سیاست

اف! یہ سیاستداں

ممتازمیر

کانگریس کے دور حکومت میںملک کی راجدھانی دہلی کو’’ریپ‘‘ کی بھی راجدھانی کہا جانے لگا تھا۔ اب سمارٹ انڈیا،  اسکل انڈیا اور اسٹارٹ اپ انڈیا والے مودی جی کے دور حکومت میں بی جے پی کی حکمرانی والی ہر ریاست زنا بالجبر(Rape) کے معاملے میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لئے جان لڑا رہی ہیں۔ اور کسی سے پیچھے نہ رہ جائیںاس کے لئے ان کے وزراء ان کے سنگھی ساتھی خود اپنی حکومتوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ اسی لئے جن دو ریاستوں کے ’’بلاتکار‘‘ میڈیا کو غذا فراہم کر رہے ہیں، دونوں ہی کا تعلق بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں سے ہے۔ دلچسپ اتفاق یہ کہ ایک جگہ سادھو وزیر اعلیٰ بنا بیٹھا ہے اور دوسری جگہ ایک مسلم خاتون وزیر اعلیٰ ہے۔ دونوں ہی ریاستوں میں یہ ’’اتیاچار‘‘ نہ ہونا چاہئے تھامگر یہ ہندوستان ہے۔

یہ عجیب بات ہے کہ جہاں ایک ہندو عورت سے گینگ ریپ کیا گیا وہاں مجرم کو گرفتار کروانے کے لئے کسی قسم کا کوئی احتجاج نہ کیا گیا۔  شاید اسلئے کے زانی اپنا ہی آدمی تھا۔ دوسری طرف ایک ۸ سالہ مسلم بچی کے ساتھ گینگ ریپ کیا گیا وہاں مجرموں کی حمایت مین نہ صرف قانون دانوں نے احتجاج کیا بلکہ ہندو تنظیمیں بھی سڑکوں پر اتر آئیں۔ شاید یہ بتانے کے لئے کہ مستقبل میں رام راج کیسا ہو سکتا ہے؟

ہم بحیثیت مسلمان دونوں واقعات کی یکساں شدت سے مذمت کرتے ہیں۔ مگر بہیمیت کے اعتبار سے جموں کی مسلم بچی کا واقعہ انسانیت کی سطح سے بہت۔ ۔ بہت گرا ہوا ہے۔ دونوں ہی واقعات مین بھگوے ملوث ہیں۔ پھر جموں کا واقعہ منصوبہ بند تھا۔ اسے ایک سازش کے تحت بروئے کارلایا گیا۔ اگر ملک میں ہر جگہ طاقتور کمزور کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرنے لگے تو مسٹر مودی کے انڈیا کو ان ممالک میں کیا کہا جائے گا جہاں وہ اکثر جاتے رہتے ہیں۔ ان سب باتوں کے باوجودمسٹر مودی مسٹر واجپائی کی طرح یہ کبھی نہیں کہیں گے کہ مین دنیا کو کیا منہ دکھاؤں گا؟اس کی تیاریاں انھوں نے وزیر اعظم بننے سے پہلے ہی کرلی تھیں۔

جموں کے ضلع کٹھوعہ کے ایک دیہات رسنا میں مسلمانوں کا ایک قبیلہ ہے بکروال جسے ہندو وہاں سے بھگانا چاہتے ہیں۔ متاثرہ آصفہ اسی سماج کی ایک ۸ سالہ بچی تھی۔ وہیں سنجی رام نام کا ایک ریٹائرڈ بیورو کریٹ بھی رہتا ہے جو کبھی ریوینیو آفیسر تھا۔ اس کی کبھی آصفہ کے والد کے ساتھ زمین کے تعلق سے تنازعہ ہو گیا تھا۔ یہ معاملہ بھی ویسا ہی ہے جیسا بڑے شہروں میں بلڈر زمینیں خالی کرانے کے لئے لوگوں کے  ساتھ کرتے ہیں۔ مگر کبھی کوئی اس طرح انسانیت کی سطح سے نہیں گرا جس طرح انڈیا کا ایک بیوروکریٹ گر گیا۔ یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس شخص نے اپنی ملازمت کے دوران کیا کیا ہوگا ؟ اس کی بھی چھان بین کی جانی چاہئے۔ جو شخص اپنے اختلافات کے سبب  خود اپنی اولاد کو جانور بنانے پر اتارو ہو جائے اس نے اپنی ملازمت کے دوران کیا کیا ہوگا اس کی تفتیش بہت ضروری ہے ؟اگرآپ Good Governance کے دعوے کرتے ہین تو۔ اگر آپ اپنے آپ کو ویلفیئر اسٹیٹ کہلواتے ہیں تو۔ ۔ انسان کے روپ مین جانور سنجی رام اپنے نابالغ بھتیجے کو تیار کرتا ہے کہ وہ ۸ سالہ آصفہ کو اغوا کرکے اس کی عصمت دری کرے۔ اس مقصد کی خاطر وہ اور اس کا ایک دوست بازار سے مدہوش کرنے والی دوائیں خرید تے ہیں۔ ۱۰ جنوری کو جب آصفہ اپنے گھوڑوں کو تلاش کر رہی تھی اسے سنجی رام کا بھتیجہ اور اس کا دوست(دونوں نابالغ)یہ جھوٹ بول کر جنگل میں لے جاتے ہیںکہ اس کے گھوڑے جنگل میں دیکھے گئے ہیں۔ یہ دونوں اسے جنگل میں لے جا کر مدہوش کرتے ہیں اور اس کی عصمت دری کرتے ہیں۔ پھر اسے مندر میں بند کردیتے ہیں۔ پھر یہ نابالغ بھتیجہ سنجی  رام کے لڑکے وشال جنگوترا کو میرٹھ فون کرکے کہتا ہے کہ زنا کرنا ہے تو فوراً یہاں پہونچو۔ وشال رسنا پہونچتا ہے۔ ادھر سنجی رام Special Police Officer  دیپک کھجوریا اور سرندر کمار کو ڈیڑھ لاکھ کی رشوت دے کر معاملہ رفع دفعکرنے کے لئے تیار کرتا ہے پھر یہ سب مل کر  مندر جاتے ہیں جہاں آخری بار پھرسب مل کر باری باری بچی کی عصمت دری کرتے ہیں۔ پھر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اب اسے مار دیا جائے ۱۵ جنوری کو اسے مار کر جنگل میں پھینک دیا جاتا ہے۔ جہاں سے ۱۷ جنوری کو اس کی لاش ایک مقامی آدمی کو ملتی ہے۔ (این ڈی ٹی وی آن لائن) مسلمانوں کو ۵ اور ۲۵ کا طعنہ دینے والوں کا دروپدی کی روایت سے عشق کا حال دیکھئے۔ شکر ہے کہ یہ مہذب دنیا میں جی رہے ہیں ورنہ یہ اب بھی دروپدی کے ’’وسترہرن‘‘ سے نہ ڈریں۔

 خیر اس کے بعد پولس کاروائی شروع ہوتی ہے۔ پولس تفتیش کرتے ہوئے مجرمین تک پہونچتی ہے تو بھگوے اپنے بھگوا بھائیوں کو بچانے کیلئے میدان میں کود پڑتے ہیںاور اب قریب ۳ ماہ بعد میڈیا کی مزہ ہوجاتی ہے۔ میڈیا کو ہفتوں کا مسالہ میسر آجاتا ہے۔ ادھر مجرمین کو بچانے کے لئے تمام ہندو وکلاء میدان میں آجاتے ہیں۔ پھر مختلف ہندو تنظیمیں بھی اپنا رول ادا کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ جموں و کشمیر کے بی جے پی وزرا بھی خم ٹھونک کے ان کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ مگر عوامی دباؤ کے باوجود وہ اپنی کارستانیوں پر شرمندگی کا اظہار نہیں کرتے بلکہ اپنے بھائیوں کی مدد نہ کرپانے پر استعفیٰ دے دیتے ہیں۔ یہاں بھی وہ مکاری سے کام لیتے ہیں۔ وہ استعفیٰ وزیر اعلیٰ کو نہین دیتے۔ اپنی پارٹی ہائی کمان کو دیتے ہیں۔

اس پورے واقعے کو بار بار پڑھئے اور سوچئے کہ ہر طرح کے معاملے مسلمانوں کے سر منڈھنے والے بھگوؤںکا حال کیا ہے؟زرا اور  گہرائی میں جا کر سوچیں تو یہ بھی سمجھ میں آجائے گا کہ وہ اپنے ہر کارنامے کا سہرا مسلمانوں کے سر کیوں باندھتے ہیں؟اس لئے کہ جو کام وہ خود کرتے ہین،  شک کی سوئی ان کی طرف نہ گھومے اس لئے وہ پہلے ہی سے مسلمانوں کے خلاف شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر مودی حکومت نہ آتی اور ان میںکپڑے پھاڑ کر باہر نکلنے کا شوق نہ پیدا ہوتا تو اب تک کم سے کم ہندو عوام کی آنکھوں پر تو پردہ پڑا رہتا۔

کانگریس نے تو انھین بڑی خوبی سے چھپا رکھا تھا۔ اب دھیرے دھیرے ہندو عوام سمجھنے لگی ہے کہ اصل گنہگار کون ہے؟  ایک بار پھر سوچئے کے اس واقعے سے اصل نقصان کس کا ہوا؟ہندؤں کا یا مسلمانوں کا؟مسلمان تو صدیون سے نقصان اٹھارہے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کے اعمال کے نٹائج ہیں۔ پھر وہ غالب نہیں مغلوب قوم ہیں۔ مگر ہندؤں کا کیا؟جو لوگ ایک محدود خطے کا چند روزہ اقتدار ملنے پراس طرح انسانیت سے گر جائیںوہ سپر پاور بننے پر کیا کریں گے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہندو مذہب کا امیج کیا بن رہا ہے ؟مودی جی نے کہا ضرور ہے کہ قوم کی ہر بیٹی کو انصاف ملے گا مگر ہمیں ہرگز ہرگز یقین نہیں۔ کیونکہ جو شخص پورے ملک کے دباؤ کے باوجود خود اپنی بیوی سے نا انصافی کر رہا ہو وہ دوسروں کے ساتھ انصاف کس طرح کر سکتا ہے۔ اگر اپنے دھرم کو بچانا ہے تو ہندو عوام کو خود اس کے لئے کمرکسنی ہوگی۔

آخری با ت کشمیری عوام سے بھی کرلیں۔ انسان کو دنیا مین ہر حق نہیں ملتا۔ مگر جو حق آپ کو مل رہا ہے اس کا بھی تو آپ درست استعمال نہیں کر رہے ہیں۔ موجودہ بے شرم و بے غیرت حکمرانوں کو بھی تو آپ ہی نے منتخب کیا ہے۔ ہمیں تو لگتا ہے کہ جو کچھ معصوم آصفہ کے ساتھ ہوا ہے وہی اگر بی جے پی والے محبوبہ مفتی کے ساتھ کریں تب بھی وہ عزت و آبرو کا حساب کتاب کرنے کی بجائے سیاسی نفع و نقصان کا سوچیں گی۔ ان حالات مین ہماری نیشنل کانفرنس کے باپ بیٹوں سے گذارش ہے کہ وہ پی ڈی پی کو باہر سے غیر مشروط حمایت دے کر  بی جے پی سے پیچھا چھڑائیں۔ ورنہ ہم یہ سمجھیں گے کہ وہ بھی برابر کے بے غیرت ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close