اوّلیات مودی

0

  ممتاز میر

 کوئی مانے یا نہ مانے مگر ہم پورے شرح صدر کے ساتھ یہ بات مانتے ہیں کہ اس ملک کو نریندر بھائی مودی کی طرح کوئی وزیر اعظم نہ اس سے پہلے ملا ہے نہ آئندہ ملے گا۔صرف یہ معمولی سی بات ہی ان کی’’ عظمت‘‘ کو بیان کرنیکے لئے کافی ہے کہ ملک و قوم کی خاطر انھوں نے اپنی پیاری شریک حیات کو چھوڑ رکھا ہے۔ اور صرف اتنی سی بات میں بھی کوئی ان کی برابری نہیں کر سکتا۔ہمیں یقین ہے کہ جیسے ہی ان کے کاندھوں سے ملک و قوم کا یہ بوجھ ہٹا وہ یشودا بین کے آنچل میں ہی پناہ لیں گے۔اس مضمون میں ہمیں ان کی اس طرح کی انفرادیت کے کئی نکات بیان کرنا ہیں ۔ حالانکہ یار لوگ انہی نکات کو لے لے کر نریندر بھائی کی کھلی اڑاتے ہیں۔

نریندر بھائی مودی ملک کے وہ پہلے وزیر اعظم ہیں جنھوں نے ۸نومبر۲۰۱۵ کو بغیر کسی تیار ی کے ملک میں ۵۰۰ اور ۱۰۰۰ کے پرانے نوٹوں کا چلن بند کر دیا۔مخصوص مالیت کے نوٹوں کا چلن بند کر نا کوئی غیر معمولی قدم نہیں ہے جسے نریندر بھائی نے پہلی بار کیا ہو۔ ایسا قدم حکومتیں کبھی کبھی اٹھاتی ہیں جس کا مقصد کالے دھن پر قابو پانا ہوتا ہے۔ مگر وہ نریندر بھائی ہی کیا جو معمولی قدم کو غیر معمولی نہ بنادے۔نریندربھائی مودی نے ویسے تواپنے اس قدم کا مقصد بھی یہی بتایا تھا مگر اصلی بات یہ تھی کہ کہ ان کے دوستوں نے بینکوں کے جو پیسے ہڑپ لئے تھے اس سے پیداہونے والے گڑھے کو پر کرنا تھا۔ یہ سب بھی کوئی نئی اور انوکھی بات نہ تھی۔بس انوکھی اور غیر معمولی بات یہ تھی کہ اسے بڑے۔بھونڈے طریقے سے انجام دیا گیا۔معلوم نہیں کیوں بڑے نوٹوں کے خلا کو پر کرنے کے لئے پہلے سے نوٹ چھاپ کر نہ رکھے گئے، اورجو لایا گیا توپہلے سے بھی بڑا نوٹ لایا گیا۔ معلوم نہیں کیوں جو نوٹ چھاپے گئے ان کی سائز پرانے نوٹوں سے اس طرح مختلف رکھی گئی کہ وہ ATM مشینوں کے slot  میں بیٹھے نہیں اور لاکھوں ATMمشینوں کی سیٹنگ Setting تبدیل کرنے میں ہفتوں گزر گئے۔

اس طرح قریب سوا سو دیش واسی جان سے گزر گئے۔بہت ممکن ہے کہ کسی جیوتشی نے نریندر بھائی کو حکومت کے لئے یہ بلیدان ضروری بتایا ہو۔ان کے بھکت آج بھی نوٹ بندی کے اس قدم کو دنیا کا سب سے بْڑا انقلابی قدم بتاتے ہیں ۔ مگر نریندر بھائی مودی بڑے گریٹ آدمی ہیں ۔ وہ ہر وہ کام کرنا چاہتے ہیں جو ان سے پہلے کسی وزیر اعظم نے نہ کیا ہو۔انھوں نے اپنے بھکتوں کے دعووں کے علی الرغم دو دن اپنے ایک انٹرویو میں ( یہ فکس انٹرویو تھا تو کیا ہوا)عوام سے استدعا کی ہے کہ وہ انھیں نوٹ بندی اور GST سے پرے دیکھیں ۔ ان کی دیش کے لئے اور بھی تو خدمات ہیں ۔ یہ بات تو سولہ آنے سچ ہے۔مودی جی کی خدمات کو ملک کی عوام تو کیا ساری دنیا شاید ہی فراموش کر سکے جناب۔ انھوں نے جس طرح میڈیا پر قبضہ جمایا ہے اس طرح کا ْقبضہ تو ان کے گرو گھنٹال جناب ٹرمپ سے بھی ممکن نہ ہو سکا ہے۔یہ میڈیا ہی کا تو کمال ہے کہ جب لوگ قطاروں میں کھڑے ہو کر کر رہے تھے تب بھی ٹی وی مباحثوں میں نریندر بھائی کے ہی گن گائے جارہے تھے۔شوشل میڈیا پر بھی مودی بھکت مودی مخالفین کو ننگی بھی اور ملفوف بھی گالیا دے رہے تھے۔

 مودی جی وہ پہلے وزیر اعظم ہیں جن پر وزیر اعظم بننے سے پہلے ہی مسلمانوں کے قتل عام کا الزام لگ چکا ہے۔ جن کی بیوروکریسی کے کئی ممبران نے ان کے خلاف بغاوت کی تھی۔ یہ بھارت ورش کے وہ پہلے وزیر اعظم ہیں جن کا داخلہ وزیر اعظم بننے تک امریکہ جسے دوست اور اسٹرٹجک پارٹنر کی سر زمین پر بند تھا۔ اگر مودی جی وزیر اعظم نہ بنتے تو شاید آج بھی ان کا داخلہ اپنے خوابوں کی سر زمین میں ممکن نہ ہوتا۔

   یہ بھی بھارت ورش کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ سپریم کورٹ کے ۴ سینئر موسٹ ججوں نے جس میں ایک تو سپریم کورٹ کا مستقبل کا چیف جسٹس ہیاپنی شکایات انتظامیہ تک لے جانے کی بجائے عوام میں لے جانے کیلئے پریس کانفرنس کی۔ (اتنا بڑا واقعہ ہوجانے کے باوجود سول سوسائٹی کی حالت وہی رہی۔۔زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد)گمان غالب یہ ہے کہ ایسا اس وقت ہوا ہوگا جب اندیا کے چیف ایگزیکیوٹیو نے ان کی شکایات سننے سے یا تو انکار کر دیا ہوگا یا اس پر ایکشن لینے سے انکار کر دیا ہوگا۔کیونکہ اس سے پہلے سابق چیف جسٹس تیرتھ سنگھ ٹھاکرتو کئی بار جناب مودی کے ساتھ ایک ہی اسٹیج پر بیٹھ کرعدلیہ کی حالت پر رو چکے ہیں ۔ اور جو عوام اس چیف جسٹس کے آنسؤں کو پی چکی ہووہ ان کے لئے کیا کرلے گی۔ ۔خیر۔ ۔تو جناب مودی نے کچھ نہ کیا اور نوبت یہاں تک پہونچ گئی۔ عدلیہ کے اس نحران کے دنوں میں کچھ ’’شریف‘‘لوگوں نے ٹی وی مباحثوں میں کہا کہ عوام میں جانے سے پہلے یہ کرنا تھا وہ کرنا تھا۔ ۔حیرت ہے کہ ان شریف  لوگوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ ایک چیف جسٹس جس کا اختیار ہے کہ وہ وزیر اعظم کو بھی معزول کر سکتا ہے کس درجہ بے بس ہوا ہوگا کہ اسے کئی بار عوام میں رونا پڑ گیا؟اور وہ وزیر اعظم کس درجہ ڈھیٹ ہوگا کہ اس کے باوجود مسئلہ حل نہ ہوا؟ایسا لگتا ہے کہ ہمارے درمیاں منافقوں کی بھر مار ہے۔کسی کو حالات کی اصلاح کی فکر نہیں ۔ مودی پریم میں یا منافقت میں ہر شخص حالات کو بد سے بدتر بنانے پر تلا ہوا ہے۔

   اب تک کا آخری ماسٹر اسٹروک نریندر بھائی نے طلاق ثلاثہ پر کھیلا ہے۔طلاق ثلاثہ کا مخالف مسلمانوں کا بہت بڑاطبقہ پہلے سے ہی تھا   مگر اس کو زندہ رکھنا بھی مجبوری تھی اور ہے۔انسان کی زندگی میں کبھی کبھی ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب تین کیا ہزار طلاقیں بھی اسے کم پڑتی محسوس ہوتی ہیں ۔ وہ تین ماہ کیا تین سکنڈ بھی بیوی کو نظروں کے سامنے رکھنے کا روادار نہیں ہوتا۔مگر یہ بات ایک دروپدی کے پانچ شوہروں پر فخر کرنے والوں کی سمجھ میں آنے والی نہیں ۔ مسلمانوں کے تہذیب و تمدن اور غیروں کے تہذیب وتمدن میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

برسوں سے اس پر بحث چلی آرہی ہے کہ مفقود الخبر شوہر کی عدت کی مدت کیا ہونی چاہئے۔ یہ اسلام ہے جیتا جاگتا زندہ مذہب۔بدقسمتی سے ہمارے عؑلمائے کرام نے اسے مردہ بنا رکھا ہے۔ صدیوں کے بعد بھی ان کے فتوے نہیں بدلتے۔

اسلام کبھی کسی سے کچھ نہیں لیا۔ ہاں دیگر مذاہب صدیوں سے اس کے خوشہ چیں چلے آرہے ہیں ۔ مسلمانوں کے عائلی قوانین میں مداخلت کی یہ ہانڈی بھی بابری مسجد کی طرح کانگریس ہی نے پکا رکھی تھی مگر اسے کھانے کا شرف جناب نریندر بھائی مودی نے حاصل کیا۔ وجہ یہ ہے کہ انھیں دیش بھکتی کی سند اس کے باوجود حاصل ہے کہ ان کے اسلاف نے دیش کی آزادی میں کوئی قربانی نہ دی۔ وہ جس جسارت کے ساتھ دیش کی مٹی پلید کر سکتے ہیں دوسراکوئی نہیں کر سکتا۔کیونکہ ان کی مادر تنظیم نے دیش کو عملاً یرغمال بنا لیا ہے۔مگر اب انھوں نے دستوری تحفظات کو طاق پر رکھتے ہوئے جو پینڈورا باکسPandora box کھولا ہے وہ کہاں جا کر رکے گا۔کیسے کیسے نتائج نکلیں گے، یہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ہے کوئی روکنے والا؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے