سیاست

الیکشن: ہمارے شعورکا امتحان

منورسلطان ندوی

 ہمارے ملک میں جمہوری نظام رائج ہے، یہ دنیاکاسب سے بڑاجمہوری نظام ہے، اس لحاظ سے پوری دنیامیں ہندوستانیوں کاسرفخرسے اونچارہتاہے، اور خاص طورپرمسلمانوں کے لئے یہ نظام اس تکثیری ملک میں خداکی بڑی نعمت ہے، کہ ایک طرف ملک کے دیگرتمام باشندوں کی طرح مسلمان بھی حکومت کی تشکیل میں پوری طرح شریک ہوتے ہیں، دوسری جانب ہماراملک سیکولرہے، یعنی ملک کااپناکوئی مذہب نہیں ہے، اس بنیادپریہاں ہرمذہب کے ماننے والوں کواپنے مذہب پرعمل کرنے اوراپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کی پوری آزادی حاصل ہے، اس طرح جمہوریت اورسیکولرزم ہمارے ملک کوپوری دنیامیں ایک نمایاں مقام اورامتیازی شان عطاکرتاہے۔

جمہوری ملکوں میں حکومت کی تشکیل براہ راست عوام کے ذریعہ ہوتی ہے، اس اعتبارسے دیکھاجائے تو جمہوری نظام حکومت میں عوام کی ذمہ داری بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے، جمہوریت جہاں ہمارے لئے طرہ امتیازہے وہیں یہ جمہوریت یہاں کے باشندوں کے شعور کاامتحان گاہ بھی ہے، دستور نے ملک کے ہرایک شہری کوحکومت چننے کااختیاردے کران کے کندھوں پربہت بڑی ذمہ داری عائدکردی ہے، اب یہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے لئے کس طرح کاحکمراں منتخب کرتے ہیں، وہ ایسے افرادکومنتخب کرتے ہیں جوملک کوخوشحالی کی جانب لے جائیں، ملک کے ماحول کوپرامن رکھیں، امن وسکون اوررواداری وبقائے باہم کی زریں روایات کوآگے بڑھائیں، اوریہاں کی عوام کوخوشحال بناتے ہوئے اس ملک کوترقی یافتہ ممالک کی صف میں لاکھڑاکریں، یاپھرایسے افرادکومنتخب کریں جوملک کے بجائے اپنی تجوریاں بھرنے کوترجیح دیتے ہوں، جومحبت کے بجائے نفرت بانٹتے ہوں اورجنہیں عوام کوخوشحال دیکھ کرخوش ہونے کے بجائے انہیں پریشانیوں میں دیکھ کرمزہ آتاہو، یہ ساری ذمہ داری یہاں کی بے چاری عوام پرہے۔

اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ملک کی عوام میں حکومت چننے کے حوالہ سے جوشعورہوناچاہیے وہ آج بھی اکثرافرادمیں نہیں پایاجاتاہے، جس کانتیجہ یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں ہرالیکشن میں عوام کوسبزباغ دکھانے اورانہیں بے وقوف بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہیں، عوام کی اکثریت چونکہ تعلیم سے ناآشناہے، پھروہ دلفریب وعدوں پرجلدیقین کرلیتے ہیں، اورحقائق سے آگاہ بھی نہیں ہوتے، جس کے نتیجہ میں انہیں یہ احساس نہیں ہوتااوربسااوقات انہیں احساس ہونے بھی نہیں دیاجاتاکہ ووٹ کی شکل میں ان کے پاس ملک کی تقدیرکے فیصلہ کا کتنازبردست اختیارحاصل ہے۔

گذشتہ دوتین دہائیوں سے الیکشن کانظام چست ضرورہواہے، مگراب بھی عوام کی اکثریت کے ذہنوں میں اپنے علاقہ کے صاحب ثروت افراد، اورنیتائوں سے مرعوبیت پائی جاتی ہے، ان کاخوف ذہنوں پرحاوی ہوتاہے، بہت سے افراد ذات پات کی بنیادپرووٹ دیتے ہیں، اسی طرح ایک بڑی تعدادان لوگوں کی بھی ہے جونوٹ کے بدلے ووٹ پریقین رکھتے ہیں، اورازس طرح ایسے تمام افرادیہ بھول جاتے ہیں کہ وہ چندسکوں یاذاتی مفادات کے بدلے ملک کی خوشحالی کاسودا کر رہے ہیں، اپنی برادری کواونچااٹھانے کے حسین خواب میں ملک کونیچے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

اس طرح دیکھاجائے تواس وقت ملک کاسب سے بڑامسئلہ یہاں کی عوام کابے شعورہونااورذات پات اورعلاقہ وشخصیات کی غلامی ہے، ملک میں قائم لاکھوں اداروں، تنظیموں اوراین جی اوزکی ذمہ داری ہے کہ سب سے پہلے یہاں کی عوام میں الیکشن کے تئیں صحیح شعورپیداکریں، ووٹ کی حقیقی اہمیت سے انہیں آگاہ کریں، انہیں بتائیں کہ الیکشن کاایجنڈاملک کی خوشحالی اورملک کی ترقی ہونا چاہیے، کونسی حکومت عام آدمی کے لئے ترقی کے مواقع فراہم کررہی ہے اورکونسی حکومت غربت اورمہنگائی کوبڑھاوادے رہی ہے، ہم اس سے واقف ہوں، مگراس وقت عوام کیا، خواص تک مسائل کوسیاسی پارٹیوں کی عینک سے دیکھنے کے اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ انہیں حقائق نظرنہیں آتے، یہ صورت حال ملک کے مفادمیں نہیں ہے۔

اوررہی بات مسلمانوں کی توان کاسب سے بڑامسئلہ یہ ہے کہ اب تک مسلمانوں کی سیاسی منزل ہی متعین نہیں ہے، ’جتنے مسافراتنی منزل‘کے مصداق مسلمانوں کاہرسیاسی رہنما الگ الگ راہ اختیارکئے ہوئے نظرآتاہے، مسلمانوں کوسب سے پہلے ایک متفقہ سیاسی حکمت عملی طے کرنی ہوگی، سیاست کے تئیں واضح نظریہ ہوناضروری ہے، جب تک سیاست میں حصہ داری کے لئے باقاعدہ اورسنجیدہ کوشش نہیں ہوگی اس وقت تک مسلمانوں کے مسائل حل نہیں ہوں گے، ملک کی ہرسطح کے انتظامی اداروں، عدلیہ، فوج، غرض ہرشعبہ میں مسلمانوں کی حصہ داری اس کی آبادی کے تناسب سے جب تک نہیں ہوگی اس وقت تک یہاں کے مسلمان مشکلات سے دوچارہوتے رہیں گے۔

موجودہ پارلیامانی الیکشن کئی لحاظ سے بہت اہم ہے، اس وقت جمہوریت اور سیکولرزم کوخطرہ لاحق ہے، اس حوالہ سے ملک کے سیکولرمزاج تمام افرادکواپنی ہوشمندی کا ثبوت دیناچاہئے، فرقہ پرست طاقتوں کواقتدارسے دورکھناسیکولرزم پریقین رکھنے والے تمام افرادکی مشترکہ ذمہ داری ہے، اورایسے تمام افرادکواپنی ذمہ داری محسوس کرنی چاہئے، مشترکہ جہدوجہداورصحیح سوجھ بوچھ کے بغیرفرقہ پرست طاقتوں کوشکست دینامشکل ہوگا۔

سیکولرزم پریقین رکھنے والے افرادآج بھی بڑی تعدادمیں ہیں، اگروہ سب طے کرلیں کہ سیکولرنظریات پریقین رکھنے والے امیدوارکوہی ووٹ دیناہے توکامیابی مشکل نہیں ہے، صد فیصدووٹنگ اورمتحدہ ووٹنگ ہی واحدحل ہے، مخالفین کی سازشوں سے باخبر رہنابھی ضروری ہے، اورخاص طورپرذات برادری کے نام پرسیکولرووٹ تقسیم کرنے جو زبردست پلاننگ کی جاتی ہے، اس کوبھی سمجھناضروری ہے۔

ان ظاہری اسباب کے ساتھ باطنی اسباب کی جانب توجہ بھی ضروری ہے، اپنے گناہوں سے توبہ، اوراس ملک میں دعوتی ذمہ داری ادانہ کرنے پرندامت اورآئندہ اس ذمہ داری کو اداکرنے کاعہد کیاجائے   ع   نگاہ مردمومن سے بدل جاتی ہے تقدیریں

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

منور سلطان ندوی

رفیق، دارالافتاء ندوۃ العلماء لکھنؤ

متعلقہ

Close