سیاستملی مسائل

آستھا سے لڑنا، خودکشی کرنا ہے

حفیظ نعمانی

یہ بات زیادہ دنوں کی نہیں ہے اس لئے سب کو یاد ہوگا کہ جب سپریم کورٹ کے پانچ جج صاحبان کی بینچ بابری مسجد کی زمین کی ملکیت کے بارے میں پہلی بار فیصلہ کرنے بیٹھی تو بابری مسجد کے وکیل نے بڑے ادب کے ساتھ عرض کیا کہ یہ آنریبل… صاحب بابری مسجد کو شہید کرنے والے ملزموں میں سے کلیان سنگھ کے وکیل کی حیثیت سے عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ یہ بات میں اعتراض کے لئے نہیں بلکہ اطلاع کیلئے گوش گذار کررہا ہوں۔ اتنا سننا تھا کہ آنریبل جج موصوف ازخود یہ کہتے ہوئے اُٹھ گئے کہ میں اپنے کو بینچ سے الگ کررہا ہوں۔

وہی سپریم کورٹ ہے جس نے مصالحت کے لئے عدالت سے باہر ایک پینل بنایا ہے اس میں ایک شری شری روی شنکر صاحب بھی ہیں جن کا ایک کھلا خط سوشل میڈیا کے ذریعہ پوری دنیا میں گشت کررہا ہے جس کا ایک جملہ یہ ہے۔ ’’آپ اچھی طرح باخبر ہیں کہ گنگا جمنی تہذیب والے ہندوستان کی پاک سرزمین میں بابری مسجد کا معاملہ کانٹے کی طرح 500  برس سے چبھتا آرہا ہے۔‘‘ اس کے علاوہ وہی تھے جو اپنے نامعلوم اور لامحدود وسائل کے بل پر ایسے مسلمان عالم، قائد یا لیڈر کو تلاش کرتے پھر رہے تھے جو مسلمانوں کو بابری مسجد کی زمین رام مندر کے لئے کسی بھی قیمت پر دلانے کو تیار ہوجائے اور انہوں نے حضرت مولانا علی میاں کے نواسے مولوی سلمان حسینی ندوی استاد حدیث دارالعلوم ندوۃ العلماء سے سودا کرلیا لیکن اس عاشقی میں عزت سادات کو بھی لٹاکر وہ ایک کنارے بیٹھ گئے۔ ہمیں صرف چیف جسٹس محترم سے یہ عرض کرنا ہے کہ وکیل کی وکالت نظریہ نہیں خدمت ہوتی ہے۔ جو وکیل آج بابری مسجد کی زمین کی وکالت کرکے یہ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں کہ یہ میرباقی نے… سے خریدی تھی و ہیں کسی اور مقدمہ میں کل کو یہ کہتے ہوئے مل سکتے ہیں کہ بابری مسجد مندر کو گراکر بنائی گئی تھی۔ اور ملک کے نہ کسی مسلمان کو اور نہ ہندو کو اس پر تعجب ہوگا اور نہ اعتراض لیکن شری شری روی شنکر وکیل نہیں وہ ان میں سے ایک ہیں جن کے سینے میں بابری مسجد 500  برس سے کانٹے کی طرح چبھ رہی ہے۔ اور وہ آخری بات بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر یہ زمین مسلمانوں نے نہیں دی تو شام (سیریا) جیسے حالات بھی ہوسکتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے شاید یہ دیکھ لیا تھا کہ اگر انہوں نے اپنی شاندار روایات کے مطابق فیصلہ کرکے سنا دیا تو اکثریت باغی ہوجائے گی اور اگر فیصلہ میں ماحول کے دبائو میں آکر ڈنڈی ماری تو انصاف کا منھ کالا ہوجائے گا۔ ہوسکتا ہے سابق چیف جسٹس دیپک مشرا صاحب نے بھی اسی نتیجہ پر پہونچنے کے بعد عدالت سے باہر فیصلہ کرنے کا مشورہ دیاہو؟ اس کی وجہ صاف ہے کہ جب کروڑوں انسان آستھا کو اندراجات سے زیادہ صحیح مانیں تو نتیجہ وہی ہوتا ہے جو سناتن دھرم کے ماننے والے کروڑوں ہندو دھرم گرو شنکر آچاریہ کے صاف صاف یہ کہنے کے بعد کہ سائیں بابا نہ بھگوان ہیں نہ گرو ہیں نہ سنیاسی ہیں بلکہ وہ تو مسلمان تھے مسجدوں میں بھی پڑے رہتے تھے گوشت کھاتے بھی تھے اور کھلاتے بھی تھے اس کی پوجا حرام ہے۔ لیکن سناتن دھرم کے ماننے والے ہندو ہی ہر بھگوان سے زیادہ سائیں بابا کی مورتی پر سونا چاندی اور نوٹ برسا رہے ہیں اور جہاں کئی بھگوانوں کی مورتیاں ہیں وہاں سب سے نمایاں اور دروازے کے قریب سائیں بابا کی مورتی ہے جن کے بارے میں پجاری کہتے ہیں کہ سائیں بابا کا مارکٹ سب سے اوپر جارہا ہے۔

اب اگر اور مگر کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جو مسلمان عالم امام ابوحنیفہؒ کے دوسرے شاگرد امام محمدؒ کی اس دلیل کو مانتے ہیں کہ اگر مسجد مسلمانوں کے لئے نماز کے لائق نہ رہی ہو تو اس کا منتقل کرنا جائز ہے وہ بھی جب یہ دیکھتے ہیں کہ توحید کے لئے لی گئی مسجد کی زمین کیا کسی بھی صورت میں شرک کیلئے دی جاسکتی ہے تو سب کانپ جاتے ہیں۔ لیکن جس دن تقسیم سے پہلے الیکشن میں کانگریسی ہندوئوں نے یہ دیکھ لیا کہ مسلم لیگ کے ساتھ 90  فیصدی مسلمان ہیں اور جمعیۃ علماء کے تمام مولویوں کے ساتھ صرف 10  فیصدی تو اسی دن سے انہوں نے تیور بدل لئے اور مسلمانوں کی جان مال ان کی زبان اردو اور بابری مسجد ہر اس چیز کو جس میں ان کی جان تھی نشانہ پر لے لیا۔

ہماری عمر کے ہر مسلمان نے دیکھا ہوگا کہ کانگریس کا بڑے سے بڑا لیڈر امیرشریعت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، حضرت مدنی، مولانا لدھیانوی، مولانا غلام غوث سرحدی، مولانا حفظ الرحمان وغیرہ وغیرہ کے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑا رہتا تھا لیکن جس دن مسلمانوں نے 90  فیصدی پاکستان کے حق میں ووٹ دیا اسی دن دنیا بدل گئی۔ پنڈت پنت نے ہی بابری مسجد میں مورتیاں رکھوائیں انہوں نے ہی اردو کی تعلیم پر پابندی لگائی ان کے ہی وزیر تعلیم سمپورنانند نے کہا کہ اردو کوئی زبان ہی نہیں ہے وہ ہندی کی شیلی ہے۔ یہ سب ہوتا رہا اور دس فیصدی والے مسلمان تماشہ دیکھتے رہے۔

لاکھوں ٹن پتھر مندر کیلئے اجودھیا آچکا ہے رات دن کاریگر کام کررہے ہیں رسمی طور پر مسلمانوں سے ہاں کہلانے کی کوشش ہورہی ہے مسلمان خوشی سے نہیں دیں گے تو طاقت سے زمین لے لی جائے گی۔ ہم نے ایک تجویز رکھی تھی کہ ملک سے نئی مسجد بنانے کی پابندی ہٹالی جائے۔ اس کے علاوہ کوئی اور اچھی تجویز ہو تو وہ پیش کردی جائے الیکشن تک تو معلوم کیا بھی جائے گا شاید اس کے بعد مسلمانوں کو خبر بھی نہیں ہوگی اور جس مندر کو بننا ہے وہ بنے گا۔ ہم بے حس ہیں کمزور ہیں آٹھ سو سال کی حکومت کا حساب دینا ہے ہم صرف جان دے سکتے ہیں لیکن اس کی اجازت شریعت نہیں دے گی اس لئے اگر سپریم کورٹ فیصلہ سنانے کی ہمت نہیں کرسکا تو ہمیں بھی فیصلہ کرنے کا اختیار واپس کردینا چاہئے یا پاک پروردگار کے علاوہ اس طاقت کا نام بتانا چاہئے جو مسجد کی زمین پر مسلمانوں کو قبضہ دلاسکے۔ ہم جب اسے لے نہیں سکتے تو سودا کرنے کے بجائے دستبردار کیوں نہ ہوجائیں؟ سودا چاہے سونے کے ڈھیر کا ہو اس میں رضامندی شامل ہے اور اس لئے دستبردار ہونا کہ ہم کمزور ہیں یہ اللہ کی مرضی ہے اللہ کو منظور ہوا اور اس نے ہمیں کبھی اس قابل کیا تو ہزار دو ہزار سال کے بعد بھی واپس لے سکے تو لے لیں گے اور نہ لے سکے تو گناہ گار تو نہ ہوں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close