سیاست

الہ آباد کو اب سابق الہ آباد لکھا جائے گا

حفیظ نعمانی

اُترپردیش کی حکومت نے دھرم کا ایک بہت بڑا قرض اُتار دیا یعنی الہ آباد کا نام بدل کر پریاگ راج کردیا۔ حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس کا نام ہمیشہ سے پریاگ راج ہی تھا مسلمانوں نے اس کا نام تبدیل کردیا تھا۔ اس شہر میں گنگا جمنا اور سرسوتی کا سنگم ہوتا ہے جسے پریاگ راج کہا جاتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ الہ آباد اسٹیشن اور یونیورسٹی کا نام بھی اب تبدیل کردیا جائے گا۔

یہ تبدیلی مغل سرائے اسٹیشن جیسی سادہ نہیں ہے الہ آباد ایک طرح سے ریاست کا لکھنؤ کے بعد دوسرا مرکزی شہر سمجھا جاتا ہے ہائی کورٹ بھی الہ آباد میں ہے اور اس کی ایک شاخ جسے بینچ کہا جاتا ہے لکھنؤ میں ہے۔ پبلک سروس کمیشن اور ایجوکیشن کے علاوہ نہ جانے کتنے دفتر ہیں جو صوبائی ہیں اور الہ آباد میں ہیں۔ سرکاری ملازموں کے بارے میں عام شہرت ہے کہ وہ کام نہ کرنے کا بہانہ ڈھونڈتے ہیں اب اس اور اتنی بڑی تبدیلی کے بعد نہ جانے کتنے دفتر ہوں گے جہاں ملازم ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہوں گے کہ کیسے کریں اور کیا کریں؟

جو لوگ کام نہیں کرپاتے یا انہیں کام کرنا نہیں آتا وہ ایسی ہی کلاکاری کرکے عوام کی زبان بند کرتے ہیں یوگی سرکار کو دو سال ہونے والے ہیں انہوں نے حلف لینے کے بعد سب سے پہلے حکم دیا تھا کہ پوری ریاست میں جتنی سڑکیں ہیں ان میں جتنے گڈھے ہیں وہ فوراً بھردیئے جائیں۔ اور دو مہینے کے بعد یہ خبر بھی چھپ گئی تھی کہ 80 فیصدی گڈھے بھر گئے اور بعد میں یہ شور بھی آپ نے سنا ہوگا کہ گڈھوں کے نام پر ٹھیکیداروں نے اور انجینئروں نے اپنی اپنی جیبیں بھرلیں اور گڈھے بجائے بھرنے کے اور بڑے ہوگئے۔

اب یوگی مہاراج کے سامنے یہ سوال ہے کہ دو سال میں انہوں نے کیا کیا کیا بنایا؟ جواب دینے کو اُن کے نامۂ اعمال میں کچھ نہیں ہے اب وہ سینہ تان کر کہیں گے کہ ہم نے مغل سرائے کا نام دین دیال اُپادھیائے اسٹیشن کردیا اور الہ آباد کا نام پریاگ راج کرکے دونوں کو تلک لگاکر ہندو بنا لیا یا یوں کہا جائے کہ ان کو گھر واپس لے آئے۔ اور یہ اس لئے ضروری تھا کہ اردھ کمبھ ہونے والا ہے جس میں کروڑوں ہندو آئیں گے وہ ٹکٹ لیتے وقت الہ آباد کہنے کے بجائے پریاگ راج کا ٹکٹ خریدیں گے۔ ہم نے انتظام کردیا کہ ان کے نام سے الہ نہیں نکلے گا۔ جو کام چار سال میں وزیراعظم نریندر مودی نے کیا کہ ملک کو تو کنگال کردیا لیکن ہندو کو یہ سمجھا دیا کہ اب ہندوستان میں ہندو کی حکومت ہے اور یہ بات تو آزادی کی لڑائی میں جب انگریز کہتے تھے کہ ہم چلے جائیں گے تو تم کیا پہنوگے کیونکہ کپڑا تو ہم اپنے ملک سے منگواتے ہیں اور وہ سب چیزیں کہاں سے لاؤ گے جو لندن سے آتی ہیں اور تم عیش کرتے ہو تو جواب دیا جاتا تھا کہ ہم ہوا کھالیں گے پانی پی لیں گے لیکن حکومت ہماری اپنی ہوگی۔
مودی جی کے چار سال میں شہر میں رہنے والے ہر ہندو کو یقین آگیا کہ حکومت اب ہماری ہے۔ وہ کانوڑیے جو ہر سڑک پر دھتکارے جاتے تھے اب اترپردیش میں وہ جب غنڈہ گردی کرتے ہوئے چلتے ہیں تو پولیس کے اعلیٰ افسر ہیلی کاپٹر سے ان کے اوپر پھول برساتے ہیں۔ تہوار کوئی بھی ہو ہندوؤں کے جلوس ضرور نکلتے ہیں اور جان بوجھ کر جن علاقوں میں مسلمانوں کی دکانیں ہوتی ہیں ان کے سامنے سے جے شری رام اور وندے ماترم کے نعرے لگاتے ہوئے گذرتے ہیں۔

ہم حیران ہیں کہ ہندو دانشوروں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ خود بھی زبان بند کئے بیٹھے ہیں اور ہندو عوام کو بھی نہیں سمجھاتے کہ اگر روز جلوس نکلنے لگے یا روز گلال اُڑنے لگا یا روز کسی نہ کسی مورتی کو دریا میں بہایا جانے لگا تو تمہیں وہ کیا ملا جو پہلے تمہارے پاس نہیں تھا۔ یہ ضرور ہے کہ پہلے بھی سب کچھ تھا لیکن تمیز کے ساتھ تھا اور تہذیب کے دائرہ میں مہذب ہاتھوں میں تھا لیکن سب کچھ تھا اور 15 اگست 1947 ء کی رات کے 12 بجے کے بعد سے تھا جس کا اس سے بڑا کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ وہ اُردو جس زبان میں آزادی کی پوری لڑائی لڑی گئی اسے 16 اگست کو ہندوستان میں غیرملکی زبان قرار دے دیا گیا اور کانگریس نے کیا۔ کروڑوں مسلمانوں کے ساتھ سیکڑوں وہ ہندو جن کا اُردو دنیا میں ڈنکا بجتا تھا اور جو بڑے سے بڑے وزیر کے ساتھ آزادی کی لڑائی لڑچکے تھے ان کی بھی پہلے صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرساد اور پہلے وزیراعظم پنڈت نہرو نے بھی نہیں سنی حکومت کانگریس کی تھی اور کانگریس کے کئی اہم لوگ اردو کی لڑائی لڑتے رہے لیکن کسی نے نہیں مان کردیا۔ اب جو اُردو ہے اس کی حیثیت ایسی ہے جیسی دوسرے ملکوں کی زبان فارسی اور عربی کی ہے۔

باشعور ہندوؤں کو بے وقوف بننے کے بجائے یہ دیکھنا چاہئے کہ وزیراعظم نے 2014 ء میں جتنے وعدے کئے تھے اور جتنے خواب دکھائے تھے ان میں سے کوئی ایک بھی پورا کیا؟ انہوں نے اس کا اشارہ بھی نہیں کیا تھا کہ وہ کالے دھن کی تلاش میں نوٹ بندی کریں گے یا ایک ملک ایک ٹیکس کے فارمولہ پر عمل کریں گے۔ انہوں نے تو یہ کہا تھا کہ 50 روپئے سے کم میں ایک ڈالر ملے گا اور 35 روپئے لیٹر پیٹرول اور ڈیزل ملے گا کوئی نوجوان بے روزگار نہیں رہے گا ہر داغی ممبر وہ لوک سبھا کا ہو یا اسمبلی کا جیل میں سزا کاٹ رہا ہوگا۔ سونیا گاندھی کے داماد بدعنوانی کے الزام میں جیل میں ہوں گے اور بھارت کو بھرشٹاچار مکت اور گھوٹالہ مکت بنایا جائے گا۔ لیکن یہ نہیں کہا تھا کہ اگر امت شاہ کا بیٹا 50 لاکھ کے 80 کروڑ بنا لے گا یا انل امبانی دو ہفتہ پہلے ایک کمپنی بناکر حکومت کی 60 برس پرانی تجربہ کار کمپنی کے مقابلہ میں بازی مار لیں گے تو یہ نہ بھرشٹاچار ہوگا نہ گھوٹالہ۔ اور ان سب پر خاک ڈال کر ملک کی آدھی دولت اردھ کمبھ کے اشنان میں بہادی جائے گی۔

آزادی کے بعد کانگریسی حکومتوں نے لکھنؤ کی نہ جانے کتنی سڑکوں کے نام بدلے جو لکھنؤ میں رہتے ہیں وہ بھی اور باہر سے آنے والے بھی جانتے ہیں کہ لاٹوش روڈ اور وکٹوریہ اسٹریٹ آج بھی اس نام سے جانی جاتی ہیں بعض پارکوں کے نام ضرور بدلے تو عوام نے اسے قبول کرلیا۔ شہروں کے یا سڑکوں کے نام وہی رہیں یا تبدیل کردیئے جائیں اس سے کوئی فرق اس لئے نہیں پڑتا کہ کسی عمارت یا سڑک یا پارک کا جو نام ہوتا ہے وہ اس کی پہچان ہوتی ہے اس کا مطلب اور معانی کوئی معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ الہ آباد برسوں الہ آباد ہی کہا جائے گا اور سمجھا جائے گا یہ ضرور ہے کہ تمام سرکاری کارندوں کو برسوں کا کام مل گیا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close