سیاست

الیکشن جیتنے کا گھٹیا مہرہ

جن لوگوں کا بھی اس ملک کی تعمیر و تشکیل نو میں کرداررہا ہے ان پر انگشت نمائی کرنا میرے نزدیک انتہائی گھٹیا اور بے وزن بات ہے۔

 وصیل خان

قصہ یہ ہے کہ کہیں ایک شوہر جو نہایت بدمزاج اور جھگڑالوتھا، دن رات اسی فراق میں رہتا کہ کسی طرح اپنی بیوی پر الزام تراشی کرے ا ور اسے مارے پیٹے اس کی عادت سے بیوی پریشان رہتی لیکن شب وروز ایسے ہی گزر رہے تھے ایک دن وہ صبح سے موقع کی تلاش میں تھا لیکن نہ مل سکا بالآخر رات ہوگئی، بیوی نے اس کا پلنگ آنگن میں ڈال دیا وہ لیٹا اورسوچنے لگا کہ آج تو موقع ہی نہیں مل سکا تبھی اچانک ایک ترکیب اس کے ذہن میں کوندی ، اس وقت آسمان پر ستارے چھٹکے ہوئے تھے کہکشاؤں کا ہجوم تھا ایسا معلوم ہورہا تھا کہ جیسے کوئی صاف ستھرا راستہ دور تک چلا گیا ہو، اس نے یہ روایت بھی سن رکھی تھی کہ اللہ کے رسول ؐاسی راستے سے معراج کیلئے تشریف لے گئے تھے بس کیا تھا اسے جھگڑنے کا ایک جواز مل گیا، اس نے چیختے ہوئے بیوی کو آواز دی کہ تم نے میرا بستر اس راستے کے ٹھیک نیچے کیوں لگادیا اگر اس رستے سے کوئی سواری گزرے اور مجھ پر گرپڑے تو، پھر اٹھا اور بیوی کی پٹائی شروع کردی۔

آج ٹھیک یہی صورتحال ہمارے ملک کی ہے ہندتو وادی جماعتیں مسلم اقلیتوں کو ہراساں کرنے کیلئے نت نئے بہانے تلاش کرتی رہتی ہیں، موجودہ حکومت بھی آنکھیں بند کرکے ان کی پشت پناہی کرتی ہے اور خاموش رہ کر ان کے حوصلے بڑھاتی ہے۔ بابری مسجد کا مسئلہ عدالت میںہے اور عنقریب اس کی شنوائی ہونے والی ہے فاشسٹ طاقتیں اس مسئلے میں بھی اپنی مرضی ٹھونس رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ عدالت کا فیصلہ کچھ بھی ہو مندر کی تعمیر بہر صورت وہیں ہوگی۔ گئوکشی کے مسئلے کو لے کر آئے دن مسلم نوجوانوں کو ہلاک کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کچھ نہیں تو طلاق کا مسئلہ ہی سہی جو خالص مذہبی معاملہ ہے  اس میں مداخلت بے جا کرکے پارلیمنٹ میں بل پاس کروالیا گیا لیکن راجیہ سبھا میں ناکامی کےبعد اب آرڈی نینس کی تیاری ہورہی ہےجبکہ دستور ہندنےمذہبی معاملات میں ہر ایک کو یہ آزادی دی ہے کہ وہ اپنے مذہبی معاملات پرسنل لاکے تحت حل کریں، یہ تنازعات موقع بموقع اٹھائے جاتے رہتے ہیںتاکہ جمہوریت کوشرمندہ کیا جاسکے۔ سردست علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو نشانے پر لے لیا گیا ہے اور وہاں محمد علی جناح کی تصویر کو لے کر زبردست ہنگامے جاری ہیں۔

مقامی بی جے پی ایم پی ستیش گوتم، ہندتوا واہنی اور اے بی وی پی کے ذریعے وہاں کے حالات انتہائی سنگین بنادیئے گے ہیں کافی طلبازخمی ہوئےاور کئی دنوں سے تعلیمی سلسلہ منقطع ہے۔ تاریخ وہی رہتی ہے جوکہ ہے اسے جھٹلایا نہیں جاسکتا یہ محض تاریخ کو الٹنے اور محمد علی جناح کے متعلق پختہ سچائیوں کو جھٹلانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جناح بیسویں صدی کی ابتدائی تین دہائیوں میں اس جناح سے بالکل الگ تھے بعد میں وہ قائد اعظم کہلائے گئے پہلے وہ کانگریس کے انتہائی اہم اور فعال رکن تھے اور کانگریس سے ان کا رشتہ بے حد قدیم اور مستحکم تھا وہ ہندومسلم اتحاد کے حامی تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی ابتدائی عملی زندگی اور کارناموں سے متاثر ہوکر تحریک آزادی کی سرگرم رکن اور آزاد ہندوستان کی اولین گورنر سروجنی نائیڈونے انہیں ہندومسلم اتحاد کا سفیر قرار دیا تھا۔ ۲۰۰۵میں جب لال کرشن اڈوانی جناح کے مزار پر پہنچے تو وزیٹر بک میں اپنے تاثرات تحریر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’بہت سے لوگ دنیا میں گزرے ہیں جنہوں نے تاریخ میں اپنے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں مگر ایسے چند ہی افراد ہوں گے جنہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے تاریخ بنائی ہو، محمد علی جناح ایسے ہی منفرد اور نایاب لوگوں میں سے ایک ہیں۔ گیارہ اگست ۱۹۴۷ کو انہوں نے پاکستانی اسمبلی میں خطاب کیا وہ ایک ایسے جمہور ی ملک کا کلاسک اور طاقت ور نمونہ تھے جہاں ہر انسان کو اپنے مذہب پر مکمل آزادی کے ساتھ عمل کرنے کی آزادی دی گئی۔

 اسی خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان ایک ایسی ریاست ہوگا جہاں مذہب کی بنیاد پر کسی فرقے کو دوسرے پر کوئی برتری نہیں حاصل ہوگی اور ہر کوئی اپنےاپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کیلئے آزاد ہوگا۔ میں ایسے عظیم انسان کو احترام کے جذبات کے ساتھ خراج عقیدت پیش کرتا ہو ں۔ ‘‘فکر انگیز بات یہ بھی ہے کہ صرف بی جے پی کے مارگ درشک اڈوانی ہی جناح کے تعلق سے ایسی سوچ نہیں رکھتے بلکہ اترپردیش کی موجودہ حکومت کے کابینی وزیر بھی ایسی ہی فکر کے حامل ہیں۔ لیبر منسٹر سوامی پرسادموریہ نے بھی جناح کو ’’عظیم انسان ‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی ریمارک دیا ہے کہ ’’ جن لوگوں کا بھی اس ملک کی تعمیر و تشکیل نو میں کرداررہا ہے ان پر انگشت نمائی کرنا میرے نزدیک انتہائی گھٹیا اور بے وزن بات ہے۔ ‘‘

جناح پر ایک الزام یہ بھی لگایا جارہا ہے کہ وہ دو قومی نظریہ کے بانی تھے یہ الزام بہر حال قابل تسلیم ہے جو ہندوستان جیسے قومی یکجہتی کے حامل ملک کیلئے بلا شبہ زہر ہلاہل جیسا تھا لیکن وہ اس نظریئے کے تنہا بانی نہیں تھے ویرساورکر اس نظریئے کی ان سے پہلے ہی تبلیغ کرچکے ہیں اور ۱۹۳۷ میں ہندو مہاسبھا کے ایک جلسے میں اپنی صدارتی تقریر کے دوران اس نظریئے کو پیش کرچکے ہیں۔ سچ بات یہ ہے کہ وکرم ساورکر ہوں یا محمد علی جناح ہم ان دونوںہی کےدو قومی نظریئے سے متفق نہیں ہیں نظریہ ان کا ہے وہ جانیں اسے ماننے اور نہ ماننے کا ہمیں بھی اختیار ہے ہم نہیں مانتے لیکن بہرحال اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم ان سے نفرت کرنے لگیں اور ان کی تصویر جہاں دیکھیں اس پر تھوکنے لگیں۔ مسٹر جناح تقسیم سے قبل بھی ہمارا آئیڈیل نہیں تھے اور آ ج بھی نہیں ہیں لیکن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ان کی تصویر ہمارے لئے کوئی مسئلہ نہیں یونیورسٹی کیلئے ان کی خدمات بہر حال اہم ہیں جس کے پیش نظر انہیں تاحیات رکن نامزد کیا گیا تھا اسی حیثیت سے وہاں ان کی تصویر آویزاں ہے اس سے کسی کے پیٹ میں مروڑ اٹھتا ہے تو اسے اپنا علاج کرنے کی ضرورت ہے اور یہ سب سیاسی اسٹنٹ ہے اور الیکشن جیتنے کا ایک گھٹیا مہرہ ہے۔

ہمیں افسو س ان خود ساختہ دانشوروں پر ہے جو خوف اور خودغرضی کی نفسیات میں خود بھی جی رہے ہیں اور دوسروں کو بھی خوف زدہ کررہے ہیں اور یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ جناح کی تصویر ہٹالی جائے، کیا وہ دانشور اس بات کی ضمانت لے سکتے ہیں کہ وہ تصویر ہٹانے کے بعد شرپسند عناصر خاموش ہو جائیں گے ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کیونکہ ان کا منصوبہ ہی یہی ہے کہ مسلمانوں کو ہر صورت میں ہراساں اور پریشان کیا جائے۔ جس طرح وباؤں کا عالمگیر ہوجانا وباؤں کیلئے کوئی سند جواز نہیں، اس سے حفظان صحت کی تدابیر ترک نہیںکردی جاتیں بلکہ ان کو اور زیادہ موثر اور طاقتور بنانے کی ضرورت ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

وصیل خان

ممبئی اردو نیوز

متعلقہ

Close