سیاست

اندھیرے میں اُجالے کی کرن

حفیظ نعمانی

موجودہ حکومت پر عدم اعتماد کی تحریک بظاہر بہت بڑے فرق سے ناکام ہوگئی لیکن جو ہوا اس سے اندازہ نہیں یقین ہے کہ اس کے ذریعہ جو حاصل کرنا تھا وہ کم از کم کانگریس کو حاصل ہوگیا۔ صرف پچاس مہینے پرانی بات ہے کہ نریندر مودی نام کے لیڈر نے اچانک اپنی پہلی انتخابی تقریر میں ایک بار نہیں بار بار کہا کہ بھارت کو کانگریس مکت بنانا ہے۔ ہماری عمر اور گراں گوشی کا نتیجہ یہ تھا کہ پہلی بار سنا تو ہم سمجھ ہی نہ سکے کہ کیا کہہ رہے ہیں؟ اور پھر جب شری مودی نے اسے تکیۂ کلام بنالیا تو ہم بھی کانگریس کی طرف سے اتنے زخم خوردہ تھے کہ ہم نے بھی سوچا کہ اچھا ہے کہ اس کا خاتمہ ہی ہوجائے۔

2014ء کے نتائج سے یہ ثابت ہوگیا کہ مودی کی بات کو ہندوستانیوں نے قبول کرلیا اور کانگریس 44 ممبروں تک محدود رہ گئی۔ اس کے بعد عوام کا کام ختم ہوگیا تھا اور صرف حکومت کی ذمہ داری تھی کہ اس کے ہر کام کے بعد ملک میں نعرہ بلند ہو کہ یہ کام کانگریس ہوتی تو نہ کرتی۔ اب اسے نریندر مودی کی بدنصیبی کہا جائے یا کانگریس کی خوش نصیبی کہ حکومت نے جو قدم اٹھایا عوام کی طرف سے آواز آئی کہ ارے کمبخت نے مار ڈالا۔ وزیراعظم کے ہر اقدام سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ ان کے ذہن میں حکومت کا کوئی نقشہ نہیں ہے اور وزیراعظم صرف ان لوگوں کو اپنی وزارت میں لائے ہیں جو اُن سے بھی ہر میدان میں کمتر ہیں۔ جیسے وہ قلم دان جو اٹل جی نے ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کو دیا تھا جن کی عمر تعلیم کے دریا میں تیرتے ہوئے گذری تھی وہ قلمدان اسمرتی ایرانی کو دے دیا جن کی بی اے کی ڈگری کی بھی تصدیق اب تک نہ ہوسکی۔ اور ان کی وزارت کی خاتون وزیر تقریر میں رام زادے اور حرام زادے بے تکلف بولیں اور بار بار بولیں اور ان کی ہی سطح کے ان کے ساتھی جے شری رام کے نعرے لگائیں۔

نتیجہ وہ ہوا جو بہت عام ایک کہانی میں آپ نے بھی سنا ہوگا کہ ایک گورکن کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ لوگ جب کسی عام آدمی کو دفن کرکے چلے جاتے تھے تو وہ رات میں قبر کھود کر مردے کا کفن اتار لیتا تھا۔ گورکن پر ہر دن لعنت ملامت ہوتی تھی مگر وہ باز نہیں آتا تھا آخر کار جب وہ خود بیمار ہوا اور اسے محسوس ہوا کہ آخری وقت آگیا تو اسے اپنی حرکتیں یاد آئیں اور اس نے اپنے بیٹے سے کہا کہ زندگی بھر گالیاں کھائی ہیں تو ایسا کام نہ کرنا بلکہ کچھ ایسا کرنا کہ وہی لوگ مجھے اچھے الفاظ میں یاد کریں۔ بیٹا بھی اسی کا خون تھا اس نے کفن تو اتارا ہی مردے کے ساتھ ایک ناقابل بیان گندی حرکت کی اور جب لوگوں نے دیکھا تو چیخ پڑے کہ اس سے تو وہی ہزار درجہ بہتر تھا جو مردہ کی بے حرمتی تو نہیں کرتا تھا۔

وزیراعظم مودی نے بے وجہ اور بے سبب نوٹ بندی کا فیصلہ کردیا جس کی وجہ سے سو سے زیادہ آدمی بھوک اور دوا کے بغیر تڑپ تڑپ کر مرگئے اور ملک کا کوئی انسان ایسا نہیں ہے جسے اس سے تکلیف نہ پہونچی اور اب تک نہ پہونچ رہی ہو۔ مودی جی جو بار بار سواسو کروڑ کی طاقت کی بات کرتے ہیں وہ اپنے کو بہلاتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ سواسو کروڑ کی بددعاؤں کا اثر ہے کہ مری ہوئی کانگریس صرف 48 ممبروں کے دم پر عدم اعتماد کی تحریک میں اتنی طاقتور بن کر سامنے آئی کہ مودی جی نے اپنی جوابی ڈیڑھ گھنٹہ کی تقریر میں زیادہ وقت اس کانگریس پر خرچ کیا اور وہ پوتے سے زیادہ دادی اندرا گاندھی کی تاریخ سناتے رہے۔ اور چار سال کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ دس منٹ اپنے دل کا زہر نکالنے کے بعد انہوں نے مس مایاوتی کی طرح لکھی ہوئی تقریر گردن جھکاکر پڑھی جو کسی نے لکھ کر دی ہوگی۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان کے پاس 80 لاکھ کروڑ کالے دھن کو لانے اور بانٹنے دو کروڑ نوکریاں ہر سال دینے مہنگائی آسمان سے زمین پر لانے روپئے کو ڈالر کے کاندھوں تک پہونچانے نہ خود کھانے اور نہ کسی کو کھانے دینے اور درجنوں وعدے کرنے کے بعد کورس میں اچھے دن آنے کا گانا گانے کے بجائے اتنے برے دنوں کا وہ کیا جواب دیتے جتنے برے دن جوان تو کیا کسی بوڑھے نے بھی نہ دیکھے ہوں گے؟ اور یہ مری ہوئی کانگریس کی وہ طاقت تھی جو مودی جی کی ناکامیوں نے اسے دی ہے کہ اس کے جواں سال کالے بالوں والے صدر نے انتہائی گرم تقریر کی اور الزامات کی جھڑی لگائی ان کے چار سال کے سارے جھوٹے خوابوں کی تعبیر ان سے معلوم کی اور تقریر ختم کرکے تیز تیز قدموں سے چل کر ان کی کرسی کے سامنے جاکر کھڑے ہوکر انہیں کھڑے ہونے کی دعوت دی۔ وزیراعظم جس کا مطلب یہ سمجھے کہ یہ مجھے اٹھاکر خود اس کرسی پر بیٹھنا چاہ رہا ہے۔ جبکہ راہل گاندھی شاید انہیں پوری طاقت سے گلے لگاکر اپنی زندگی کا ثبوت دینا چاہتے تھے۔ اور کرسی پر بیٹھنا نہیں بلکہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ آپ تو کانگریس مکت بھارت نہ بنا سکے ہم مودی مکت بھارت بنائیں گے۔

ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے پوری بحث سن لی البتہ یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ کافی وقت خراب کیا اور رات کو جب ٹی وی بند کیا تو اس احساس کے ساتھ کہ 71 سال ہوگئے مگر پارلیمنٹ میں بات کرنے کی تمیز نہ آئی۔ جب کوئی حکومت کا مخالف تقریر کرتا تھا تو حکمراں کرسیوں سے رہ رہ کر شور ہوتا تھا اور جب حکومت کا کوئی مقرر بولتا تھا تو اپوزیشن کی طرف سے۔ اور اس وقت تو بدتمیزی ناقابل معافی ہوگئی جب وزیراعظم جواب دینے کھڑے ہوئے تو ان کی تقریر کا ابتدائی پورا حصہ ہوٹنگ کی نذر ہوگیا اور جب ہوٹنگ بند ہوئی تو ہم نے یہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی کہ کس نے بند کرائی؟

جوابی تقریر میں وزیراعظم کیا بولتے جبکہ ایک دن پہلے ان کی حکومت کے اہم اور آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت صاحب کے سب سے زیادہ چہیتے نتن گڈکری وزیر ٹرانسپورٹ یہ اعتراف کرچکے تھے کہ ہم نہ سڑک پر ہونے والے حادثے کم کر پائے اور نہ مرنے والوں کی تعداد کم کر پائے۔ اور انہوں نے اپنی یہ کمزوری چھپالی کہ ملک کے نیشنل ہائی وے شہروں سے گاؤں کی طرف جانے والی بدترین سڑکوں سے بھی برے بن چکے ہیں چندروز پہلے ہی رویش کمار نے ایسے کئی نیشنل ہائی وے دکھائے جہاں اتنے گڈھے ہیں کہ ہر سواری دوگنا وقت لیتی ہے اور یہ وزیراعظم کی بے ایمانی ہے کہ ڈیزل، پیٹرول اور شراب کو جی ایس ٹی سے الگ رکھا ہے جس کی وجہ سے ہر مہینے مہنگائی 25 فیصدی بڑھ رہی ہے۔ اور اب آل انڈیا ٹرک ہڑتال سے کرایہ بڑھے گا جس کے نتیجہ میں مہنگائی اور بڑھے گی جس سے حزب مخالف کو اور طاقت ملے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close