سیاست

انتخابی منشور کا عقیقہ

حفیظ نعمانی

کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے تمام بڑے لیڈروں کی موجودگی میں کانگریس کا 2019 ء کا انتخابی منشور جاری کردیا۔ کانگریس کے منشور کا عنوان ’’ہم نبھائیں گے‘‘ اس لئے رکھا ہے کہ ملک ہر روز وزیراعظم کے جھوٹ سنتا ہے اور کانگریس کا کہنا ہے کہ ہم وعدے نبھائیں گے۔ منشور کو غور سے پڑھنے کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ منشور ساز کمیٹی کے سامنے بشیربدرؔ کا یہ شعر تھا ؎

’’میں تمام تارے اُٹھا اُٹھا کے غریب لوگوں میں بانٹ دوں

وہ جو ایک رات کو آسماں کا نظام دے میرے ہاتھ میں‘‘

یہ منشور وہ ہے جو کانگریس کی حکومت بننے کے بعد وزیراعظم راہل گاندھی کے ہر وقت پیش نظر رہے گا اور وہ ہر دن دیکھیں گے کہ جس جس کام کا وعدہ کیا تھا وہ کتنا ہوگیا اور کتنا باقی ہے؟ کل جب وہ منشور کی رونمائی کررہے تھے اس وقت ان کے چہرے کی سنجیدگی یہ بتارہی تھی کہ ان کو اپنی حکومت بننے کا پورا یقین ہوگیا ہے۔ اور ہم حساب لگا رہے تھے کہ کانگریس کے پاس پانچ سال سے 45  سیٹیں لوک سبھا کی ہیں جس پارٹی کا یہ حال ہو اُسے منشور پر زیادہ توجہ دینا چاہئے یا اپنی سیٹوں کو 246  بنانے کی فکر کرنا چاہئے؟

کانگریس کا مقابلہ جس پارٹی سے ہے اس کے پاس 280  سیٹیں تو پانچ سال سے تھیں۔ اگر ان ایجنسیوں کے سروے دیکھے جائیں جو لاکھوں روپئے خرچ کرکے اندازہ کرتی ہیں کہ کون کتنے پانی میں رہے گا ان اندازوں کی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے یہ تو ماننا پڑے گا کہ وہ کسی حد تک قریب پہونچ جاتے ہیں۔ اور ان میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو نریندر مودی کو 200  سیٹوں سے کم دے رہا ہو۔ اس کے باوجود اس الیکشن میں مودی جی کا رویہ یہ رہا ہے کہ اگر کتے نے بھوں بھوں کردیا تو ایک سیٹ اسے بھی دے دی اور بندر نے خوں کردیا تو دو سیٹیں اسے دے دیں۔ گذرے ہوئے برسوں میں شیوسینا کے صدر، ان کے دوسرے عہدیدار اور ان کا اخبار سامنا مسلسل مودی پر برستے رہے ہیں وزیراعظم جن کاموں پر فخر کرتے رہے شیوسینا ان پر تنقید کرتی رہی اور الیکشن آتے آتے یہ بات صاف ہوگئی تھی کہ مہاراشٹر میں دونوں آپس میں ایک دوسرے کے مقابل ہوں گے لیکن نتیجہ سامنے ہے کہ دونوں ایک دوسرے کا قصیدہ پڑھ رہے ہیں جبکہ نہ ٹھاکرے نے معافی مانگی نہ امت شاہ نے کہا کہ جو ہوا بھول جائو۔ اور پورے ملک کی بڑی اور چھوٹی کوئی پارٹی نہیں ہے جس نے مودی سے معاہدہ نہ کیا ہو اور مودی نے اسے مایوس کیا ہو۔

اب ذرا کل 45  سیٹوں والے راہل گاندھی کے تیور دیکھئے کہ جس پنجاب میں عام آدمی پارٹی کے چار ممبر ہیں وہاں راہل صاحب اسے سمجھوتہ کے قابل نہیں سمجھتے ہریانہ جو کجریوال کا گھر ہے وہاں وہ ایک سیٹ دیں گے اور دہلی جہاں عام آدمی پارٹی کے 67  ایم ایل اے ہیں اور کانگریس کا ایک بھی نہیں وہاں وہ تین سیٹیں لیں گے کل ہی ہم نے بتا دیا تھا کہ وہ دوست کے بجائے دشمن بنا رہے ہیں جبکہ مودی جی ہر دشمن کو اس کی منھ مانگی قیمت دے کر دوست بنا رہے ہیں۔ آسام میں مسلمانوں کی سب سے ممتاز شخصیت مولانا بدرالدین اجمل کی ہے انہوں نے اپنی ایک پارٹی بھی بنا رکھی ہے اور تین ممبر لوک سبھا میں ہیں وہ چاہتے ہیں کہ کانگریس مل کر لڑے لیکن سنا ہے کہ راہل اس پر تیار نہیں ہوئے۔

کانگریس وہ پارٹی نہیں ہے جو اگر جیت جائے تو پہلی بار حکومت بنائے گی یہ ضرور ہے کہ راہل گاندھی پہلی بار حکومت بنائیں گے۔ لیکن وہ 1947 ء سے 1998 ء تک کانگریس کی حکومتوں کی کامیابیوں اور ناکامیوں سے اپنے کو الگ نہیں کرسکتے وہ جب گذشتہ پانچ سال کی ناکامیوں پر تبصرہ کرسکتے ہیں تو انہیں کانگریس کی پچاس برس کی حکومتوں میں ہونے والی غلطیوں پر بھی انگلی رکھنا چاہئے۔ راہل گاندھی نے بھی اجودھیا میں سادھو سنتوں کے منھ سے نکلے ہوئے یہ الفاظ سنے ہوں گے جب وہ بی جے پی کے لیڈروں پر برستے ہیں تو کہتے ہیں کہ رام مندر کیلئے اب تک جو کچھ بھی ہوا وہ کانگریس نے کیا اور پھر گناتے ہیں کہ مورتیاں انہوں نے رکھیں تالا انہوں نے ڈلوایا اذان اور نماز انہوں نے بند کرائی تالا انہوں نے کھلوایا اور مسجد بھی نرسمہارائو نے گروائی تم نے کیا کیا؟ اور جب بی جے پی کے لوگ معلوم کرتے ہیں کہ رام مندر کے معاملہ میں آپ کا موقف کیا ہے تو سیکولر اور مسلم ووٹوں کی خاطر راہل دائیں بائیں دیکھنے لگتے ہیں؟

جس کانگریس کا یہ منظر اور وہ پس منظر ہو وہ اگر انتخابی منشور کے بغیر الیکشن کے میدان میں آتی تو کیا نئی بات ہوتی 1952 ء سے آج تک شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ کانگریس الیکشن لڑرہی ہے لیکن ان سے لڑرہی ہے جو وعدہ کرچکے تھے کہ وہ کانگریس کی مدد کریں گے اور جس حکومت سے لڑکر حکومت لینا تھی اس کیلئے امیٹھی چھوڑکر کیرالہ چلے گئے جہاں سب ہیں بس بی جے پی نہیں ہے اور حیرت ہورہی تھی یہ دیکھ کر کہ مینی فیسٹو کی رونمائی کی تقریب میں تمام بزرگ سنجیدگی سے حصہ لے رہے تھے جیسے وہ راہل گاندھی کے بیٹے کے عقیقہ میں شریک ہونے کیلئے آئے ہیں۔ ہم حیران ہیں کہ کانگریس کے بزرگ اس مضحکہ خیز صورت حال کے بعد بھی منھ بند کئے بیٹھے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close