سیاستہندوستان

انتخابات اور مسلمانوں کی عمومی ذمہ داری

ازیں قبل ہم نے اپنے ایک مضمون ’’اترپردیش اسمبلی انتخابات۔۔۔کچھ حقائق ۔۔۔۔کچھ اندیشے‘‘ میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی تھی کہ یوپی کے انتخابات کی کیا اہمیت ہے اور مسلمانوں کے لئے خصوصاً ان انتخابات سے کیا نتائج برآمد ہوسکتے ہیں؟ ہم نے کچھ حقائق پیش کئے تھے اور کچھ اندیشوں کا ذکر کیا تھا۔ مذکورہ تحریر میں ہم نے یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی تھی کہ ریاستی انتخابات مرکزی حکومت پر اثرانداز ہوتے ہیں ۔راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں ہونے والی کارروائیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ اراکین اسمبلی جو مختلف ریاستوں سے منتخب ہوکر آتے ہیں ان کی تعداد کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ وہ عوامی مفادات کی حفاظت کرنے اور عوامی مفادات کو فراموش کرکے عوام کو پریشانیوں اور مصائب وآلام کے شکار بنانے میں اہم کردار اداکرتے ہیں۔ وہیں میں نے مسلمانوں کی ذمہ داری خصوصاً علماء، اہل علم، دانشوروں اور مسلم رہنماؤں کی ذمہ داری کی طرف بھی اشارہ کیا تھا۔ آج میں اپنے اس مضمون میں انتخابات میں ووٹ ڈالنے اور ووٹرکی اہمیت اور عام مسلمانوں کا ووٹنگ کے تئیں کردار کیا ہونا چاہئے؟ اس طرف اشارہ کرنا چاہتاہوں۔ کیوں کہ یہ عام طورپر دیکھا گیاہے کہ مسلمانوں میں عموماً خاص طورپر ان علاقوں کے مسلمانوں میں ایک بات بڑی شدومت کے ساتھ پائی جاتی ہے کہ وہ رائے دہی (ووٹنگ) سے گریز کرتے ہیں اور یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ ہم ووٹ کس کو کریں۔ کیوں کہ ہماری نظر میں کوئی ایسا لیڈ ر، رہنما، قائد ہی نہیں ہے جس پر اعتماد کیا جائے ، اور جو بھروسے کے قابل ہو۔
مسلمانوں کےرائے دہی میں حصہ نہ لینے کے نقصانات:۔ مسلمانوں کے رائے دہی میں حصہ نہ لینے سے سب سے پہلا اور بڑا نقصان تو یہ ہوتاہے کہ فسطائی طاقتوں کے حق میں رائے دہی میں اضافہ ہوتاہے۔ کیوں ایک طرف جب رائے دہی ہی نہیں ہوگی تو دوسری طرف کو یقیناً اضافہ کا فائدہ ہوگا۔ اس لئے کہ وہ سب متحد ہوتے ہیں باوجود اس کے کہ وہ مختلف مذاہب اور ایک دوسرے سے منافرت اور متعصبانہ رویہ رکھتے ہیں ۔ لیکن اقوام عالم نے یہ بات محسوس کرلی ہے کہ کوئی سچا مذہب اگر دنیا میں ہے تو وہ اسلام ہے اور اسی کی حکمرانی کو قیام وبقا ہے اور اسی سے دوسرے مذاہب وادیان کو خطرہ لاحق ہے۔ لہٰذا اپنے ذاتی اور مذہبی اختلاف کو بالائے طاق رکھ وہ سب ایک ہوجاتے ہیں۔ یہ بھی حیرت کی بات ہے کہ امت مسلمہ جن کی تمام بنیادیں ایک ہیں وہ ایک نہیں ہوتے ۔ گویا یوں محسوس ہوتاہے کہ ہم نے قرآن کی وہ تعلیم کہ ’’آپس میں اختلاف مت پیداکرو ورنہ تم پھسل جاؤگے، تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘ کو دوسری قوموں اورمذاہب کے ماننے والوں کے اختلاف وانتشار کے سبق سے تبادلہ کرلیاہے۔ خیر دوسرا نقصان یہ ہوتاہے کہ وہ قائدین ورہنما یا پارٹی اور جماعت اقتدار پر نہیں آسکتی ہے جو مسلمانوں کے حق میں مفید نہ سہی لیکن مضر ونقصاندہ بھی نہیں ہے۔ پھر فسطائی طاقت اور فرقہ پرست قوت اقتدار پر آکر وہ کرتی ہے جو اس کی منشا اور اس کا ارادہ ہوتاہے۔ دوسری طرف رائے دہی کی شرعی حیثیت کا اگر آپ جائزہ لیں تو اندازہ ہوگاکہ رائے دہی ایک حق ہی نہیں بلکہ ہمارے ذمہ ایک شہادت کی حیثیت رکھتی ہے جس کا چھپانا حرام ہے۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی دامت برکاتہم نے اپنی ایک تحریر میں قرآن واحادیث کے حوالہ سے کچھ اس طرح بیان کیا ہے:
’’ہمار ا ووٹ تین حیثیتیں رکھتاہے: ایک شہادت، دوسرے سفارش، تیسرے حقوق مشترکہ میں وکالت، تینوں حیثیتوں میں جس طرح نیک، صالح، قابل آدمی کو ووٹ دینا موجب ثواب عظیم ہے اور اس کے ثمرات اس کو ملنے والے ہیں، اسی طرح نااہل یا غیر متدین شخص کو ووٹ دینا جھوٹی شہادت بھی ہے اور بری سفارش بھی اور ناجائز وکالت بھی اور اس کے تباہ کن ثمرات بھی اس کے نامۂ اعمال میں لکھے جائیں گے۔‘‘
قرآن وسنت سے یہ واضح ہواکہ نااہل، ظالم، فاسق اور غلط آدمی کو ووٹ دینا گناہ عظیم ہے یا ووٹ نہ دے کر مذکورہ افراد کو کامیاب بنایا بھی یقیناً اتنا ہی بڑا گناہ ہے۔ اسی طرح ایک اچھے نیک اور آدمی کو ووٹ دینا ثواب عظیم ہے بلکہ ایک فریضۂ شرعی ہے۔ قرآن کریم نے جھوٹی شہادت کو حرام قراردیا ہے اسی طرح سچی شہادت کو واجب ولازم بھی فرمایا ہے۔ ارشاد ربانی ہے ’’تم اللہ کے لئے شہادتوں کو سچائی کے ساتھ قائم کرنے والے بنو‘‘ (سور ہ مائدہ:۱۳۵)
مزید آگے چل حضرت شیخ الاسلام حفظہ اللہ اپنی تحریر میں ایک درد کا اظہار کرتے ہوئے دیانت دار اور اچھے قائد ورہنما کی عدم موجودگی میں بھی ظالم وشاطر اور قوم کو نقصان پہنچانے کے مقابلہ میں اس اس کو ووٹ دینا فریضہ عامہ قرار دیا ہے اور کچھ اس طرح رقم طراز ہیں:
’’ ان تمام آیات نے مسلمانوں پر یہ فریضہ عائد کر دیا ہے کہ سچی گواہی سے جان نہ چرائیں، ضرور ادا کریں، آج جو خرابیاں انتخابات میں پیش آرہی ہیں، ان کی بڑی وجہ یہ بھی ہے، کہ نیک صالح حضرات عموماً ووٹ دینے ہی سے گریز کرنے لگے جس کا لازمی نتیجہ وہ ہوا جو مشاہدہ میں آرہا ہے، کہ ووٹ عموماً ان لوگوں کے آتے ہیں جو چند ٹکٹوں میں خرید لیے جاتے ہیں، اور ان لوگوں کے ووٹوں سے جو نمائندے پوری قوم پر مسلط ہوتے ہیں، وہ ظاہر ہے، کہ کس قماش اور کس کردار کے لوگ ہوں گے، اس لیے جس حلقہ میں کوئی بھی امیدوار قابل اور نیک معلوم ہو، اسے ووٹ دینے سے گریز کرنا بھی شرعی جرم اور پوری قوم و ملت پر ظلم کا مرادف ہے، اور اگر کسی حلقہ میں کوئی بھی امیدوار صحیح معنی میں قابل اور دیانت دار نہ معلوم ہو، مگر ان میں سے کوئی ایک صلاحیت کار اور خدا ترسی کے اصول پر دوسروں کی نسبت سے غنیمت ہو، تو تقلیل شر اور تقلیل ظلم کی نیت سے اس کو بھی ووٹ دے دینا جائز بلکہ مستحسن ہے، جیسا کہ نجاست کے پورے ازالہ پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں تقلیل نجاست کو اور پورے ظلم کو دفع کرنے کا اختیار نہ ہونے کی صورت میں تقلیل ظلم کو فقہاءرحمہم اللہ نے تجویز فرمایا ہے۔ واللہ سبحانہٗ و تعالیٰ اعلم‘‘
ذمہ داریاں: ۔رائے دہی کی اہمیت اور اس کی شرعی حیثیت کے معلوم ہونے کے بعد اب اہل علم، دانشوروں، مفکرین، مصلحین، خطباء ، علماء ، سیاسی قائدین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مسلمانوں کو ووٹنگ (رائے دہی) کے تعلق سے بیدار کریں، خاص طورسے ان علاقوں کا دورہ کریں جہاں علم وآگہی کی کمی ہے یا جہاں لوگوں میں ایک طرح کی مایوسی ہے اور انہوں نے قومی وملکی دھارے سے اپنے آپ کو الگ کررکھاہے۔ وہاں کے لوگوں کو رائے دہی کی اہمیت بتائیں، خطباء اپنے خطابات میں اس پر خاص توجہ دیں۔ اخبارات ورسائل میں شائع مضامین کو پڑھے لکھے اپنے ان دوستوں اور رشتہ داروں میں پڑھ کر نہ سہی کم از کم مضامین کا ماحصل سنائیں ان کو قوم اور قومی مفادات کے تعلق سے بیدار کریں۔
ایک اور اہم بات بدقسمتی سے ہماری سیاسی تاریخ انتہائی مشکوک ہوچکی ہے اور انتخابات کے باعث اس کا چہرہ مسخ ہوچکاہے۔ یہاں کی سیاسی جماعتیں کبھی اپنے مخالفین کی طرف سے ووٹرز اور ووٹنگ کے عمل پر اثر انداز ہونے کے الزامات عائد کرتی ہیں تو کبھی انتخابی نتائج میں تبدیلی اور الیکشن میں بڑے پیمانہ پر دھاندلی کی باتیں کی جاتی ہیں اور یہ کسی حد تک سچ بھی ہے اس لئے سیاسی قائدین کی خصوصاً، دینی وملی رہنماؤں اور اہل علم کی عموماً ذمہ داری بنتی ہے کہ اثر رسوخ والے افراد الیکشن کمیشن اور انتخابی عمل پر گہری نظر رکھیں اور عام مسلمانوں کے ووٹ کو بکنے نہ دیں۔ دو ٹکے کی لالچ میں کہیں ایسا نہ ہو کہ پوری قوم اور پوری ملت کا بیڑا غرق ہوجائے اور اسلامی شعائر وتشخص کے لالے پڑ جائیں۔ اللہ ہم کو توفیق سے نوازے۔ آمین

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد شاہنواز عالم ندوی

فارغ التحصیل دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ، بی اے (اردو) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد، ایم اے (اردو) مولانا مظہرالحق عربک، پرشیئن یونیورسٹی پٹنہ، سابق لکچرر اردو، عربی اور اسلامیات الامین پی یو کالج بنگلور ،سب ایڈیٹر روزنامہ سالار اردو بنگلور

متعلقہ

Back to top button
Close