سیاستطنزو مزاح

آسارام باپو  اور سادھوی پرگیہ 

ڈاکٹر سلیم خان

للن نے کلن سے کہا رام قسم !اب بھارت میں رام راجیہ آئے گا۔

کلن نے حیرت سے پوچھا تو کیا پچھلے پانچ سالوں سے راون راج چل رہا ہے؟

نہیں ایسی بات نہیں پھر بھی مودی یگ کو کسی صورت رام راجیہ نہیں کہا جاسکتا ؟

کلن نے سوال کیا اچھا ؟ وہ کیوں ؟

دیکھو بھائی ایک تو  رام جنم بھومی پر رام کا شاندار مندر نہیں بنا  اور ۰۰۰۰۰۰

ارےللن  اس میں مودی جی کا کیا قصور پہلے تو کسی کو یہی نہیں معلوم کہ رام کا جنم کس مقام پر ہوا۔ ہندوستان کی سب سے بڑی عدالت اس با بت  ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرسکی ۔

للن بولا لیکن بھیا  یہ تو شردھا کا پرشن ہے   اس پر عدالت بھلا کیا فیصلہ کرسکتی ہے؟

یہ شردھا کا پرشن ضرور  ہے کہ رام تھے یا نہیں ؟ اس لیے کہ اس زمانے کی مدونّ تاریخ نہیں ہے اور یہ بھی کہ وہ  دیوتا تھے یا بادشاہ ؟ لیکن ان کے  جنم استھان کو توڑ کر وہاں    بابری مسجد  تعمیر کی گئی یہ تو تاریخ  اور زمین کی ملکیت کا معاملہ  ہے۔ اس میں شردھا کہاں سے آگئی ؟

اب للن نے پوچھا۔ اچھا تو کیا  ہمارے وشوہندو پریشد کے سادھو سنت  جھوٹ بولتے ہیں؟

سادھو سنت وہی کہتے ہیں جو  سنگھ پریوار  ان سے کہلواتا ہے۔ ا اگر کوئی اپنے بجائے دوسروں کے دماغ سے سوچے تو یہ خطرہ موجود ہی ہوتا ہے۔

لیکن سنگھ کو اس بابت کذب گوئی  کی کیا ضرورت ؟

یہ سیاسی ضرورت ہے اسی لیے  ہر انتخاب کے وقت اس مسئلہ کو  اچھال کر اس کے ذریعہ اقتدار کی راہ ہموار کرنے کی سعی کی جاتی  ہے۔

اچھا مگر کانگریس نہ سہی مودی جی تو اپنے پریوار کی بات مان کر مندر بنا سکتے تھے؟

  مودی جی بھلا مندر کیوں بناتے ؟ انہوں نےتو  کبھی  مندر کا وعدہ  ہی نہیں کیا اور نہ ایودھیا کے نزدیک پھٹکے۔ وہ بڑے ہوشیار آدمی ہیں ۔ کیا سمجھے ؟

جی ہاں یہ مجھے پتہ ہے۔ وہ کوئی بے فائدہ کام نہیں کرتے لیکن  انہوں نے ویسے بھی کون  سا وعدہ نبھایا ہے مگربابارام پال یا  رام رحیم  کو رہا  توکروا سکتے تھے ؟

ان بدمعاشوں کو  وہ کیوں چھڑاتے جن پر تو قتل کا الزام ثابت ہوگیا اور عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ مودی جی سے ان کا کیا لینا دینا؟

اچھا  مان گئے لیکن  آسارام باپو تو نہ صرف مودی جی کے بلکہ اڈوانی اور اٹل جی کے بھی  گرو تھے۔ ان کے ساتھ تو کم از کم اچھا سلوک کیا جانا چاہیے تھا ؟

ارے تم نہیں جانتے اس نے کیا کیا ؟ اس کو پھانسی ہونی چاہیے  سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ زندہ کیوں ہے؟

للن نے پوچھا۔ اچھا وہ کیوں ؟  اس بیچارے نے  ایسا کون سا مہا پاپ کردیا ؟

اس نے اپنے ایم پی کے ایک آشرم میں پڑھنے والی ۱۶  یوپی کی طالبہ کو راجستھان کے اندر بلا کر عصمت دری کی اور اپنے خلاف ثبوت مٹانے کے لیے کئی گواہوں کو قتل کردیا۔  شردھا کے نام پرایک جھونپڑی سے ترقی کرکے دنیا بھر میں ۴۰۰ سے زیادہ آشرم بنائے اور ۱۰  ہزار کروڑ کا سامراج کھڑا کر لیا۔

اچھا ایسی بات ہے مودی سرکار نے تو اسیمانند جیسے اقراری مجرم  کو کیوں بچا لیا جب کہ اس پر تو دہشت گردی کا الزام  اور ثبوت دونوں تھے

بھیا اسیمانند اور آسارام میں یہ فرق ہے کہ ایک کا تعلق براہ راست سنگھ پریوار سے ہے اور دوسرے کا نہیں ہے۔

تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ دونوں ہندو دھرم کے سادھو  سنت ہیں۔ ہندو ہردیہ سمراٹ کو ان کے درمیان یہ  بھید بھاو نہیں کرنا چاہیے۔

اسیمانند کوتو سنگھ پریوار کے دامن سے دہشت گردی کا داغ مٹانے کے لیے رہا کیا گیا ہے۔ ورنہ توگڑیا  ہوں یا آسارام ؟ کسی کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔

اسی لیے تو میں نے کہا تھا کہ اب صحیح معنیٰ میں رام راجیہ آئے گا۔

پھر وہی بات تم نے رات کوئی بھیانک سپنا تو نہیں دیکھ لیا ؟

میں سپنے نہیں دیکھتا۔ میں تو ٹیلیویژن پر خبریں دیکھتا ہوں۔

اچھا تو تم نے خبروں میں کیا دیکھا ؟

میں نے دیکھا کہ بی جے پی نے بھوپال سے دگ وجئے سنگھ کے سامنے سادھوی پرگیہ کو ٹکٹ دے دیا ہے۔

اچھا تو اس سے رام راجیہ کیسے آئے گا؟ وہ مالیگاوں دھماکوں کی ملزم ہے۔ اس سے ملک بھر میں دھماکے ہی دھماکے ہوں گے۔

یہ کیسی بات کرتے ہو کلن کوئی  سادھوی بھلا دھماکےبھی  کروا سکتی ہے؟

جب اسیمانند جیسا سادھو کروا سکتا ہے تو کوئی  سادھوی اس کا ساتھ کیوں نہیں دے سکتی؟  لیکن ایک بات ہے اس سے دنیا بھر میں  بڑی بدنامی ہوگی۔

وہ کیسے؟ میں تو کہتا ہوں ایک  سادھوی کی کامیابی سے بدنامی نہیں نیک نامی ہوگی۔

ارے بھائی ہم لوگ ایک طرف تو پاکستان میں رہنے والے  مولانا مسعود اظہر پر دھماکے کا الزام لگا  کو سزا دینے کے لیے واپس مانگتے ہیں اور دوسری طرف اپنے یہاں دھماکوں کی  ملزمہ سادھوی پرگیہ  کو انعام دیتے ہیں۔ اس کو دیکھ کر دنیا کے لوگ ہنسیں گے یا روئیں گے سمجھ میں نہیں آتا ؟

ارے بھائی للن یہ بھی کوئی سوال ہے؟ اگر پرگیہ ہار گئی تو ہنسیں گے اور جیت گئی تو روئیں گے۔ بات ختم

مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Back to top button
Close