سیاست

امتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کا

حفیظ نعمانی

ایسا تو دو تین بار ہوچکا ہے کہ بظاہر کانگریس کا صفایا ہوگیا اور پھر وہ پوری آب و تاب سے واپس آگئی۔ لیکن یہ اس وقت کی بات ہے جب صوبوں میں اس کی حکومت تھی۔ آج صورت حال یہ ہے کہ پنجاب میں اس کی حکومت ہے اور بڑے صوبوں میں کرناٹک کی قسمت کا فیصلہ ہونے والا ہے ۔ اس کے علاوہ تلاش کرنا پڑے گا کہ وہ کہاں ہے؟ کانگریس کے اجلاس میں پارٹی کے صدر راہل گاندھی نے جو تیور دکھائے وہ صرف ضمنی الیکشن میں کامیابی کا اثر تھا۔

مسز سونیا گاندھی نے ڈنر پر بلاکر شاید پھر یہ چاہا کہ کانگریس کی قیادت میں کوئی محاذ بناکر 2019 ء لڑلیں لیکن گھر آکر کھانا کھانا الگ بات ہے اور قیادت قبول کرنا الگ بات ہے۔ ممتا بنرجی اور تلنگانہ کے چندرشیکھر رائو تیسرے محاذ کی بات کررہے ہیں اور شرد یادو اکھلیش یادو سے مل کر نئے گٹھ بندھن کا خاکہ بنا رہے ہیں۔ اور یہ بھی تذکرہ ہورہا ہے کہ بی جے پی اور کانگریس دونوں سے الگ محاذ بنے گا۔ کانگریس جو 2014ء میں کومہ میں چلی گئی تھی مودی جی کی غلطیوں سے پھر صحتمند ہورہی ہے اور گجرات میں جو کچھ ہوا اس نے اسے نئی طاقت دے دی۔ لیکن اس کا کوئی امکان نہیں کہ کوئی اس کی قیادت تسلیم کرلے گا۔ اسے سنجیدگی سے اپنے بارے میں فیصلہ کرنا چاہئے اور اسے تیسرے محاذ میں شریک رہنا چاہئے۔ گورکھ پور اور پھول پور کے بارے میں کانگریس نے اکھلیش سے کہا تھا کہ ایک سیٹ اسے دے دی جائے اور سب اس کی حمایت کریں۔ ہم نہیں سمجھے کہ کانگریس نے یہ بات کیوں چھیڑی؟ اُترپردیش ، بہار اور بنگال میں اس کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔ اور ایک سیٹ اگر وہ جیت جاتی تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دوسری بات یہ کہ 2017ء کے الیکشن میں سماج وادی پارٹی سے جو معاہدہ ہوا تھا اس کا کانگریس کے صوبائی صدر راج ببر نے پوری طرح بائیکاٹ کیا۔ ہوسکتا ہے کہ کسی نے دیکھا ہو ہم نے تو انہیں کہیں نہیں دیکھا۔ اس رویہ کے بعد وہ یہ کیوں اُمید کررہے تھے کہ ان کو ایک سیٹ دی جائے اور سب ان کی حمایت کریں؟

کانگریس کو اب یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ جب تک کم از کم پانچ بڑے صوبوں میں اس کی حکومت نہیں ہوگی وہ ملک کی قیادت کی بات نہیں کرے گی۔ اس کے سامنے کرناٹک کی حکومت بچانا ہے اور راجستھان اور مدھیہ پردیش میں جان کی بازی لگاکر انہیں جیتنا ہے۔ اگر وہ اس میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اسے قیادت کی بات کرنے کا حق ہوگا۔ بنگال میں جو کچھ کانگریس نے سی پی ایم کے ساتھ مل کر کیا ہے ممتا بنرجی اسے کیسے بھول سکتی ہیں اور تیسرا محاذ یا مورچہ ممتا بنرجی کے بغیر کیسے بن سکتا ہے۔ کیونکہ تیسرے مورچہ کی بنیاد ہی سیکولرازم پر ہوگی اور جہاں تک ممتا بنرجی اور چندرشیکھر رائو کا تعلق ہے تو یہ دونوں بار بار اس کا ثبوت دے چکے ہیں کہ یہ سو فیصدی سیکولر ہیں اور مسلمانوں سے وہ اور ان سے مسلمان قریب ہیں۔

جب سے مسز سونیا گاندھی نے ڈنر پر مخالف پارٹیوں کے لیڈروں کو بلایا ہے اس وقت سے میڈیا کو سب سے زیادہ اس کی فکر ہے کہ کیا شرد پوار راہل گاندھی کی قیادت میں کام کریں گے؟ یہ حقیقت ہے کہ کانگریس کے بزرگ اور سفید بالوں والے تو انہیں بہت دنوں سے راہل جی کہہ رہے ہیں۔ رہے دوسرے تو وہ وقت آنے پر فیصلہ کرلیں گے کہ ان کو کیا کہہ کر خطاب کریں؟ فی الحال تو قیادت اگر تیسرے مورچہ کے بزرگ لیڈر شرد یادو کے سپرد کردی جائے تو شاید کسی کو اعتراض نہ ہو۔ انہوں نے نتیش کمار کو ٹھوکر مارکر اپنی راجیہ سبھا کی سیٹ بھی قربان کردی ہے مگر اپنے سیکولر کردار کو قربان نہیں کیا۔ لالو یادو اور شرد یادو دونوں ہی سیکولرازم کے علمبردار ہیں اور اس کے لئے قربانی دے رہے ہیں۔

بزرگ لیڈر شرد یادو کو سب سے بڑی فکر دستور کی ہے وہ اور ان جیسے سب محسوس کررہے ہیں کہ آر ایس ایس کے دبائو میں حکومت دستور سے وہ سب نکال دے گی جس کی بناء پر ملک سیکولر ہے۔ شرد یادو نے جب اکھلیش یادو سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ وہ پوری سنجیدگی سے لگے ہوئے ہیں اور مہاگٹھ بندھن بنانے کی تیاری کررہے ہیں۔ انہوں نے اپنے نائب صدر کو لالوجی کے بیٹے سے ملنے کے لئے رانچی بھیجا ہے۔ ان کی ملاقات جیل میں لالو جی سے بھی ہوسکتی ہے۔ اکھلیش یادو چاہتے ہیں کہ کانگریس اسی طرح شریک رہے جیسے وہ بہار میں ہے۔ اور کانگریس کو کسی ایسی ریاست میں اپنے اُمیدوار نہیں اتارنا چاہئیں جہاں اتنی مضبوط علاقائی پارٹی ہو جو بی جے پی سے اپنے بل پر مقابلہ کرسکے کانگریس کو 2019 ء اپنے کو قابو میں رکھنا چاہئے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close