آدھار سے اموات تک

شیخ فاطمہ بشیر

گذشتہ دس بارہ دنوں میں بھوک کے باعث تڑپ تڑپ کر ہوئیں تین ہلاکتوں نے ہر درد دل اور دردمند افراد کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ غریب خاندانوں کو راشن کی دکان سے سبسیڈی والے اناج کا ناملنا جھارکھنڈ میں تین معصوم اور بے گناہ افراد کی موت کا سبب بن گیا۔ خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے انتہائی غریب خاندان نے جہاں اپنی 11 سالہ معصوم بیٹی کو ہمیشہ کے لیے کھودیا وہیں گھر کے اہم فرد اور خاندان کے سربراہ کی موت نے پسماندگان کو یتیمی اور بیوگی کے دَر پر لا کھڑا کردیا۔ رانچی میں رہنے والی کوئلی دیوی، جسکا خاندان فروری سے راشن سے محروم ہونے کے باعث خیرات اور اسکول میں ملنے والے مڈڈے میل پر گزر بسر کر رہا تھا۔ آدھار سے لنک نہ ہونے کے سبب ’راشن کارڈ کی منسوخی ‘نے اسکی 4 دن سے بھوکی  11 سالہ بیٹی سنتوشی کماری کی ’بھات بھات ‘ کہتے ہوئے جان لے لی۔ وہیں دوسری طرف دھنباد میں غربت اور خطِ افلاس سے نیچے ایّامِ زندگی گزارنے کے باوجود بی پی ایل راشن کارڈ سے محرومی اور اسکے لئے مسلسل 4 سال کی انتھک کوشش اور تگ ودو پر بالآخر بید ناتھ روی داس کی موت نے بازی مارلی۔  وہیں تیسری طرف دیو گھر میں رہائش پذیر 75 سالہ معمر شخص کے بایو میٹرک ریڈر پر انگوٹھے کے نشان کی شناخت نہ ہونے کے سبب ۲ماہ راشن سے محرومی نے انھیں موت کے گھاٹ اتاردیا۔ مرمرے اور پانی میں نمک، چائے کی پتی اُبال کر پینے والے ان متاثرہ خاندانوں کا قصور آدھار وراشن کارڈ کے علاوہ کچھ نہیں ۔ حکومتِ وقت نے جہاں زندگی کے ہر شعبے میں قدم قدم پر آدھار لازمی قرار دے دیا وہیں غریب اور ضرورت مند خاندانوں کے لئے ان دستاویزات کی غیر موجودگی اناج سے محرومی کی وجہ بھی بن گیا ہے۔

 جھارکھنڈ میں ہونے والے یہ واقعات اور دل دہلا دینے والی ظالمانہ اور بے رحمانہ اموات نے ملک کی موجودہ ’غربت‘،’ لاچاری‘،’ بے بسی‘،’ مفلسی‘،’ فاقہ کشی‘،’ پسماندگی‘،’ بدحالی‘ اور’ تشویش ناک صورتِ حال‘ کو منظرِ عام پر لاکھڑا کردیا ہے۔ ان اموات نے آدھار کی بِلا ضرورت اہمیت اور غیر ضروری افادیت کے نتیجے میں جہاں حکومت کے ہوش اُڑادئیے وہیں آدھار کو ہر معاملے میں لازمی قرار دینے پر سوالات کے انبار اکھٹے کر دئیے ہیں ۔ کیا اناج مہنگا اور ہماری جانیں اس قدر سستی ہوچکی ہیں یا دل بے حس اور ظالم ہوچکے ہیں ؟کیا موت اس قدرآسان ہوچکی ہیں یا غربت ایک گناہ اور غریبی ایک طعنہ بن چکی ہیں ؟کیا ایک کارڈ کی اہمیت بڑھ گئیہیں یا انسانیت نے دَم توڑ دیا ہے؟سوالات بہت ہیں لیکن۔ ۔ ۔

ستم بالائے ستم حکومت، ریاستی وزیر کے بیانات اور ڈپٹی کمشنر و جوائنٹ کمشنر کے ذریعے بھوک اور فاقہ کشی کی وجہ سے ہونے والی ان اموات کی’ سختی‘ سے تردید نے رہی سہی سسکتی انسانیت کا قلع قمع کردیا ہے۔ خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور اناج کے مستحق افراد کی بی پی ایل راشن کارڈ اور دیگر اہم وبنیادی  ضروریات سے محرومی ملکِ عزیز کی ترقی و بحالی اور معزز وزیرِاعظم کے’ ڈیجیٹل انڈیا‘ آئیڈیا پر ایک اُبھرتا ہوا سوالیہ نشان ہے۔ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ اس نعرہ کی تکمیل میں اچھے دنوں کی آس لئے  غریب خاندان بہتر دنوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ ایسے حالات میں مرکزی و ریاستی حکومت اور عہدیداران کی مفلسوں اور لاچاروں کے تئیں بے فکری، بے حسی اور ڈھٹائی سے پُر بیانات سُن کر بِلا ساختہ زیرِ لب یہ مصرعہ آجاتا ہے؎

رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ



⋆ شیخ فاطمہ بشیر

شیخ فاطمہ بشیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے