سیاست

انتخابی نتائج کا فریب اور حقیقت

ڈاکٹر سلیم خان

شمال مشرق کے تین صوبوں  تریپورہ، ناگالینڈ اور میگھالیہ میں صوبائی انتخاب ہوے اور اس کے نتائج کو بی جے پی کی عظیم فتح قرار دیا جارہا ہے۔ اس بات  کاقوی ا مکان ہے کہ  ان تینوں مقامات پر قائم ہونے والی حکومتوں میں بی جے پی شامل ہو لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے ہر جگہ   وزیراعلیٰ بی جے پی کا نہیں ہوگا بلکہ  صرف تریپورہ میں زعفرانی وزیراعلیٰ حکومت کرے گا۔ اس سے قبل بھی بی جے پی ناگالینڈ میں جونیر پارٹنر کے طور حکومت میں موجود تھی اور اب بھی جونیر پارٹرنر ہی رہے گی۔ ان تین صوبوں میں سے میگھالیہ ہی ایک ایسا صوبہ تھا جہاں بی جے پی نے  اپنے بل بوتے پر انتخاب لڑا  اور وہاں ۲ سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ اس کامطلب صاف ہے کہ  بی جے پی کی کامیابیوں میں اس کی حامی  جماعتوں کا بڑا حصہ ہے۔ اس لیے کہنا پڑے گا کہ ؎

غمِ حیات میں کوئی کمی نہیں آئی 

 نظر فریب تھی تیری جمال آرائی

اس عمومی جائزے کے بعد اگر ہر ایک صوبے کے اعدادو شمار اور سیاسی صورتحال کا باریکی جائزہ لیا جائے تو حقیقت اس سے مختلف ہے جو  ٹیلیویژن کے پردے پر دکھائی دیتی ہے۔ تریپورہ میں بی جے پی نے  سب سے بڑی چھلانگ لگائی  اور خود اپنے بل بوتے پر ۳۵ نشستیں جیت کر ۲۵ سالہ سی پی ایم حکومت کا خاتمہ کردیا۔ بی جے  پی والے اس کو نظریاتی فتح قرار دیتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں اس کامیابی  کو درج کرانے کے لیے خود اس نے علٰحیدگی پسند مقامی جماعت  آئی پی ایف ٹی کے ساتھ الحاق کرلیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا اکھنڈ بھارت کا نعرہ اور آئی پی ایف ٹی کے ساتھ اتحاد یہ اس کے اپنے نظریات کے ساتھ  محض مداہنت ہی نہیں منافقت بھی   ہے۔ جموں کشمیر میں مفتی محمد سعید کی پی ڈی پی کے ساتھ ہاتھ ملاکر بی جے پی اسی طرح کی  ابن الوقتی  کامظاہرہ  کیا تھا۔ بی جے پی کا یہ رویہ اس کی جعلی دیش بھکتی کا کھلا ثبوت ہے۔ یہ لوگ اپنے سیاسی مفاد کی خاطر ملک توڑنے والوں کو گلے لگا سکتے ہیں جو سی پی ایم نے نہیں کیا۔

ان نتائج کے آئینے   میں عام  مسلمانوں کی نفسیات  بھی قابل توجہ  ہے۔ بی جے پی والے فرقہ پرستی کی سیاست کرتے ہیں  اور شمال مشرقی صوبوں میں بسنے والے مسلمانوں کو غیر ملکی شہری قرار دیتے ہیں۔ اس کے باوجود ان لوگوں نے بکسر نگر سے ایک مسلمان کو ٹکٹ دے دیا۔ اس  حرکت نے   زعفرانی کھوکھلے پن کی قلعی کھول دی۔ مسلمان ہزار لہر کے باوجود اس کے جھانسے میں نہیں آئے اور اس کو  ووٹ نہیں دیا۔ اس سے مسلم رائے دہنددگان کیسیاسی سوجھ بوجھ  کا پتہ چلتا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ مسلمان بھی لہر کا ساتھ دیتا ہے لیکن وہ دوست اور دشمن کی لہر میں فرق کرتا ہے۔ وادی کشمیر میں بھی بی جے پی کو اس کا مزہ ملا تھا جب زبردست مودی لہر کے باوجود مسلمانوں نے بی جے پی کے سارے امیدواروں کی ضمانت ضبط کرادی۔ سی پی ایم کے ۱۶ کامیاب ارکان اسمبلی میں سے ۳  مسلمان ہیں۔ یعنی ہندوسماج توبڑی آسانی سے  اپنے قدیم خیر خواہ کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر خوابوں کے سوداگر ابن الوقتوں کا دامن تھام لیتا ہے لیکن مسلمان نتائج کی پرواہ کیے بغیروفاداری  کی  پاسداری  کرتے ہیں ۔ یہی معاملہ جب آسام میں  کانگریس کے ساتھ ہوا تھا تو مسلمانوں نے اس کو سنبھالا تھا۔ تریپورہ میں بھی اتفاق سے  سب سے زیادہ ووٹ پانے والا کانگریسی امیدوار مسلمان ہے۔ اس لیے جورہنما مسلم رائے دہندگان کی انتخابی رہنمائی کے غم میں دبلے ہوتے رہتے ہیں ان کو معلوم  ہونا چاہیے کہ   عام مسلمان اس ضرورت سے بے نیاز ہے اور دورانِ انتخاب  سیاسی جماعتوں سے زیادہ پختگی کا ثبوت دیتا ہے۔

اعدادو شمار کو دیکھیں تو بی جے پی اور سی پی ایم کے ووٹ تناسب میں صرف ۷ء۰ فیصد کا فرق ہے لیکن جو نشستوں میں ۳۵ اور ۱۶ کا فرق  نظر آتاہے اس کی وجہ آئی پی ایف ٹی کے ۵ء۷ فیصد ووٹ ہیں۔ اگر یہ علاقائی جماعت بی جے پی کے ساتھ نہ ہوتی تو سی پی ایم اور بی جے پی کی نشستوں میں ایسی بڑی  کھائی  نہیں ہوتی۔ اس سے قبل کانگریس کے سارے ۱۰ ارکان اسمبلی اپنی وفاداری بدل کر بی جے پی میں شامل ہوگئے تھے اس لیے اس کو سنگھ کی فتح قرار دینا ایک حماقت ہے۔ شاید ہی پورے تریپورہ میں کوئی موہن بھاگوت کو جانتا  ہواور ایک آدھ جگہ سنگھ کی شاکھا موجود ہو۔ تریپورہ میں  ناتھ سماج کی ایک بہت بڑی آبادی ہے جس کو یوگی ادیتیہ ناتھ کے ذریعہ بی جے پی اپنے ساتھ کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اس کے علاوہ سی پی ایم سے بیزاری اور بیروزگاری نے اس کا نقصان کیا۔ سی پی ایم کی بیجا خوداعتمادی بھی اس کے پاوں کی زنجیر بن گئی۔ ایک طرف جہاں بی جے پی کانگریسیوں کو توڑ کر اور علٰحیدگی پسندوں کے آگے ہاتھ جوڑ کریہ کامیابی حاصل جبکہ  سی پی ایم والے اس بیجا خود اعتمادی کا شکار تھے کہ   اپنے ہم خیال سی پی آئی اور آرایس پی تک   ساتھ  لینا گوارہ نہیں کیا ۔ سی پی آئی اور آر ایس پی نے اپنے امیدوار کھڑے کیے اور ہر دو کو۸ء۰ فیصد ووٹ یعنی جملہ ۶ء۱ فیصد ووٹ ملے۔  اس میں شک نہیں کہ  تریپورہ میں اپنا ضمیر بیچ کر بی جے پی نے زبردست کامیابی درج کرائی۔

ناگا لینڈ کے اندر  ایک علاقائی جماعت این ڈی پی پی برسرِ اقتدار تھی۔بی جے پی اس میں جونیر پارٹنر کے طور پر شامل تھی۔ بی جے پی  نےاپنی ہی حکومت کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر اس میں بغاوت کرائی اور کمال ابن الوقتی کا ثبوت دے کرحکومت میں رہتے ہوے باغی گروہ کے ساتھ الحاق کرلیا۔ اس کو مہاراشٹر کی مثال سے سمجھیں یہاں شیوسینا بی جے پی کی حکومت میں جونیر پارٹنر کے طور پر شامل ہے۔ اب اگر وہ بی جے پی حکومت سے نکلے بغیر شردپوار کی این سی پی کے ساتھ انتخابی اتحاد کرلے تو وہ کس قدر بیہودہ موقع پرستی ہوگی لیکن بی جے پی نے ترپورہ میں  یہی کیا۔ اس تماشے کے باوجود بئ جے پی صرف ۱۱ نشتیں جیت سکی اور اس کے ووٹ کا تناسب بھی ۴ء۱۴ فیصد سے آگے نہ جاسکا۔ اس کی پارٹنر این ڈی پی پی  کو بھی صرف ۵ء۲۵ فیصد ووٹ ملے جبکہ ان دونوں نے مل کر جس این پی ایف کے خلاف انتخاب لڑا  تھااس نے اکیلے ۱ء۳۹ فیصد ووٹ حاصل کرلیے۔ نشستوں کا موازنہ کریں تو تنہا این پی ایف نے ۲۷ اور ان دونوں نے مل کر ۲۷ نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ بی جے پی کو ۱۱ پر اکتفاء کرنا پڑا یعنی  اتنی قلابازیوں کے باوجود وہ تیسرے نمبر پر رہی اس لیے  وزیراعلیٰ اس کا امیدوار نہیں بنے گا۔

تریپورہ میں جہاں امیت شاہ نے کمال عیاری کا مظاہرہ کرکے دوستوں کو توڑا اور دشمنوں سے رشتہ جوڑا وہیں میگھالیہ کے اندر ان کی ساری چانکیہ نیتی دھری کی دھری رہ گئی۔ قومی سطح پر این پی پی اور ایچ ایس پی ڈی پی، این ڈی اے میں شامل ہیں لیکن ان دونوں نے بی جے پی کے ساتھ انتخابی الحاق نہیں بلکہ تنہا انتخاب لڑا نتیجہ ظاہر ہے این پی پی کو ۱۹ اور ایچ ایس پی ڈی پی کو ۲ مقامات پر کامیابی ملی جبکہ بی جے پی اپنے پرانے ۲ ارکان میں کوئی اضافہ نہیں کرسکی۔ میگھالیہ میں اس سے قبل کانگریس کی حکومت   اس کو ۲۳ کے بجائے ۲۱ نشستوں پر کامیابی ملی اور وہی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔ بی جے پی سے زیادہ نشتیں نہ صرف کانگریس اور این پی پی بلکہ  یوڈی پی، پی ڈی ایف اور آزاد میدواروں  کوملیں۔ اس طرح بی جے پی چھٹے مقام پر یعنی سب سے نچلی پائدان پر رہی۔ گوکہ کانگریس اور این پی پی میں صرف دو نشستوں کا فرق ہے لیکن ووٹ کا تناسب کا فرق  ۸ فیصد کا ہے۔ اس لیے اگر کانگریس حکومت بنانے میں ناکام ہوجائے تب بھی این پی پی کا وزیراعلیٰ ہوگا نہ کہ  بی جے پی۔ ایسے میں بی جے پی کو سبقت تو ضرور حاصل ہوئی ہے لیکن یہ ایسی بھی نہیں ہے کہ جیسے بڑھا چڑھا کر ذرائع ابلاغ میں پیش کیا جارہا ہے۔ میڈیا  کے فریب نظر پر ابراہیم عدم کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎

ہر دل فریب چیز نظر کا خمار ہے

 آنکھیں حَسین ہوں تو خزاں بھی بہار ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close