سیاست

الیکشن 2019: ونچت اگھاڑی کا قیام

یہ سازش ہے یا پھر اتفاق

خالد سیف الدین

۱۸؍ستمبر ۱۹۹۰ ء کو اس وقت کے وزیر اعظم وی پی سنگھ حکومت کی سفارش پر صدر ہند جناب آر وینکٹ رمن نے ریپبلکن پارٹی آف انڈیا (RPI) کے سربراہ اور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے پوتے پرکاش امبیڈکر کو رکن راجیہ سبھا نامزد کیا تھا۔ اتفاقً دیکھئیے کہ پرکاش امبیڈکر کی اس نامزدگی کے محض 22 دنوں بعد ہی وی پی سنگھ حکومت کو اقتدار سے بے دخل ہونا پڑا اور بطور ملک کے ۸ویں وزیر اعظم چندر شیکھر حلف بردار ہوگئے۔   پرکاش امبیڈکر اگلے چھ سالوں (1996) تک رکن راجیہ سبھا کے عہدے پر فائز رہے۔

        1998 کے عام انتخابات میں شردپوار اور مرلی دیورا کی اجتماعی کوششوں اور سفارش کا لحاظ کرتے ہوئے اس وقت کانگریس کے قومی صدر سیتا رام کیسری نے آکولہ لوک سبھا سیٹ پرکاش امبیڈکر کی خاطر آر پی آئی(RPI) کے لیے چھوڑ دی۔ کانگریس پارٹی کی تائید، شرود پوار کی پرزور حمایت، دلت اور دیگر ووٹرس کے علاوہ مسلم ووٹرس کی جانب سے کی گئی یک مشت ووٹنگ نے پرکاش امبیڈکر کو آکولہ سیٹ سے بی جے پی کے امیدوار پانڈورنگ فونڈ کر کے خلاف 33 ہزار ووٹوں کی سبقت سے جیت دلوادی۔ الیکشن جیت جانے کے بعد پرکاش امبیڈکر نے شرود پوار پر الزام لگایا کہ انہوں نے الیکشن میں پرکاش امبیڈکر کی کوئی مد د نہیں کی۔ الزام تراشی سے قبل پرکاش امبیڈکر کم از کم اس حقیقت کا لحاظ کر لیتے کہ یہ وہی شرد پوار ہیں جنہوں نے مرہٹواڑہ یونیورسٹی کو ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کا نام دیا جس کی وجہہ سے شر د پوار کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ ملک کی یہ ۱۲ویں لوک سبھا بھی اپنی معیاد پوری نہ کر سکی اور صرف گیارہ مہینوں (10؍ مارچ 1998۔ 26 ؍ اپریل 1999) میں ہی تحلیل کرد ی گئی۔  26؍ اپریل 1999 کو  ۱۲ویں لوک سبھا تحلیل ہوتے ہی کانگریس اورملک کی دیگر پارٹیوں کے علاوہ آر پی آئی (RPI) بھی تقسیم کا شکار ہوگئی۔  پرکاش امبیڈکر نے آر پی آئی  (RPI) کے ساتھ لفظ بہوجن جوڑ کر بھاریپ بہوجن مہاسنگھ نامی نئی سیاسی پارٹی بنا لی۔ جبکہ انکو چاہیے تھا کہ آر پی آئی کو وہ اپنی اصل شکل میں زندہ رکھتے کیونکہ یہ تنظیم 24؍ اکتوبر 1956 کو انکے دادا ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے بنائی تھی تا کہ وہ اس پارٹی کے تحت ملک کی تمام پسماندہ قوموں کو سیاسی پلیٹ فار م پر متحد کر سکیں، انہیں سیاسی نظام سے آگاہ کر سکیں نیز وہ لوگ جو عملی طور پر سیاست میں آنا چاہتے ہیں انکی تربیت کی جائے اور اسی نظریہ کے تحت ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے Training School for Enterance to Politics  کے عنوان سے 15افراد پر مشتمل سیاسی تربیت کے لیے پہلا دستہ ترتیب دیا تھا، لیکن افسوس ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی اچانک وفات سے یہ 15 افراد اس اسکول کی پہلی اور آخری بیچ (Batch) کہلائی۔  اتنے عظیم مقصد کے تحت بنائی گئی یہ تنظیم پرکاش امبیڈکر کے خود پرستانہ رویہ،  انا،  حد سے زیادہ خود نمائی، خود غرضی، خوش فہمی اور خود اعتمادی ان کمزوریوں کی وجہہ سے آر پی آئی (RPI) بکھر گئی اور 2009 کے آتے آتے پچاس سے زائدحصوں میں بنٹ گئی۔

        بہر کیف !  1999 میں 13؍ ویں لوک سبھا کے لیے عام انتخابات ہوئے آکولہ سے اس دفعہ پرکاش امبیڈکر اپنی نئی پارٹی بھاریپ بہوجن مہا سنگھ (BBM) سے کانگریس کی تائید پر الیکشن میں کھڑے ہوئے لیکن اس مرتبہ انہیں شرد پوار کی حمایت حاصل نہیں تھی۔  مسلمانانِ آکولہ نے پھر پرکاش امبیڈکر کا ساتھ دیا۔  اس کشمش بھرے الیکشن میں پرکاش امبیڈکر صرف 9 ہزار ووٹو ں کی سبقت لے کر اپنے پرانے حریف بی جے پی کے پانڈو رنگ فونڈ کر کے مقابلہ جیت گئے۔

        سن2004 اور 2009 کے عام انتخابات میں کانگریس نے آکولہ سیٹ کے لیے پرکاش امبیڈکر سے اپنی تائید واپس لیتے ہوئے اپنا امیدوار کھڑا کیا تھا جو دونوں الیکشن میں دوسرے مقام پر رہا اور پرکاش امبیڈکر تیسرے مقام پر رہے۔  2004  کے عا م انتخابات میں پرکاش امبیڈکر کو کانگریس کی تائید نہ ملنے کی ایک وجہہ یہ بھی تھی کہ اس وقت پرکاش امبیڈکر آکولہ سیٹ کے علاوہ بھی مہاراشٹر کی دیگر سیٹیں مانگ رہے تھے جو کانگریس کو قبول نہیں تھا۔ معاہدہ ٹوٹ گیا اور پرکاش امبیڈکر نے مہاراشٹر میںبھاریپ بہوجن مہا سنگھ (BBM) سے  16 سیٹیں کھڑی کر دیں جن میں ایک بھی امید وار کامیاب نہ ہوسکا۔ اْدھر کانگریس نے ڈاکٹر من موہن سنگھ کی قیادت میں UPA حکومت بنالی۔ اسطرح اس مرتبہ بھی پرکاش امبیڈکر کا رویہ کانگریس کے لیے خوش آئیند ثابت ہوسکتا ہے۔

        سن 2014 میں 16ویں لوک سبھا انتخابات میں کانگریس پارٹی نے آکولہ سے ہدایت برکت ا ﷲ پٹیل کو امیدوار ی دی تھی ہم آپکو یہ بھی بتاتے چلیں کے آکولہ سیٹ سے کانگریس کے ٹکٹ پر 1962 میں محمد محب الحق 1967 اور 1971 میں خان محمد اصغر حسین منتخب ہو کر پارلیمنٹ پہنچے تھے۔ اسطرح 1989 کے عام انتخابات میں بھی کانگریس نے مہاراشٹر کے سابق وزیر صحت خان محمد اظہر حسین کو الیکشن میں کھڑا کیا تھا۔ لیکن پرکاش امبیڈکر کی وجہہ سے دلت سماج  نے اظہر حسین کو ووٹ نہیں دیا تھا اور اظہر حسین دوسرے مقام پر رہے تھے نتیجتاً بی جے پی نے پہلا مقام حاصل کر لیا تھا۔  1989 کے عام انتخابات میں اظہر حسین کی شکست کی وجہہ بن نے والے پرکاش امبیڈکر کو مسلمانان آکولہ نے اپنی تمام رنجشوں کو بالائے طاق رکھ کر 1998 اور 1999 کے عام انتخابات میں ان کے حق میں یک مشت ووٹ کرانہیں جیت دلوائی اس احسان کے باوجود 2014 کے الیکشن میں پرکاش امبیڈکر نے کانگریس کے مسلم امیدوار کے حق میں اپنی امیدواری سے دستبردار ہونا گوارہ نہیں کیاجبکہ آکولہ شہر کے وہ تمام مسلم زی اثر افرادنے آپکی منتیں کیں جنہو ں نے ماضی میں آپکی دامِ، دارمِ اور سخنِ مدد کی تھی۔ ان تمام ترکوششوں کے باوجود پرکاش امبیڈکر نے الیکشن لڑا اور پھر اس مسلم امیدوار کی شکست کا سبب بنے اور خود تیسرے مقام پر رہے جبکہ ہدایت برکت ا ﷲ پٹیل نے دوسرا مقام حاصل کیا نتیجتاً  بی جے پی کا امیدوار کامیاب ہوگیا ۔ اس طرح 1989 کے الیکشن کی تاریخ 2014 کے الیکشن میں پرکاش امبیڈکر نے پھر دہرائی۔ اب پھر پرکاش امبیڈکر ونچت اگھاڑی کا مکھوٹہ پہن کر مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کے ووٹ تقسیم کرنے کی خاطر  پھر سے میدان میں آگئے ہیں جبکہ انہوں نے اپنی پارٹی بی بی ایم سے گذشتہ الیکشن میں جو سیٹیں کھڑی کی تھیں ہم ان تمام سیٹوں میں صرف SC  اور  ST زمرہ کی مختص سیٹوں پر BBM کو ملے ووٹوں کی تعداد سے قارئین کو روشناس کرواتے ہیں۔ شرڈی۔  (3193) ووٹ،  رامٹیک۔  (2640) ووٹ،  شولا پور۔ (2458) ووٹ،  پالگھر۔  (6691) ووٹ،  نندور بار ۔ ( 4712)ووٹ،  ڈنڈوری۔ (5578) ووٹ جبکہ بھاریپ بہوجن مہاسنگھ نے گڈچرولی اور امراوتی ان دومختص سیٹوں سے اپنے امیدوار میدان میں نہیں اتارے تھے۔

        اعلی تعلیم کا حصول، سرکاری اور نیم سرکاری نوکریوں اور سیاسی ریزر ویشن سے ملک کے مسلمان محروم ہیں جبکہ ملک میں بسنے والی ایس سی، ایس ٹی زمرہ کی عوام کے لیے ملک کے ہر سرکاری اور نیم سرکاری شعبہ میں ریزرویشن کی سہولیات دستیاب ہیں۔  آئینِ ہند (1950) کے آرٹیکل 543 ک تحت اس زمرہ سے وابستہ افرد کے لیے ملک کی پارلیمنٹ میں 15.47 فیصد اور 8.66 فیصد سیٹیں مختص ہیں، اس سہولت کی بناء پر لوک سبھا کے کل 543 منتخب نمائندوں میں اس زمرہ سے جملہ 113 نمائندے منتخب ہو کر پارلیمنٹ پہنچتے ہیں۔ کم و بیش یہی سہولت ملک کی ریاستی اسمبلیوں میں بھی دستیاب ہے۔ سن 2004 سے 2018 ان مکمل  14 سا ل سیاسی پردے سے غائب رہنے والے پرکاش امبیڈکر کو 2018 میں واقع پذیر بھیما کورے گاؤں سانحہ کی وجہہ سے سیاسی جلاء ملی اور وہ اخبارات کی سرخیوں میں نمودار ہوئے۔ ان کے اطراف بھیڑ جمع ہونا شروع ہوگئی اور پھر پرکاش امبیڈکر نے اپنی عادتِ خوش فہمی میں مبتلاء ہوتے ہوئے نئی سیاسی پارٹی ونچت اگھاڑی کا اعلان کر دیا۔ اس پارٹی کے وجود میں آنے کے بعد کی تمام تفصیلات سے ہم سب واقف ہیں۔ ہم پرکاش امبیڈکر صاحب سے صرف اتنی گذارش کرتے ہیں کہ آپ ان انتخابات میں آکولہ سیٹ سے ضرور بہ ضرور الیکشن لڑیں، کیونکہ وہاں کی عوام آپ کا بے چینی سے انتظار کر رہی ہے کہ آپکو دوبارہ اگلے 14سالوں کے لیے سیاسی بن باس پر بھیجا جاسکے۔

بے سبب مسکرا رہا ہے چاند

کوئی سازش چھپا رہا ہے چاند

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

خالد سیف الدین

خالد سیف الدین کا تعلق شہر اورنگ آباد، مہاراشٹرسے ہے۔ پیشے سے سول انجینئر ہیں۔ راشٹروادی کانگریس پارٹی مہاراشٹر کے ریاستی سیکریٹری کے عہدے پر 2014 سے متمکن ہیں۔ خالد سیف الدین ریاست مہاراشٹر کی بےشمار تعلیمی، ادبی، ثقافتی اور دیگر انجمنوں سے وابستہ ہیں۔ وہ ایک فعال شخصیت کے مالک ہیں،کسی بھی سرگرمی اور پروگرام کی منصوبہ بندی اور اسکے حسن انتظام کیلئے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

متعلقہ

Close