سیاستہندوستان

الیکشن مرکزی اور صوبائی حکومت کے درمیان ہے

پنجاب اور گوا کے ا لیکشن کے متعلق جائزہ لینے والوں کا اندازہ ہے کہ دونوں جگہ غیرت مند عوام نے حکومت سے نوٹ بندی کا انتقام لیا ہے اور اکالی دل کو بھی اس کی سزا دے دی ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ کیوں لگی رہی؟ اب اترپردیش اور اتراکھنڈ کے ان غریبوں اور غیرت مندوں کی آزمائش ہے جو تین مہینے اپنے ہی روپے نکالنے کے لیے بینکوں کے سامنے لائن لگا کر کھڑے کردئے گئے اور بڑے شہروں کے علاوہ چھوٹے شہروں اور قصبات و دیہاتی میں آج بھی لائن لگانے پر مجبور ہیں اور ملک کا ظالم حاکم کہہ رہا ہے کہ ابھی اپریل تک ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اترپردیش میں اکھلیش یادو نے سیکولر ووٹوں کو تین جگہ تقسیم ہونے سے بچا نے کے لیے قربانی دی ہے۔ اور کانگریس کو اس لیے 105 سیٹیں دے دی ہیں کہ ووٹ بس دو جگہ پڑیں اور حکومت کو آسانی سے اس کے ظلم کی سزا دے دی جائے۔ ا کھلیش اور مایاوتی یا راہل کا مقابلہ بی جے پی سے نہیں ہے بی جے پی تو امت شاہ سبرامنیم سوامی ساکشی مہاراج اور ایسے ہی بھگوا ذہنیت کے لوگوں کا نام ہے اور یہ الیکشن نہیں لڑا رہے ہیںبس تالی بجا رہے ہیں، الیکشن تو وزیر اعظم وزیر داخلہ اور وزیر پارلیمانی امور لڑا رہے ہیں۔ ہندوستان میں 70 برس میں کبھی یہ نہیں ہوا کہ حکومت اپنے اختیارات کے ساتھ میدان میں آئی ہو۔ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے الیکشن الگ الگ اندراگاندھی کے زمانہ میں شروع ہوگئے تھے۔ اندراگاندھی 18 برس وزیر اعظم رہیں ان کے بعد راجیو گاندھی وزیر اعظم رہے ان کے بعد نرسمہا رائو بنے اور پھر ڈاکٹر منموہن سنگھ دس برس رہے۔ کوئی نہیںبتا سکتا کہ ان چاروں کانگریسی وزیراعظموں میں سے کسی نے صوبوں کا الیکشن جیتنے کے لیے اپنے کو اتنا نیچے گرایا ہو؟ وزیر اعظم نریندر مودی الیکشن کے جلسہ میں تقریر کرتے ہیں تو بینر بی جے پی کا لگا ہوتا ہے لیکن ان کی تقریر یہ ہوتی ہے کہ ہم نے سماج وادی حکومت کو ساڑھے ۷ ہزار کروڑ روپے دئے اس میں سے انھوں نے چار ہزار کروڑ واپس کردئے کہ یہ خرچ نہیں ہوئے اور واپس کرتے وقت انھیں پسینہ آگیا کیوں کہ انھیں معلوم تھا کہ مودی ایک ایک پیسہ کا حساب لے گا۔

مودی جی بی جے پی کی طرف سے تقریر کررہے تھے۔ روپے بی جے پی نے نہیںدئے تھے پھر ا نہیں کیا حق ہے کہ سرکاری معاملات اور حساب کتاب وہ پارٹی کے منچ پر بیان کریں۔ حیرت ہے کہ مخالف پارٹیوں میں کوئی اس کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتی؟اور الیکشن کمیشن کیوں ان سے جواب طلب نہیں کرتا کہ یہ صوبہ کا الیکشن ہے جو مرکزی حکومت اور صوبہ کی حکومت کے درمیان نہیں ہورہا ہے بلکہ بی جے پی وہ پارٹی ہے جو اترپردیش میں تیسرے نمبر پر ہے وہ حکومت کے لیے سماج وادی پارٹی سے مقابلہ کررہی ہے۔ مودی جی تو منچ پر کھڑے ہو کر بھول جاتے ہیں کہ اس منچ کے کیا تقاضے اور پابندیاں ہیں؟ وہ تو یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ میںوزیر اعظم ہوں اور ہندوستان کے کس وزیر اعظم نے تالی بجابجا کر اور سانڈے کا تیل بیچنے والوں کی طرح سامنے کھڑے لوگوں سے پیسے نہیں مانگے ہیں۔ انھیں عوام سے کہنا پڑ رہا ہے کہ بی جے پی کی آندھی چل رہی ہے اور ہزاروں پیسے دے کر لائے ہوئے غریب آسمان کی طرف دیکھنے لگتے ہیںکہ آندھی کہاںہے اور پھر سوچ لیتے ہیں کہ مودی جی کے دماغ میں چل رہی ہوگی۔

مغربی اضلاع اترپردیش کے وہ ہیں جہاں جناح صاحب کی دال بھی نہیں گلی تھی اور سہارنپور سے مسلمان اس لیے پاکستان گئے کہ پنجاب کے ہندوئوں کے لیے ہندوستان کا شہر سہارنپور پنجاب سے ملا ہوا تھا۔ لیکن اسے بھی حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے خالی ہونے سے بچایا۔ مرادآباد، میرٹھ، مظفر نگر، بجنور، رام پور، سنبھل، بدایوں وہ اضلاع ہیں جہاں سے بہت کم مسلمان پاکستان گئے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ فرقہ پرستی ان علاقوں میں نہیں تھی۔ پاکستان بن جانے کے بعد بھی جن لوگوں نے مسلمانوں کی پارٹی بنا کر ووٹ لینا چاہیے ، انہیں مایوسی ہوئی۔ اس الیکشن میں مسلمانوں کے بدخواہ اور ناعاقبت اندیش پھر اپنی پارٹی اور اپنے امیدوار لے کر آئے ہیں۔ ان کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ یہ مرکزی حکومت کے ایجنٹ ہیں اور ان کے سپرد صرف ایک خدمت کی گئی ہے کہ مسلمانوں کے ووٹ وہ خود لے لیں دوسری سیاسی پارٹیوں کو نہ جانے دیں۔ گزشتہ سال بہار میں الیکشن ہورہا تھا۔ ہم نے لکھنؤ میں ہی بیٹھے بیٹھے وہاں کے مسلمانوں سے کہا تھا کہ وہ عقل سے کام لیں اور پورے ملک میں یہ بات مشہو ہے کہ لکھنؤ سے کشن گنج، پورنیہ، کٹیہار کا الیکشن لڑایا گیا اور ا یک مسلم پارٹی جو حکومت کو خوش کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی وہ ذلیل ہو کر واپس آئی۔

بہار سے ہمارے پاس فون آرہے ہیںکہ آپ کے شہر سنبھل میں کیا ہورہا ہے؟ ظاہر ہے کہ سنبھل کی ہم سے زیادہ خبر کسے ہوگی؟ وہاں کا مسئلہ سیاسی نہیں ذاتی ہے۔ یہ بات سب جانتے ہیںکہ سنبھل کے ڈاکٹر برق کو شکایت ہے کہ 2014ء کے الیکشن میں انہیں صرف ۵ ہزار ووٹوں سے جو شکست ہوئی وہ اقبال محمود کے آدمیوں کی وجہ سے ہوئی۔ اور اب وہ تو نہیں لیکن ان کے پوتے ضیاء الرحمن اپنے دادا کا انتقام لینا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے انھوں نے اویسی صاحب سے ٹکٹ لے لیا ہے۔ وہ اگر جیت جائیں تو یہ جیت اویسی کی نہیں برق کی ہوگی اور اگر اویسی خود لڑیں تو انہیں سو ووٹ بھی نہیں ملیںگے۔

ہم نے کبھی یہ الزام نہیں لگایا کہ اویسی صاحب امت شاہ سے قیمت لے کر مسلمانوں کے ووٹ برباد کراتے ہیں۔ ہم نے صرف یہ کہا کہ اس سے صرف امت شا ہ اور مودی کا فائدہ ہوتا ہے اور جو کوئی ’’مسلم ووٹ مسلمان کو ‘‘کا نعرہ لگاتا ہے وہ مودی سرکار کی ہر پالیسی کی تائید کرتا ہے۔ اس لیے کہ اس سے مودی کے وہ دشمن کمزور ہوتے ہیں جن کا طاقتور ہونا ضروری اور مسلمانوں کے لیے مفید ہے۔ شاید چھ مہینے پہلے کی بات ہے کہ بی جے پی کا ایک ورکر پارٹی سے ناراض ہو کر کجریوال کی پارٹی میں چلا گیا۔ وہاں اس نے ایک دن کہا کہ بہار کے الیکشن کے زمانہ میں صبح ۴ بجے امت شاہ کے پاس میں نے اسد الدین اویسی اور ان کے بھائی اکبر الدین کو دیکھا تھا۔ اس کے اس بیان پر اویسی صاحب نے کہا تھا کہ میں اسے باندھ کر حیدرآباد لائوںگا اور ایسی سزا دلائوں گا کہ دنیا دیکھے گی۔ اس دن کے بعد سے ہم بڑے غور سے خبریں دیکھتے ہیں لیکن آج تک ہم نے نہیں د یکھا کہ انھوں نے کیسی سزا دلائی؟ اور نہ یہ بتایا کہ وہ صرف رسمی ملاقات کے لیے گئے تھے۔ اچھا تو یہ ہے کہ جب تک یہ بات صاف نہ ہوجائے کہ اویسی صاحب کو امت شاہ  نے بلایا تھا یا وہ خود گئے تھے یا ہر بات غلط ہے اس وقت تک انہیں یوپی کے مغربی اضلاع میں نہ آنا چاہیے اس لیے کہ وہاں ہر گھر میں اویسی جیسے لوگ ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close