سیاست

الیکشن 2019: مسلمانو! ہوش باش

محمداکرم ظفیر

جس وقت کا ملک کی عوام کو شدت سے انتظار تھا اس کا اعلان ہوگیا ہے یعنی الیکشن کمیشن نے سترہویں لوک سبھا انتخابات کی گھنٹی بجا دی.سات مرحلے میں ہونے والے انتخابات میں پہلا مرحلہ گیارہوں اپریل، دوسرا اٹھارہ، تیسرا تئیس اور چوتھا انتیس اپریل کو ہوگا.جبکہ پانچواں مرحلہ چھ مئی، چھٹا بارہ اور ساتواں یعنی آخری مرحلہ انیس مئی کو اور نتائج کا اعلان 23 مئی کو ہوگا. پورے ملک کے اندر ضابطہ اخلاق نافذ ہوگیا ہے اور ساتھ ہی کچھ ہفتوں سے جس طرح ملک کے حالات پیدا کیے جانے کی کوشش کی جارہی تھی، میڈیا کے بڑے گھرانوں نے ملک کو جنگ میں ڈھکیلنے کی کوشش کررہے تھے اس پر لگام لگا دی گئی ہے.اس انتخابات میں بھی ہربار کی طرح سیاسی لیڈران عوام کو سبز باغ دکھا کر ان کے ووٹ کو بھنانے کی کوشش کریں گے، ایک دوسرے کے اوپر طنز کسنے میں کوئی بھی لیڈر پیچھے نہیں رہیں گے بلکہ اس بار کا انتخاب الیکشن کمیشن آف انڈیا کے لیے بڑا چیلنج ہے یوں اس لیے کہ اس دوران بعض لیڈران جان بوجھ کر ایسی حرکت کرتے ہیں جس سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوتی ہے ایسے میں الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ سخت سے سخت قدم اٹھائیں اور کسی بھی پارٹی کو شکایت کرنے کا موقع نہ دیں اگر اس میں ذرا برابر بھی کسی طرح کی کمی ہوتی ہے تو پھر دنیا کی سب سے بڑے جمہوری ملک کے اندر عوام کا اعتماد الکیشن کمیشن کے اوپر سے اٹھے گا ویسی حالت میں انتخاب کا مطلب کیا؟جیسا کہ حالیہ دنوں میں ظاہر ہوچکا ہے.اس کے علاوہ وقت بوقت ووٹنگ کے دوران مشینوں کے خراب ہونے کی شکایت ملتی رہتی ہیں، تو کہیں پر اقلیت جو بڑی تعداد میں ہیں وہاں لوگوں کو حق رائے دہی کے استعمال پر روکنے کی شکایت بھی آتی ہے، نکسلی علاقہ جہاں آج بھی بندوق تانے لوگوں کی حکومت چلتی ہے وہاں امن ماحول میں چناؤ کرانا بڑی اہمیت کا حامل ہوگا.

سیاسی بازاروں و ہنگاموں کے درمیان لیڈران ایک بار پھر سے اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کو اپنی جانب راغب کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی کیونکہ ملک کے اندر سو سے زائد ایسے سیٹ ہیں جہاں پر وہ جسے چاہیں کسی بھی امیدوار کو جیتا سکتے ہیں.نعروں اور جذباتی تقریر سے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ خود کو دور رکھیں اور کسی بھی پارٹی کا جھنڈا اٹھانے سے بچیں، کیونکہ کوئی بھی پارٹی مسلمانوں کے تئیں ہمدرد نہیں ہیں اور نہ یہ ان کے دل کے اندر ہے کہ وہ سیاسی طور پر منظم و متحد ہوں.یہی وجہ ہیکہ آج مسلمانوں کی حالت جس طرح سبھی شعبہ میں خراب ہے اس کے لئے پہلے ہم خود ذمہ دار ہیں اور ساتھ ہی یہ لیڈران جو کرسی ملنے کے بعد نظر انداز کردیتے ہیں اور جب انتخاب کا وقت آتا ہے تو کچھ لوگوں کو جس کی شبیہ سماج میں دلالوں سے بھی بدتر ہے اس کا سہارا لے کر سنہرے خواب دیکھاتے ہیں.

البتہ ایسے وقت میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جوش سے کام نہ لے کر ہوش سے کام لیں.وؤٹینگ کے روز اپنے گھروں کی ماں بہنوں کو بلا تردد باپردہ وؤٹینگ سنٹر پر لے جائیں تاکہ وہ بھی اپنی طاقت کا استعمال کرکے جمہوریت کو مضبوط بنائیں اور اچھے و بہتر پارٹی کے نمائندہ کو منتخب کریں جس سے یہ توقع ہو کہ وہ گنگا جمنی تہذیب کی پاسداری کرتے ہوئے سماج و معاشرہ میں ترقیاتی کاموں کو رفتار دینے کا کام کریں گے اور پرامن سماج کی جانب قدم بڑھائیں گے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close