا تھا جس کے نتیجے وقت کے ساتھ اردو کا سرزمین ہند میں نام و نشان ہی مٹ جاتا لیکن اردو دنیا نے اسے بجا طور پر مسترد کردیا۔

فی زمانہ  صوت و عکس ( ویڈیو) نےرسم الخط جاننے کی  مجبوری ختم کردی ہے۔ ہندی میں لکھا ہوا  پڑھا جائے تواردو والا سمجھ سکتا ہے اردو کی تحریر ہندی والے کے گوش گذار ہوسکتی ہے بلکہ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ لوگ ہندوستانی زبان کو رومن میں لکھ کر پڑھتے ہیں اور دونوں زبانوں کے سمجھنے والے اس  سے استفادہ کرتے ہیں۔ اردو کی مقبولیت کا اندازہ  جشن ریختہ میں شریک جم غفیر سے کیا جاسکتا ہے۔ سمع و بصر کی سہولت  اردو رسم الخط سے نابلد ہزاروں لوگوں وہاں لے آتی ہے۔  یہی بات ریختہ کی ویب سائٹ پر صادق آتی ہے کہ جہاں اردو ہندی اور رومن رسم الخط میں پڑھا جاسکتا ہے نیز الفاظ کے معانی بھی وہیں موجود ہوتے۔ اس خصوصیت نے ریختہ کو اردو سب سے زیادہ مقبول  ویب سائٹس میں شامل کردیا ہے۔  ذرائع ابلاغ میں اہلیان اردو کو اس نعمت کا فائدہ اٹھانا چاہیے  تاکہ جھوٹی خبروں اور گمراہ کن تجزیوں کا سدِ باب کیا جاسکے۔ یہ وقت کی ایک بہت بڑی ضرورت ہے۔ بروزِ قیامت    عکس و آواز  کے ابلاغ کی خاطرحاصل  ذرائع ووسائل  کے کماحقہُ استعمال سے متعلق بھی استفسارہوگا  اور یہ سوال ہمارے لیے باعث ثواب و عذاب دونوں بن سکتا ہے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close