سیاست

الیکشن 2019: بی جے پی کا منشور ملک کے لیے لمحۂ فکریہ

خالد سیف الدین

ملک کے عام انتخابات ہوں، ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ہوں یا پھر دیگر انتخابات ہوں، سیاسی منشور جاری کرناہر اُس سیاسی پارٹی کا چلن بن گیا ہے جو انتخابات میں حصّہ لیتی ہوں۔ ہماری بدقسمتی یہ ہیکہ نہ ہم منشور دیکھتے ہیں اور نہ منشور کی وجہہ سے ووٹ دیتے ہیں۔ منشور کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ منتخب ہونے والی پارٹی کو اپنے دور اقتدار میں کیا کرنا ہے اور عوام کا یہ فرض ہیکہ وہ منشور کو سمجھے کے ان سے کیا واعدے  کیئے جارہے ہیں۔ ادھر عام لوگوں میں اکثر کو یہ بھی معلوم نہیں کہ انتخابی منشور کیا ہوتا ہے جبکہ انتخابی منشور سیاسی پارٹی کا آئینہ ہوتا ہے۔ ہر وہ پارٹی جو اقتدار حاصل کرسکتی ہو یا پھر ایک طاقتور حزبِ اختلاف کا کردار نبھا سکتی ہو ایسی تمام پارٹیوں کے انتخابی منشور کے مطالعہ سے پتہ چل سکتا ہے کہ پارٹی کی پالیسی کیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟  اور پارٹی کی نیّت کیسی ہے۔ ۔ ۔ ؟  اسکے علاوہ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیئے کہ حکمران ِپارٹی کا گذشتہ انتخابات میں کیا منشور تھا۔ اُس منشور میں کیا واعدے کیئے گئے تھے۔ کون سے واعدے پورے ہوئے اور کن واعدوں کو حاشیہ پر رکھ دیا گیا۔ بی جے پی کے اپنے گذشتہ منشور 2014  ء  میں کسانوں، غریب تاجروں، نوجوانوں اور خواتین سے کئیے گئے واعدوں کا کیا ہوا۔ ۔ ؟ اپنے واعدے کے مطابق کیا  بی جے پی جمع خوروں اور کالابازاری کو روکنے میں کامیاب ہوئی۔ ۔ ۔ ۔ ؟  جی نہیں۔ ۔ ۔ بلکہ یہ پارٹی اپنے دورِ حکومت میں صرف اور صرف سرمایہ کاروں کے اشاروں پر کام کرتی رہی ہے  جبکہ کئی سرمایہ کار ملک کی بینکوں سے بڑی رقم لے کر بیرون ِ ملک فرار ہوگئے۔ اس حکومت نے کسانوں، نوجوانوں، غریب تاجروں اور خواتین سمیت سماج کے ہر طبقے کے ساتھ دھوکہ کیا ہے، خصوصاََ مسلمانان ِ ملک پر یہ وقت بہت گراں گزراہے۔ بی جے پی حکومت نے گذشتہ پانچ برس پر مشتمل اپنے دور اقتدار میں اپنے جاری کردہ منشور کے بر خلاف تعلیم، صحت، روزگاراور ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو بدحال کردیاہے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے نفاذ سے کاروبار کو سخت نقصان پہنچا ہے۔

عام انتخابات 2019  ء کے لئے ۴۸؍  صفحات پر مشتمل بی جے پی نے اپنے پرانے کھیل کو نئے انداز میں پیش کرتے ہوئے نیا منشور جاری کردیا ہے جس میں ملک اور عوام سے بے شمار واعدے کئے گئے ہیں جن میں اکثر واعدے کبھی وفا ہوہی نہیں سکتے۔ اسی بنیاد پر دانشورانِ ملک نے اس منشور کو صرف اور صرف الفاظ کا گورکھ دھندہ بتایاہے۔ بی جے پی نے اس منشور کو ملک کی آزادی کے ۷۵  ؍ ویں سال کیلئے ۷۵ ؍ ہد ف(Target)  قرار دیاہے۔ ان ۷۵؍  مرکزی نکات کے تحت دیگر ۲۲۴؍  ذیلی نکات کو شامل کیا گیا ہے جن میں 6  نکات ایسے ہیں کہ جن کے منظر عام پر آتے ہی دانشوران ِ ملّت بے چین ہو اُٹھے ہیں۔ چونکہ یہ نکات  آر ایس ایس کی مسلم دشمنی پر مبنی ہیں اسلئے ہم امید رکھتے ہیں کہ لوگ ووٹ ڈالتے وقت اس منشور کو بھی مدّنظر رکھیں گے جن میں (۱) رام مندر کی عاجلانہ تعمیر (۲) تین طلاق بل کی منظوری،  بی جے پی کی اِس پالیسی سے ہم سب واقف ہیں۔ اس لئے ہم آگے بڑھتے ہوئے باقی چار نکات سے واقفیت حاصل کرتے ہیں۔

(۳) کشمیر کو خصوصی موقف دینے والا دستور(  Artical 370)  کو  منسوح کرنے کا ہدف آئین کی دفعہ 370   ایک خصوصی دفعہ ہے جو ریاست جموں کشمیر کو جداگانہ اور منفرد حیثیت دیتی ہے۔ یہ دفعہ ریاست جموں کشمیر کو اپنا آئین  مرتب کرنے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتی ہے۔ اس خصوصی دفعہ کے تحت دفاعی امور، مالیات اور خارجہ امور کو چھوڑ کر دیگر کسی معاملے میں متحدہ مرکزی حکومت، مرکزی پارلیمان اور ریاستی حکومت کی تو ثیق ومنظوری کے بغیر ملکی قوانین کا نفاذ ریاست جموں و کشمیر میں نہیں کرسکتی۔ اس دفعہ کا مقصد جموں کشمیر کے ریاستی حقوق کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس دفعہ کے محرک جموں کشمیر کے راجا ہری سنگھ (ڈاکر کرن سنگھ کے والد) کے ساتھ ہوا عہدوپیما ہے۔ اس دفعہ کے تحت ملک کا کوئی بھی عام شہری ریاست جموں کشمیر کے احاطے میں جائیداد نہیں خرید سکتا، یہ امر صرف ملک کے عام شہریوں کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ ملک کی نجی، نیم سرکاری  اور سرکاری ادارے بلا قانونی جواز جائیداد حاصل نہیں کرسکتے اور نہ ہی یہاں رہائیشی کالونیاں تعمیرکرسکتے ہیں۔ اس دفعہ کی منسوقی سے ریاستِ جموں کشمیر کی منفرد حیثیت ختم ہوجائیگی۔

(۴)  Artical 35 – A   کو ختم کردینا۔ یہ  دفعہ artical 370   کا ہی حصّہ ہے۔ اس دفعہ کے مطابق کوئی شخص صرف اسی صورت میں جموں کشمیر کا شہری ہوسکتا ہے اگر وہ یہاں پیدا ہوا ہو۔ کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتا اور نہ ہی یہاں کا مستقل شہری بن سکتا ہے۔ Artical 35 – A   ہٹادیا گیا تو ملک کی دوسری ریاستوں سے لوگ آکر یہاں جائیدادیں خرید یں گے اور یہاں بسنے والے مسلمانوں کی اکثریت ایک دن اقلیت میں تبدیل ہوجائیگی۔ کشمیر پر اپنا پرانہ راگ آلاپتے ہوئے آر ایس ایس کی شہ پر بی جے پی نے کھلے عام اپنا موقف ظاہر کرکے کشمیری مسلمانوں کی شناخت کو ختم کرنے کی کوششیں تیز کردیں ہیں۔

(۵)  این آر سی (National register of Citizens)   پر ملک کے مختلف حصّوں میں مرحلہ وار عمل کرنے کا وعدہ۔ اس نکتہ کے تحت بی جے پی ان تمام شہریوں کو ملک سے کھدیڑ دینا چاہتی ہے جن کی شہریت پر سوالیہ نشان ہوں۔ بی جے پی کا ماننا ہے کہ ملک میں بنگلہ دیشی،  برمااور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے باشندے غیر قانونی طریقے سے ملک میں مقیم ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان غیر ملکی باشندوں میں غیر مسلم باشندوں کی تعداد زیادہ ہے۔ لیکن بی جے پی کے صدر امت شاہ نے ایک انتخابی تشہیری مہم کے دوران اپنی تقریر میں یہ واضع کردیا ہے کہ ایسے غیر ملکی باشندوں میں سے ہندو، سکھ وغیرہ کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی بلکہ اُنکو ملک میں بسانے کے لئے تمام تر سہولتیں مہیاء کردی جائیگی۔ اُن کے اس بیان سے یہ صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ این آر سی کے تحت صرف مسلمانوں اور عیسائیوں پر ملک بدر کرنے کی کاروائی ہوگی۔

(۶)  یکساں شہری ضابطہ  (Common Civil Code)  کا نفاذ

2018 ء میں بی جے پی حکومت نے یکساں سیول کوڈ کا خاکہ تیار کرنے کی ذمہ داری لاکمیشن آف انڈیا کو سونپ دی تھی جسکی سرپرستی اس کمیشن کے چیر من جسٹس بی ایس چوہان کررہے ہیں۔ اس ضمن میں جسٹس بی ایس چوہان نے مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب چیر من اور جماعت اسلامی ہند کے امیر حضرت مولاناجلال الدین عمری کی قیادت میں چار رکنی وفد سے مئی 2018ء کو اپنے دفتر میں ملاقات کی تھی اور حضرت مولانا سے کچھ معملات کو دریافت کرنا چاہا تھاجس پر مولانا نے جسٹس چوہان سے درحواست کی تھی کہ آپ اس ضمن میں جو کچھ بھی دریافت کرنا چاہتے ہیں وہ تمام باتیں ہمیں تحریری طور پر دے دیں۔ جس کا جواب ہم بھی آپ کو تحریری شکل میں ہی دیں گے۔  کامن سیول کوڈ کا نفاذ سیدھے شریعت میں مداخلت ہے۔ اگر ملک میں کامن سیول کوڈ نافذ ہوجاتا ہے تو پھر مسلمانوں کے لئے رائج مسلم پرسنل لا بورڈ منسوخ کردیا جائے گا۔ قاضی صاحبان کے پڑھائے ہوئے نکاح اور نکاح ناموں کی قانونی حیثیت باقی نہیں رہے گی۔ تمام دینی مدارس حکومت کے زیر نگرانی آجائیے گے جس کا راست اثر اصلاحی کام کاج اور دعوت و تبلیغ کے کاموں پر بھی پڑھے گا۔ عورتوں کے پردہ کرنے اور مردوں کے داڑھی رکھنے کو بھی ممنوع قرار دیا جاسکتا ہے۔ ملک میں بسنے والی تمام قومیں اور خصوصاََ مسلمان مذہبی طور پر حکومت کی خود ساختہ سرکاری شریعت کا حصّہ بن جائیں گی۔ غیر مذہب میں شادیوں کا چلن عام ہوجائے گااور آہستہ آہستہ ہم اپنی شناخت کھو بیٹھے گے۔

یہ جملے باز اور بہانے باز حکومت جو اپنی ناکامیوں کا الزام دوسرے کے سر عائد کرنے کاکام کرتی رہی ہیں۔ گذشتہ ۵ ؍ برسوں سے فردِ واحد کے اختیار میں ہے اور یہ فردِ واحد قومی آفت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ 2019  ء میں اگر بی جے پی، ملک میں دوبارہ حکومت بنا لیتی ہے تو یہ ملک کی وحدت اور یک جہتی کے لئے مزید نقصاندہ ثابت ہوسکتی ہے۔ بی جے پی کا منشور اس بات کا غماذ ہے کہ یہ پارٹی جمہوری نظام اور ملک کے دستور سے کھلواڑ کرنا چاہتی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

خالد سیف الدین

خالد سیف الدین کا تعلق شہر اورنگ آباد، مہاراشٹرسے ہے۔ پیشے سے سول انجینئر ہیں۔ راشٹروادی کانگریس پارٹی مہاراشٹر کے ریاستی سیکریٹری کے عہدے پر 2014 سے متمکن ہیں۔ خالد سیف الدین ریاست مہاراشٹر کی بےشمار تعلیمی، ادبی، ثقافتی اور دیگر انجمنوں سے وابستہ ہیں۔ وہ ایک فعال شخصیت کے مالک ہیں،کسی بھی سرگرمی اور پروگرام کی منصوبہ بندی اور اسکے حسن انتظام کیلئے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close