انتخابات عامہ: کیا آپ حصہ دار بننے کے اہل ہیں؟

مسعود جاوید

چند غیر مقیم ہندوستانی ہم خیال دوست  دہلی آئے اور اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ وہ ہندوستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ مختلف پراجیکٹس پر غور و فکر کے بعد ایک پراجیکٹ کا انتخاب کیا گیا اس کے لئے مطلوبہ رقم ، پروڈکشن، مارکیٹنگ اور نفع نقصان کے پہلو جاننے کے لئے ایک ایجنسی کو feasible study کا کام سونپا گیا۔ اس کی رپورٹ کی روشنی میں طے پایا کہ 80 فیصد ان کی اور 20 فیصد مقامی سرمایہ کاروں کی کمپنی بنے۔ مقامی ہم خیال اور ہم پلہ لوگوں کا انتخاب ہوا اور اس طرح صنعتی اور تجارتی کام شروع ہو گیا۔ بعض بے سر و سامان اور غیر ہم پلہ لوگوں نے شکایت کی کہ انہیں شراکت کا اہل نہیں سمجها گیا ۔ جب ان لوگوں نے کمپنی کے ذمہ داران سے ملاقات کی اور یہ بات رکهی تو کمپنی والوں نے پوچها کہ کیا آپ لوگوں کے پاس  سرمایہ کاری کے لئے مطلوبہ رقم ہے اگر مطلوبہ رقم نہیں تو کیا آپ لوگوں کے پاس کمپنی چلانے کے لئے مطلوبہ صلاحیت اور عملی تجربات ہیں؟  انہوں نے کہا یہ تو نہیں ہے مگر ہم اسی علاقے کے رہنے والے ہیں اس لئے ہمیں بهی شامل کرنا چاہئے تها۔ کمپنی والوں نے کہا کہ ہم نے فیکٹری چلانے اس کی مصنوعات کی مارکیٹنگ کرنے اور نفع کمانے کے لئے کمپنی کی تشکیل کی ہے خیرات باٹنے کے لئے نہیں۔ آپ کے پاس شریک بننے کی نہ صلاحیت ہے اور نا ہی اہلیت اور نا ایسے افراد ہیں جو ورکنگ پارٹنر بن سکیں۔ بهائی ہمیں فیکٹری چلانا ہے خیراتی ادارہ نہیں۔

آئندہ انتخابات کے پیش نظر بعض سیکولر پارٹیوں کا اتر پردیش میں گٹھ بندھن ہوا ہے اور پچهلے ہفتہ ایک بڑی سطح پر اپوزیشن اتحاد کا مظاہرہ کولکاتہ میں ہوا تها۔ بعض مسلم سیاسی "لیڈروں” کو شکایت ہے کہ ان کو نظر انداز کیا گیا ان کی پارٹیوں کو قابلِ اعتناء نہیں سمجها گیا۔ اگر یہ  لوگ گٹھ بندھن کے  ذمہ داروں سے ملاقات کریں اور اپنی شکایت ان کے سامنے رکھیں تو ان "مسلم لیڈروں” سے یہی سوال کیا جائے گا کہ کیا آپ کے پاس سرمایہ یعنی افراد کی شکل میں متحد ووٹرز ہیں؟ کیا آپ کے اندر ذہنی صلاحیت ہے  یعنی کیا آپ کی مقبولیت بحیثیت عوامی رہنما ہے؟ کیا آپ کی تنظیم میں ایسے افراد ہیں ، جنہوں نے بلا تفریق مذہب اور ذات برادری ، خدمت کر کے اپنے حلقہ انتخاب میں اپنی پہچان بنائی ہو؟ کیا زمینی پکڑ والے مقامی لیڈر اور آپ کا اپنا کوئی کیڈر ہے جس کی کارکردگی الیکشن جیتنے کی ضمانت ہو ؟

ظاہر ہے یہ "مسلم  سیاسی لیڈر” جو ہر الیکشن کے وقت ہی برساتی مینڈک کی طرح باہر نکلتے ہیں اور الیکشن کے بعد دوبارہ نیند کی آغوش میں چلے جاتے ہیں،  کہیں گے نہیں ہمارے پاس کیڈر اور اہل افراد تو نہیں ہیں مگر آپ گٹھ بندهن کے ذمہ دار حضرات کو ہمارے یہاں کے مولانا مکی مولانا مدنی مولانا اماراتی مولانا اسلامی مولانا جماعتی  مولانا حدیثی مولابا بخاری تنظیم شرعیہ انخمن شرعیہ مولانا کونسل اتحاد مسلمانانِ ہند کل ہند مسلم مشورہ پارٹی کل ہند مجلس مسلمانانِ ہند ملی اتحاد فیڈریشن کو اعتماد میں لینا چاہئے تها ۔ تو گٹھ بندهن کا جواب ہوگا” بهائی ہمیں ملک چلانا ہے مسجد اور مدرسہ نہیں۔  آپ خود اہل نہیں ہیں اور جن کے نام آپ پیش کر رہے ہیں وہ سیاسی تنظیم نہیں ہیں خاص طور پر انتخابی سیاست میں ان کی کارکردگی حکمت عملی افراد سازی صفر ہے۔ تو مسلمان کہیں گے کہ اعظم خاں صاحب اور طارق انور صاحب جیسے لوگوں کو شامل کرتے تو ان کا جواب ہونا چاہئے ” یہ لوگ مسلم لیڈر نہیں ہیں۔ یہ قومی سیاسی جماعتوں کے کارندے ہیں۔ ان کا شمار اگر مسلم لیڈر میں کیا جائے تو اس کا جواب کیا ہوگا کہ  مظفر نگر جلتا رہا قتل وغارتگری عصمت دری ہوتی رہی مگر اتر پردیش اسمبلی میں 78 مسلم  ممبران نے احتجاج استعفیٰ دهرنا پردرشن تک نہیں کیا اس لئے کہ وہ پارٹی لائن سے باہر نہیں جا سکتے تهے۔ سب اپنی اپنی پارٹی کے غلام تهے حالات جب بگڑتی ہی چلی گئی اور  پانی جب سر سے اوپر ہونے لگا تو سپریم کورٹ کو مداخلت کرنی پڑی۔

دستور کی حفاظت،  اس پر غیر جانبداری سے عملدرآمد ، فرقہ وارانہ فسادات ، اس کے ذمہ داروں کی، اور اسے روکنے میں غفلت کرنے والوں کی نشاندہی اور واجب سزا دلانے، فسادات میں مرنے والوں اور دیگر آگ زنی اور لوٹ مار کے متاثرین کو انصاف اور مناسب معاوضہ کا بل پاس کرانے کے لئے کس مسلم تنظیم نے اور کتنی شدت سے  جنتر منتر پر اور مختلف شہروں میں احتجاج کیا اور عوامی تحریک چلائی؟

شاید ہماری تنظیمیں فساد روکنے کی حکمت عملی کی بجائے بازآبادکاری اور سیلاب سے متاثرین کی امداد میں زیادہ دلچسپی رکهتی ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


3 تبصرے
  1. muzaffar hasan کہتے ہیں

    جواب نہیں مسود جا وید صاحب
    مکرمی سلام مسنون!
    آپ کی تحریر انتخابات عامہ: کیا آپ حصہ دار بننے کے اہل ہیں؟
    وہ آئینہ ہے جس میں ہر ایک کو اپنا شفاف چہرہ چمکتا دمکتا نظر آئے گا،لیکن’ میں نہ مانوں ‘ والی تریا ہٹ کے آگے آج تک کس کا زور چلا ہے۔
    لیکن وہ جو کہاوت ہے کہ چلر کے ڈر سے لنگو ٹی تھوڑے ہی پھینکی جاتی ہے
    حق بات کہنے سے ڈرنا کیا
    اللہ تعالیٰ آپ کی سوچ،فکر، شعور کو مزید جلا بخشیں تاکہ ہمارے معاشرے کا اندھیرا دور ہو سکے۔ آمین ثم آمین

    مظفر حسن
    ایڈیٹر رو زنامہ جدید بھارت
    4سی۔ سر سید عالیہ ولا
    جامعہ نگر کڈرو ،رانچی، جھارکھنڈ
    موبائل نمبر8987760604
    E mail;jadeedbharat@gmail.com

    1. حفظ الرحمن کہتے ہیں

      مسعود جاوید صاحب آپ کا مضمون ہمیں ہمارے دل کی آواز کی مانند ہے. اس موضوع پر اس سے موزوں تحریراھی تک کم از کم میری نظر سے نہیں گزری.

    2. Masud Javed کہتے ہیں

      ذرہ نوازی کے لئے مشکور ہوں

تبصرے بند ہیں۔