سیاستہندوستان

انتخابات اور ہم 

 انتخابات کا موسم ہے، یوپی اسمبلی کے انتخابات جاری ہیں،  مہاراشٹر میں  نگر پریشدوں  کے انتخابات کے بعد اب ضلع پریشد پنچایت سمیتی کے انتخابات چل رہے ہیں  اور کارپوریشنوں  کے انتخابات بھی ہونے کو ہیں ۔ انتخاب کوئی بھی ہو چھوٹا یا بڑا، ووٹ کی اہمیت کم یا زیادہ نہیں  ہوتی، ووٹ کی اہمیت گرام پنچایت کے چھوٹے الیکشن میں  بھی وہی ہے جو لوک سبھا کے بڑے انتخاب میں  ہوتی ہے۔ ووٹ دینا ہر شہری کے لئے لازم ہے کہ یہ دراصل اپنی نمائندگی کی سند ہے جس کے ذریعہ ہم قانون ساز اداروں  میں  اپنی آواز پہنچانے کا سامان کرتے ہیں  اور اس کے ذریعہ دراصل ہم نہ صرف ایک شخص بلکہ ایک نظریہ اور ایک لائحہء عمل اپنے لئے یا اپنی نمائندگی کے لئے منتخب کرتے ہیں ۔اور اگر ہم ووٹ نہیں  دیتے تو پھر ہمیں  پورے پانچ سال تک دوسروں  کے نمائندے کو برداشت کر نا پڑتا ہے۔

دیکھنے میں  آتا ہے کہ انتخابات کا بخار ہم کو دیگر اقوام سے کچھ زیادہ ہی چڑھتا ہے اور اس قدر چڑھتا ہے کہ دیوانگی تک میں  مبتلاء کردیتا ہے۔  ہم مذہبی اعتبار سے جتنے اور جس شدت سے بکھرے ہوئے ہیں  سیاسی اعتبار سے بھی اتنے ہی اور اتنی ہی شدت سے بکھرے ہوئے ہیں  اور یہ بکھراؤ قوم کے مخصوص حلقہ، سیاسی لیڈروں  یا ان کے معتمد لوگوں  تک ہی محدود نہیں  ہے بلکہ یہ بکھراؤبھی تمام مسلمانوں  میں  عام ہے اور قوم کے ان سیاسی گروہوں کو جب الیکشن کا بخار چڑھتا ہے تو یہ دوسروں  (غیر مسلم سیاسی امیدواروں  یا سیاسی پارٹیوں ) کے لئے آپس میں خون خرابے کی حد تک لڑ جانا بھی کوئی برا نہیں                                                                                                                                               ہندوستان میں  مسلمانوں  کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے جمہوری الیکشن میں  سمجھئے ان کا کوئی خاص حصہ ہوتا ہی نہیں ۔ الیکشن اکثریت کا ہی ہوتا ہے ہار جیت بھی انہی کی ہوتی ہے حکومت اور حزب اختلاف بھی انہی کے ہوتے لیکن اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں  کر سکتا کہ کثریت کے اس الیکشن میں  مسلمانوں  کے ووٹ کافی اہم ہیں  بلکہ ملک کے کئی مقامات پر مسلمان فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں  اور اسی لئے ہر چھوٹے بڑے الیکشن میں  سیاسی پارٹیاں  مسلمانوں  کو رجھانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہیں یہ بات الگ کہ مسلمانوں  کو رجھانے کے لئے کبھی کوئی خاص عملی کام نہیں  کیا جاتا بلکہ وطن عزیز کی انتخابی تاریخ کی ابتدا سے اب تک مسلمانوں  کو رجھانے کے لئے کوئی بھی پارٹی کبھی بھی وعدوں  سے آگے نہیں  بڑھی۔ اور نہ ہی مسلم قوم کبھی اس طرح اٹھی کہ اس کو منانے کے لئے کسی پارٹی کو کبھی کسی عملی کام کی ضرورت محسوس ہوئی۔

 آزادی کے بعد سے ملکی سیاست میں  مسلمانوں  کو ووٹ بنک سے زیادہ اہمیت نہیں  دی گئی۔ ہر انتخاب کے وقت مسلمانوں  کی فلاح کے کچھ وعدے کئے گئے لیکن ان وعدوں  کوپورا کر نے کی کوئی خاص سنجیدہ کوشش کبھی نہیں  کی گئی۔  بجٹ میں  مسلمانوں  کی فلاح و بہبود کے لئے بڑی بڑی رقمیں  مختص کی جا تی رہیں لیکن بہت بار ایسا ہوا کہ ان رقوم میں  سے مسلمانوں  کی فلاح کے لئے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں  کیا گیا۔  ملکی سیاست میں آزادی کے بعد جو سب سے گندہ کام کیا گیاوہ یہ ہے کہ مسلمانوں  کے خلاف زبانی اور عملی اشتعال انگیزی کر نے والوں  کو لگام نہیں  لگائی گئی بلکہ درپردہ طور پرانہیں آزادی دی گئی بلکہ انہیں بہت منصوبہ بندی کے تحت استعمال بھی کیاگیا جس کی وجہ سے پورا ملک فرقہ وارانہ طور پر ہندو و مسلم کے دو خانوں  میں  بٹ گیا اور مسلمان مذہبی اور سیاسی و سماجی طور پر اکثریت کے دشمن بنا کر رکھ دئے گئے جس کی وجہ سے ہر ہر شعبہ میں  ان کے ساتھ خطر ناک حد تک تعصب برتا جانے لگا۔ آج مسلم مخالف اشتعال انگیزی سے لے کر فسادات اور سماجی بائیکاٹ تک مسلمانوں  کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کی اصل وجہ یہی سیاسی پالسی ہے، اور یہ سب دراصل مسلم اور مسلم مخالف ووٹ بنک کیش کر نے کے لئے کیا جاتا رہا جس میں  ہو تا یہ ہے کہ نام نہاد سیکولر پارٹیاں  مسلمانوں  کے تئیں  کوئی ایسا شوشہ چھوڑ دیتی ہیں  کہ مخالفین مسلم مخالف اشتعال انگیزی پر اتر آتے ہیں، یا پھر مسلم مخالفین اپنے ووٹ بنک کو متحرک کر نے کے لئے جب اشتعال انگیزی کرتے ہیں  تو یہ سیکولر پارٹیاں  الخاموش نیم رضا دراصل ان کی حمایت کرتی ہیں جس کی وجہ سے مسلمان سے ڈر کربے دریغ ان جعلی سیکولر پارٹیوں  کی طرف چلے جاتے ہیں ۔

ملک کی ہر سیاسی پارٹی مسلمانوں  کو ووٹ بنک سے زیادہ اہمیت نہیں  دیتی لیکن ہماری ٹریجڈی یہ ہے کہ ہم نے بھی کبھی اپنے اس ووٹ بنک کو اپنے حق میں  کیش کر نے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ۔دراصل ملک کے مسلمانوں  کی برادری اور مسلکی تقسیم بھی انہیں  سیاسی طور پر ایک طاقت کا روپ اختیار نہیں  کر نے دیتی اور مسلم سیاسی لیڈران بھی انہیں  اپنی اپنی پارٹیوں  میں  تقسیم کر لیتے ہیں، ملک کے مسلم لیڈران مسلمانوں  کی نمائندگی کم کرتے ہیں  اور اپنی اپنی سیاسی پارٹی کی نمائندگی زیادہ کرتے ہیں انہیں  قوم سے زیادہ اپنی پارٹی اور اپنے مفادات عزیز رہتے ہیں اور یہ مسلمانوں  کو اپنے مفادات ہی کے رخ پر ہانکتے رہتے ہیں اور ان کے مفادات کے مطابق ہی سیاسی پارٹیاں  اچھی یا بری ہو جاتی ہیں  اور ان کے مفادات کے مطابق ہی سیاسی پارٹیوں  سے ان کی وفاداری بھی تبدیل ہو تی رہتی ہے۔ اور امت مرحومہ مسلم قوم بڑی بھولی بھالی ہے کہ ان سیاسی پارٹیوں  سے منسلک اپنے سیاسی آقاؤں  اور مذہبی قیادت کے سیاسی ٹھیکیداروں  کے ہنکائے اندھوں  اور بہروں  کی طرح ہنکائی جاتی ہے۔ ہر سیاسی لیڈر اپنے اور اپنی پارٹی کے مفاد کے لئے قوم کی اجتماعی قربانی دینے سے بھی اجتناب نہیں  کرتا اور اپنے مفادات کے لئے ہر مذہبی امیر الٹی سیدھی تاویلوں  کے ذریعہ اپنے مطلب کی بات کو قوم کے حق میں  ثابت کر نے کی کوشش کرتا ہے جس کی وجہ سے ہمارے ووٹ بری طرح تقسیم ہو جاتے ہیں  یہی وجہ ہے کہ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ مسلم اکثریت والے حلقہ انتخاب سے بھی غیر مسلم بلکہ مسلم دشمن پارٹیوں  کے مسلم دشمن افراد کامیاب ہو جاتے ہیں۔

ایسا نہیں  کہ مسلمانوں  میں  قابل اور ہمدرد لیڈر نہیں  ہیں  آزادی کے بعد مسلمانوں  میں  بھی بہت سے قابل سنجیدہ اور خدا ترس سیاسی افراد اٹھے لیکن امت مرحومہ نے کبھی متحد ہو کر ان کا ساتھ نہیں  دیا۔ ہم مسلمان بڑی عجیب قوم ہیں  جو صرف اچھی اچھی باتیں  کرتی ہے اور انہی مزیدار باتوں  سے پیٹ بھر کر بے عملی کے پرانے بستر پر پاؤں  پھیلا کر سو جاتی ہے۔ بے حسی کا عالم یہ ہے کہ کسی کی کوئی نصیحت کوئی اچھی تدبیر کوئی مخلص مشورہ ہمارے کانوں  میں  جگہ نہیں  پاتا ہمارا دماغ سننے سے پہلے ہی اسے مسترد کر دیتا ہے جذباتی طور پرتو ہم اچھی باتوں  سے بہت متاثر ہو جاتے ہیں  لیکن عملی طور ہمیشہ وہی ’ڈھاک کے تین پات ‘ کی حالت میں  رہتے ہیں ۔

ہما ری اصلاح کا کتنا بڑا کام پورے ہندوستان میں  جاری ہے لیکن ہماری عملی حالت میں  کوئی سدھار دکھائی نہیں  دیتا اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہم خود سدھر نا ہی نہیں  چاہتے۔قوم کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ ہم اچھے شریف النفس بے لوث اور مخلص لوگوں  کو کبھی آگے نہیں  بڑھاتے بلکہ ہمیشہ ان کی ٹانگ کھینچ کر انہیں  حاشیہ پر پہنچا دیتے ہیں ۔ اور یہ حال صرف سیاست میں  ہی نہیں  بلکہ ہر ہر شعبہ میں ہے چاہے وہ سماجی اورتعلیمی شعبہ ہو یا مذہبی کام ہو ہر جگہ قوم کا رویہ یکساں  ہے۔ ہر جگہ قابل اہل اور مخلص لوگ کنارے لگائے جارہے ہیں ۔ اچھا کام کرنے والوں  کو قوم نے کبھی کوئی صلہ نہیں  دیا بلکہ ان کی مٹی پلید کردی۔ اورشاید اسی کی وجہ سے اب اچھے لوگوں  نے آگے بڑھ کر کام کرنا بھی چھوڑ دیا ہے جسکی وجہ قوم ہر سطح پر پستی کی انتہاء تک پہنچ گئی ہے۔لیکن خود قوم کو اس بات کا احساس بھی نہیں ہے۔

 اب پچھلے کچھ سالوں  سے ملک میں آزادانہ مسلم سیاست یعنی صرف مسلمانوں  کی سیاسی پارٹی یا مسلم سیاست کا کافی شور چل ہا ہے جو اگر مصلحت اور ملک کے دیگر پچھڑی جاتیوں  سے حق بہ جانب مفاہمت سے کیا جاتا تو انتہائی مفید سیاسی اقدام ہوتا لیکن افسوس کی بات ہے کہ مسلم سیاست کر نے والے بھی مسلمانوں  کو اصل اشوز کے ذریعہ جگانے اور متحرک کر نے کی بجائے انتہائی جذباتیت اور اشتعال انگیزی کے ذریعہ وہی ووٹ بنک کی سیاست کر تے نظر آرہے ہیں  جس کے لئے ہم ملک کی دوسری سیاسی پارٹیوں کو کوستے رہتے ہیں ۔ اور یہ سیاست دراصل مسلمانوں  سے زیادہ مسلم دشمنوں  کے فائدے کی بات ہے۔وہ تو یہی چاہتے ہیں  کہ جس لہجہ میں  وہ مسلمانوں  کے خلاف اشتعال انگیزی کرتے ہیں  مسلمانوں  میں  سے بھی کوئی اٹھے اور اسی لہجے میں  ان کے خلاف بولنے لگے تاکہ ایک طرف ہندو، مسلمانوں  کو خطرہ سمجھ کرہندوتوا کا جاپ کرنے والے ان لوگوں  کو اپنا محافظ سمجھیں اور سیدھے ان کے خیمے میں  چلے آئیں  اور دوسری طرف مختلف پارٹیوں  میں  بٹے مسلمان اپنی طرف سے بولنے والے کی طرف جھک کر مزید تقسیم ہو جائیں ۔

ہندوستانی جمہوریت ابھی اتنی بالغ نہیں  ہوئی کہ رائے دہی کا صحیح شمار کر سکے یہاں  وہی سکندر کامیاب ہوتا ہے جو سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرتا ہے ہماری جمہوریت میں  اس کے خلاف پڑے ووٹوں  کے تناسب کی کوئی اہمیت نہیں  ہے یہاں  یہ بھی نہیں  دیکھا جاتا کہ جیتنے والے امیدوار نے اپنے مخالف ووٹوں  کو تقسیم کر نے کے لئے کتنے جعلی امیدوار میدان میں  اتارے تھے ؟ایسے میں  جہاں  ہم مسلمانوں  کے لئے ضروری ہے کہ ہم متحد ہو کر پوری سوجھ بوجھ اور منصوبہ بندی کے ساتھ انتخابات میں  حصہ لیں  اور کسی بھی ایک پارٹی کے ساتھ اپنی شرائط پر سودا کریں  وہیں  ہمارے لئے یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ کون سا امیدوار یا کونسی سیاسی پارٹی ہمارے ووٹوں  کو تقسیم کر کے مخالفین کو فائدہ پہنچا ئے گی اور ہمیں  بے اثر کر دیگی، ہمیں  ایسا کوئی منصوبہ بنانا چاہئے کہ اگر ہماری حمایت یافتہ امیدوار الیکشن ہار بھی جائے تو ہمارا سیاسی اثر کم نہ ہو اور اس کے لئے ہمیں  ان لوگوں  سے اور ان پارٹیوں  سے بھی ہوشیار رہنا چاہئے جو جذباتی ایشوز اور اشتعال انگیز باتوں  کے ذریعہ ہمارے ووٹوں  کا استحصال کرتی ہیں  خاص طور سے ایسی جگہ جہاں  ان کی وجہ سے ہمارے ووٹوں کی تقسیم کا خطرہ ہو اور اس سے کسی لائق امیدوار کے ہار جانے کا خدشہ ہو۔ چاہے ایسے لوگ اپنے ہوں  یا غیر اور چاہے ایسی پارٹیاں  اپنے آپ کو ہمارا مسیحا اور نجات دہندہ بنا کر ہی کیوں  نہ پیش کریں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عابد الرحمن

ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close