سیاست

الیکشن اورہماری ذمہ داریاں

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

الیکشن کابگل بج چکاہے، تاریخیں پڑچکی ہیں، ۱۱؍اپریل سے لے کر۱۹؍ مئی تک سات مراحل میں ہوناطے ہوچکاہے، ۲۳؍ مئی کوگنتی ہوگی اورملک ہندوستان کی قسمت کافیصلہ ہوجائے گا، یہ الیکشن کوئی پہلی بارنہیں ہورہاہے، اس سے پہلے اس ملک میں سولہ بار الیکشن ہوچکے ہیں ؛ لیکن اس الیکشن کے اندرجواندیشے، خوف، ہراس، امید، قنوط اوررجاکی ملی جلی کیفیت ہے، وہ اس سے پہلے کبھی نہیں پائی گئی اوراس کی بنیادی وجہ مسندپرجلوہ افروز افرادکاوہ تیورہے، جودوہزارچودہ (۲۰۱۴ء) کے بعدسے تسلسل کے ساتھ نظر آرہاہے، کہنے کوتویہ ملک جمہوری؛ بل کہ خریطۂ عالم کاایک بڑاجمہوری ملک ہے؛ لیکن یہاں جمہوریت کے نام پروہ گل کھلائے گئے، جس کی مثال کسی دوسری جمہوری ملک میں نہیں مل سکتی، جس کی تفصیل کی چنداں ضرورت نہیں، یہاں توبات اس سلسلہ میں کی جائے گی کہ دوہزارانیس(۲۰۱۹ء) کے الیکشن میں ہمیں کیاکرناچاہئے؟

اس سلسلہ میں بات شروع کرنے سے پہلے یہ جاننا ہمارے لئے ضروری ہے کہ ایک جمہوری ملک میں الیکشن کی حیثیت کیاہے؟ جمہوراکثریت کوکہتے ہیں، اس سے خود بخودیہ مطلب واضح ہوگیاکہ جمہوریت میں بات اکثریت کی چلتی ہے، اگرچہ کہ وہ عقلی اعتبارسے غلط ہو، اسی کی طرف اشارہ علامہ اقبالؒ نے کیاہے:

جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کوگناکرتے ہیں، تولانہیں کرتے

جمہوری ملک میں جس کی اکثریت ثابت ہوجاتی ہے، زمام حکومت پر کنٹرول اسی کا ہوتاہے، خواہ یہ اکثریت جس طرح سے بھی ثابت ہوسکے، گویاجمہوری ملک میں الیکشن کے ذریعہ پورے ملک کے باشندوں کی قسمت کافیصلہ کیاجاتاہے کہ تمہیں اکثریت کے ساتھ چلناہوگا، تمہاری سوچ اکثریت کی سوچ ہونی چاہئے، تمہارالباس اکثریت کالباس ہوناچاہئے، تمہارخوراک اکثریت کی خوارک ہونی چاہئے، اکثریت جوچاہے کرسکتی ہے، اس کے لئے کسی قسم کی کوئی گرفت نہیں، کسی بھی معاملہ اگرخدانخواستہ گرفت ہوبھی جائے تواکثریت اس کے ثبوتوں کومٹاسکتی ہے اورکوئی مائی کالال چوں سے چراں تک نہیں کرسکتا، یہ ہے جمہوریت کی تعریف اس وقت ہمارے ملک میں !

ایسے جمہوری ملک میں ووٹ کی بڑی اہمیت ہے، اس کے ذریعہ سے ہم بھی افرادی قوت کامظاہرہ کرسکتے ہیں، ہم بھی اس بات کااہل بن سکتے ہیں کہ اپنی بات حکومت کے سامنے رکھ سکیں، ہم بھی کوشش کرسکتے ہیں کہ اپنے تمام ترحقوق کے ساتھ جی سکیں، ایک جمہوری ملک میں سانس لینے کی جوآزادی دی گئی ہے، ہم بھی اس کے ذریعہ سے آزادی کے ساتھ سانس لینے کے مستحق بن سکتے ہیں، ایک جمہوری ملک میں مذہب پرعمل کی جوآزادی دی گئی ہے، ہم بھی اس کے ذریعہ سے مذہب پرعمل کرنے والے بن سکتے ہیں ؛ لیکن اس کے لئے چندباتوں پرعمل ضروری ہے:

۱-  اتحاد:سب سے پہلی چیز اس سلسلہ میں یہ ہے کہ ہم اپنے اندراتحاد پیداکریں، جب ہماراخداایک ہے، رقول ایک ہے، قرآن ایک ہے، دین ایک ہے توپھرہم ایک کیوں نہیں ہوسکتے؟ ہم ایک ہوسکتے ہیں، بس اس کے لئے ہم سے ہرایک اپنے اندردوسرے کوبرداشت کرنے کی سکت پیداکرے، ستاروں کی طرح اگرہم بکھرے رہے توالیکشن میں ہم کوئی رول ادانہیں کرسکتے؛ لیکن اگریک جٹ ہوکرسورج بن جائیں تواہم رول اداکرسکتے ہیں :

ایک ہوجائیں توبن سکتے ہیں خورشید مبیں

ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیابات بنے

اس موقع سے ہمیں یہ یادرکھنے کی ضرورت ہے کہ اختلافات اپنی جگہ پرقائم رہیں گے، ہوسکتاہے کہ ہم میں بہت سارے ایسے ملیں، جوایک دوسرے سے سلام تک کرناگوارانہ کریں، اگراتفاقاً مل بھی جائیں تومنھ ایسے پھیرلیں، جیسے سامنے والا خطرناک قسم کی بیماری میں مبتلاہو؛ کیوں کہ یہ ایک انسانی مزاج ہے کہ ہرایک رائے الگ ہوتی ہے؛ لیکن کم ازکم قومی، ملی وملکی معاملات میں ہمیں ایک ہوناچاہئے، یہی ہمارے ملک کے حالات کاتقاضاہے، دشمن توہمیں ایک دوسرے سے جداکرنے کی ہرممکن کوشش کرے گا؛ لیکن ہمیں یہ سمجھناہے کہ جس طرح ایک باپ کے بیٹوں کے درمیان چپقلش ہوتی ہے، جھگڑے ہوتے ہیں، ہاتھاپائی سے بڑھ کرلات گھوسوں اورلاٹھی ڈنڈوں تک کی نوبت آجاتی ہے؛ لیکن دوسراجب کسی معاملہ میں ایک بھائی پرچڑھنے کی کوشش کرتاہے توایک باپ کے سارے بیٹے ایک باپ کے بن جاتے ہیں، ہمیں بھی ویساہی بن جاناہے، حضرت علیؓ اور حضرت امیرمعاویہؓ کے مابین نزاع کاوقت ہے، موقع کافائدہ اٹھاکررومی حاکم حضرت امیرمعاویہؓ کے پاس خط بھیجتاہے کہ اگرآپ چاہیں توہم آپ کے حریف(علیؓ) کے خلاف آپ کی مددکے لئے تیارہیں، حضرت امیرمعاویہؓ نے جواب دیا: اورومی ملعون! اگرعلیؓ کی طرف نگاہ بھی اٹھاکردیکھا تومجھے ان کی فوج کاادنی سپاہی بن کرلڑتے ہوئے پاؤگے۔

ہم بھی انھیں کے توبیٹے ہیں، کیاہم بھی اس وسعت قلبی کامظاہرہ نہیں کرسکتے؟ یقیناً کرسکتے ہیں، بس تھوڑی سی ہمت اورتھوڑاساتحمل پیداکرنے کی ضرورت ہے، کاش ! قومی وملی فائدے کوسامنے رکھتے ہوئے ہم متحدہونے کوشش کرلیں۔

۲-  ووٹنگ میں شرکت: دوسری بات یہ کہ ہم میں سے ہروہ شخص، جس کانام ووٹرلسٹ میں موجودہے، ووٹ ڈالنے کویقینی بنائے، بل کہ آج کے موجودحالات میں بالخصوص ہمارے ملک میں ووٹ ڈالنے کوایک ملی فریضہ تصورکرے، عموماً ہوتاہے یہ کہ ہم میں سے بہت ساروں کے نام ہی نہیں ہوتے اورجن کے نام ہوتے ہیں، ان میں آدھے غائب رہتے ہیں، اورجوآدھے ووٹ ڈالتے ہیں، وہ ’’باغباں بھی خوش رہے، راضی رہے صیادبھی‘‘ پرعمل کرتے ہوئے ان تمام کنڈیٹ کوتقسیم کرکے ووٹ دیتے ہیں، جوان کے علاقہ سے مسلمانی نام کے ساتھ کھڑاہواہے، جس کانتیجہ ’’نہ خداہی ملا، نہ وصال صنم‘‘ ہوتاہے، لہٰذا جن کے نام ووٹرلسٹ میں شامل ہیں، وہ ایک دن مشقت برداشت کریں اورووٹ ضرورڈالیں۔

۳-  ووٹ کے لئے فردکاانتخاب: تیسراکام ہمیں یہ کرناہے کہ اس فردکاباہمی مشورہ کے ساتھ انتخاب کریں، جسے ووٹ دیناہے، پھریک جٹ ہوکراسی فردکوووٹ دیں، خواہ وہاں پرکئی کئی مسلمان ہی کیوں نہ کھڑے ہوں، یوپی الیکشن میں دیوبندمیں بی جے پی کامیاب ہوئی، اس کی بنیادی وجہ ووٹ کی تقسیم تھی، یہاں بی جے پی کی طرف سے برجیش کھڑاہوا، جسے 102244ووٹ ملے، جب کہ اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کی طرف سے ماجدعلی(بی ایس پی سے)، معاویہ علی(ایس پی سے)، عمرنواز(آئی این ڈی) اورظہیرفاطمہ (آئی این ڈی)سے کھڑے ہوئے، ماجدعلی کو72844، معاویہ علی کو55385، عمرنواز کو415اورظہیرفاطمہ کو239ووٹ ملے، یعنی مسلمانوں کے ووٹ کے چار ٹکڑے ہوگئے، اگران میں صرف کسی ایک کوووٹ دیاجاتاتویقیناً کامیاب وہی ہوتا، اگرماجدعلی اورمعاویہ علی کے حاصل کردہ ووٹ کوجمع کرلیں تو128229ہوتے ہیں، ظاہرہے کہ کامیابی انھیں کوملتی؛ اس لئے ووٹ کے لئے فردکاانتخاب ضرورکرلیں ؛ تاکہ ووٹ تقسیم نہ ہواورکوئی حتمی رول ہم اداکرسکیں۔

۴-  نوٹ فارووٹ سے پرہیز:  روپے پیسے آنے جانے والی چیزہے، اس کے چکر کبھی بھی نہیں پڑناچاہئے، آج کل امیدوارووٹ کے لئے نوٹ تقسیم کرتے ہیں، ایک آدمی کواگرایک ووٹ کے بدلہ پانچ سوروپے دے بھی دئے توان کاکچھ نہیں بگڑے گا؛ لیکن آپ کاضروربگڑے گا، پانچ سوروپے کتنے دن چلیں گے؟ لیکن ووٹ توپورے پانچ ساتک چلے گا، اورپانچ سال تک وہ آپ کی طرف نگاہ اٹھاکربھی نہیں دیکھے گا؛ بل کہ آپ کووہ فنڈ بھی دینے کے لئے تیارنہیں ہوگا، جوحکومت نے آپ کے لئے مختص کررکھے ہیں ؛ اس لئے پیسوں کی لالچ میں ہرگز نہ آئیں ؛ بل کہ اگرکوئی پیسہ دینے کے لئے آئے تواسے ماربھگائیں۔

۵-  کام اورفکردیکھئے:  ووٹ دیتے وقت سب سے پہلے ایسے امیدوارکودیکھئے، جس نے واقعتاً عوام کے لئے کام کیاہو اورآج کے زمانہ میں یہ بھی دیکھئے کہ اس کی سوچ اورفکرکیاہے؟ منفی سوچ رکھنے والوں کونظرانداز کیجئے، مثبت سوچ رکھنے والوں کوسپورٹ کیجئے؛ کیوں کہ اگرسوچ منفی ہوگی تواس کاکام اسی سوچ کے مطابق ہوگااوراگرسوچ مثبت ہوگی تواس کے کام کی نوعیت تعمیری ہوگی؛ اس لئے خوب غوروفکرکے بعدامیدوارکوچنئے۔

۶-  نچلے طبقہ کواپناہم نوابنایئے: ہمارے ملک کے اندرایک اہم کام یہ بھی کرنے کی ضرورت ہے کہ ان ذاتوں اورطبقوں سے گھل مل جائیں، جن کونچلا سمجھاجاتاہے اوران تک ووٹ کے سلسلہ میں اپنی فکرپہنچایئے، وہ بھی ووٹ کے سلسلہ میں بے شعورہیں، انھیں بھی باشعوربنانے کی ضرورت ہے، وہ بھی پیسوں کے بدلہ ووٹ دیتے ہیں، ان کواس برائی سے آگاہ کیجئے۔

اگرہم نے ان پراوران جیسے امورپرغورنہیں کیاتووہی ہوگا، جوماضی میں ہوچکاہے اوران باتوں کی طرف توجہ دینے کے نتیجہ میں ان شاء اللہ ہماری سوچ کے مطابق نتیجہ آئے گا، پہلے عمل کرنے کی ضرورت ہے، پھرتقدیرپربھروسہ کرناہے، عمل کے بغیرتقدیرپربھروسہ نہیں کرناچاہئے، ووٹ کی تاریخیں نکل چکی ہیں، وقت بہت کم ہے اورکام بہی زیادہ، جوافرادمعاشرہ میں باحیثیت سمجھے جاتیں ہیں، وہ جلداس سلسلہ میں فکرکریں، ورنہ تاریخ کے گم گشتہ اوراق میں ہمارے نام کااندراج تک ہوسکے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close