سیاست

امت شاہ کے دربار میں حاضری این ڈی کی سزا

حفیظ نعمانی
ایسا بڑھاپا جس میں اتنا مجبور ہوجانا پڑے کہ اپنی رائے نہ ہو اور دوسروں کا حکم حرف آخر ہو سزا سے کم نہیں ہے۔ دو دن سے سابق وزیر اعلیٰ اترپردیش ، سابق وزیر اعلیٰ اتراکھنڈ اور سابق گورنر راجستھان شری نرائن دت تواری گفتگو کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ انہیں اپنی جوانی کی ایک غلطی کی سزا تو ۶ فٹ کے ایک بیٹے اور اس کی ماں کی شکل میں ملی ہے جو اب ان کی پتنی ہیں۔ اور دوسری سزا یہ ملی ہے کہ بتایا جارہا ہے کہ تواری جی اپنے بیٹے کو بی جے پی میں ایسے ہی داخل کرانے لے گئے ہیں جیسے اسے اس وقت کسی نرسری اسکول لے جاتے جب وہ تین برس کا تھا۔ کہنے والوں نے بات یہاں سے شروع کی کہ تواری جی بی جے پی میں شامل ہوگئے۔ بعد میں تردید ہوئی کہ وہ خود شامل نہیں ہوئے بلکہ وہ اپنے لڑکے کو شامل کرانے گئے تھے اور دیکھنے والوں نے دیکھا کہ نہ وہ خود شامل ہونے کے قابل ہیں اور نہ اس قابل کہ کوئی انہیں شامل کرنے کے لیے لے جائے تو وہ بیٹے کو کیا لے جائیںگے؟
ٹی وی پر جو منظر دیکھا وہ یہ تھا کہ امت شاہ انہیں پھولوں کا گلدستہ پیش کررہے ہیں اور وہ اپنا ہاتھ خود اٹھا کر گلدستہ لینے کے حال میں کبھی نہیں ہیں ہم نہ جانے کتنی بار ان سے ملے ہیں۔ کسی کے کام سے بھی اور اس وقت بھی جب انھوں نے بلایا ہے۔ وہ کئی بار اترپردیش کے وزیر اعلیٰ رہے اور میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ انھوں نے اور جو کچھ کمایا ہو دولت نہیں کمائی۔ ان کے بارے میں جو کچھ مشہور ہے وہ حقیت ہے اور یہ کمزوری ان کی اتنی بڑی کمزوری تھی جس کی وجہ سے وہ آج جے پرکاش نرائن، چودھری چرن سنگھ یا دوسرے بزرگ لیڈروں کی طرح نہیں بلکہ بے یار و مددگار دنیا سے جانے کا انتظار کررہے ہیں۔ جس کمزوری کی سزا وہ بیٹا ہے جسے لکھنے والے عدالتی بیٹا بھی لکھ رہے ہیںیہی کمزوری تھی جس نے ہر اس آدمی کو فرش سے عرش پر پہنچا دیا جس نے تواری جی کی اس کمزوری یا اس شوق کو پورا کردیا اور ایسے ایسے لوگ جو کارپوریٹر بننے کے قابل نہیں تھے تواری جی نے ان میں سے کسی کو کائونسل اور کسی کو راجیہ سبھا میں بٹھا دیا۔
ہمارے ایک دوست عابدی الٰہ آبادی تھے وہ اپنے ایک کام سے ہمیں دہلی لے گئے۔ ان کا خود تواری جی سے بہت اچھا تعلق تھا لیکن وہ اپنے کام کے بارے میں ان سے کہتے ہوئے ہچکچا رہے تھے اور چاہتے تھے کہ میں تواری جی سے کہوں اور وہ موجود ہوں۔ اس زمانہ میں تواری جی انڈسٹری منسٹر تھے اور یہ وزارت ایسی ہوتی ہے کہ ایک سال میں محل نہیں آدمی چاہے تو محلہ بنا لے۔ ہم دونوں بات کررہے تھے کہ ان کے سکریٹری آئے اور کہا کہ لائن پر مود ی ہیں(مودی نگر والے مودی) تواری جی نے کہا کہ لکھنؤ میں قومی آواز میں کچھ پریشانی ہے۔ ۵۰ ہزار روپے وہاں بھیج دیجئے۔ عابدی صاحب نے درمیان میںہی تواری جی تواری جی کہنا شروع کیا اور ان کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی کہہ دیا کہ ۱۰ ہزارروپے قومی جنگ کو دلا دیجئے۔ تواری جی نے بات میں بات شامل کرتے ہوئے کہا کہ ا ور ہاں، رام پور سے قومی جنگ نکلتا ہے ہمارے حلقہ میں جو مسلمان ہیں وہ سب اسے ہی پڑھتے ہیں اسے بھی ۱۰ ہزار بھجوادیجئے۔ یہ زمانہ وہ تھا جب ۱۰ ہزار ۱۰ لاکھ ہوا کرتے تھے۔
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایسے کام تو انھوں نے کیے لیکن خود جوہارے تو ملائم سنگھ سے کہا کہ میں نے کالی داس مارگ والا گھر خالی کردیا ہے، بس ایک کمرہ میں کچھ ضروری سامان بند ہے اسے میں ایک ہفتہ کے بعد منگوالوںگا۔ ملائم سنگھ جو جیت کر آئے تھے انھوں نے کہا کہ آپ کہاں جارہے ہیں ؟تواری جی نے جواب دیا کہ اپنے گھر۔ملائم سنگھ نے کہا کہ وہ تو ڈاکٹر صاحبہ یعنی آپ کی بیگم کا گھر ہے۔ اور پھر کہا کہ آپ اس وقت تک کہیں نہیںجائیںگے جب تک میں آپ کے لیے مکان کا انتظام نہ کردوں۔ اور پھر ملائم سنگھ نے ہی اس مکان کا انتظام کیا جس میں اب وہ رہ رہے ہیں۔ اس کے بعد ان کا ملنا جلنا بھی ایسا تھا جیسے وہ ملائم سنگھ کی سرپرستی کرتے رہیںگے۔
تواری جی کی اس کمزوری نے لوگوں کو موقع دیا کہ وہ اندراجی کے کان بھریں۔ حالاں کہ تواری جی نے اندراجی سے غلامی کا جیسا تعلق نبھا کر اور ان کے بگڑے پوت سنجے گاندھی کی مصاحبت کرکے اور وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے ان کی چپل اٹھا کر ان کے سامنے رکھ کر اپنے داغوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی تھی اور اس وجہ سے انہیںعلامتی سزا دی تھی کہ اترپردیش کے بار بار وزیر اعلیٰ کو اتراکھنڈ کا وزیر اعلیٰ بنادیا۔ وہ اگر اپنے اوپر قابو پالیتے تو پھر انہیںراجستھان کا گورنر نہ بنایا جاتا لیکن ان کے اوپر جو الزام گورنر کی حیثیت سے لگا اس کی لاکھ صفائی دی گئی لیکن وہ اونٹ کی کمر کا آخری تنکا ثابت ہوا اور ایک دن کانگریس نے بے یارو مددگار چھوڑ دیا۔ اور وہ ماں جس کا الزام تھا کہ اسے تواری جی دوسری بیوی کی طرح رکھتے تھے اور وہ بیٹا جسے فوٹو میں ان کی گود میں دکھایا گیا ہے اس نے عدالت سے منوا لیا کہ وہ نرائن دت تواری کا ہی بیٹا ہے اور آج اس سے بڑی سزا کیا ہوگی کہ اس کی خواہش پوری کرنے کے لیے خود گئے جبکہ   ع
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
تواری جی نے اپنے بیٹے کو بی جے پی میں داخل ہی نہیں کیا بلکہ انہیں وزیر اعظم کی تعریف بھی کرنا پڑی اور یہ بھی کہنا پڑا کہ کانگریس اور بی جے پی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ کانگریس کے ایک ترجمان م افضل نے کھل کر کہہ دیا کہ نرائن دت تواری کی جو شبیہ ابھری ہے اس سے پارٹی کو نفع کم اور نقصان زیادہ ہوا ہے۔ ان کے جانے سے کانگریس کو کوئی نقصان نہیں اور آنے سے بی جے پی کو فائدہ نہیں ہے۔ اور روہت تواری ایسے بیٹے بھی نہیں ہیں جیسی ریتا بہوگنا بیٹی تھیں۔ ریتا بہوگنا اپنے بھائی کے مشورہ پر بی جے پی میں آئیں اور روہت شیکھر تواری اپنے باپ کو جھنڈا بنا کر لے گئے۔ اب جنھیں ان سے تعلق ہے ان کے لیے تو بہتر یہ ہے کہ وہ خاتمہ بالخیر کی دعا کریں۔
جب جب وہ وزیر اعلیٰ یوپی رہے ایک کانگریسی لیڈر آغازیدی ہمیشہ ان کے خلاف رہے وہ کہا کرتے تھے کہ تواری سوشلسٹ ہیں جس کا ثبوت ان کی ٹوپی ہے جو نہ سفید تھی نہ سرخ بلکہ بادامی ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ بھی وہ ملائم سنگھ سے بہت قریب تھے اور سب کا خیال یہ تھا کہ وہ کانگریس سے تو الگ ہوچکے ہیں شاید سماج وادی پارٹی کے دعا گو ہوجائیںگے۔ لیکن عمر بھر کے کانگریسی کا امت شاہ کے دربار میں حاضری کے ذریعہ قدرت نے ایک اور سزا دی ہے ۔وہ خود جائیں یا بیٹے کو ٹکٹ دلائیں بات ایک ہی ہے۔
موبائل نمبر:9984247500

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close