سیاست

انتخابات کے آخری دنوں کا منظر نامہ

رشید انصاری

19مئی کو 2019 کے پارلیمانی انتخابات کا آخری مرحلہ ختم ہوجائے گا اور 23مئی کو نتائج کا اعلان ہوجائے گا۔ اس طرح انتخابی نتائج کے تعلق سے تمام قیاسات اور اندازے ختم ہوجائیں گے۔ تاہم 23مئی سے قبل نتائج کے تعلق سے پیشن گوئیوں،  قیاسات اور سب سے بڑھ کر EXIT Poll ایگزٹ پول پر سب کی نظر رہے گی۔ تاہم اس سے قبل حسب معمول لکھنے والے اندازوں اور قیاست پر مبنی محل کھڑے کرتے رہیں گے۔اس لئے ہم بھی اس تعلق سے کچھ خامہ فراسائی کررہے ہیں۔

ایک عام قیاس یہ ہے کہ بی جے پی کے لئے مکمل کامیابی حاصل کرکے دوبارہ برسراقتدار آنا ممکن نظر نہیں آتا ہے۔ اسی طرح حزب مخالف کی جماعتوں کے محاذ یا گٹھ بندھن بھی اتنے طاقتور نہیں ہیں کہ وہ برسراقتدار آجائیں کیونکہ حزب مخالف کی کمزوریوں اور اختلافات سب پر آشکار ہیں اگر حزب مخالف کی تمام جماعتیں متحد ہوتیں خاص طور پر کانگریس اور کسی حدتک مایاوتی کی بی ایس پی متحدہ اتحاد کی یا گٹھ بندھن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوئے ورنہ ممکن تھا کہ تمام جماعتوں کا اتحاد ہوجاتا۔ بنگال میں جہاں ممتابنرجی کی ترنمول کانگریس برسراقتدار ہے اس پر کانگریس، کمیونسٹوں اور بی جے پی کا سہ رخی حملہ ہے۔ ممکن ہے ممتابنرجی سہ رخی حملوں کے مقابلہ میں کسی قدر کمزور پڑ جائے اور بنگال میں اپنی طاقت بڑھانے کا بی جے پی کا خواب شرمندئہ تعبیر ہوجائے اگر کانگریس اور کمیونسٹ اپنی انا کو بالائے طاق رکھ کر ممتابنرجی سے کچھ سمجھوتہ کرلیتے بلکہ اپنی انا کے خلاف بنگال میں ممتابنرجی کی بڑائی تسلیم کرلیتے تو بنگال میں بی جے پی کو کسی ایک حلقہ میں بھی شائد ہی کامیابی ہوتی۔ اس طرح دہلی میں کجریوال کی درخواست کے باوجود کانگریس نے ان کی جماعت عاپ سے اتحاد کرنے کیلئے انکار کردیا۔ اس طرح دہلی میں بی جے پی کو کچھ فائدہ ممکن ہے۔ دوسری طرف ہریانہ اور پنجاب میں بھی کانگریس نے کجریوال سے اتحاد کرنے سے انکار کردیا۔ کانگریس کے نزدیک 2019ء کے انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینے سے زیادہ اہم اپنی انا اور طاقت کا مظاہرہ ہے۔ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ کانگریس 2019ء کے بعد 2024کے انتخابات پر نظریں لگائے ہوئی ہے یعنی کانگریس، بی جے پی کو 2019ء میں اقتدار میں آنے دینے سے روکنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتی ہے۔

اس کی ایک اور مثال ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کی ہے جہاں سے لوک سبھا کے 80 ارکان منتخب ہوتے ہیں۔  یہاں پر مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی سے سماج وادی پارٹی کے قائد اکھلیش نے اتحاد کرلیا۔ مایاوتی سے اتحاد کرنے کے لئے یوپی کے جوان سال قائد اکھلیش نے اپنی انا کو بالائے طاق رکھ کر اور بہوجن سماج پارٹی سے زیادہ طاقتور ہونے کے باوجود مایاوتی سے ان کی شرائط پر اتحاد کرلیا۔ اکھلیش یادو کا یہ جذبہ نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ قابل تقلید بھی ہے(کاش کانگریس کے جوان سال قائد راہول گاندھی بھی اسی جذبہ کا مظاہرہ کرتے نہ صرف یو پی میں بلکہ ملک بھر میں بی جے پی کے خلاف تمام مخالف بی جے پی جماعتوں کا ایک مضبوط اتحا د یا گٹھ بندھن قائم ہوجاتا اور اس صورت میں بی جے پی کی کامیابی کے امکانات اور موہوم ہوجاتے لیکن تین ریاستوں (مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ) کی ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں کامیابی کے بعد کانگریس کی قیادت ضرورت سے زیادہ خوش فہمیوں کا شکار ہوکر رہ گئی ہے۔ اسی لئے حزب مخالف کی تمام جماعتوں کا ایک مضبوط اتحاد قائم نہ ہوسکا اگر ہم یو پی کی طرف لوٹ آئیں تو پتہ چلے گا کہ یہاں پر کانگریس مخالف بی جے پی ووٹوں میں حصہ لگاکر ایک طرح سے مخالف بی جے پی ووٹ کاٹ کر بی جے پی کو بالراست فائدہ پہنچا رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی الزام ملک بھر میں کانگریسی قیادت نے مجلس اتحادالمسلمین اور اس کے پرعزم قائد اسدالدین اویسی پر لگاکر ان کو بدنام کرنے کی کوشش کی تھی اور اب ایم آئی ایم پر لگائے گئے جھوٹے الزامات خود کانگریس پر نہ صرف عائد کئے جارہے ہیں بلکہ علانیہ ظاہر ہے کہ خود کانگریس ایک ’’ووٹ کاٹو‘‘پارٹی تمام ملک میں نہ سہی یو پی، دہلی، ہریانہ اور پنجاب میں بنی ہوئی ہے۔ ان ریاستوں میں کانگریس کی حکمت ِ عملی نے اسے ملک بھر میں تنقید کا نشانہ بنادیا ہے۔ اس طرح کانگریس بی جے پی کی مدد کررہی ہے جوکہ ایک شرمناک اور قابل مذمت حکمت ِ عملی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ کانگریس کیونکہ تمام مخالف بی جے پی جماعتوں میں سب سے بڑی، سب سے قدیم اور بااثر پارٹی ہے۔ اس لئے وہ بڑے بھائی کا رول ادا کرکے تمام مخالف بی جے پی جماعتوں کو ایک جگہ متحد کرتی اور بی جے پی کو اقتدار سے باہر کرنے کے منصوبے کو کامیاب بناتی۔ ویسے یہ منصوبہ ابھی بھی کامیاب ہوتا نظر آتا ہے لیکن کانگریس کی حکمت عملی اور اقدامات نے اس منصوبہ کو روبعمل لانے میں کانگریس ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہورہی ہے اگر کانگریس اکھلیش یادو کی طرح قربانی دینے فراخدلی دکھاکر کچھ کم سیٹوں پر مخالف بی جے پی جماعتوں سے سمجھوتہ کرتی تو  2019ء کے انتخابات میں اسے مکمل اقتدار نا بھی حاصل ہوتا 2019ء کے بعد کانگریس کی مقبولیت اور اثر ر سوخ نے زبردست اضافہ ممکن تھا اور اسی طرح2024ء کے انتخابات میں کانگریس اپنا کھویا ہوا مقا م حاصل کرسکتی تھی۔ پتہ نہیں کانگریس قیادت نے کیا سونچ کر مخالف بی جے پی اتحاد میں رخنے ڈالے اور بی جے پی کو بالراست فائدہ پہنچایا۔

        ملک کی جنوبی ریاستوں میں بی جے پی شائد ہی کوئی خاص کامیابی حاصل کرسکے۔ بی جے پی کے گڑھ کہلانے والی تین ریاستوں چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں بی جے پی اقتدار سے محروم ہوچکی ہے۔ یوپی میں بی جے پی کو اکھلیش یادو اور مایاوتی کا اتحاد زبردست ٹکر دے کر بی جے پی کو زبردست نقصان پہنچاسکتا ہے۔ اڈیشہ، بنگال اور بہار میں زیادہ نشستیں حاصل کرکے تمام نقصانات کا ازالہ کرنے کا منصوبہ بی جے پی شائد ہی پورا کرسکے۔ اس لئے انتخابات سے عین قبل ملک کے کسی بھی پارٹی کی کامیابی کے امکانات روشن نظر آئیں نہ آئیں بی جے پی کی ناکامی کے امکانات خاصے روشن نظر آرہے ہیں۔  تاہم یہ بات نہیں بھولنا چاہئے کہ امت شاہ اور مودی کی جوڑی کسی بھی غیر اخلاقی طریقہ سے بی جے پی کو برسراقتدار اگر نہ بھی لاسکیں تو این ڈی اے کے نام پر بی جے پی اقتدار پر قبضہ کرنے کے لئے کئی مخالف جماعتوں کا اپنا بناسکتی ہے۔ ان جماعتوں میں مایاوتی کی بی ایس پی، آندھراپردیش کی نائیڈو اور وائی ایس آر کی جماعتیں اور اڈیشہ کی بیجو پٹنائک کی جماعت کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اپنے مشکوک سیکولرازم کے باعث وہ کبھی بھی اقتدار کی خاطر این ڈی اے میں شامل ہوسکتے ہیں۔  اس طرح 23مئی کے بعد ایک دلچسپ صورتحال سامنے آئے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close