سیاستہندوستان

آؤ جیٹلی آندولن آندولن کھیلیں

اللہ غفور رحیم کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے عابد سہیل کو کہ برسوں  پہلے انھوں  نے ایک افسانہ لکھا تھا جس میں  کہا کہ ہم اپنی بیگم کے ساتھ خریداری کے لیے جارہے تھے۔  گھر میں  ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی۔  ان کو سمجھا دیا کہ آپ لوگ پڑھتے رہیں  ہم ایک گھنٹہ میں  آجائیں گے۔  جانا اپنے اختیار میں  ہوتا ہے اور آنا دوسروں  کے۔  نتیجہ یہ ہوا کہ دو گھنٹے لگ گئے۔  واپس آئے اور دروازہ کی گھنٹی بجائی تو بیٹے نے دروازہ کھولا۔  اندر قدم رکھا تو سامنے صوفے پر بیٹی لیٹی تھی اور جگہ جگہ سفید پٹیاں  بندھی تھیں ۔  ماں  کی چیخ نکل گئی کہ کیا ہوا میری بیٹی کو؟ بیٹے نے مسکراتے ہوئے کہا کہ امی کچھ نہیں  ہوا ہم شیعہ سنی فساد کھیل رہے تھے۔  یہ اس زمانہ کی بات ہے جب لکھنؤ میں  دو مہینے میں  بار بار فساد ہوتے تھے اور کرفیو لگتا تھا۔

نومبر 2016میں  وزیر اعظم کو بھی جوش سوار ہوا اور انھوں  نے 8؍ نومبر کو دونوں  بڑے نوٹ غیر قانونی قرار دے دئے اور اسے کالے دھن بھرشٹاچار اور دہشت گردی کے خلاف آندولن کا نام دے دیا۔  کالا دھن وہ دھن ہے جس نے مودی کو 2014میں  دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ بولنے والا بنادیا تھا۔  اس ذلت کے بعد سے انھیں  ہر چیز اور ہر جیب میں  کالا دھن نظر آتا ہے اور وہ لاٹھی لے کر دوڑ پڑتے ہیں ۔  وزیر اعظم نے یا ان کے سیاسی بزرگوں  نے آج تک نہ آندولن کیا نہ اس میں  حصہ لیا۔ انھوں  نے پڑھا ضرور ہوگا کہ آندولن ہوا تھا اور اس میں  آدمی مرے تھے۔  لیکن اتنا نہیں  پڑھا کہ ایک آندولن میں  صرف دوسپاہیوں  کے مر جانے سے گاندھی جی نے چورا چوری کا آندولن واپس لے لیا تھا۔  اور جو مرے تھے وہ وہ نہیں  تھے جو کچھ نہیں  کررہے تھے بلکہ وہ تھے جنھوں  نے ا نگریزوں  کا خزانہ کاکوری میں  لوٹا تھا یا انگریزوں  کو مارا تھا یا ریل کی پٹریاں  اکھاڑی تھیں ۔ اور انھوں  نے پھانسی کے پھندے کو چوم کر گلے میں  ڈلتے وقت کہا تھا  …   ع

  اب تمہارے حوالے وطن ساتھیوں

ان میں  کوئی ایسے نہیں  مرا کہ بینک سے اپنا روپیہ نکالنے آیا اور ناکام رہا تو گھر جا کر خود کشی کرلی یا تین دن بھوکا پیاسا کھڑا رہا اور مر گیا۔  اگر عوامی آندولن ہوتا تو ملک کے بینک لوٹے جاتے۔  آربی آئی پر حملہ ہوتا ،  جو گاڑیاں  نوٹ لے کر آرہی تھیں  وہ لوٹی جاتیں ،  اس لیے کہ آندولن اسی کو کہتے ہیں ،  وزیر اعظم نے جو کیا وہ تو ایسی ذلیل کرنے والی حرکت ہے جیسے کوئی جاہل مسلمان کسی عالم کی تقریر سنے کہ رمضان میں  روپیہ دو گے تو ۷۰ روپے کا ثواب ملے گا۔  اور وہ زکوٰۃ کا اعلان کردے اور مانگنے والوں  کی لائن لگوائے اور پانچ پانچ روپے کے نوٹ کی گڈی لے کر آئے اور ہر فقیر کو ایک نوٹ دے۔  اور جب گڈی ختم ہوجائے تو ہاتھ جھاڑ دے جیسے No Cashکا بورڈ لگ گیا۔  اسے جو کوئی آندولن کہے اس پر غصہ نہیں  رحم آتا ہے۔

دو مہینے کی تیاری کے بعد مودی جی 2؍ جنوری کو لکھنؤ آئے ۔  کوئی نہیں  جانتا کہ اس ریلی میں  انسانوں  کو لانے کے لیے کتنے ہزار کروڑ روپے خرچ ہوئے؟ کہتے ہیں  کہ 15 ہزار بسیں  اور 38 ہزار کاریں  اور اسپیشل ٹرینیں  لکھنؤ آئی تھیں ۔  سننے والوں  نے وہ گالی گلوچ بھی سنا جو ہر کسی سے کھانے کے علاوہ تین سو روپے اور ایک بوتل شراب کا بھی وعدہ ہوا تھا جس کے نہ ملنے پر ماں  بہن کے ساتھ جملوں  میں  کچھ ہورہا تھا۔  مودی جی کے بعض لوگ وہ سننا چاہ رہے تھے جو ۵۰ دن کے بعد ہونے والا تھا لیکن وہ صرف آنے والوں  کی کمر پر گڑھتے رہے۔  اور جھوٹ بولتے رہے کہ انھوں  نے آج تک اتنی بڑی ریلی نہیں  دیکھی۔  وہ خوشامد کررہے تھے کہ سب تالیاں  بجائیں ،  نعریں  لگائیں  ،  لیکن سب ایسے بیٹھے تھے جیسے ا نہیں  صرف بیٹھنے کے پیسے ملے ہیں ۔  مودی جی نے وہ سبق دہرادیا جو 31؍ دسمبر کو سنایا تھا کہ گائوں  کا کوئی مکان کے لیے بینک سے قرض لینا چاہے اور اپنے مکان کو بڑا یا دو منزلہ 4 منزلہ بنانا چاہے تو وہ دو لاکھ روپے لے لے اس پر جو سود ہوگا اس کا چار فیصدی حکومت دے دیگی۔  اور کوئی شہر میں  لینا چاہے تو 12 لاکھ روپے لے لے اس کا تین فیصدی سود حکومت دے دیگی۔  انھوں  نے سوچا تھا کہ اس پر تالیاں  بجیں گی لیکن کسی نے ان کی صورت بھی نہیں  دیکھی کیونکہ بینک کیا ہوتے ہیں  اور بینک والے کیسے ہوئے ہیں ؟ انھوں  نے بھی دیکھ لیا جنھوں  نے کبھی بینک کی صورت بھی نہیں  دیکھی تھی اور عام آدمی کو بھی معلوم ہوگیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جانتے ہی نہیں  کہ وزیر اعظم کا کام کیسے کیا جاتا ہے؟ مودی جی نے اپنے گجرات سے ابتدا کی کہ مجھے پارلیمنٹ میں  بولنے نہیں  دیتے اس لیے دل کا درد بیان کرنے میں  تمہارے پاس آیا ہوں ۔  انھوں  نے اپنے مانگے ہوئے پچاس دن میں  نہ جانے کتنی قلا بازیاں  کھائیں  ۔  ایک دن ایک بات کہتے تھے دوسرے دن دوسری بات۔  صبح کو ایک بات کہتے تھے رات کو دوسری بات۔  نہ جانے کتنے کارٹون بنے اور میرے پاس ایک گواہ موجود ہے جو اپنے کانوں  سے بینک میں  سن کر آیا کہ مودی جی سنک گئے ہیں  کچھ خبر نہیں  وہ کل کو کون سا حکم دے دیں ؟ اور ہم میں  سے کس کی نوکری چلی جائے۔

ہر ٹی وی پر مودی کا ٹیپ بجایا جارہا ہے کہ اگر 30 دسمبر تک کوئی پرانا نوٹ بینک میں  جمع نہ کرسکے تو وہ RBIکی برانچ میں  31؍ مارچ تک جمع کراسکتا ہے اور ہزاروں  وہاں  سرپٹخ رہے ہیں  جہاں  نوٹس لگا ہے کہ جو لوگ ۸؍ نومبر سے 30 دسمبر تک ملک سے باہر تھے صرف وہ نوٹ لے کر آئیں  اور وزیر اعظم جنھوں  نے کہا تھا کہ 30 دسمبر کے بعد کسی کے پاس 10 نوٹ بھی ملے تو وہ جیل جائے گا اور اسے سزا ہوگی جب کسی نے آنکھیں  دکھائیں  تو کہہ دیا کہ نہیں  5 گنا جرمانہ ہوگا اور اب ہزاروں  نوٹ لئے گھوم رہے ہیں  کسی کا چالان بھی نہیں  ہوتا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close