سیاست

انتخابات: سیکولر پارٹیوں کی ہار اور اشارات

ارشاداحمد ولیؔ

2014کے عام انتخابات سے 7مہینہ قبل آگرہ سے مودی نے اپنے  P,R(پبلک ریلیشن) کی مدد سے کانگریس کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کے خلاف جو ہنکار بھری تھی اس کا نتیجہ ہم نے دیکھا کہ عام انتخابات میں کانگریس چاروں شانے چت ہو گئی، یوں تو اس بات میں صداقت ہے کہ 2014میں کانگریس کی غلطیوں کو بھنانے کے لئے عوام کو چھوٹی چھوٹی باتوں سے جذباتی کرنے کا جو  ہنروزیر اعظم نے دکھایا وہ اس سے قبل کسی نے نہیں آزمایا تھا کانگریسی وزراء کا کرپشن اور مودی کے وعدوں کا جادو عوام کے سر چڑھ کر خوب بولا  اور 2014کے انتخابات کی جیت کا اثر  آنے والے پے در پے کئی اسمبلی کے الیکشن میں بھی دکھا اور  بی، جے، پی بازی مارتی چلی گئی نتیجے میں متعد پارٹیوں کے وجود پر ہی سوالیہ نشان لگ گیا کہ آیا یہ باقی بھی رہ پائیں گی کہ نہیں، لیکن بی، جے، پی کو پہلا جھٹکا دہلی میں لگا اور اس کے بعد بہاراور مغربی بنگال میں مودی کے جادو کی رسوائی ہوئی اس کے بعد بھی ہماری نظروں نے دیکھا کہ بی، جے، پی نے متعدد اسمبلیوں کے انتخابات جیتے، اس پورے عمل میں سب سے دلچسپ بات یہ رہی کہ جب ان اسمبلیوں میں بی، جے، پی کے جیت کی ہوا چل رہی تھی جس میں بی، جے، پی کی عوامی مقبولیت کے بجائے ووٹوں کی تقسیم زیادہ شامل ہے.

اس ہوا نے عوام کو دکھایا کہ کس طرح سے اپنے خوابوں میں بھی سیکولرزم کا مالا جپنے والے نیتاوں نے پارٹی بدلنے کا کھیل کھیلا، بی جے، پی کی جیت تو عوام کو مسحور نہ کر سکی کہ وہ کہیں 50%ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے لیکن ووٹ کی تقسیم نے اسے امید سے زیادہ سیٹیں جتوائیں، پھر کیا تھا سیکولرزم کا جھوٹا مکھوٹا پہنے لوگوں کے چہرے بے نقاب ہونا شروع ہوئے اور عوام نے دیکھا کہ یوپی سے بہار، گجرات سے راجستھان اوراتراکھنڈ سے گواتک اقتدار کے خواہاں افراد نے سیکولرزم کے دامن کوچاک کرتے ہوئے ایک کمیونل پارٹی کے گود میں پناہ لی، سیکولرزم کے نام پر عوام کو بے وقوف بنانے والے ان نیتاوں نے عوام کے ساتھ کتنا گھاٹ کیا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے، بی، جے، پی کے اس جیت کی لہر نے سیکولرزم کے ہر ملاوٹ میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا، گذشتہ دنوں میں چاہے گجرات کے کانگریسی ایم، ایل، اے ہوں یا بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار، اترپردیش کے سوامی پرساد موریہ ہوں یا ریتا بہو گنا جوشی  یا دیگر صوبوں کے ’’دلبدلو‘‘نیتا انھوں نے اپنی ذاتی مفاد کے خاطر جس طرح سے  بی، جے پی کے دامن میں پناہ لی ہے اورچند سکوں کے عوض عوام کے اعتبار کا خون کرتے ہوئے اپنے ضمیر کا سودا کیا ہے اس بات نے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ سیکولرزم کے جھوٹے مکھوٹے میں حقیقی چہرہ کا پتہ لگانا از حد ضروری ہے.

سیکولر ہندوستانی عوام اپنے سر پر ہاتھ رکھے ماتم کناں ہیں کہ جب تک حالات ساز گار رہے ان نیتاوں نے ان کو لوٹا اورجب سیکولرزم کے مخالف ہوا چلی تو اس ہوا کے جھونکے میں تھوڑی دیر بھی کھڑے ہونے کی تاب نا لاسکے اور اپنا رخ ہوا کے موافق کرلیا۔ یہ تو رہا سیکولرپارٹیوں کے وفادار پیادوں کا  حال کہ کس طرح یہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں ماہر ہیں اور عوامی مفاد سے ان کا کوئی سرو کار نہیں جسے عوام کی نظروں نے دیکھا۔ اب ہم اگر 2014کے عام انتخابات اور دیگر اسمبلی انتخابات پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں اور بی، جے، پی کی مسلسل جیت و سیکولر پارٹیوں کے شکست فاش کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مودی جادو کے علاوہ کچھ اور ہے جسے بی جے پی بڑی چالاکی سے بھنا رہی ہے (اس ضمن میں ہمیں ذہن میں رکھنا ہوگا کہ، مودی جی وعدوں کے ایک وسیع و عریض لہر پو سوار ہوکر اقتدار کی کرسی پر فائز ہوئے ہیں )ہر الیکشن میں سیکولر پارٹیاں الگ الگ الیکشن لڑتی ہیں اور بی، جے، پی کمیونل سیاست کا دائو کھیلتی ہے ایسے میں سیکولر ووٹوں کی تقسیم ہوتی ہے اور بی، جے، پی میدان مار لے جاتی ہے، آپ میرے موقف ’’مودی میزک‘‘ کے انکار سے اختلاف کر سکتے ہیں کیونکہ ابھی تک سیاست کے بڑے بڑے مہارتھی بھی مودی جادو کے قائل ہیں لیکن زمینی حقائق اس بات کے گواہ ہیں کہ مودی جادو کے بجائے سیکولر پارٹیوں کا انتخابات میں آپسی تضادمودی کے راستے کو ہموار کر ہا ہے لیکن وہ ہوش کے ناخن لینے کو تیار نہیں ہیں ۔

اگر مودی کا جادو بی جے پی کی کامیابی کا ضامن ہے تو مغربی بنگال، کیرلہ، پنجاب، گوا، میں جادو کیوں نہیں چلا، معلوم ہو کہ یہ  ایسے صوبے ہیں جہاں پر مضبوط علاقائی پارٹیوں کی تعداد کم ہے اور یہاں پر مودی کے ہارنے کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ  یہاں ایسی پارٹیاں تھیں ہی نہیں کہ جن کے درمیان عوام کا کثیر ووٹ تقسیم ہو سکے، اس کے برخلاف ہم اترپردیش اور مہاراشٹرا کی مثال لیں تو اترپردیش میں تین(سپا، بسپا، کانگریس)اور مہاراشٹرا میں (کانگریس، این سی پی، سیوسینا اور نرمان سینا)ایسی پارٹیاں ہیں جن کا عوامی رسوخ بہت ہے اور جن کے عوام ان پارٹیوں کے سوا کسی کو وٹ نہیں کرتے قطع نظر اس کے رزلٹ کیا ہوگا۔ اس طرح یہاں ووٹ تقسیم ہوا اور بی جے پی کامیاب ہوئی، لیکن جن صوبوں میں مضبوط علاقائی پارٹیاں کم ہیں وہاں پر بی جے پی کی دال نہیں گلی۔ گوا میں اگرچہ بی جے پی کی حکومت ہے جو اس نے سیاست کے تمام اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حاصل کیا ہے لیکن وہاں پر سب س بڑی پارٹی کانگریس تھی، 2016میں آسام اسمبلی انتخابات کی بات کریں تو وہاں بھی بی جے پی کو ووٹ تقسیم کا فائدہ ملا ورنہ ووٹ فیصد میں کانگریس بی جے پی سے آگے تھی کانگریس کو 31%ووٹ ملے  تو وہیں بی جے پی کو29.5%ووٹ ملا لیکن سیٹوں میں بی جے پی کانگریس سے آگے رہی۔

یہ ایسے نقاط ہیں جو بی جے پی کے ووٹ تقسیم کے فائدہ ملنے اور  سیکولر پارٹیوں کے آپس میں نبرد آزما ہونے کی وجہ سے خسارے کے موقف کی تائید کرتے ہیں ۔ دوسری چیز جو سیکولر پارٹیوں کے راستے میں حائل ہوئی وہ یہ کہ آزاد ء ہند کے بعد ایک لمبے عرصے سے سیکولر پارٹیوں کا ہی دبدبہ رہا ہے، اپنی خراب پالیسیوں کے باوجود اس میں سدھار لانے کے بجائے عوام  سے  سیکولرزم کی دھائی دے دے کر ووٹ حاصل کرتی رہی ہیں ایسے میں کمیونل پارٹیا ں خاص کر بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی نظریاتی تنظیمیں آر، ایس، ایس، وشو ہندو پریسد، بجرنگ دل، اور ہندو یواواہنی جیسی فاششٹ طاقتیں منظم انداز میں عوام کے ذہنوں میں زہر گھولنے کا کام اور سیکولر پارٹیاں اسے نظر انداز کرنے کاگناہ کرتی رہیں بلاآخر بی، جے، پی اور اس کی ذیلی تنظیمیں ہندوستان کے ایک مخصوص طبقہ کے ذہن میں زہر گھولنے میں کامیاب رہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلا  ہیکہ ان کے ذہن کو اس ڈھنگ سے شارپ کیا گیا ہے کہ مہنگائی، نوٹ بندی، قرض معافی، ٹیکس، کارپوریٹرس کی لوٹ کھسوٹ وغیرہ ان کے لئے کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے یہاں دلت اور پچھڑوں کے اپنے حق چھینے جانے کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے، یہاں زمین کا سوال بھی کوئی مسئلہ نہیں اب اس ٹاپو پر ایسے بھکتوں کی کثیر تعداد تیار کی جا چکی ہے جن کا اصل مسئلہ ان تما م کے علاوہ مسلمانوں کو سبق سکھانا، ہندو راشٹر، اور رام مندر کی تعمیر، ایک ذاتی کا دوسرے ذاتی کو سبق سکھانے کا ہے، ایسے ہی مسائل کی تعمیر کے  لئے یہ طبقہ پگلایا ہوا ہے (جنھیں ہم بھکت کہتے ہیں )اور اسے پورا کرنے کیلئے وہ اپنے پسند کا نتخاب کر رہا، ان کے سامنے اس کے علاوہ سارے مدعے ماند پڑ گئے ہیں، اب ان کے لئے روزی روٹی، تعلیم، امن اور روزگار کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے۔

ان کی اندھ بھکتی کا عالم یہ ہے کہ مرکزی وزیر جتیندر سنگھ کاپارلیمنٹ کا بیان ہے کہ سال 2013کے مقابلے میں 2015میں مرکزی حکومت کی سیدھی بھرتی میں 90%کی کمی آئی ہے، 2013میں 1,54,841 اور2014 میں 1,23,426لوگ اور 2015میں صرف 15,877لوگوں کی بھرتی ہوئی ہے، یہ آنکڑا 2016میں ایک لاکھ دس ہزار سے بھی کم ہے، لیکن باوجود اس کے نوجوان جذبات میں بہہ رہے ہیں اور حکومت اس کو خوراک دے رہی ہے اور ان کو جب ہوش آئے گا ان کا سب کچھ لٹ چکا ہوگا۔ ایسے میں سیکولر طاقتوں کا آپسی تضاد ان زھریلے افراد کے لئے اچھا پلیٹ فارم مہیا کر رہا ہے اور وہ وٹ کی تقسیم اور کمیونل سیاست کاپورا فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔

ملک کی موجودہ صورتحال میں انتخابات اور سیکولر پارٹیوں کی ہار اس بات کا اشارہ ہے کہ ملک میں سیکولر طاقتیں دن بدن کمزور ہورہی ہیں اور کمیونل سیاست پھول پھل رہا ہے، پے در پے شکست کھانے کی وجہ ان کی غلط پالیسیاں اور آپسی تضاد ہے  یہی نہیں اب سیکولرزم کی تعریف بھی بدلی ہے اور ایک خاص طبقہ(مسلمان) اس کے بوجھ کو ڈھوتا نظر آرہا ہے  ایسے میں اگر اس سونے کی چڑیا کہے جانے والے ملک کے ماحول کو مکدر ہونے سے بچانا ہے  اور کثرت میں وحدت کی شناخت باقی رکھنی ہے تو ملک سے محبت کرنے والے لوگو کو آگے آئیں اور ہرقسم کے تعصب کے کالے عینک کو اتار کر سر سے سر جوڑ کر بیٹھیں اور ایسے اقدام کی پیش رفت کریں جو سیکولرزم کا جھوٹا نقا ب پہننے والوں کو بے نقاب کر سکے، اپنے اندار اتحاد پیدا کرے، اپنے ذاتی مفاد سے ملک کا مفاد بالا تر ہو، ووٹ پارٹیوں کو نہیں امیدوار کو دیکھ کر دینے کے فارمولے کو اپنائیں ورنہ  وہ دن دور نہیں جب شرپسند عناصر ملک کی فضا میں نفرت بھر دیں ۔

ان انتخابت میں ہار نے جس طرح سے سیکولر چہروں کو بے نقاب کیا ہے  اور لوگ حیران و ششدر رہ گئے ہیں اگر ا س پر لگام نہ لگی اور لوگوں کے اصل مسئلے میں تبدیلی نہ آئی تو ملک کی ’’کثرت میں وحدت‘‘ پر سوالیہ نشان لگنا یقینی ہے ۔ ان انتخابات کی ہار نے عوام کو اس بات کی بھی دعوت فکر دی ہے کہ ایک لمبے عرصے تک جن کو وہ ملک اور سیکولزم کا مسیحا سمجھ رہے تھے انھوں نے کس طرح سے اپنے مفاد کے لئے ان کو لات ماری مزید یہ کہ سیکولرزم کا دم بھرنے والی پارٹیوں میں بہت جھول ہے اور عوام سے بہت ساری چیزوں کی پردہ داری ہے۔ اشارہ سیکولر پارٹیوں کے اتحاد کا بھی ہے یہ اور بات ہے کہ ان کے نیت ہی میں کھوٹ ہو اور وہ بھی سیکولرزم کا چولا اوڑھ کر ایک مخصوص نظریہ کے لئے کا کرہی ہوں ۔

دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس راجندر سچر کا یہ انٹرویوآنکھیں کھولنے والا ہے  انھوں نے ایک ویب سائٹ( ریڈف ڈاٹ کام) کو دیئے ایک انٹر ویو میں یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آر ایس ایس 2019میں ہندوستان کو ہندو راشٹر اعلان کروائے گا انھوں نے انٹرویو میں کہا کہ یوگی آددتیہ ناتھ کو یوپی کا وزیر اعلیٰ بنانا آر ایس ایس کی سوچی سمجھی سازش کا ایک حصہ ہے، ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ نریندر مودی صرف چہرہ ہیں 2019مین بی، جے، پی کی اقتدار میں واپسی کے بعد وہ ہندوستان کو ہندو راشٹر کا اعلان کروائے گا مجھے لگتا ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں اس خطرے کو بھانپ نہیں رہی ہیں البتہ ان کا مزید یہ کہنا تھوڑا سا را حوصلہ افزا ہے کہ  ملک کے ہندوئوں کی بڑی آبادی ایسا نہیں چاہتی کیونکہ بڑی آبادی اب بھی  سیکولر ہیں جو ہندو راشتر نہیں چاہتے خدا کرے ایسا ہی ہو اور آر، ایس ایس کے ذریعہ تیار کردہ فوج کی تعداد انگلیوں پر گنا جاسکے۔ انتخابت اور سیکولر پارٹیوں کی ہار کی وجوہات اک دم واضح ہیں اب ان سے ملنے والے اشارات کو اگر وہ نا سمجھیں تو اس میں قصور کس کا ہے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ارشاد احمد ولیؔ

شعبہ ترسیل عامہ و صحافت، مانو

متعلقہ

Close